Circle Image

محمد یعقوب آسی (مرحوم)

@yaqubassy

http://assykakarokuch.blogspot.com


0
1
144
جو بجلی سی دل کے ہوئی پار کیا تھی
نظر تھی، انی تھی کہ تلوار، کیا تھی
وہ تارے تھے جگنو تھے یا تیری آنکھیں
تری زلف تھی یا شبِ تار کیا تھی
یہ کھینچی ہیں جس نے قیامت کی قوسیں
عنانِ زمانہ کی پرکار کیا تھی

93
جی میں آتی ہے کہ جوں مہر اجالوں خود کو
مطلعِ تیرہءِ مغرب سے اچھالوں خود کو
اس سے پہلے کہ ہوا گرد اڑائے میری
سوچتا ہوں کہ میں اک سنگ بنا لوں خود کو
شیشہء دل میں تری بات سے بال آیا ہے
تو ہی بتلا کہ میں کس طور سنبھالوں خود کو

0
2
81

0
95

0
69

0
62
یہ میں کیسے نگر میں آ گیا ہوں
کہ خود کو اجنبی سا لگ رہا ہوں
یہ تنہائی ہے کیوں میرا مقدر
یہ تنہائی میں اکثر سوچتا ہوں
سرِ دشتِ تخیل یہ خموشی
میں اپنی ہی صدا سے ڈر گیا ہوں

87

99

0
1
88
کئی یعقوب اب بھی زندہ ہیں
جن کی آنکھوں کے گہرے حلقوں میں
آس کے دیپ جھلملاتے ہیں
جیسے پانی میں چاندنی جھلکے
جیسے اشکوں کی تیز بارش میں
مسکراہٹ ہو اپنے یوسف کی

2
91
حوصلہ اے دلِ شکست آثار
تُو تو سنگینیوں سے واقف ہے
یا جنوں! تار تار ہے رگِ جاں
اور بخیہ گروں سے واقف ہے

1
25

0
102

1
220

2
150
تھی کہاں شمع کہ پروانہ بھی آتا کوئی
شہرِ ظلمات میں جگنو بھی نہ چمکا کوئی
چوٹ لگتی ہے تو لگتی ہے اسی گھاؤ پر
ہائے اس بات کو اب تک نہیں سمجھا کوئی
بارش اتنی تو نہیں تھی کہ ڈبو ہی دیتی
میرے اندر سے امڈ آیا تھا دریا کوئی

3
164
میرے بچو! مرے سائے میں سماؤ، آؤ
میں سہاروں گا کڑی دھوپ کا تاؤ، آؤ
صبحِ انوار تو ہے منتظرِ نغمۂ جاں
پھر بلال ایسی اذاں کوئی سناؤ، آؤ
دیکھے بھالے ہیں مرے، دام پرانے سارے
ہمسرو! کوئی نیا جال بچھاؤ، آؤ

114
مجھے اک نظم کہنی تھی
مجھے اک نظم کہنی تھی
مجھے مدت کے پژمردہ تفکرکو لہو دینا تھا
صدیوں پر محیط اک عالمِ سکرات میں
مرتے ہوئے جذبوں کو
پھر سے زندگی کی ہاؤہو سے آشنا کرنا تھا

1
87
ماں کے حضور
ابھی وقت کا تیز پہیہ
ہے گردش میں اور آسماں پر رواں
چاند، سورج، ستارے
کسی ان کہی ان سنی منزلِ بے نشاں کی طرف گامزن ہیں
ابھی میری سوچوں میں تابندگی ہے

54
وہ جو کہتا ہے اِسے ایک زمیں کا ٹکڑا
گھر کسے کہتے ہیں، معلوم ہی کب ہے اس کو
اُس کی سوچوں پہ غمِ نانِ جویں حاوی ہے
اُس کا ہر جوش فقط چاہِ بدن میں غرقاب
اپنے بچوں کے پسینے پہ رواں اُس کی حیات
اُس کی آنکھیں ہیں ابھی تیرہ شبی میں محبوس

1
88