Circle Image

سلیم جمال

@saleemjamal

مال و جاہ و حُسن و ضِیا کچھ بھی نہیں
یہ دنیا دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں
سینۂ مُفلس پہ چلتا ہے عدل کا تیر
صاحبِ زر کے لیے سزا کچھ بھی نہیں
اک پہلے ہی بُھوک گھر بَگھر ناچ رہی
اور کھانے کو غم کے سوا کچھ بھی نہیں

0
12
عاشقوں کی محفل میں بیاں رسمِ عاشقی کے اُصول نا کر
غمِ حسینؑ دل میں نہیں تو دعوائے عشقِ رسُولؐ نا کر
فلسفہ عشقِ حسینؑ سمجھ ، زورِ نیزۂ باطل سے نا ڈر
یزید کی بے گناہی میں کوئی بھی عُذر قبُول نا کر

0
13
اندھے گونگے بہرے قاضی ہو گئے
پاپی سارے پرانے ہادی ہو گئے
نعرۂ حق کیا بُلند جس نے بھی یہاں
وہ شہرِ ستم گر کے باغی ہو گئے
کھا کھا کے عمر بھر رشوت کی روٹی
سارے ہی آج کل وہ حاجی ہو گئے

0
16
تا عمر بھٹکتے رہے ہم دشتِ تمنا میں
جو اِک خواہش نے جنم لیا تو اِک مر گئی ہے
اِک زندگی اور ملے تو کوئی کام کریں گے ہم
یہ تو باتوں خوابوں خیالوں میں ہی گزر گئی ہے

0
12
لہو لہو ہوا مقتلِ شوق پھر اب لہو میں یہ اُبال کیسا
زندگی کے اِس موڑ پے دریائے غم میں یہ اُچھال کیسا
خواب تو تھے ابریشم کی صورت تیرے یہ نرم و نازک
تو پھر اِن کی شکستگی کا تجھ کو ہے اب یہ ملال کیسا
اے شیشہ گُرو جو تم جوڑ سکو نہ میرے اِس ٹوٹے دل کو
تو پھر اپنے دستِ ہنر ور پے تجھے ہے یہ کمال کیسا

0
14
جو درد چُھپا رکھا تھا دل کے چھالوں میں
وہ عیاں بھی ہوا تو آنکھوں کے پیالوں میں
ایسی ہوئی شبِ تاریک سے فُرقت میں الفت
کہ مری تو آنکھ بھی دکھتی ہے اب اُجالوں میں
فرصت ہی نہ ملی کہ جی لیتا کچھ اپنے لئے
پھنس کر رہ گیا اِس غم ہستی کے جالوں میں

0
12
دور کسی ہری شاخ پہ جب کوئی کوئل گنگناتی ہے
گمان ہوتا ہے جیسے وہ کوئی نغمۂ عشق سناتی ہے
موسم ہجراں کی اِن سرد سیاہ ٹھٹھرتی راتوں میں
تیری یاد رقصِ بسمل کی طرح بہت تڑپاتی ہے
اِک نا اِک دن تو ہونا ہی ہے رخصت اے بزمِ جہاں
جانے پھر یہ طبعیت میری کیوں گھبراتی ہے

0
14
پیالۂ زہر بھرا دے رہے ہیں
اُنس و وفا کی جَزا دے رہے ہیں
دردِ جگر دے کے ہم کو وہ کافر
بیٹھ کے پاس دوا دے رہے ہیں
جل رہے ہیں جِن انگاروں پر
غم خوار اُن کو ہوا دے رہے ہیں

0
11
مُجھ سے مت پُوچھو غمِ عاشقی کی رُوداد
نا میں رانجھا ہوں اور نا ہی کوئی فرہاد
اِتنا بھی مان نا کر اپنے رُخِ زیبا پے
کِبر تو تقوی بھی کر دیتا ہے برباد

0
7
دلِ بے قرار آخر کیوں چین نہیں پاتا
طوق غموں کا گلے سے کیوں اُتر نہیں جاتا
میرے عشق میں ہی کوئی کمی رہ گئی جو
مُجھ کو خُدا بھی نظر کعبے میں نہیں آتا

0
17
ہم جیسے پاگل بھی جگ میں گُھومتے ہیں
ابرِ جنوں تلے لیل و نہار جو جُھومتے ہیں
بارہا یہ چاہا کہ بدل لیں ہم خود کو
خود کو بدلنے کے لئے خود کو ڈھونڈتے ہیں

0
43
ہم نے بھی کیا کیا دکھ درد نہیں ہیں جھیلے
جانے کہاں سے آئے ہیں آنسوؤں کے یہ ریلے
ہنگامہ ہے برپا چاروں اور مرے لیکن
جی رہے ہیں ہم پھر بھی ہر دم اکیلے اکیلے
دورِ جدید کا دیکھو یہ کیسا ہے بے حس دل
اپنے اپنوں سے کھیل محبت کا ہیں کھیلے

0
25
اے صاحبِ مقدُور آخر تُو چاہتا کیا ہے
سَہمے سَہمے زندہ لاشے ڈراتا کیا ہے
ہیں دشمن کھڑے دمِ خنجر لئے سر پہ ہمارے
اپنا ہو کے تُو اپنوں پہ تیر چَلاتا کیا ہے
جب مُفتی و قاضی ہی ہوں شاہوں کے ہم نوا
پھر تُو کُنجِ قفس میں اے ناداں چِلاتا کیا ہے

0
20
میکدے میں شراب باقی ہے
ابھی میرا شباب باقی ہے
جلا کے رکھ دیا ہے دل میرا
کیا ابھی اور حساب باقی ہے
آج کا دن بھی تھا اُداس اُداس
ابھی شب کا عذاب باقی ہے

0
23
کسی غرض سے وہ میرے دیار میں آیا
میں سمجھا تھا شاید میرے پیار میں آیا
تب آیا جب یہ دل غم سے ہو گیا پتھر
مگر وہ پھر بھی انا کے خُمار میں آیا
میں نے تھی کھائی قسم تجھ کو بُھول جانے کی
لبوں پہ نام تو شدتِ بُخار میں آیا

0
48