Circle Image

تنویر روانہ

@tanveer.rawana.poet.786

برسوں کی تشنگی ہے کہ پل میں بجھا نہیں
مَیں ہوش میں نہ آ سکوں اتنا پلا نہیں
کیوں چھوڑ دے گا ساقی مرے حال پر مجھے
یہ پیاس بے سبب نہیں بے ضابطہ نہیں
خالی سہی مگر ابھی رہنے دے سامنے
جلدی بھی کیا ہے اتنی کہ ساغر اٹھا نہیں

23
حرفِ دعا ہے دل میں مگر لَب کُشا نہیں
لب تھرتھرا رہے ہیں کہ نکلی صدا نہیں
گزری ہے عمر ساری رکوع و قیام میں
سجدہ نمازِ عشق میں ہوتا اَدا نہیں
رسوائی کا سبب تھا کہ خاموش چل دِیے
کہنا تھا جو زمانے سے کچھ بھی کہا نہیں

30
ہم ازل سے دل جلاتے آئے ہیں
سوگ الفت کا مناتے آئے ہیں
سکھ نہیں پایا گھڑی بھر کے لئے
ٹھوکریں در در کی کھاتے آئے ہیں
دریا میں طغیانی ایسے تو نہیں
ہر جگہ آنسو بہاتے آئے ہیں

23
ڈھونڈتے کیا ہو دارِ فانی میں
ہُو کا عالم ہے لامکانی میں
قرب حاصل ہے مجھ کو یزداں کا
دل کو رکھا ہے ترجمانی میں
آج تک تجھ سے کچھ نہیں مانگا
کر عطا دید ارمغانی میں

25
دھڑکن جو گا رہی ہے ترانہ فضول ہے
ایسے میں ساز دل کا بجانا فضول ہے
اے دل کبھی اَلاپ کوئی راگ درد کا
کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ گانا فضول ہے
فریاد کر رہا ہوں کہ سُنتا نہیں کوئی
بے رحم دور ہے یہ زمانہ فضول ہے

8
عشق تیرا پسار لیتے ہیں
تجھ کو دل میں اُتار لیتے ہیں
آج ہم تیرے رُو برُو ہو کے
اپنی دنیا سنوار لیتے ہیں
اب کہ تنویر بات بَن جائے
نام لے کر پکار لیتے ہیں

0
7
پڑھ جانِ جگر دل کی کتاب اور زیادہ
کھل جائیں گے پھر درد کے باب اور زیادہ
ہو پائے گی تجھ سے نہ کبھی زخموں کی گنتی
بڑھ جائے گا آہوں کا نصاب اور زیادہ
ہر باب سنائے گا اذیت کی کہانی
الفاظ سے نکلے گا خَلاب اور زیادہ

0
8
پھول نے پھول سے کہا خوشبو
ساتھ رہتی نہیں سدا خوشبو
سر تا پاؤں کہ تُو معطر ہے
تجھ سے ظالم تری ادا خوشبو
خوشبو گُل ہے کہ گُل نما خوشبو
با وفا ہے کہ بے وفا خوشبو

0
6
دورِ بچپن کا کیا زمانہ تھا
شادمانی کا اک خزانہ تھا
عمرِ رفتہ رواں رہی آخر
زندگی کا فریب کھانا تھا
وقت بدلا تو کیا نہیں بدلا
جو حقیقت تھی سو فسانہ تھا

0
17
کروں رب کا دیدار یہ آرزو ہے
یہی ہے تمنا یہی جستجو ہے
نظر آ رہا ہے وہ شہ رگ کے اندر
ہے مجھ میں وہ جس کی مجھے جستجو ہے
نہیں ہے سوا تیرے کوئی بھی خواہش
مرے دل میں تُو ہے تری آرزو ہے

0
12
اہلِ فلک کے باسی خوشیاں منا رہے ہیں
عرشِ بریں پہ آقا تشریف لا رہے ہیں
تعظیم کر رہے ہیں سر کو جھکا رہے ہیں
صلے علی کا نعرہ قدسی لگا رہے ہیں
دیدار کی بشارت جبریل دے رہا ہے
آقا کو اپنے در پر خالق بُلا رہے ہیں

