Circle Image

Sanjay Kumar Rahgir

@Rahgir0143

رخ سے ذرا اپنے یہ پردہ ہٹا لو صنم
اب ذرا دھیرے سے یہ پلکیں اٹھا لو صنم
سارے جہاں میں نہیں تم سا حسیں کوئی اور
بات خوشی سے مری سب کو سنا لو صنم
چاند ستارے تمہیں دیکھیں بڑے غور سے
جلوے اداؤں کے ان پر نہ گرا لو صنم

0
6
اس کے ہی ہجر نے رلایا بہت
جس کو شدت سے ہم نے چاہا بہت
ایک مدت سے آزماتے رہے
بعد اس کے مجھے ستایا بہت

8
ریت پر لکھ لیا نام کس نے وفا
مٹ گیا پل میں وہ ہو گیا سب فنا
ہم ترستے رہے قربتوں کو مگر
پر وہ ہوتے رہے روز مجھ سے خفا

6
کتنی مشکل سے ماں ہے ملی نوکری
نوکری فوج کی فوج کی نوکری
تم نے چاہا تھا مجھ کو ملے نوکری
ہاں ملے نوکری فوج کی نوکری
خواب تم نے جو دیکھے وہ پورے ہوئے
مجھ پہ وردی سجے گی ملی نوکری

28
زندہ ہوں کہاں جان باقی ہے
اب کہاں وہ پہچان باقی ہے
ذات پات کے نام پر ہی کیا
دیش کا ابھیمان باقی ہے
کیوں یہ لب ہیں خاموش بیٹھے اب
اِن میں اب بھی مسکان باقی ہے

11
تنکا تنکا جوڑ کر آشیاں بناتا ہوں
ہر کسی کی بد نظر سے اُسے بچاتا ہوں
میلوں اُڑتا ہوں کہیں دور دانہ پانی کو
بھوکا رہ کے خود میں ان بچوں کو کھلاتا ہوں
ہوتی جب کبھی ہے بارش میں بھیگ جاتا ہوں
پھیلا کے میں اپنے پر اپنا گھر بچاتا ہوں

0
22
129
رنگوں کا تہوار ہے ہولی
خوشیوں کی بوچھار ہے ہولی
گھر گھر میں جو رنگ یہ لائے
ہم سب پر اُپکار ہے ہولی
رشتوں میں یہ دوری مٹائے
ایسا ہی تہوار ہے ہولی

27
کیا دھرم اور کیا ذات کی فکر
ہم ہیں پنچھی ہمیں بس ساتھ کی فکر
اُڑتے ہیں جب بھی فلک پر کہیں دور
پھر نہیں رہتی کسی بات کی فکر
سرحدیں ہم کو کبھی باندھ نہ پائیں
شام ڈھلتے نہ رہی رات کی فِکر

26
نا دھرم کا پتہ نا ذات کی فکر
ہم ہیں پنچھی ہمیں بس ساتھ کی فِکر
اُڑتے ہیں آسماں میں ہو کے بے فِکر
اِس کی نا اُس کی کسی بات کی فِکر
سرحدیں ہم کو کبھی بانٹ نہ پائیں
شام ڈھلتے رہی نا رات کی فِکر

0
29
موت کا سب سفر تنہا ہی کرنا ہے
دُنیا میں جو بھی آیا اُس کو مرنا ہے
چھوڑ دو اب یہاں یہ ظلم کرنا تم
سب کیا اپنا آخر میں تو بھرنا ہے
چار دن کی یہاں یہ زندگی ہے اب
موت کا پھر مسافر سب کو بننا ہے

39
موت سے پہلے  کا منظر دیکھا ہے
آج پہلی بار یہ ڈر دیکھا ہے
برسوں سے تھا جس کا یہ دل منتظر
اُس فرشتے کا میں نے گھر دیکھا ہے
ہر کوئی ہے اک عجب سے خوف میں
موت کا جیسے سمندر دیکھا ہے

35
ذرا رُخ سے اپنے یہ زُلفیں ہٹا دو
مری جان مجھ کو یہ چہرہ دکھا دو
نشیلی ہیں آنکھیں نشیلے یہ لب ہیں
مجھے بھی ذرا دید اِن کے کرا دو
غضب کی ہے شوخی تری ہر ادا میں
ہمیں بھی یہ جلوے زرا تم دکھا دو

