Circle Image

سید ذیشان اصغر

@zeeshan

ہے نور محبت سے دل غمزدہ روشن/ اور چرخ زر افشاں پہ ہے تاروں کا چراغاں

اس سائٹ کو بنانے کے لئے درج ذیل #سافٹوئر اور #ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے:بیک انڈ پر  c# اور Net Core 3.1. کا استعمال کیا گیا ہے۔ کلائنٹ سائڈ پر JavaScript اور  JQuery  کا استعمال ہے - یوزر انٹرفیس اور سٹائلنگ کے لئے  Boostrap 4.5   کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر نہائت خوبصورت مہرنستعلیق ویب فانٹ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے ہم  مشہور خطاط نصر اللہ مہر صاحب اور  ان کے صاحبزادے ذیشان نصر صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔سائٹ کا لوگو بھی ذیشان نصر صاحب کا ڈیزائن کردہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو محفل کے اراکین کا بھی شکریہ جو کہ مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔اردو کیبورڈ کے لئے yauk  اور  اردو ایڈیٹر کیبورڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ورژن 1 کا سورس کوڈ گٹ ہب پر موجود ہے۔ 

15
324
 عروض ویب سائٹ لنکس:سائٹ پر کلام کے بحور کی فہرستدیوانِ غالبآسان عروض اور شاعری کی بنیادی باتیں (بیس اسباق)سائٹ اور شاعری پر مضامینتعاون برائے اخراجاتالف کا ایصال - میر تقی میر کی مثاللغت میں غلط الفاظ کی نشاندہی یا نئے الفاظ کو شامل کریںلغات/فرہنگ:لغت کبیراردو انسائکلوپیڈیااملا نامہ فرہنگ آصفیہ مکمل (پی ڈی ایف 84 میگابائٹ)فیروز اللغات (پی ڈی ایف 53 میگابائٹ)بیرونی لنکس:فرہنگ قافیہA Desertful of Roses- Urdu Ghazals of Mirza Ghalibعلم عروض وڈیو اسباق - بھٹنا گر شادابؔ

20
1144
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

94
1083
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

89
2758
آپ دل سے کھیلے ہیں
ہم نے درد جھیلے ہیں
زندگی کے مصرعے
ہونٹ دو اکیلے ہیں
اب ٹھہر بھی عزرَئیل
دو ہی دن تو کھیلے ہیں

8
138
تری یاد دل بدر کروں، ہمت نہ کر سکا
کبھی خود سے، اپنی ذات سے، ہجرت نہ کر سکا
تجھے بھول کر میں پاؤں جہاں کی مسرتیں
کبھی بھول کر بھی ایسی تجارت نہ کر سکا
سیاہی ثنائے شہ میں قلم کی ہوئی تمام
رعایا کے دل کا درد روایت نہ کر سکا

1
61
اصلاح سیکشن میں حال ہی میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں

4
280

9
168
محترم صارفین۔ ہم نہایت مسرت سے اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ #عروض سائٹ جو سن 2014 میں شروع ہوئی تھی اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔  چند چیدہ چیدہ نکات کی طرف ہم توجہ دلائیں گے:اب آپ شاعری کو پرکھنے کے علاوہ اپنی بیاض میں شاعری کو save بھی کر سکتے ہیں اور جب آپ اپنی شاعری سے مطمئن ہوں تو اس کو شائع کر سکتے ہیں۔ گفتگو یا بلاگ کے سیکشن کا بھی اضافہ کیا گیا ہے، جس سے آپ بلاگ پوسٹ بھی کر سکتے ہیں۔ یا پھر شاعری یا دیگر شعبوں کے بارے میں سوالات کر سکتے ہیں۔ایک دوسرے کو پیغامات بھیجنے کی بھی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ ان سب چیزوں سے مسفید ہونے کے لئے آپ  google یا facebook کے اکاونٹ کو استعمال کر کے برق رفتاری سے نیا اکاونٹ بنا سکتے ہیں۔تو دیر کس بات کی ہے۔ آپ اس سائٹ کو بھرپور انداز میں استعمال کریں، اور جہاں مسائل آئیں تو ہمیں آگاہ کریں۔آخری بات،پاکستان اور ہندوستان کے باسیوں کو جشنِ آزادی مبارک ہو! ☺

