Circle Image

Akhtar Hussain

@akhtar11a

مضبوط سرکار سے مجبور جمہوریت
مزدور و مفلس سے ہے اب دور جمہوریت
چاروں طرف نور کے وہ رنگ تھے مختلف
کس کی نظر سے ہوئی بے نور جمہوریت

0
7
آپس میں ہنستے ہنستے ہنسی زخم دے گئی
پل کی خوشی خوشی نہ رہی زخم دے گئی
روکے کہاں رکی ہے کبھی وقت کی گھڑی
جاتی ہوئی ہر ایک گھڑی زخم دے گئی

0
7
سوال یوں تو بہت ہیں جواب کوئی نہیں ہے
تباہ بچوں کو کر کے خراب کوئی نہیں ہے
ہری بھری تو ہیں شاخیں چھپے انہیں میں ہیں کانٹے
ہر ایک شاخ پہ ڈھونڈا گلاب کوئی نہیں ہے
پڑھے تو کیسے پڑھے وہ کوئی کتابِ محبت
کٹار ہاتھ میں لیکن کتاب کوئی نہیں ہے

0
6
ایک بار دید ہوئی بار بار عار ہوا
تب سے لیکے آج تلک صرف انتظار ہوا
سامنے وہ کھُل کے کبھی کوئی بات کہہ نہ سکا
پہلے بے قرار کیا پھر وہ بے قرار ہوا
عقل مند ہو گئے وہ مشورے پسند نہیں
بچے اب سیانے ہوئے ختم اختیار ہوا

0
24
شاداب تو ہیں سارے پر آباد نہیں ہیں
سب ہوتے ہوئے لوگ یہاں شاد نہیں ہیں

0
24
نہ نفرتوں میں اثر ہوتا تو میں بھی وہاں ہوتا
وہاں بے گھر نہیں ہوتا یہاں مِرا مکاں ہوتا
خلوص دل سے کوئی چاہتے ہوئے نہیں چاہا
نہیں تو اس زمیں پر کیا فلک پر آشیاں ہوتا
لہو لہان ہیں غنچے نظارہ ہے یہ چمن کا
ترے نہ ہونے سے اچھا تو آج گلستاں ہوتا

0
24
آئی لَو (LOVE) یا محمد، بولوں بارَم بار ( ہندی دوہا کے طرز پر )
جلتے ہیں تو جلے سب، گھِرنا یُکت پَرِوار
ناموسِ رسالت پر، نِچھاور کروں پَران
سچے پَریمی کا وہاں، اِس میں ہیں کلیان
تمھیں تو ہو پَرَتھَم نبی، اَنتِم تمھیں رسول
سارے بَرَھمَانْڈ کا بَس، ایک تمھیں ہو مٗول

0
55
پیار اپنا میں جتا جاؤں تو دنیا ہنسے گی
گر ترا حال سنا جاؤں تو دنیا ہنسے گی
جن میں پلتے ہیں کئی خواب کئی بچوں کے
ان گھروندوں کو گرا جاؤں تو دنیا ہنسے گی
میں نے مانا کہ مِرے گھر میں کوئی پوچھ نہیں
رشتہ اس گھر سے چھڑا جاؤں تو دنیا ہنسے گی

0
61
چہرے سے پردہ ہٹاؤں تو یہ دنیا ہنسے گی
عیب تم جیسے گناؤں تو یہ دنیا ہنسے گی
میرے دلبر مِرے ہمراز جو اب تک گزری
سامنے آکے سناؤں تو یہ دنیا ہنسے گی

0
2
58
مرشدِ کامل کا چہرہ ہم دل میں چھپائے رہتے ہیں
پھر بھی اس در پر آنے کی آس لگائے رہتے ہیں
جس کو وہ چاہیں در پہ بلا لیں یہ بات ہے ان کی مرضی کی
اپنے ارادے بنتے بگڑتے پھر بھی بنائے رہتے ہیں
تخت نشینی جلوہ گری وہ وعظ و نصیحت ہجرے یہ
سنتے سناتے اُس محفل کی یاد دلائے رہتے ہیں

0
53
فریب دیتے رہے دل کو جب بڑے بڑے چہرے
تب آگے آئے دلانے یقیں غریب کے چہرے
کسی نظر میں سما جائے کوئی چہرہِ شفاف
کسی نگہ میں بسے دھول سے اٹے پٹے چہرے

0
1
71
سر چمن کا جھکا کے جائے گا
خاک میں گل ملا کے جائے گا
ایک گھر کو بسانے کی خاطر
سب گھروں کو گرا کے جائے گا
اپنے اسلاف کی وراثت کو
دوستوں میں لٹاکے جائے گا

0
57
ہم اہلِ خانہ سے اپنی لگی چھپاتے رہے
کسی طرح سے لبوں پر ہنسی سجاتے رہے
گنے تو کیسے گنے زخم اَن گنت کوئی
یہ روح و جسم نئے زخم روز کھاتے رہے
سبھی خوشی میں ملے پر الگ دکھوں میں دِکھے
یہی چلن ہے جہاں کا سبھی نبھاتے رہے

0
46
طاقت پہ تکبر کیوں طاقت تو خدا کی ہے
ہر شے پہ وہی قادر قدرت تو خدا کی ہے
مظلوم غریبوں پر شفقت تو خدا کی ہے
ظالم کے گلے لٹکی لعنت تو خدا کی ہے
مومن ہو، منافق ہو، کافر ہو، کہ مشرک ہو
وہ رزق سبھی کو دے خلقت تو خدا کی ہے

0
66
یہ پیار محبت یہ وفا یاد رکھے گا
یہ ملک تری شرم و حیا یاد رکھے گا
ہونٹوں پہ ترے شعر و سخن اور تبسم
ایوان یہ بھی شوخ ادا یاد رکھے گا
پرواز تجھی سے تو معیشت کو ملی تھی
احسان جو یہ ملک سدا یاد رکھے گا

0
76
در پر بلا لو قسمت جگا دو
یا میرے خواجہ یا میرے خواجہ
مسلم ہوں مجھ کو مومن بنا دو
یا میرے خواجہ یا میرے خواجہ
چاروں طرف تھا جب گھپ اندھیرا
تم آئے تو یہ نکلا سویرا

70
چاروں طرف ہیں غلغلے، نفرت کے نام پر
آباد کچھ ہیں لاڈلے، نفرت کے نام پر
بندہ کوئی ہے خاص، عدالت کے پاس پاس
کرتا وہی تو فیصلے، نفرت کے نام پر
خوش حال و خوش مزاج، غریبی میں رہ کے بھی
ٹوٹے نہ اپنے حوصلے، نفرت کے نام پر

49
نفرت بھری فضا میں محبت سے کام لے
بھٹکے ہوئے جوان ہیں شفقت سے کام لے
یہ وقت مشکلوں کے گزر جائیں گے یوں ہی
صبر و سکو ن اور تو ہمت سے کام لے
حاکم پہ اعتماد کرے کون اعتبار
جب اپنے فیصلے میں سیاست سے کام لے

68
رتبہ بڑھا سماج میں شہرت بھی بڑھ گئی
لیکن اسی کے ساتھ عداوت بھی بڑھ گئی
انسان ایک چاہئے انساں کے درمیاں
کوئی ملا نہ اور مشقت بھی بڑھ گئی
ان کا رویہ دیکھ کے حیرت زدہ ہیں ہم
اس دوستی میں شدتِ نفرت بھی بڑھ گئی

