تھی کہاں شمع کہ پروانہ بھی آتا کوئی
شہرِ ظلمات میں جگنو بھی نہ چمکا کوئی
چوٹ لگتی ہے تو لگتی ہے اسی گھاؤ پر
ہائے اس بات کو اب تک نہیں سمجھا کوئی
بارش اتنی تو نہیں تھی کہ ڈبو ہی دیتی
میرے اندر سے امڈ آیا تھا دریا کوئی
کوئی تنہا ہے پہ یادوں میں گھرا پھرتا ہے
اور بیٹھا ہے سرِ بزم اکیلا کوئی
آئنہ یوں بھی مجھے دوست نما لگتا ہے
مجھ کو اُس پار نظر آتا ہے مجھ سا کوئی

3
294
بہت عمدہ

0
چوٹ لگتی ہے تو لگتی ہے اسی گھاؤ پر
ہاۓ اس بات کو اب تک نہیں سمجھا کوئی۔

واقعی عمدہ۔۔۔۔

اللہ کریم مزید اضافہ کریں۔
آمین


0
بہت عمدہ۔۔۔

0