Circle Image

محمد یعقوب آسی (مرحوم)

@yaqubassy

http://assykakarokuch.blogspot.com

وہ جو کہتا ہے اِسے ایک زمیں کا ٹکڑا
گھر کسے کہتے ہیں، معلوم ہی کب ہے اس کو
اُس کی سوچوں پہ غمِ نانِ جویں حاوی ہے
اُس کا ہر جوش فقط چاہِ بدن میں غرقاب
اپنے بچوں کے پسینے پہ رواں اُس کی حیات
اُس کی آنکھیں ہیں ابھی تیرہ شبی میں محبوس

2
113

0
1
178
جو بجلی سی دل کے ہوئی پار کیا تھی
نظر تھی، انی تھی کہ تلوار، کیا تھی
وہ تارے تھے جگنو تھے یا تیری آنکھیں
تری زلف تھی یا شبِ تار کیا تھی
یہ کھینچی ہیں جس نے قیامت کی قوسیں
عنانِ زمانہ کی پرکار کیا تھی

127
جی میں آتی ہے کہ جوں مہر اجالوں خود کو
مطلعِ تیرہءِ مغرب سے اچھالوں خود کو
اس سے پہلے کہ ہوا گرد اڑائے میری
سوچتا ہوں کہ میں اک سنگ بنا لوں خود کو
شیشہء دل میں تری بات سے بال آیا ہے
تو ہی بتلا کہ میں کس طور سنبھالوں خود کو

0
2
99

0
135

0
83

0
90
یہ میں کیسے نگر میں آ گیا ہوں
کہ خود کو اجنبی سا لگ رہا ہوں
یہ تنہائی ہے کیوں میرا مقدر
یہ تنہائی میں اکثر سوچتا ہوں
سرِ دشتِ تخیل یہ خموشی
میں اپنی ہی صدا سے ڈر گیا ہوں

97

307

0
1
150
کئی یعقوب اب بھی زندہ ہیں
جن کی آنکھوں کے گہرے حلقوں میں
آس کے دیپ جھلملاتے ہیں
جیسے پانی میں چاندنی جھلکے
جیسے اشکوں کی تیز بارش میں
مسکراہٹ ہو اپنے یوسف کی

2
106
حوصلہ اے دلِ شکست آثار
تُو تو سنگینیوں سے واقف ہے
یا جنوں! تار تار ہے رگِ جاں
اور بخیہ گروں سے واقف ہے

1
39

0
144

1
247

2
175
تھی کہاں شمع کہ پروانہ بھی آتا کوئی
شہرِ ظلمات میں جگنو بھی نہ چمکا کوئی
چوٹ لگتی ہے تو لگتی ہے اسی گھاؤ پر
ہائے اس بات کو اب تک نہیں سمجھا کوئی
بارش اتنی تو نہیں تھی کہ ڈبو ہی دیتی
میرے اندر سے امڈ آیا تھا دریا کوئی

3
226
میرے بچو! مرے سائے میں سماؤ، آؤ
میں سہاروں گا کڑی دھوپ کا تاؤ، آؤ
صبحِ انوار تو ہے منتظرِ نغمۂ جاں
پھر بلال ایسی اذاں کوئی سناؤ، آؤ
دیکھے بھالے ہیں مرے، دام پرانے سارے
ہمسرو! کوئی نیا جال بچھاؤ، آؤ

142
مجھے اک نظم کہنی تھی
مجھے اک نظم کہنی تھی
مجھے مدت کے پژمردہ تفکرکو لہو دینا تھا
صدیوں پر محیط اک عالمِ سکرات میں
مرتے ہوئے جذبوں کو
پھر سے زندگی کی ہاؤہو سے آشنا کرنا تھا

1
123
ماں کے حضور
ابھی وقت کا تیز پہیہ
ہے گردش میں اور آسماں پر رواں
چاند، سورج، ستارے
کسی ان کہی ان سنی منزلِ بے نشاں کی طرف گامزن ہیں
ابھی میری سوچوں میں تابندگی ہے

74