0
46
دونوں جہاں ہیں غلامِ محمد
صل اللہ علیہ و سلم
ہر سو گونجے نامِ محمد
صل اللہ علیہ و سلم
فکرِ بشر ہے کون و مکاں تک
پہنچے نہ عقلِ انساں وہاں تک

1
45
باہر سے کچھ اور دکھے اندر میں کچھ اور
پل میں شعلہ شبنم پل بھر میں کچھ اور
تجھ کو چھوڑ کے جاؤں کدھر کو کس کے لئے
تیرے سوا بھی ہے کیا لعل و گہر میں کچھ اور

0
125
ہر فیصلہ سے مدعی کی اب تو جاں غمگین ہے
لیکن عدالت فیصلے سے خود کہاں غمگین ہے
آتی نہیں ہے نیند اب تاریک شب کی گود میں
دیوار و در فرش و زمیں عرش و مکاں غمگین ہے
اب دوستی تو رہ گئی اپنی غرض کے واسطے
دم بھرنے والا دوستی کا ہم زباں غمگین ہے

0
64
مجرم ہے گناہ گار بھی ہے
بے شرم ہے بے وقار بھی ہے
فرعون سے لے کے کبر کوئی
دنیا میں ذلیل و خوار بھی ہے
ظالم کو سزا پھر اور، اسی کا
چوری چھپے انتظار بھی ہے

0
2
72
جگر بنا ہے کباب اس کا
جسے جلائے شباب اس کا
چھپے چھپے سے رخ و جبیں ہیں
نظر کو رو کے نقاب اس کا
کچھ اختیار اب نہ نیند پر ہے
کبھی نہ آتا ہے خواب اس کا

55
ہمارے درمیاں ہی ایسے کچھ مکار بیٹھے ہیں
یہاں کا راز لینے کو چتر ہشیار بیٹھے ہیں
کئی عاقل کئی عالم لگے ہیں ان قطاروں میں
جہاں پہلے سے ہی جاہل سرِ دربار بیٹھے ہیں
گلی میں کون آئے کون جائے ہر گھڑی پہرہ
لگا کر ٹکٹکی در پر پسِ دیوار بیٹھے ہیں

0
56
چہرہِ گُل پنجوں میں دبوچ رہا ہے
جھوٹ بھرا لفظ ذہن نوچ رہا ہے
اپنے برے حامیوں کے ساتھ میں بیٹھے
کیسے لٹے گلستاں یہ سوچ رہا ہے
خود کے بُنے جال میں چمن کو پھنسا کر
پچھلے زمانے کو ہی کھروچ رہا ہے

0
71
مِرے ساتھ رہ کے توُ تو استاد ہو گیا
تِرے ساتھ رہ کے میں تو برباد ہو گیا
ہم اک دوسرے کا حق ادا ہی نہ کر سکے
نبھانے سے پہلے فرض آزاد ہو گیا
ہمیشہ تِری ہی بات آگے چلی مِرے
جہاں بول میرا سنگِِ فریاد ہو گیا

0
60
سرکار بنائیں گے
آس یہ ہے میری
بگڑی وہ بنائیں گے
اک دن تو بلائیں گے
شاہِ امم اپنے
روضے پہ بلائیں گے

0
55
دیکھ ذرا اے بادِ بہاری
آج محبت کی ہے باری
چاروں طرف یہ شور مچا ہے
پیار ہی جیتا نفرت ہاری
آج بھرم یہ ٹوٹ گیا ہے
ایک اکیلا سب پر بھاری

0
85
ہاں یہاں چاہئے ہاں وہاں چاہئے
دہر سے تا ابد امنِ جاں چاہئے
ہم گنہ گاروں کی قبرِ تاریک میں
آپ کا چہرہِ ضو فشاں چاہئے
علم و عرفاں نہیں آج بھی قلب میں
فیض کا ایک دریا رواں چاہئے

0
1
86
مِرے دل میں جو عشقِ مصطفٰی ہے
رہے محفوظ یہ میری دعا ہے
خوشی ہو چاہے غم لیکن زباں پر
سدا صلِ علٰی صلِ علٰی ہے
خدا توفیقِ سجدہ چھین کر بھی
نہ روزی چھینتا ہے گر خفا ہے

0
78
پہلی ہے مِرے پاس اپیل اور نہیں ہے
کاغذ کے سوا کوئی دلیل اور نہیں ہے
انصاف کی خاطر تو چنا آپ کو ہم نے
کیا آپ کے مانند وکیل اور نہیں ہے
کیا کھیل وکالت میں چلے سب کو ہے معلوم
مجبور موکل ہے سبیل اور نہیں ہے

0
1
74
حق پہ کوئی بھی نثار اب نہیں ہوتا
خود سے وفا کا قرار اب نہیں ہوتا
بات کسی کی کبھی جو سہ نہ سکا تھا
وقت سے وہ در کنار اب نہیں ہوتا
جسم سے ہی بس لگاؤ، حسن سے رغبت
روح سے دیدارِ یار اب نہیں ہوتا

0
71
چھوٹے میٹھے دانے ہیں
جال وہیں پر تانے ہیں
پھر بھی ان کو خوف نہیں
یہ پنچھی انجانے ہیں
ان کی پیاس نہیں بجھتی
لب سے لگے پیمانے ہیں

0
75
تمہاری بے رخی اچھی سزا ہے
سزا میں بھی مزا بے انتہا ہے
خدا توفیقِ سجدہ چھین کر بھی
نہ روزی چھینتا ہے گر خفا ہے
نبھانا کیوں پڑے گا ساتھ اس کا
اگر اس کا چلن ہم سے گرا ہے

0
73
رحمتِ عالم جب آئے
دن باطل کے مرجھائے
آمدِ احمد کی خوشیاں
شیطاں نہیں سارے منائے
جآء الحق و زھق الباطل
حق آیا باطل تھرائے

0
83
تدبیر کر کے ہم تو تقدیر تک نہ پہنچے
اچھی لکھی ہوئی اس تحریر تک نہ پہنچے
دیکھے تھے خواب کتنے آنکھوں نے رات اپنی
وہ خواب صبح ہوتے تعبیر تک نہ پہنچے
جن راستوں پہ چل کر پاتے سراغِ منزل
وہ راستے خیالِ رہگیر تک نہ پہنچے

0
95
وعدے پہ وعدہ دلبر ہر بار کر گیا
دو بول میٹھے دل پر پھر مار کر گیا
جس پر کیا بھروسہ راہِ حیات میں
کچھ دور ساتھ چل کے انکار کر گیا
اپنی اذیتوں کا، کرتا بھی ذکر کیا
احساس کم تری کو ،خود دار کر گیا

0
85
دور کر اس برے وقت سنگین
تو بچا آج اہلِ فلسطین کو
ایک اللٰہ ہے ایک اپنا نبی
ایک ہی کلمہ ہے ایک قرآن بھی
ایک اسلام بھی ایک ہے قبلہ بھی
کاش ہوں ایک سارے مسلمان بھی