13
کیا ہے جرم انساں نے تمنا کی قیادت میں
ازل سے آگئی دنیا گناہوں کی حراست میں
بڑی مدت سے رہتا ہوں غریبی کی شباہت میں
خودی کو سونپ رکھا ہے غلامی کی کفالت میں
یہاں تذلیل ہوتی ہے بنی آدم کے پیکر کی
ملے گا کیا زمانے کو ملامت میں ضلالت میں

9
شیوہِ مسلمانی آپ کی وِساطَت ہے
آپ کا کرم ورنہ میری کیا جَسارَت ہے
آپ کی محبت میں ایسی میری حالت ہے
کل بھی تو قیامت تھی آج بھی قیامت ہے
شکر ہے خدا کا اسلام کا محافظ ہوں
آپ کی نوازش ہے آپ کی عنایت ہے

15
یہ کہا کس نے تجھ سے بچھڑ جائیں گے
جب ترا ساتھ چھوٹا تو مر جائیں گے
رفتہ رفتہ کہیں ہم گزر جائیں گے
ایک دن ہم لحد میں اتر جائیں گے
تب خدا جانے ہو گا مرے ساتھ کیا
جب لحد میں مجھے چھوڑ کر جائیں گے

0
11
کون کہتا ہے کہ اقرار نہیں ہو سکتا
عشق سچا ہے تو انکار نہیں ہو سکتا
اب بھی بازار میں بکتے ہیں ہزاروں بردے
حسنِ یوسف سرِ بازار نہیں ہو سکتا
عین ممکن کہ خریدے کوئی ساری دنیا
پھر زلیخا سا خریدار نہیں ہو سکتا

0
29
جب کبھی موسمِ بہار آیا
اُجڑے گلشن پہ پھر نکھار آیا
شکل و صورت وہی رہی اپنی
اِسْتِحالَہ کبھی کبھار آیا
مجھ کو حالات نے بدل ڈالا
کس لئے خود کو تُو سنوار آیا

26
اپنی الفت میں پاگل بنا دیجئے
نت نئے پھر ستم مجھ پہ ڈھا دیجئے
خوگرِ غایتِ دردِ دل دیکھئے
کیجئے درماں نہ کوئی دوا دیجئے
برملا ہوں بضد بے خطا ہوں بجز
مجھ پہ بالجبر ہے افترا دیجئے

32
رَگوں میں لہو ہی لہو چل رہا ہے
بدن میں تپش ہے کہ دل جل رہا ہے
قدم بڑھ رہے ہیں بڑھاپے کی جانب
جوانی کا سورج کہیں ڈھل رہا ہے
خیالوں کے تابع رہی ہے حقیقت
حقیقت سے افضل تخیل رہا ہے

15
درد و الم سے چُور یہ ہستی مَلال جیسی ہے
غم زدہ زندگی مری آہ غزال جیسی ہے
کرب و بلا کی خاک پر جلتی مَشَال جیسی ہے
زخمی دل و جگر ہیں اور روح نڈھال جیسی ہے
روحِ بشر خدا کی قدرت ہے اور امرِ ربی ہے
آدمی کی مثال تو خاکِ سِفال جیسی ہے

0
29
جب حُسنِ مجسم کو اشعار میں ڈھالا ہے
ہر لفظ بنا تیری صورت کا حوالا ہے
عنوان بھی ساده ہے مضمون بھی سادہ ہے
کہتے ہیں کہ کاتب کا انداز نرالا ہے
اندازہ لگا لُوں گا قسمت کی سیاہی کا
اے یار تری زُلفوں کا رنگ جو کالا ہے

0
35
ہے نہ کاغذ قلم دَوات اپنی
کیسے لکھیں گے اب صفات اپنی
کہتے ہیں جس کو فطرتِ انساں
علمِ کامل ہے نفسیات اپنی
زندگی کرب میں گزاری ہے
کربلا جیسی ہے حیات اپنی

