مجھ کو خموشیوں کا بڑا مشورہ دیا
اور آپ اپنے راز سے پردہ اُٹھا دیا
کوئی نہیں وہ اور بس ربِّ قدیر ہے
اُس کو گرایا اِس کو پکڑ کر اُٹھا دیا
جس کی اساس پانی کی اک بُوند ہے اسے
لوگوں نے مکر و فن سے سروں پر بٹھا دیا
اے خالقِ نقوش مری ہر خطا معاف
تیرا پتہ نہیں تھا نبی نے بتا دیا
اب تک ہے ہم نوا مجھے اس بات پر ملال
پایا تو تھا کسی کو مگر پھر گنوا دیا
جسم و شکم کی حاجتوں پر اتّفاق نے
اک بد نصیب ماں کا بھی چُولہہ جلا دیا
دولت کے زور پر اسے سب اختیار ہے
ہر رات اک غریب کو دلہن بنا دیا
ہر ایک پر نگاہِ کَرَم لَوٹتی رہی
دیکھا مجھے تو دُور سے پردہ گرا دیا
یہ امتیاز ہے فقط اقبال کو امید
ہر ایک قلب و ذہن کو جینا سکھا دیا
8

7
49
نہایت عمدہ اور پُر مغز کلام۔ شاندار اور جاندار۔

0
جزاک اللہ محترم !

جناب میں بھی اپنے کلام تنقید و تبصرے کی خاطر بلاگ میں پوسٹ کرنا چاہتا ہوں جہاں آپ اور دیگر حضراتِ گرامی کے کلام موجود ہیں۔ میری راہ نمائی فرما دیجیے۔
صد شکریہ!

0
انشآاللہ
اگرچہ
من آنم کہ من دانم

ارے نہیں سرکار! آپ اِس خراجِ تحسین کے بدرجۂ اتم سزاوار ہیں۔ اللّٰہ پاک آپ کے قلم میں برکت اور رزقِ سُخن میں کشادگی عطا فرمائے۔ آمین!

0
جزاک اللہ ! اللہ کریم مجھے آپ کے حُسنِ ظن کے مطابق کر دے
آمین

کر دے

0