0
75
دِکھنے لگے ہیں اب تو آثار بادشاہی
جمہوریت ہے لیکن کردارِ بادشاہی
کوئی زباں نہ کھولے کوئی قلم نہ بولے
گھر گھر پہنچ رہا ہے اخبار بادشاہی
جمہوریت کے دم پر جس کو ملی ہے کرسی
قائم وہ کر رہا ہے معیار بادشاہی

0
78
دلوں سے محبت نکالے یہ نفرت
حسد، بغض و کینہ کو پالے یہ نفرت
سیاست پہ آئی کو ٹالے یہ نفرت
ہلے جب تو کرسی سنبھالے یہ نفرت
تبھی تو یہ نفرت کا نسخہ بھلا ہے
سیاسی دماغوں میں پھولا پھلا ہے

0
84
مجرم ہے، مگر اس کے سزاوار تمہیں ہو
ہر جرم کے بس مرکزِ کردار تمہیں ہو
ہر شام نئی اک حسیں چوپال سجا کر
معذور دماغوں کے خریدار تمہیں ہو
کب کیسے کہاں نفرتوں کی اینٹ لگے گی
اس کام کے تو ماہرِ معمار تمہیں ہو

1
89
کرے دنیا اِہاں آ کے تَ ہر گن گان اے دادا جی
کئی لا تو اہاں سب کے پُرا ارمان اے دادا جی
عُ رس لاگل اہاں آئل سبھے تہرے دوارے آج
کِہو اچڑا بچھاوے لا کِہو ہتھوا پسارے آج
سب آ کے دین دُکھ یا اور دکھی دھنوان اے دادا جی
یِہ دھانی رنگ کے چادر پہ چانی رنگ کے گُٹ وا

0
75
سب کو پتہ ہے سب سے ہے آگے نفرتی چہرہ ریس میں کون
کھلنے لگے لب دھیرے دھیرے دیس کا دشمن دیس میں کون

0
94
جو جتنا بَرا ہے وہ اتنا بڑا ہے
زمانہ اسی کے تو پیچھے کھڑا ہے
حق و عدل کی بات جس نے اٹھائی
وہی قید خانے کے اندر پڑا ہے
کوئی زندگی عیش و عشرت میں کاٹے
مِری زیست کا امتحاں کیوں کڑا ہے

86
مِرے حال پر کرم ہو شب و روز یا حبیبی
کرو دور میرے آقا غم و خوف و بد نصیبی
سنے کون بن تمہارے جسے حالِ غم سناؤں
نہ کوئی مِرا ہے اپنا نہ کوئی مِرا قریبی
کھِلے کتنوں کے مقدر جو ہوا کرم تمہارا
مگر اک مِرا مقدر لئے زخم ہے صلیبی

0
87
رعایا نے بنایا تھا جسے اپنا فقیر اعظم
وہی جمہوریت پر وار کر اس کا نکالے دم
توکل بھی تحمل بھی گزارش بھی سر آنکھوں پر
نہ بدلی راہِ زیست اس کی بدلتا بھی رہا موسم
وہ لاشوں پر سیاست کا کوئی موقع نہیں چھوڑے
لگائے جشن کا نعرہ جہاں پسرا ہو جب ماتم

0
139
مظلوموں پہ وہ ظلم و ستم اور کرے گا
جو چشم ابھی نم ہے اسے نم اور کرے گا
کھینچا ہے قدم پیچھے رہِ حق سے ہمیشہ
آئندہ پس و پیش قدم اور کرے گا
دیکھی نہیں جاتی ہے خوشی اس سے کسی کی
ایجاد کوئی وجہِ الم اور کرے گا

0
98
آج اس چمن کے برگ و گل کیا شاخ بھی برباد ہے
میری نظر سے دیکھئے تو باغباں ہی شاد ہے
کس سے کرے کوئی شکایت آج اپنے حال کی
خوش پہلے تھا جو آپ سے اب تو وہی نا شاد ہے

0
108
کوئی قسمت کو کوسے اپنا کے مجھے
اپنا ہاتھ ملے کوئی ٹھکرا کے مجھے
چھوڑ سکوں نہ میں اس کو نہ بھول سکوں اس کو
قسمت نے چھوڑا دو راہے پہ لا کے مجھے
رات پہ حق اس کا ہے نیندوں پر تو نہیں
نیندوں نے اور کہیں پہنچایا ہے سلا کے مجھے

0
115
میری آہوں میں اتنا جو اثر ہوتا
تو حسنِ مغرور نہ یوں بے خبر ہوتا
گھٹ گھٹ کے تو نہ جیتی آج امید اپنی
مل کے بچھڑنے کا احساس اگر ہوتا
رشتوں کے لئے دولت بھی تو ضروری ہے
ورنہ کون کسی کا لختِ جگر ہوتا

0
117
کون راہزن سب کا کون راہبر ہوگا
کچھ خبر نہیں پھر بھی طے یہ تو سفر ہوگا
آدمی میں ہی اک گن عام طور پر ہوگا
عقلِ جانور لیکن شکل سے بشر ہوگا
نقطہِ نظر بدلا دورِ حاضرہ کا بھی
ڈھوندتے ہیں سب زہرِ مار میں شکر ہوگا

0
134
باقی بہت کچھ، ہے ہونا میرے جانے کے بعد
ہنسنا یوں ہی تم نہ رونا میرے جانے کے بعد
کچھ تارے تم بھی گنو میری طرح آج رات
آرام سے خوب سونا میرے جانے کے بعد

0
108
کشتی نما تھیں آنکھیں جن میں ہمیں بٹھا کے
اس نے ہمیں ڈبویا گرداب میں لے جا کے
اس کو گماں کہ میری ہستی مٹا کے رکھ دی
لیکن مجھے بچا یا رحم و کرم خدا کے
سو بار بولنے سے اک جھوٹ سچ ہو جا ئے
ایسے بھرم سے بگڑے امن و اماں فضا کے

0
94
ہم اتنے ہی قریب ہیں اپنے نصیب کے
جتنا کوئی قریب ہو در سے غریب کے
ہم دور تھے تبھی تو نظر سے اتر گئے
مدعو کیا انہیں کو جو بھی تھے قریب کے
شیریں زباں پہ تلخ بیانی نہیں ہے آج
لگتے نہیں کچھ اچھے ارادے رقیب کے

102
مٹھی کھلی وہ بند ہتھیلی نہیں رہی
کھل ہی گئی وہ بات پہیلی نہیں رہی
اٹھتی رہی جہاں سے ہمیشہ صدائے امن
اب شہر میں کہیں وہ حویلی نہیں رہی
ساری فضا میں نفرتوں کا زہر بھر دیا
اس کی زبان اب تو اکیلی نہیں رہی

0
103
ورقِ دل پر اس نے لکھا ہے اتنی بار
کہ مٹاتے مٹاتے موجِ وقت گئی بھی ہار
اٹھتی تو ہیں لہریں ادھر ان کو خبر نہیں کیا
دلِ سنگ پہ نقش عبارت مجھ سے مانگے قرار
یہ گرد و غبار ہٹانے پھر آ تو موجِ وقت
کیوں تجھ سے نہیں دھلتے ماضی کے گرد و غبار

