Circle Image

رانا جاوید اقبال وقارؔ

@rjiqaher

سنتے سناتے غیر کی بابت چلے گئے
لو قصّہ خوانِ بارِ رفاقت چلے گئے
احساسِ جرم سے ہوئی تسکینِ میزباں
مہمان پیشِ وقتِ مدارت چلے گئے
جاں بھی گئی کہ بچ گئی کرتے ملال کیا
صد شکر جانِ وجہِ ملامت چلے گئے

0
352
گردِ غفلت اتار لیتے ہیں
خاک اپنی سنوار لیتے ہیں
تشنگی ہو حیات کا مسکن
دل کا دریا اُتار لیتے ہیں
غم سے سچی خوشی نکلتی ہے
دُکھ کو اتنا سنوار لیتے ہیں

0
41
یوں نازاں ہے تری قدرت پہ محتاجی ہماری
تو تھکتا بھی نہیں کر کے نگہبانی ہماری
دیارِ قربتِ حق میں رہے سجدہ سلامت
قرینِ عجز بھی یاربّ ہو پیشانی ہماری
نگاہِ اہلِ عالم نے ہمیں انجان رکھا
کہ ہم نے ہی نہیں کچھ قدر پہچانی ہماری

0
58