Circle Image

تنویر روانہ

@tanveer.rawana.poet.786

اہلِ فلک کے باسی خوشیاں منا رہے ہیں
عرشِ بریں پہ آقا تشریف لا رہے ہیں
تعظیم کر رہے ہیں سر کو جھکا رہے ہیں
صلے علی کا نعرہ قدسی لگا رہے ہیں
دیدار کی بشارت جبریل دے رہا ہے
آقا کو اپنے در پر خالق بُلا رہے ہیں

6
کیا ہے جرم انساں نے تمنا کی قیادت میں
ازل سے آگئی دنیا گناہوں کی حراست میں
بڑی مدت سے رہتا ہوں غریبی کی شباہت میں
خودی کو سونپ رکھا ہے غلامی کی کفالت میں
یہاں تذلیل ہوتی ہے بنی آدم کے پیکر کی
ملے گا کیا زمانے کو ملامت میں ضلالت میں

5
شیوہِ مسلمانی آپ کی وِساطَت ہے
آپ کا کرم ورنہ میری کیا جَسارَت ہے
آپ کی محبت میں ایسی میری حالت ہے
کل بھی تو قیامت تھی آج بھی قیامت ہے
شکر ہے خدا کا اسلام کا محافظ ہوں
آپ کی نوازش ہے آپ کی عنایت ہے

5
یہ کہا کس نے تجھ سے بچھڑ جائیں گے
جب ترا ساتھ چھوٹا تو مر جائیں گے
رفتہ رفتہ کہیں ہم گزر جائیں گے
ایک دن ہم لحد میں اتر جائیں گے
تب خدا جانے ہو گا مرے ساتھ کیا
جب لحد میں مجھے چھوڑ کر جائیں گے

0
5
کون کہتا ہے کہ اقرار نہیں ہو سکتا
عشق سچا ہے تو انکار نہیں ہو سکتا
اب بھی بازار میں بکتے ہیں ہزاروں بردے
حسنِ یوسف سرِ بازار نہیں ہو سکتا
عین ممکن کہ خریدے کوئی ساری دنیا
پھر زلیخا سا خریدار نہیں ہو سکتا

0
4
جب کبھی موسمِ بہار آیا
اُجڑے گلشن پہ پھر نکھار آیا
شکل و صورت وہی رہی اپنی
اِسْتِحالَہ کبھی کبھار آیا
مجھ کو حالات نے بدل ڈالا
کس لئے خود کو تُو سنوار آیا

12
اپنی الفت میں پاگل بنا دیجئے
نت نئے پھر ستم مجھ پہ ڈھا دیجئے
خوگرِ غایتِ دردِ دل دیکھئے
کیجئے درماں نہ کوئی دوا دیجئے
برملا ہوں بضد بے خطا ہوں بجز
مجھ پہ بالجبر ہے افترا دیجئے

12