0
98
قدم بوش ہے کیوں تو بر گوش ہے کیوں
تو مقتول و مفلس پہ خاموش ہے کیوں
ہر اک ظلمِ ظالم سے مدہوش ہے کیوں
فرائض سے اپنے فراموش ہے کیوں
صحافی ہے کیا تو بتا اے لٹیرے
کرے رقص کیوں بن کے ناگن سپیرے

0
96
برسوں کے بعد مِرا یار ملا مشکل سے
آنکھیں نم ہو ہو کے اور گرد ہٹائی دل سے
وقت کے ساتھ بدلتے گئے سارے رشتے
ایک رشتہ نہیں بدلا دلِ نا قابل سے
کوششیں دونوں نے کی جان بچانے کے لئے
چیختا میں تو رہا اور وہ بھی ساحل سے

0
112
وہ آ نہ پائے زندگی میں زندگی بے جان ہے
اداس اداس ہیں یہ آنکھیں جان بھی بے جان ہے
یہ طوفاں کے تھپیڑے جانے اب کدھر لے جائیں گے
وہ دھندلے کنارے نظروں کو نظر کب آئیں گے
اب آگے کیسے بڑھ چلیں یہ ناؤ بھی بے جان ہے
لچکنے لگتی نرم شاخیں سن کے اس کی آہٹیں

0
111
سرخ لب پر کبھی مست چھلکا نشہ
وہ گلابی گلابی وہ ہلکا نشہ
نیم جاں کر دیا ایک پل کا نشہ
وہ نشہ کر نہ دے زیست کا خاتمہ
اب نہ رکھ واسطہ اب نہ کر رابطہ۔۔
شام کو رات کے وقت یا فجر میں

0
123
شام کی پر حسیں سرمئی سی فضا
اپسرا مینکا حور جیسی ادا
تھی معطر کبھی رہ گزر کی ہوا
آج انہیں منظروں کا ملا ہے صلہ
اب نہ رکھ واسطہ اب نہ کر رابطہ۔۔۔
ٹھوکریں دربدر کی میں کھاتا رہوں

0
158
اب مِرا کیا تجھے رشتہِ نو ملا
ہو شکایت تجھے اب نہ کوئی گلہ
ہو گیا اب ترا راستہ بھی جدا
اب نہ رکھ واسطہ اب نہ کر رابطہ
کی محبت کبھی تو شکایت کبھی
بے رخی نے تو ڈھائی قیامت کبھی

0
126
دنیا جو دینِ حق پر الزام دھر رہی ہے
اسلام کی یہ خوفِ وسعت سے مر رہی ہے
یا رب تو دل میں بھر دے محبوب کی محبت
یہ قوم آج کل تو حق سے مکر رہی ہے
تعظیمِ مصطفٰے اور خوفِ خدا بھلا کر
امت رسول کی یہ باطل سے ڈر رہی ہے

0
113
کسی بھی وقت ہجرت کا بہت سنگین ہوتا ہے
نئی دھرتی پہ پہلی بار دل مسکین ہوتا ہے
کھلی آنکھوں سے کتنی بار پی پھر بھی لگی ہے پیاس
اجی پانی سمندر کا یہ کیوں نمکین ہوتا ہے
دلِ نا کام کا کیا حال اب تجھ سے کہوں یارو
کبھی یہ خوش تو ہوتا ہے کبھی غمگین ہوتا ہے

0
117
سخت انتظار میں یوں ہی شب گزر گئی ہے
جلتا چراغ دے کر ہنستی سحر گئی ہے
کچھ بھی ملا نہ اب تک محنت کے ساتھ چل کے
امید ہی کے رستے ویسے عمر گئی ہے
حاصل ہوا کسے کیا معلوم ہے تجھے بھی
اپنے وطن کی دولت کس کو کدھر گئی ہے

0
91
سب کو پتہ ہے سب سے ہے آگے نفرتی چہرہ ریس میں کون
کھلنے لگے لب دھیرے دھیرے دیس کا دشمن دیس میں کون
پہلے بھلائی دیکھے وہ کس کی بعد میں شہری گانؤں کے لوگ
دے میٹھے سندیس وہ لیکن اُس میٹھے سندیس میں کون
غنڈے فسادی، خونی مجرم ہیں باہر بے قید و بے خوف
زندانوں میں حق کے لئے محبوس ہے فرضی کیس میں کون

118
تجھے کیوں نہ مجھ کو تو پختہ یقیں ہے
یہاں کی زمیں صرف تیری نہیں ہے
قدم جس جگہ پہلے بابا نے رکھا
وہی یہ زمیں ہاں یہی وہ زمیں ہے
ہو اخلاق و شفقت سے تجھ کو غرض کیا
تو صدیوں جہاں تھا ابھی بھی وہیں ہے

130
پِیر سے اپنے محبت گر ہے تو اس دہلیز پہ آتے رہیں
اور عقیدت کے پھولوں سے اپنے دل کو سجاتے رہیں
ذِکرِ ولی ہے کفارہ مومن کے اپنے گناہوں کا
ذِکرِ ولی کی بزم سجا کر اپنے گناہ مٹاتے رہیں
پھول ملے مالی کے یہاں اللٰہ ملے ولیوں کے پاس
چاہ اگر اللٰہ کی ہے تو ولیوں سے لگاؤ بڑھاتے رہیں

121
ہم جن کو یہاں رہبرِ انسان سمجھ بیٹھے
وہ لوگ ہمیں کو یہاں نادان سمجھ بیٹھے
اپنوں کے اشاروں پہ وہ اپنوں کو کیاہے دور
لوگ اپنے جو تھے ہم کو بے ایمان سمجھ بیٹھے
سب چھین لیا ہم سے یہاں حق جو ہمارا تھا
اس میں سے ذرا سا دے کے احسان سمجھ بیٹھے

0
177
غم سے لڑے ہر بشر، اس نئے ماحول میں
کیسے ہو سب کا گزر اس نئے ماحول میں
نفرتوں کے بیخ جو بوئے گئے ہر جگہ
بن گئے ہیں اب شجر، اس نئے ماحول میں
کیسے کوئی چل سکے سر پھروں کی بھیڑ میں
چاروں طرف شر کے سر، اس نئے ماحول میں

0
112
اپنا تو یہاں کوئی بھی نہیں اک یاد ہے تیری ساتھ مِرے
بھر بھر آہیں کٹتے ہیں اب اپنے تو سبھی دن رات مِرے
جب زخم نہ تھا تو ساتھ ترا تھا آج میں بے بس زخمی ہوں
دے کر کے تو نے زخم رسیلے بدلے ہیں حالات مِرے
ان کو وہ ملا جو کچھ بھی مانگا ہاتھ اٹھا کر دنیا سے
لوٹے ہیں فقط رسوائی لے کر اپنے دونوں ہاتھ مِرے

0
2
141
ایسی تھیں مشکلیں جو کوئی حل نہ کر سکا
تھی دھوپ سر پہ تیز وہ آنچل نہ کر سکا
پیاسی زمینِ دل نے گزارش تو کی مگر
کم تشنگی ارادہِ بادل نہ کر سکا
جذبات اشک بن خطِ مژگاں سے گر پڑے
پلکوں سے جذب اشک، یہ کاجل نہ کر سکا

