Circle Image

رانا جاوید اقبال قہر

@rjiqaher

فاصلے درمیاں نہیں ہوتے یعنی سوچو کہ ہم وہیں ہوتے
خواب لے کر تمھاری نیندوں میں تم سے ملتے بھلے کہیں ہوتے

0
10
خواب ایسے دکھاؤ نا ہم کو
جن کی تعبیر تم کو آتی ہے!
رنگ تکمیل کے بھرو ہم میں
ساری تصویر تم کو آتی ہے؟
جس میں قرباں ہو راز پر شہرت
کیا یہ تشہیر تم کو آتی ہے؟

0
32
یہ جو آئینے سے باہر ملا ہے
یہی باطن ہے اور ظاہر ملا ہے
سبق ہم کو ہماری بے خودی کا
اُسے ابہام میں پا کر ملا ہے
بِلا سوچے جو شاید چل پڑا تھا
بھلائی سے مری قاصر ملا ہے

0
102
مرے دن رات تیرے خواب کی تعبیر میں ہیں
میں اپنی آنکھ تیری رات میں کیسے لگالوں

0
13
کیا کہوں جی رہا ہوں تیرے بعد
یوں کہوں مر گیا ہوں تیرے بعد
مر کے تجھ سے ملا ہوں تیرے بعد
خواب میں کھو گیا ہوں تیرے بعد
تجھ سے مر کر ملے دلِ ناشاد
کیوں الگ مر رہا ہوں تیرے بعد

0
52
آج فرقت میں ہے قرار بہت
کار فرما ہے یادِ یار بہت
گلشنِ جاں ہو گر غریقِ خزاں
ایسے دل کو تری بہار بہت
ہجر ہو یا خزاں ہو یاد تری
وصل جیسی ہے پُر بہار بہت

0
104
سراہا تھا کسی نے حسن کو ہر چند لوگوں میں
اُسے پر چپ میں درپردہ ستائش یاد آتی ہے

0
12
پاسِ فرقت میں اگر خوف زدہ رہتے ہیں
ہیں نڈر کتنے کہ ہم تم سے جدا رہتے ہیں
ساتھ ہو جائے نہ کیوں یاد اِسی خَلوت کے
کتنے تنہا وہ مرے دل میں سدا رہتے ہیں

0
29
یوں خزائوں میں بہاروں سے ملا کرتے ہیں
یہ جو پتے ترے پیروں میں گرا کرتے ہیں
نہ کبھی ہجر کے آنے پہ ہوئی یاد خفا
نہ اسے وصل کے جانے پہ خفا کرتے ہیں
پوچھنے جاتے ہیں، اب تم سے اجازت چاہیں
پوچھتے پوچھتے پھر روز ملا کرتے ہیں

0
50
غافل رہے نہ یاد سے پل بھر الگ رہے
گو در پہ تیرے، لوگوں سے یکسر الگ رہے
شاید کبھی جو آپ کو بھولے ہوں، سوچ کر
بدلے میں اپنے آپ سے اکثر الگ رہے

0
18
کب بدلتا ہے مری جان کہ ڈھلتا دن ہے
رات جب آگ میں جلتی ہے سُلگتا دن ہے
ایسے اُلفت سے تجھے لائیں گے رَہ پر اپنی
رات کو جیسے تسلسل سے بدلتا دن ہے
بس ترا وصل لئے کاش کہ بہتا آئے
دیدہِ شب سے اگر روز چَھلکتا دن ہے

0
57
نگاہِ یار نے جب سے بُھلا دیا ہے سبھی
دل و نگاہ کا دیکھا سُنا سُنا ہے سبھی
ہمیں ہے چاہ کہ کہہ دو تو بے لحاظ لگو
وہی جو تم نے مروّت میں کہہ دیا ہے سبھی
جبھی تو اس کو محبت کا بھی دریغ نہیں
کہ دائو پر جو کسی نے لگا دیا ہے سبھی

0
38
یہ جو رغبت ہے اک سہارا ہے
ورنہ دُوری ہو کب گوارا ہے
ہے للک جی میں آپ کی خاطر
زیرِ لب آپ نے پکارا ہے
راز، دُوری میں بھی ہیں پوشیدہ
ایسے ملنے میں بھی اشارہ ہے

0
63
جا نہیں پائے کبھی جا کر دلِ ناشاد سے
سامنے پایا تمھیں ہم نے تمھاری یاد سے
کر دیا مانا اِسے دستور ِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِ الفت نے رہا
قید میں ملتی رہی تیری خوشی آزاد سے
تارے گن گن کر شبِ ہجراں گزاری بھی اگر
چاند کے بِچھڑے کو کیا اس کثرت و تعداد سے

