بعض اوقات شاعر الف کا وصال پچھلے لفظ کیساتھ ایسے کرتے ہیں کہ   پچھلے لفظ کے آخری حرف کی آواز الف میں ضم ہو جاتی ہے۔

اس کی بہت عمدہ مثال  میری تقی میر کی  ایک غزل میں موجود ہے:

یہاں پر "نام آج" کی جگہ "ناماج" پڑھا جائے گا جس کو تقطیع کے نتیجے میں  نارنجی رنگ سے ظاہر کیا گیا ہے۔


#وصالِ‌الف کی یہ سہولت اس نئے ورژن میں شامل کی گئی ہے۔ 

(اس طرح سے کسی بھی لفظ سے پہلے # لگا کر آپ نیا ٹیگ یا زمرہ بنا سکتے ہیں 😉)


6
719
hi

0
urdu in keyboard is not working

0
وصالِ الف
فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
ہے نہ کاغذ قلم دَوات اپنی
کیسے لکھیں گے اب صفات اپنی
کہتے ہیں جس کو فطرتِ انساں
علمِ کامل ہے نفسیات اپنی
زندگی کرب میں گزاری ہے
کربلا جیسی ہے حیات اپنی
بات سنتا نہیں مری دجلہ
پیاس بجھتی نہیں فرات اپنی
تُو کسی پر فدا نہیں ہوتا
لُٹ گئی تجھ پہ کائنات اپنی
کچھ بَھرم رکھ مری غریبی کا
تجھ سے کمتر نہیں ہے ذات اپنی
لب پہ تنویر ہے یہی شکوہ
عمر گزری ہے بے ثبات اپنی
تنویر روانہ سرگودھا

وصالِ الف

مفتَعِلن مفاعِلن مفتَعِلن مفاعِلن

روحِ بشر خدا کی قدرت ہے اور امرِ ربی ہے
آدمی کی مثال تو خاکِ سِفال جیسی ہے

0
وصالِ الف

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فَعِلن

تدوین مرے قریب وہ آئے اور آ کے بیٹھ گئے
تدوین لَبِ خموش میں انگلی دَبا کے بیٹھ گئے

0
وصالِ،،،،،،،،،،،الف

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن

جب کبھی موسمِ بہار آیا
اُجڑے گلشن پہ پھر نکھار آیا
شکل و صورت وہی رہی اپنی
اِسْتِحالَہ کبھی کبھار آیا
مجھ کو حالات نے بدل ڈالا
کس لئے خود کو تُو سنوار آیا
اِستِمالت پہ یار نے جھڑکا
پھر اَساول ہے اشکبار آیا
آنسو اشکِ کباب ہیں لیکن
کب سحر خیزی کا شعار آیا
اِستِراحت کی اِستِعانت ہے
زندگی بھر نہیں قرار آیا
تجھ کو تنویر مل گئی منزل
میرے حصے میں انتظار آیا
تنویر روانہ سرگودھا

0