0
93
کتنی ہے ابھی بھی حسیں تصویر تمہاری
میرے دل و جاں کے قریں تصویر تمہاری
پیغام تمہارا مجھے جب تک نہ ملا تھا
تھی خانہِ دل کی مکیں تصویر تمہاری
ممنون تمہارا ہوں مجھے ڈھونڈھ نکالا
مسرور کیا ہے یہیں تصویر تمہاری

0
146
اٹھتی نہیں تھی اِدھر نگاہ کسی کی
اب تو شرر بن کے دیکھے چاہ کسی کی
وعدہ ترا وعدہ تھا اے جھوٹے فریبی
تجھ سے ہوئی زندگی تباہ کسی کی
دیکھ کہیں جشن ہے تو ہے کہیں ماتم
دیکھ سسکتی ذرا وہ آہ کسی کی

0
81
آباد ہیں کچھ لوگ تو برباد بہت ہیں
کچھ شاد ہیں اس دور میں ناشاد بہت ہیں
ہر بھیس میں ہیں عاشقِ دیں تو مگر ان میں
موجود بھی سودائیِ الحاد بہت ہیں
تعلیم و عمل میں ہمیں سب سے رہے پیچھے
تعلیم و عمل میں کہاں استاد بہت ہیں

85
مزدور جب اٹھے تو بستر کرے شکایت
ٹوٹا ہوا بدن بھی رو کر کرے شکایت
ڈھوتے چلو گے کب تک تم بوجھ اس طرح سے
ننگے قدم کے چھالے پھٹ کر کرے شکایت
گل ہی کو گل نہ مانے گلشن کے اب محافظ
گلشن میں آج ہر گل اکثر کرے شکایتآ

0
70
آرزو اپنی کہ اس کو جی بھر کے دیکھ لوں
نرگسی آنکھوں میں کچھ تو اتر کے دیکھ لوں
چاہتا ہے دل کہ منظر سحر کے دیکھ لوں
مرنے سے قبل آج اک بار مر کے دیکھ لوں
گھومتے ہی گھومتے آ گیا مقتل میں جب
کچھ ارادے بھی تو قاتل نظر کے دیکھ لوں

130
جھوٹی قسمیں کھا کھا کر وعدہ کیا جھوٹا
لیکن وہ ترا تو پہلا رشتہ نہیں ٹوٹا
مکار مداری سب سچ بات چھپا کر کے
ہر جھوٹ کو سچ کہہ کر ہر شخص کو ہے لوٹا
ماحول و سماجوں میں وہ پیار کہاں اب ہے
اب دیش میٰں رہتے بھی وہ پیار کہیں چھُوٹا

0
186
ٹوٹے مرے سارے عہد و پیماں ترے چلتے
کہہ پاؤں نہ میں اس کو اب تو ہاں ترے چلتے
تقدیر ابھی بھی ہے منزل سے بہت ہی دور
تدبیر کے پاؤں تو ہیں کوشاں ترے چلتے
آواز اٹھے گی اور تو ظلم کرے جتنا
سینے میں اٹھے گا بھی اور طوفاں ترے چلتے

0
108
انکار ہے ان ہونٹوں پہ، اقرار دیا دھوکا
ان باتوں میں وہ بات کہاں یار دیا دھوکا
ایسا نہ کوئی راز مرا تھا جو رہا مجھ تک
اب جان کے سب رازوں کو دلدار دیا دھوکا
سب کچھ تو مرا لوٹ لیا چپ کے سے آ آ کر
دے کون تسلی مجھے ہر بار دیا دھوکا

0
92
تیرا ستم امیروں میں مشہور بھی نہیں
لیکن عوام کی نگہ سے دور بھی نہیں
لے گا ترا حساب کسی دن یہیں کوئی
شاید ترا یہ ظلم ابھی بھر پور بھی نہیں
آئے عدم سے ہم لئے میثاقِ زندگی
آزاد ایک دم نہیں، محصور بھی نہیں

0
185
بھلے تو ہو کب خراب ہو تم مِری نظر میں
کوئی غزل کی کتاب ہو تم مِری نظر میں
گلِ سمن تو کوئی کہے تم کو رات رانی
ہر ایک گل کا شباب ہو تم مِری نظر میں
حسین خوابوں کے ٹوٹنے پر نہیں ملے جو
اسی طرح کا تو خواب ہو تم مِری نظر میں

0
102
لگتا رہا دکھوں کا ہر تیر ہر قدم پر
کرتا رہا علاج و تدبیر ہر قدم پر
ایمان اور عمل پر ہم گام زن جو ہوتے
ہوتی نہ ذلتوں کی زنجیر ہر قدم پر
ان کو ملی ہے عزت نا حق پہ جو سدا ہے
حق پر چلا تو پائی تحقیر ہر قدم پر

0
102
کرے کام کوئی اور لیکن نام کسی اور کا
الزام کسی پہ لگے الزام کسی اور کا
غیروں کے زیرِ سایہ شرطِ معافی پر
اپنوں کے خوں سے سینچا وہ نظام کسی اور کا
اتنا ہے خوف اسے انصاف پسندوں سے
کہ وہ نام جپے یاں پہ صبح و شام کسی اور کا

0
87
ہر اک محکمہ میں اسی کے اسامی
اسی کی ترقی جو داغے سلامی
کہیں جی حضوری کہیں بد کلامی
وہ طاقت کے دم پر کرائے غلامی
یہی تو کراتے ہیں اہلِ سیاست
نہ مانے کوئی تو وہ بھیجے حراست

0
115
صحافت نے کی ہے جو وعدہ خلافی
خبر جو دکھائے وہ ساری منافی
معیشت کی کون اب کرے گا تلافی
یہ پوچھا ہے سرکار سے کب صحافی
نکلنا سڑک پر بغاوت نہیں ہے
حقیقت چھپانا صحافت نہیں ہے

0
125
عشقِ رسول خانہِ دل میں بسا کے تم رکھو
ظلمتِ دہر میں یہی شمع جلا کے تم رکھو
چھوڑیں گے ہم نہ دامنِ مصطفٰے کو یہاں وہاں
عزم و ارادہ ذہن میں سخت بنا کے تم رکھو
ہو نہ حضور بِن تو ایمان بَدَرجہِ اتم
جاں سے عزیز تر انہیں پہلے بنا کے تم رکھو

0
149
ٹھنڈی ٹھنڈی بادِ صبا جو صبح جگانے آتی ہے
لیکن میٹھی نیند میں ڈوبے کچھ کو سلانے آتی ہے
بیٹھی بلبل تھک جائے جب ان پیڑوں کی چھاؤں میں
تب دل بہلانے کنواں پر پانی کے بہانے آتی ہے
جسم و تن تو جل ہی گئے گرم ہوا کے جھونکوں سے
پھر بھی چڑھتی دھوپ دو پہری دل کو جلانے آتی ہے

0
95
نہ جفا ہی کام آئی نہ سزا ہی کام آئی
تجھے ہار تھک کے آخر یہ وفا ہی کام آئی
سرِ بزم اس نے میری یہ جو آبرو اچھالی
تو وہیں مری خموشی یہ حیا ہی کام آئی
چلے راہ سب سے مل کر کرے گھات ساتھ مل کر
اسے ہر قدم پہ اس کی تو ریا ہی کام آئی

