Circle Image

Sanjay Kumar Rahgir

@Rahgir0143

یہ محبت یہ چاہت نشہ ہے نشہ
اِس نشے میں ہے اب تو مزا ہی بڑا
گر میں جاؤں تو جاؤں کہاں اے خُدا
اُس کی آنکھوں سے ہو کے ہے رستہ مرا
اُس کی یادوں سے نکلوں تو جاؤں کہاں
اُس کی آنکھوں میں ہے آشیانہ مرا

12
ریت کے ٹیلوں پر مکان نہیں
عشق کے اور امتحان نہیں
کب تلک پورے ہوں گے خواب مرے
کیوں خدا مجھ پہ مہربان نہیں

11
ماں تو ماں ہوتی ہے صاحب
ہو غم یہ ہو خوشی کوئی
کوئی دکھ درد ہو یہ پھر
ہنسی وہ ساتھ ہوتی ہے
ماں تو ماں ہوتی ہے صاحب
ہماری ہر خوشی میں ہے

12
جس حال میں رکھےخُدا خوش رہتا ہوں میں  ماں
اُس کے دیے یہ درد بھی اب سہتا ہوں میں ماں
سیلاب ہیں یہ اشک مرے روکتے نہیں
بس ساتھ ساتھ اَشکوں کے ہی بہتا ہوں میں ماں
خاموش رہتا ہوں بھری محفل میں آج کل
پر حالِ دل کسی سے نہیں کہتا ہوں میں ماں

11
اُس کی آنکھوں میں کچھ تو نشہ ہو گا
بھر بھر کےجام جو پلایا ہو گا
اب تو مدہوش ہے یہ ساری محفل
اُس نے کچھ رنگ تو جمایا ہو گا

13
عشق میں جھوٹ سُنانا نہیں آیا مجھ کو
بھول کو اپنی چھپانا نہیں آیا مجھ کو
تھا گُزر اُس کا مری راہ سے ہو کر لیکن
ہے محبت یہ بتانا نہیں آیا مجھ کو

0
17
میں مسلسل تری یادوں کا سفر کرتا ہوں
صبح اور شام ترا خود سے ذکر کرتا ہوں
رات بھر روتا ہوں تنہائی کے عالم میں اب
اور اُجالے یہ تری یادِ نظر کرتا ہوں

18