36
مرے قریب وہ آئے اور آ کے بیٹھ گئے
لَبِ خموش میں انگلی دَبا کے بیٹھ گئے
کہ بیٹھا کوئی مجاور مزارِ عشق پہ ہو
یوں میرے قدموں میں وہ سَر جُھکا کے بیٹھ گئے
تَھکا چُکا تھا اُنھیں اپنی زندگی کا سفر
ہمارے ساتھ وہ تکیہ لگا کے بیٹھ گئے

0
34
اِک قافلہ ٹھہرا تھا کربل کے وِرانے میں
سب لوگ جِسے کرتے ہیں یاد زمانے میں
دجلہ کے کنارے پر شبیر کے تھے خیمے
سرگرم تھے قاتل بھی وہاں خون بہانے میں
حرمت کا بھرم رکھنا پردیس میں اے مولا
سید کا بسیرا ہے کربل کے وِرانے میں

36
ہے غم سے نڈھال روح مولا حسین کی
کبھی اُجڑی تھی یہاں پہ دنیا حسین کی
گرم آگ کا ہیولا سا بن گئی ہوا
جلا یاد میں وجودِ صحرا حسین کی
کی شبیر نے لہو سے سیراب کربلا
بجھائی پیاس کیوں نہ دریا حسین کی

40
مِٹا نہیں مرا نام و نشاں میں زندہ ہوں
ابھی تو ہیں مری سانسیں رواں میں زندہ ہوں
ابھی تلک مرے جینے کی آس ہے باقی
ابھی تلک ہے جگر خوں فشاں میں زندہ ہوں
ابھی تلک تو مسلسل دھڑک رہا ہے دل
تڑپ رہی ہے ابھی مجھ میں جاں میں زندہ ہوں

46
گھٹائیں گفتگو جب آسماں سے کرنے لگیں
زمیں کی گود میں بارش کی بوندیں گرنے لگیں
سیاہ پوش جہاں بامِ گردوں سے ہو گیا
اُسانا بدلیاں آکاش سے اترنے لگیں
تمام دن کہ اماوس کی رات جیسا رہا
جہاں کی رونقیں تاریکیوں سے ڈرنے لگیں

21
دریائے بے خودی میں اترنے نہیں دیا
آنکھوں میں مجھ کو ڈوب کے مرنے نہیں دیا
لذت کے اعتبار سے غم نے دیا مزہ
جو دردِ قلب اور جگر نے نہیں دیا
سینے پہ زخم مَیں نے بہت کھائے ہیں مگر
ساطور دل کے پار گزرنے نہیں دیا

0
23
تجھ کو بھولا ہوں تو پھر کچھ بھی رہا یاد نہیں
مَیں کہ زندہ ہوں مجھے اپنی بَقا یاد نہیں
اِس قدر ٹوٹ کے بکھرا ہوں محبت میں ابھی
میرے ذرات کو ہستی کی اَدا یاد نہیں
درد سے خود کو تڑپتے ہوئے دیکھا ہے فقط
جانے کب تیرِ نظر دل پہ لگا یاد نہیں

2
41
ہے خدا یاد مگر خلقِ خدا یاد نہیں
خود غرض لوگوں کو کچھ اپنے سوا یاد نہیں
یاد ہے آج بھی وُہ لوح و قلم روزِ ازل
میری تقدیر میں کیا کیا ہے لکھا یاد نہیں
میں تری خلد سے نکلا ہوا انساں ہوں مگر
کب کہاں کیسے ہوئی مجھ سے خطا یاد نہیں

6
66
کی تمنا جو زندگانی میں
زندگی لُٹ گئی جوانی میں
خود کو برباد کر دیا ہم نے
تیری چاہت کی پاسبانی میں
غور سے سنیے داستاں میری
غم ہی غم ہے مری کہانی میں

15
جب سے زباں پہ ذکرِ محمد رواں ہوا
صَلَّے علٰی کے وجد کا طاری سماں ہوا
ہر کوئی جھومنے لگا عشقِ رسول میں
اس قدر لطفِ کرم سے دل بیکراں ہوا
دل کو خدا نے عرشِ معلی بنا لیا
پھر تو زمیں زمیں نہ رہی آسماں ہوا

23