0
90
عمل اگر نہ ہو تو صرف خوش خیال کیا کرے
دلی سکون کے لئے ذخیرہ مال کیا کرے
یہ مغربی چلن کہ نیم برہنہ چلے پھرے
کھلے دماغوں پر اثر کوئی زوال کیا کرے
سمجھ سکے نہ جب کوئی کبھی اشارے لمحوں کے
تو ایسے لوگوں پر، مہینہ اور سال کیا کرے

0
119
اک دو، نہیں ہے سارا گلشن تمہارے ساتھ
کچھ منتخب ہیں اہلِ گلخن تمہارے ساتھ
پرواز کی بلندی نے کی ہے قبض روح
پرواز ہو نہ اور بھی دھڑکن تمہارے ساتھ
شاگرد کتنے جھوٹے لے کر پَوِتر نام
برباد کر لئے ہیں جیون تمہارے ساتھ

0
105
دیوانگی میں ہی ، میں نے کیا کیا نہ کھو دیا
ہنستا رہا غموں پہ کبھی پل میں رو دیا
اڑ کر کہاں میں جاؤں نشیمن سے اس گھڑی
امید کے پروں کو کسی نے بھگو دیا
درد و الم فراق ، جو کچھ تجھ سے ہے ملا
دل میں سمو لیا، تو نے سامان جو دیا

0
94
اے دلِ نا کام تو ہل، اب یہاں سے
دور کیا تیری ہے منزل، اب یہاں سے
پاس تیرے صرف عزمِ پختہ ہی ہے
راہ چل، جتنی ہو مشکل، اب یہاں سے
اب مقدر سے کریں کیا ہم شکایت
لے چلیں جو کچھ ہے حاصل، اب یہاں سے

0
110
وہ ہنستے ہیں اوروں کے سنگ، پھر اپنی ہنسی پر روتے ہیں
ترکِ تعلق کر کے ہم سے اس آن و گھڑی پر روتے ہیں
وقت بھلا دے کس کا ساتھ یہ کاتبِ قسمت کی مرضی
لوگ تو سب فی الحال یہاں اپنی مرضی پر روتے ہیں
دوست و دشمن اپنے پرائے سب تو ہیں موجود یہاں
شام و سحر ہو کہ دن راتیں اک تیری کمی پر روتے ہیں

0
145
شام نے زلفیں اپنی سنواری تو کیا
رات اپنی کہیں اور گزاری تو کیا
کیا ہے لینا کسی کو گئی راتوں سے
اب کوئی شب نہیں بھی کنواری تو کیا
چاندنی تو نمودار ہو کے رہی
لاکھ تھی ابر کی پہرےداری تو کیا

0
158
ہنسنے لگی ہے دنیا اپنی جو داستاں پر
لانا کبھی نہ لفظِ شکوہ کوئی زباں پر
ہو گر زبان پیاسی تو اشکِ گرم پی لے
بھاتا نہ اب کسی کو آنا ترا کنواں پر
رستے میں میرے کانٹے ڈالیں نہ لوگ تیرے
ان کی چبھن سے کیا ہو موجود تو جہاں پر

0
86
مری قسمت پہ خوش یہ سنسار پھر ہے
پڑا مجھ پر الم جو اک بار پھر ہے
نبھاؤں کیسے میں بد حالی میں رشتے
تہی دستی سے حالت نا چار پھر ہے
لے سکتی ہے جاں اس کی شیریں زبانی
چلن اس کا وہی اور گفتار پھر ہے

0
120
غیروں سے خوب میل ترا مجھ سے عار ہے
خیر اب مرا نہ تجھ پہ کوئی اختیار ہے
غنچے کھلا کے دل کے انہیں پھر مسل گئے
ہر غنچہ ایک بار پھر اب اشک بار ہے
اقرار تھا کبھی لبوں پر ساتھ دینے کا
آج ان لبوں پہ لفظِ نہیں بار بار ہے

0
134
مسیحا میں سمجھوں اسے یا لٹیرا
مجھے ہر طرح سے اسی نے ہے گھیرا
بھٹکتا رہا جن چراغوں کے پیچھے
ملا ان چراغوں سے ہر شب اندھیرا
مجھے چھوڑ کر تجھ کو جانا اگر تھا
تو پھر کیوں بسایا یہ گھر تو نے میرا

0
128
گزشتہ سے آگے۔۔۔۔۔
عید کیسے مَنے ، آج کیسے مَنے
کیا ہے کاجل یہ سرمہ ہے کیا ہے حنا
چشم سونی ہے سونے کفِ دست و پا
روز و شب کی شفق لاڈلی سے خفا
اشک جاری کہے لاڈلی بھی تو کیا

0
121
عید کیسے منے عید کیسے منے
ہم غریبوں کے گھر عید کیسے منے
دودھ و شکر نہیں کاجو خر ما نہیں
آج پیسے بنا تن پہ کپڑا نہیں
چاند کی شب حسیں صبح اس کی حسیں
مال و دولت جسے عید اس کی حسیں

0
113
کس کو سنائیں اب حالِ زندگی کو ہم
لے کر کہاں یہ جائیں اپنی خودی کو ہم
کچھ یاد ہی نہیں کیا اپنے لئے کیا
ترجیح دیتے آئے ان کی خوشی کو ہم
ایک آن کے لئے آئی تھی جو روشنی
برسوں سے ڈھونڈھتے ہیں اس روشنی کو ہم

0
111
دلگیر خامشی لئے ہے رات کس طرح
بھیجے اگر کوئی تو پیامات کس طرح
معلوم ہے مجھے وہ تکبر میں علم کے
بھرتے ہیں جاہلوں میں خرافات کس طرح
اسلام کے وقار سے کب ان کو پیار ہے
نیلام خود کو کرتے ہیں دن رات کس طرح

0
109
دے معافی ذرا دیکھ رحمان کو
کس طرح بخشتا ہے وہ نادان کو
دل دکھانا مِرا تو ارادہ نہ تھا
بخش دو دل سے مجھ جیسے انسان کو
میں نہ بھولا کبھی اور نہ بھولوں کبھی
آج تک اس ملے تیرے احسان کو

0
137
ہجر کی رات میں روتی ہیں کسی کی آنکھیں
اور کہیں چین سے سوتی ہیں کسی کی آنکھیں
لعل و گوہر ہو کہ یاقوت مگر ان سب کو
مات دے دے جو وہ موتی ہیں کسی کی آنکھیں
راہ سونی ہو اگر رات اندھیری تنہا
ایسے حالات میں جوتی ہیں کسی کی آنکھیں

0
243
ملی ناکامیاں اس جگہ سے بھی زیادہ
جہاں چکر لگا تھا گدا سے بھی زیادہ
مِری حالت پہ ان بد دعاؤں کا اثر ہے
جنہیں اپنوں نے دی ہے دعا سے بھی زیادہ
در و دیوار وہ اب ترستے روشنی کو
جہاں پل پل جلا میں دیا سے بھی زیادہ

0
135
رفاقت رفیقوں سے اب بیر سی ہے
خصومت دلوں کو لگے خیر سی ہے
شناسا جو تھی چشم اب غیر سی ہے
نشیڑی کی وہ کھوپڑی دیر سی ہے
فضیحت کی زنجیر ہے اس گلے میں
سراپا دیا جو وطن کے بھلے میں