50
وقت رخصت کہیں تارے کہیں جگنو آئے

23
ہے سمندر اگر عشق تیرا یہاں
ہم سفینہ اے چاہت لیے پھر رہے
ہے ذرا سی طلب تم پلا دو مجھے
ہم بھی مے کی یہ لت ہیں لیے پھر رہے

19
تم نظر سے نظر اب ملا دو صنم
عشق کے پھول دل میں کھلا دو صنم
تم غزل ہو مری شاعری بھی ہو تم
لفظ پھر سے نئے کچھ سکھا دو صنم
ہیں کتابوں میں خط جو چھپا کر رکھے
وہ محبت کے خط تم پڑھا دو صنم

20
کچھ بھی نہیں یہ زندگی تیرے بنا
آنکھوں میں رہتی ہے نمی تیرے بنا
خاموش ہوں مدہوش ہوں میں ہر گھڑی
کھلتی ہے اب تیری کمی تیرے بنا

60
یہ محبت یہ چاہت نشہ ہے نشہ
اِس نشے میں ہے اب تو مزا ہی بڑا
گر میں جاؤں تو جاؤں کہاں اے خُدا
اُس کی آنکھوں سے ہو کے ہے رستہ مرا
اُس کی یادوں سے نکلوں تو جاؤں کہاں
اُس کی آنکھوں میں ہے آشیانہ مرا

42
ریت کے ٹیلوں پر مکان نہیں
عشق کے اور امتحان نہیں
کب تلک پورے ہوں گے خواب مرے
کیوں خدا مجھ پہ مہربان نہیں

29
ماں تو ماں ہوتی ہے صاحب
ہو غم یہ ہو خوشی کوئی
کوئی دکھ درد ہو یہ پھر
ہنسی وہ ساتھ ہوتی ہے
ماں تو ماں ہوتی ہے صاحب
ہماری ہر خوشی میں ہے

38
جس حال میں رکھےخُدا خوش رہتا ہوں میں  ماں
اُس کے دیے یہ درد بھی اب سہتا ہوں میں ماں
سیلاب ہیں یہ اشک مرے روکتے نہیں
بس ساتھ ساتھ اَشکوں کے ہی بہتا ہوں میں ماں
خاموش رہتا ہوں بھری محفل میں آج کل
پر حالِ دل کسی سے نہیں کہتا ہوں میں ماں

28
اُس کی آنکھوں میں کچھ تو نشہ ہو گا
بھر بھر کےجام جو پلایا ہو گا
اب تو مدہوش ہے یہ ساری محفل
اُس نے کچھ رنگ تو جمایا ہو گا

30
عشق میں جھوٹ سُنانا نہیں آیا مجھ کو
بھول کو اپنی چھپانا نہیں آیا مجھ کو
تھا گُزر اُس کا مری راہ سے ہو کر لیکن
ہے محبت یہ بتانا نہیں آیا مجھ کو

0
27
میں مسلسل تری یادوں کا سفر کرتا ہوں
صبح اور شام ترا خود سے ذکر کرتا ہوں
رات بھر روتا ہوں تنہائی کے عالم میں اب
اور اُجالے یہ تری یادِ نظر کرتا ہوں

57
میرے دیش کا دامن تار تار ہے پھر سے
جس کو بھی میں دیکھوں وہ شرم سار ہے پھر سے
جھک گئی ہیں آنکھیں ہر شخص کی یہاں لیکن
دل میں اِن کے غصّہ اب بے شمار ہے پھر سے
غم ہے غصّہ ہے اور ہے خوف بھی یہاں سب میں
جینے سے یہاں ہر کوئی بے زار ہے پھر سے

43
پھول مرجھا رہے ہیں چمن کے یہاں
تم چلے آؤ اب تو وہاں سے یہاں
اب تو پتھرا گئی ہیں یہ آنکھیں مری
اشک آنکھوں کے سوکھے ہیں سارے یہاں
رات دن اب تو میرے گُزرتے نہیں
شام تنہا یہ تم کو پکارے یہاں