0
43
دن وہ فرقت کی جزا ہوں گے کبھی
ساتھ جب ان کے سدا ہوں گے کبھی
گو حقیقت ہے فنا ہوں گے کبھی
ہم بھلا تم سے جدا ہوں گے کبھی
جاں سے لے جائے اگر عہدِ وفا
شکر، یہ وعدے وفا ہوں گے کبھی

0
125
ایک اک منظر میں صورت آپکی دِکھلائے گی
زندگی ہم کو تمھاری یاد سے بہلائے گی
لفظ پلٹیں گے ترا لہجہ تری خوشبو لئے
جب غزل میری کبھی تیری زباں تک آئے گی
آگئے جس موڑ پر ہم تم محبت کے سبب
دیکھنا رَستہ یہی اُلفت ہمیں دِکھلائے گی

0
101
نظر کو وصل کے پل سے ہٹائیں گے نہ کبھی
کریں گے یاد تمہیں یوں، بھلائیں گے نہ کبھی
کریں گے بات جو الفت کو زیب دیتی ہو
جو راہ سچ سے الگ ہو دکھائیں گے نہ کبھی
مقام آپ کے خط کا ہمیں گوارا ہے
کہ اور آنکھ سے کاغذ لگائیں گے نہ کبھی

0
57
اپنی راہوں میں آپ کو پا کر
مجھ کو منزل پہ رشک آتا ہے
ایسے آتے ہیں آپ سے ملنے
جیسے آنکھوں میں اشک آتا ہے

0
20
تمام عمر کی حسرت سے تم کو دیکھیں گے
پلک جھپکنے کی فرصت سے تم کو دیکھیں گے
جو ایک بار نظر سے ہماری گزرو گے
ہزار بار کی رغبت سے تم کو دیکھیں گے

0
20
کیسے تجھ سے جدا رہا ہوں میں
جب کہ ہر پل ترا رہا ہوں میں
ویسے تم کو خبر ہوئی ہوگی
جیسے تم کو بلا رہا ہوں میں
تیری بابت کہوں تو لگتا ہے
آپ بیتی سنا رہا ہوں میں

0
64
قدم قدم پہ یوں ہونے کو ساتھ کہتے ہیں
سفر میں خیر سے ہم ساتھ ساتھ ہوتے ہیں
زمینِ قلب سے اُٹھتی ہے آپ کی خوشبو
تمھارے لمس جو یادوں کے ساتھ بوتے ہیں
دعا دی ایسی محبت نے ہم چراغوں کو
ہوا کی زد میں بھی جھونکے بچائے پھرتے ہیں

0
76
کاش کہتے نہ بے وفا جاناں
اور دیتے کوئی سزا جاناں
آگے آتی نہ بے محل باتیں
بخش دیتے کہا سنا جاناں
ایسا ممکن کہاں محبت میں
یاد رکھتے کوئی خطا جاناں

0
22
آپ کے پیروں سے مس ہوتا جو پانی آئے گا
موج بن کر دل کی کشتی کو بہا لے جائے گا
آپ کے پیروں سے پانی میں بکھرتی تتلیاں
دیکھ کر دل شوق کے مارے فنا ہو جائے گا
جیت جاتے ہیں گزر کر جان سے اہلِ وفا
کیسے عاشق ہار کے دل، بے وفا کہلائے گا

0
51
نہ کچھ کہنا پڑے اور مان جائے
یہ دل تم پر نہ کیوں قربان جائے
بسی ہو روح بن کر میرے اندر
نکلتی ہو تو جیسے جان جائے
سہی جائے نہ ہم سے یہ جدائی
نہ جی سے وصل کا امکان جائے

0
42
ایسے شاید کہاں کسی سے ملے
تم سے ملنے میں زندگی سے ملے
بے قدر ہو گئے حیات کے غم
اس قدر آپ خوش دلی سے ملے
کیا یہ کم ہے کہ جب ملے تم سے
تم سے مل کر نہ پھر کسی سے ملے

0
80
اوج سے صاحبِ مقام ہوئے
گِر کے مرنے کو لبِ بام ہوئے
جان دے کر کسی کے نام ہوئے
تب یہ قصے لبوں پہ عام ہوئے
چند لمحے جو ہم کلام ہوئے
سارے شکوے گلے تمام ہوئے

0
58
سوچو پایا حیات سے کیا کچھ
اور کھویا ممات سے کیا کچھ
موت کے ہاتھ تھی رِہن ہستی
موت پوچھے حیات سے کیا کچھ
حرفِ آخر ہے فیصلہ جس کا
ہے تہی اس کے ہات سے کیا کچھ

0
89