0
107
کہے خود کو دیشی، سبھی کو بدیشی
رکھے خوب دنگوں میں قاتل سے خویشی
نہ ہو کیوں عدالت میں مجرم کی پیشی
مزے میں ہیں غنڈے لٹیرے مویشی
حریفوں کو اپنے ہی من سے سزا دے
یہی راج کا راز ہے کیوں بتا دے

0
120
سیاست کی چھب ہو گئی کتنی گندی
رعایا سے پیاری اسے خود پسندی
کرے من کی مرضی ملے جب بلندی
کبھی نوٹ بندی کبھی ملک بندی
عوامی خطابوں میں یوں ذکر سب ہے
مگر ذاتِ مخصوص کی فکر اب ہے

0
120
میرے دشمن مِرے مرنے کی دعا کرتے ہیں
اور ہم ٹھہرے کہ ان ہی پہ مرا کرتے ہیں
ساتھ رہتے ہیں اجالوں میں جو سایہ بن کے
جب اندھیرا ہو وہی خود کو جدا کرتے ہیں
اب بھروسہ کریں کس پر دکھے اپنا کوئی
مطلبی بن کے سبھی سب سے ملا کرتے ہیں

0
213
سبھی بے مال ہو جائیں وہ مالا مال ہو جائے
یہ ان کی سازشیں ملک یہ کنگال ہو جائے
لٹے مظلوم فریاد لے کر کس جگہ جائیں
حکومت کے لئے جب عدالت ڈھال ہو جائے
جدھر دیکھو اُدھر لشکرِ باطل کھڑا ہے
خبر کیا کب کوئی شخص زیرِ نال ہو جائے

98
کیا پرکھوں سے محبت ہے کہ بغاوت ہے یا کچھ اور ہے
ان سے ملی جو امانت ہے کہ ذلالت ہے یا کچھ اور ہے
اپنے نہ بھائے ان کو کبھی کیوں خون بہائے اپنوں کا
کیا یہ زمانہِ دشرتھ ہے مہابھارت ہے یا کچھ اور ہے
ملک ہے سارا دھوکے میں کاغذ پر جو دکھے دھرتی پہ نہیں
اب کیا صرف سیاست ہے کہ جہالت ہے یا کچھ اور ہے

0
117
دکھایا وہ سپنا نہ جس کی حقیقت
ریا کار و کاذب، بے دل، بے مروت
سنا کر نئی اک کہانی حکومت
تباہی پہ ڈالا نظامِ معیشت
ہے عقل و ضمائر پہ قابض مداری
وہ سادھو پہ ساحر پہ قابض مداری

0
117
نشانے پہ تہذیب گنگ و جمن کی
جہاں جان بستی ہے اہلِ وطن کی
بھرے آہ اب حسرتیں اپنے من کی
لٹی جا رہی زیب و زینت چمن کی
چنندہ گلوں کو مسل کر مٹائے
شگوفوں کو بس زہرِ نفرت پلائے

0
116
دیکھ کیا مجبور ہوں نا چار ہوں
ہاں مگر قسمت سے میں نادار ہوں
ہر کوئی مصروف ہے اپنے لئے
اوروں کی خاطر میں ہی تیار ہوں
ڈھونڈھتا ہوں ہر بہانہ رات و دن
کہنے کو تو میں بہت خوددار ہوں

0
92
سوچ سوچ کر دلِ نادان بے قرار ہوا
ایک بار ہی نہیں ایسا تو بار بار ہو
سوچتا ہے خانۂ گِل رنگِ ابر دیکھنے پر
کب غریبوں کے لئے موسم یہ خوشگوار ہوا
باغ باغ جھوم اٹھے آمدِ بہار سے تو
دستِ جبر کا رخِ گل پھر یہاں شکار ہوا

0
94
کس وقت اس کو چھونے کی خواہش نہیں ہوئی
نظریں اٹھیں تو ہاتھوں میں جنبش نہیں ہوئی
سب پوجتے رہے جسے دن رات صبح و شام
اس کی کبھی تو مجھ سے پرستش نہیں ہوئی
کرتا ہے ظلم چہرہِ حق دار دیکھ کر
حق داروں پر کبھی تو نوازش نہیں ہوئی

0
124
درِ مرشد پہ آئیں ہم عقیدت کا تقاضا ہے
لٹائیں قیمتی ہر وقت الفت کا تقاضا ہے
منور دل کو کر اپنے مزین روح کو اِم شب
تعلق باطنی مرشد سے قربت کا تقاضا ہے
فضا پر نور ہے ہر سو طفیلِ بو الُحسن چشتی
سجائیں کیوں نہ ہم محفل مسرت کا تقاضا ہے

0
1076
ہنسنا ترا یہ خوب ہے رونا مِرا نصیب
پلکوں پہ موتیوں کو سجونا مِرا نصیب
میری نظر میں تو ہی تو ہر وقت ہر گھڑی
میرا تری نظر میں نہ ہونا مِرا نصیب
ناکامیوں کے درمیاں کھوئی ہے زندگی
کیا شمعِ بارِ زیست ہے ڈھونا مِرا نصیب

0
146
دلِ غم زدہ پہ ہو اک نظر شب و روز یہ بے قرار ہے
ہے پتہ سبھی خبر آپ کو یہ مِری جو حالتِ زار ہے
بہ طفیلِ نورِ محمدی ہے وجود کون و مکان کا
یہ زمین و عرش ہر ایک شے اسی سے تو پائی قرار ہے
کوئی لاکھ کر لے عبادتیں دے زباں سے بھی وہ شہادتیں
ہاں جسے نبی سے وفا نہیں تو عمل تمام بے کار ہے

0
224
کروں زباں سے بیان کیا کیا تمہیں مِری کیا خبر نہیں ہے
کرے جو حاجت روائی میری یہی ہے در اور در نہیں ہے
سنو گزارش تڑپتے دل کی کلی کھلے کب جھلستے دل کی
کرم کی بارش ذرا ہو دل پر یہ دل تو ہے خشک تر نہیں ہے
بھنور میں کشتی مِری پڑی ہے نکالو مجھ کو کٹھن گھڑی ہے
اے میرے مرشد تمہارے آگے بھنور یہ کچھ بھی بھنور نہیں ہے

124
میرا ہی انتظار تری بے رخی کو ہے
پھر کیوں مجھی سے عار تری بے رخی کو ہے
چاہے سنوار دے کہ مٹا دے تو زندگی
یہ سب تو اختیار تری بے رخی کو ہے
جب تک ستا نہ لے وہ مجھے دن میں ایک بار
تب تک کہاں قرار تری بے رخی کو ہے

0
137
زبانوں میں ان کی ہے کیسی روانی
زباں کا اشارہ کہے سب کہانی
سنی ہے کبیرا کی مشہور وانی
کہیں برسے کمبل کہیں بھینگے پانی
چھپا ضابطہ میں ہے مخصوص مطلب
دبا ہے جو دل میں کھلے کیا کبھی لب

0
108
کٹے وقت وقتِ قضا کی طرح
ہو لطف و کرم جب ریا کی طرح
شب و روز شام و سحر اب لگے
وہ نزدیکیاں اک بلا کی طرح
ملی دوستوں سے دعائیں بہت
لگی ہر دعا کیا دعا کی طرح