50
یہ حُُسن کے چرچے یہ شان و شوکت
بس نام کے ہیں سب کے سب یہاں پر
وہ چھین لے گا سب یہاں یہ اک دن
پھر ہے ضرورت ان کی کب کہاں پر

42
وہ ریت پر قدموں کے نشان باقی ہیں
میں زندہ ہوں ابھی تک مجھ میں جان باقی ہے
یوں کب تلک مجھے خاموش تم رکھو گے اب
ابھی تو بولنے کو یہ زبان باقی ہے

54
روک لو اُس کو اک بار پھر سے
چھوٹ جائے گا وہ یار پھر سے
اُن سے آنکھیں ملاؤں تو کیسے
ہو نہ جاؤں گرفتار پھر سے
روٹھ جائے نہ محبوب میرا
کر رہا ہوں میں اظہار پھر سے

50
اُس کے جانے کا ہمیشہ غم رہا
ہجر میں اُس کے یہ دامن نم رہا
عشق اُس کو بھی ہو گا ہم سے کبھی
آج تک اِس بات کا برہم رہا
گر میں لکھتا بھی تو خط کس نام سے
ایک مدت تک وہ کاغذ نم رہا

42
اُس سے آنکھیں ملا رہا ہوں پھر سے
چاہت کے گُل کھلا رہا ہوں پھر سے
مجھ کو مدہوش کر رہی ہیں باتیں
باتوں سے دل بھلا رہا ہوں پھر سے

31
اُس کے گھر کے چکر لگا رہا ہوں پھر سے
روٹھی چاہت کو میں منا رہا ہوں پھر سے
کتنا ظالم ہے کی وہ سُنتا نہیں میری
تب بھی اُس کے ناز اُٹھا رہا ہوں پھر سے
کیوں کر ہوں مجبور یہ جان نہیں پایا
بس آنکھوں سے دھول ہٹا رہا ہوں پھر سے

56
عورت کو کھیلنے کا سامان نہ سمجھا جائے
اِس میں بھی دل ہے اِسے بے جان نہ سمجھا جائے
گھر کی ہر ایک خوشی میں ہو خوشی اس کی بھی اب
اس کو اپنے ہی یہاں مہمان نہ سمجھا جائے

35
محبت محبت محبت ہے تم سے
مری جان کتنی محبت ہے تم سے
جہاں بھی میں دیکھوں ہے تو ہی نظر میں
مری زندگی بس محبت ہے تم سے
لبوں پر ترا نام رہتا ہے ہر پل
ہے چاہت تمہاری محبت ہے تم سے

30
میں تیری اُلفت کے چراغوں کو جلا کے رکھوں گا
یہ عشق تا عمر میں دل میں ہی چھپا کے رکھوں گا
میں کب سے خاموش ہوں کچھ نہیں کہا اب بھی میں نے
میں ایسے ہی راز یہاں یہ سب دُبا کے رکھوں گا

67
وقت کے ساتھ بدلنا سیکھو
گِر کے خود ہی سے سنبھلنا سیکھو
کون آئے گا بچانے تمہیں
بھیڑ سے خود ہی نکلنا سیکھو
دل ہے پتھر یہ تمہارا کیوں کر
موم کی طرح پگھلنا سیکھو

4
87
تلاش تھی جس کی وہ ملا نہیں
مجھےکسی سے اس کا گلہ نہیں
ہے کشمکش میرے دل میں اب تلک
وہ پھول چاہت کا کیوں کھلا نہیں
جہاں میں جس اور دیکھوں تو ہی تو ہے
خیال تیرا دل سے گیا نہیں

54
کس کی باتوں کا اثر مجھ پر ہوا ہے
ہوش اپنا میں گوا بیٹھا ہوں اب تو
روز در پر اس کے بن کر اب سوالی
عشق کی فریاد لے جاتا ہوں اب تو

44
یہ زندگی کے کھیل بھی نرالے ہیں
یہاں تو جھوٹ کے ہی بول بالے ہیں
نہیں نصیب میرے دل خوشی یہاں
یہاں پہ لوگوں نے تو غم ہی پالے ہیں
کسی پہ کیسے میں کروں بھروسہ اب
یہاں تو سب نے خود پہ پردے ڈالے ہیں

48