دھڑکن جو گا رہی ہے ترانہ فضول ہے
ایسے میں ساز دل کا بجانا فضول ہے
اے دل کبھی اَلاپ کوئی راگ درد کا
کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ گانا فضول ہے
فریاد کر رہا ہوں کہ سُنتا نہیں کوئی
بے رحم دور ہے یہ زمانہ فضول ہے
دھوکہ دغا فریب ہی نیت میں ہے بھرا
جھوٹا ہے عشق تیرا فسانہ فضول ہے
جس شخص سے ہزار ہا نے دل لگایا ہو
دل ایسے بے وفا سے لگانا فضول ہے
لہریں بہا لے جائیں کسی وقت بھی کہیں
ساحل پہ گھر مرا ہے ٹھکانہ فضول ہے
غم اس قدر ملے ہیں کہ دنیا بدل گئی
وافِر غموں میں خوشیاں مِلانا فضول ہے
آخر بیادِ ماضی کا تنویر کیا کریں
جو بھول ہی نہ پائے بھلانا فضول ہے
تنویرروانہ

237