0
89
مسیحا ہے قاتل کہ رہبر لٹیرا
یہی کش مکش نے کڑوروں کو گھیرا
سمٹنے لگیں سات رنگوں کی کرنیں
بڑھا جب تعصب سے یہ گھپ اندھیرا
فضاؤں میں گھلتے رہے زہرِ اژدر
بجاتا رہا بین نقلی سپیرا

0
110
یہ رحیمن کبیرا یہ رسخان میں ہے
یہ بدھا اشوکا کی پہچان میں ہے
یہ عیسائی ہندو مسلمان میں ہے
محبت وطن کی ہر اک جان میں ہے

0
112
سزا مجھ کو ملی ہے آج ماضی کے گناہوں کی
اکیلا چھانتا ہوں خاک اِن سنسان راہوں کی
دیا تھا حکم طوفاں نے اسے اس پار جانے کا
بھنور میں ہی ڈُبا ڈالی بھری کشتی پناہوں کی
اب ان کی مہر بانی اور بھی جھیلی نہیں جاتی
چھپی ہے مہر بانی میں سلگتی آگ شاہوں کی

0
124
گاؤں کی ہر گلیوں میں مرا چرچہ صبح و شام رہا
مل نہ سکا وہ آج تلک میں جس کے لئے بد نام رہا
کیسے کروں ساقی سے شکایت اس کی نظر تو اٹھی ہی نہیں
پینے کو لب تو ترستے رہے آنکھوں میں اس کی جام رہا
ساون کی بھری ہر یالی میں دھانی چنر کا لہرانا
اس کے اشارے سمجھنے میں پاگل بادل تو ناکام رہا

0
105
غمگین کیوں ہے شوخ نظر اب تو کچھ کہو
تیرا بھی کیا جلا حسیں گھر اب تو کچھ کہو
کیا حال ہے ترا مرے اس سخت حال میں
اپنی تو دی نہ خیر و خبر اب تو کچھ کہو
مل جائے گی کبھی تو وہ منزل تمہیں کہیں
جس کی تلاش مجھ کو مگر اب تو کچھ کہو

0
167
کیا یہاں چاہیے کیا وہاں چاہیے
ہاں کہیں بھی مجھے تیری ہاں چاہیے
دل ہے سجدوں سے خالی ریا کار کا
بس زمیں سے جبیں کو نشاں چاہیے
گلستاں کی حفاظت جو دل سے کرے
سب کو ویسا یہاں باغباں چاہیے

189
نہ طاقت نہ دولت بھناؤں میں کیا
نہیں کچھ مِرے پاس لاؤں میں کیا
امید و توکل وہ صبرِ حسین
یہ اپنے خزانے لٹاؤں میں کیا
یہ نیندیں وہ آنکھیں خفا ہیں مگر
کوئی ذہن میں ہے سلاؤں میں کیا

0
125
غزل آپ کی ہے کہانی مِری
سنو کچھ کہانی زبانی مِری
بہت کش مکش میں یہ قسمت رہی
کٹی خلوتوں میں جوانی مِری
کئی دوست بن کے بچھڑ بھی گئے
ہے تنہا ابھی زندگانی مِری

0
82
ہم لوگ ایک اور خیالات الگ الگ
کرتے ہیں محفلوں میں جلی بات الگ الگ
ہر آدمی کے سینے میں تو قلب ایک ہے
مخفی اسی میں سب کے ہیں جذبات الگ الگ
دیتے رہے خوشی سے اسے ہاتھ بے دھڑک
کٹتے رہے ہمارے وہی ہاتھ الگ الگ

0
105
دشمن بہت ہے خوش کہ مرے سر پہ چھت نہیں
پھر بھی خوشی سے ان کو ملے عافیت نہیں
بھاتے نہ خاندان کے اپنے اسے یہاں
تعلیم بہترین ملی تربیت نہیں
جرات کہاں کہ پوچھ سکوں خیریت تری
تو ہے جہاں تو کیسے وہاں خیریت نہیں

0
122
گدائی نہیں ہے ہماری گزارش
سنی جائے گی کب غریبوں کی نالش
ن فی میں خفی ہیں کئی رازِ مثبت
بدلنے لگی کروٹیں اپنی کاوش
وراثت پہ حق صرف اس کا نہیں ہے
کرے گا کہاں تک وہ سازش پہ سازش

0
81
نہ ہے اس کے جیسا ہزاروں میں کوئی
کہاں گل ہے ویسا بہاروں میں کوئی
بسائے ہوئے ان گنت داغ دل میں
ہنسے چاند جیسے ستاروں میں کوئی
یہ فطرت کہ اپنا وہ سمجھے سبھی کو
نہ سمجھا اسے اتنے یاروں میں کوئی

0
96
کر نہ سکے ہم بات وہ پوری، بات بھلائے اب نہ بنے
تب تھے کہاں حالات برے، حالات بھلائے اب نہ بنے
لمس ہوا نظروں کا جب تو شرم کے بادل اور جھکے
ماتھے سے پھر برسات ہوئی، برسات بھلائے اب نہ بنے
جشن میں لوگوں کے درمیاں تو جیسے تاروں کے بیچ ہو چاند
تھی وہ تری بارات سجی، بارات بھلائے اب نہ بنے

0
125
سب کا دماغ پہلے تو اس کا قدم چلے
سن کر سبھی کے مشوروں کو ان پہ کم چلے
اعلان کر دے رات میں کب کیا کسے پتہ
لمبی زبان پر تو یوں لمبی قسم چلے
رہتے ہیں دور دور ہمیشہ اسی سے لوگ
تلخی بھری زبان ہمیشہ جو خم چلے

0
105
جینا تو ہے مر کے یہاں یہ راز سبھی کو کیا معلوم
دور ہمیں سے ہونے لگے سب خاص کسی کو کیا معلوم
نکلے ہم جنت سے تیری یہ تو تری ہی مرضی تھی
ترسیں گے ہم آ کے یہاں ہر ایک خوشی کو کیا معلوم
حسنِ عمل کو دیکھ ترے کرتے ہیں رشک فرشتے بھی
مٹی کے پتلے کی قیمت حور و پری کو کیا معلوم

0
118
بھلی فکرِ انساں کدھر کھو گئی ہے
تمیز و ادب اور ڈر کھو گئی ہے
شبِ تیرگی میں ہزاروں ہیں جگنو
اجالوں میں ان کے ڈگر کھو گئی ہے
ستارے فلک سے لبھاتے ہیں مجھ کو
انہیں میں ضیائے نظر کھو گئی ہیں

0
146
عشق ہے یہاں جسے آمنہ کے لال سے
رب اسے بچائے گا حشر میں وبال سے
اتباعِ مصطفٰے جس کو جاں سے ہے عزیز
اجر پائے گا وہی ربِ ذوالجلال سے
کائنات کا سبب ایک نورِ حق ہے بس
جو چمک رہا ابھی تک کروڑوں سال سے

0
195
کوئی نہ روزگار کوئی پوچھتا نہیں
ویسے بہت ہیں یار کوئی پوچھتا نہیں
ہاں دولت و شعور و ہنر اور زمیں کہاں
بس خامیاں ہیں چار کوئی پوچھتا نہیں
آنکھوں میں گرم ذرے بیابانِ ہجر کے
سوکھے لب و عذار کوئی پوچھتا نہیں

0
103