Circle Image

تنویر روانہ

@tanveer.rawana.poet.786

برسوں کی تشنگی ہے کہ پل میں بجھا نہیں
مَیں ہوش میں نہ آ سکوں اتنا پلا نہیں
کیوں چھوڑ دے گا ساقی مرے حال پر مجھے
یہ پیاس بے سبب نہیں بے ضابطہ نہیں
خالی سہی مگر ابھی رہنے دے سامنے
جلدی بھی کیا ہے اتنی کہ ساغر اٹھا نہیں

8
حرفِ دعا ہے دل میں مگر لَب کُشا نہیں
لب تھرتھرا رہے ہیں کہ نکلی صدا نہیں
گزری ہے عمر ساری رکوع و قیام میں
سجدہ نمازِ عشق میں ہوتا اَدا نہیں
رسوائی کا سبب تھا کہ خاموش چل دِیے
کہنا تھا جو زمانے سے کچھ بھی کہا نہیں

3
ہم ازل سے دل جلاتے آئے ہیں
سوگ الفت کا مناتے آئے ہیں
سکھ نہیں پایا گھڑی بھر کے لئے
ٹھوکریں در در کی کھاتے آئے ہیں
دریا میں طغیانی ایسے تو نہیں
ہر جگہ آنسو بہاتے آئے ہیں

3
ڈھونڈتے کیا ہو دارِ فانی میں
ہُو کا عالم ہے لامکانی میں
قرب حاصل ہے مجھ کو یزداں کا
دل کو رکھا ہے ترجمانی میں
آج تک تجھ سے کچھ نہیں مانگا
کر عطا دید ارمغانی میں

12
دھڑکن جو گا رہی ہے ترانہ فضول ہے
ایسے میں ساز دل کا بجانا فضول ہے
اے دل کبھی اَلاپ کوئی راگ درد کا
کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ گانا فضول ہے
فریاد کر رہا ہوں کہ سُنتا نہیں کوئی
بے رحم دور ہے یہ زمانہ فضول ہے

2
عشق تیرا پسار لیتے ہیں
تجھ کو دل میں اُتار لیتے ہیں
آج ہم تیرے رُو برُو ہو کے
اپنی دنیا سنوار لیتے ہیں
اب کہ تنویر بات بَن جائے
نام لے کر پکار لیتے ہیں

0
2
پڑھ جانِ جگر دل کی کتاب اور زیادہ
کھل جائیں گے پھر درد کے باب اور زیادہ
ہو پائے گی تجھ سے نہ کبھی زخموں کی گنتی
بڑھ جائے گا آہوں کا نصاب اور زیادہ
ہر باب سنائے گا اذیت کی کہانی
الفاظ سے نکلے گا خَلاب اور زیادہ

0
2