46
861
بعض اوقات شاعر الف کا ایصال پچھلے لفظ کیساتھ ایسے کرتے ہیں کہ   پچھلے لفظ کے آخری حرف کی آواز الف میں ضم ہو جاتی ہے۔

17
1720
یہ مسکن ہمارا، یہ عالم ہمارا
کہ وسعت کو جس کی، نہیں ہے کوئی استعارہ
یہ بنجر ہے سارا
مگر پھر بھی دامِ خرد سے تو یہ ماسوا ہے
کئی کہکشاوں کا مدفن یہاں ہے
کئی کونے پھر بھی ہیں ایسے۔۔۔۔

0
96
کل پھر اک اور بشر شیرنی نے مار دیا
شہرِ آدم میں بپا حشر کا کہرام ہوا!
نقش ہر آنکھ میں تھی خوفِ اجل کی تصویر
دامِ اوہام سے باہر نہ نکلتی تقریر
مسجد و دیر کا رخ کرنے لگے پیر و جواں
خستہ مندر کا بھی اندر ہوا مشعل سے عیاں

0
2
116
کیسے کیسے بوجھ اٹھائے تم نے نازک کاندھوں پر
گر پتھر کے دل میں بھی آئیں چشمے اس سے پھوٹ پڑیں
کیسے تم اس نو عمری میں دانائی کی باتیں کر کے
عمر رسیدہ گھاگ دلوں کو نئی امنگیں دیتی ہو
بز دلی اور بے حسی کے لب بندی خاموشی کے
ہم وطنوں کے بوجھ اٹھائے تم نے نازک کاندھوں پر

2
42
ایک زمانے میں ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ۔ وہ بادشاہ نہایت ذہین و فطین تھا اور تمام بادشاہوں کی طرح حسن کا دلدادہ تھا۔ لیکن ملک کے تمام حسن کو اپنی جاگیر سمجھتا تھا۔ لہٰذا رعایا کی شادی بیاہ کے سخت خلاف تھا۔ اس نے اسمبلی میں قانون پاس کروایا، جس کو وکیلوں کی طرف سے بھی بھرپور سپورٹ ملی، کہ آج کے بعد اس ملک میں کوئی شادی نہیں ہو گی۔ اسی زمانے کا سب سے بڑا پادری، نام جس کا ولنٹائن تھا، وہ ”دل پھینک“ تخلص کرتا تھا۔ بادشاہ کے پاس جا کر مجرا بجا لایا۔ جس سے بادشاہ کا دل باغ باغ ہو گیا۔ پادری نے فرمایا، ”اے ظل الٰہی، یہ کیا غضب کر دیا۔ ہماری تو روزی پر گویا آپ نے لات ہی مار دی۔“ بادشاہ نے کہا، ”کیسے بھلا؟“ پادری گویا ہوا،”وہ ایسے کہ نکاح کے کاروبار سے تو ہمارا جہاں آباد تھا۔ دو عربی کے بول پڑھوا کر ہمیں کچھ انعام و اکرام مل جاتا تھا“۔ بادشاہ نے کہا، ”بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی۔ انعام و اکرام سے ہم تمہیں نوازتے ہیں۔“ اس پر بادشاہ نے پادری کو انعام و اکرام سے نواز کرخانقاہ کا راستہ دکھایا۔ ”یہاں سے سیدھا جاؤ، دائیں طرف مڑ لو۔ باقی راستہ چوبدار سے معلوم کر لو۔ یا پھر گوگل میپس کو استعمال میں لاؤ۔ ی

95