Circle Image

Akhtar Hussain

@akhtar11a

عمل اگر نہ ہو تو صرف خوش خیال کیا کرے
دلی سکون کے لئے ذخیرہ مال کیا کرے
یہ مغربی چلن کہ نیم برہنہ چلے پھرے
کھلے دماغوں پر اثر کوئی زوال کیا کرے
سمجھ سکے نہ جب کوئی کبھی اشارے لمحوں کے
تو ایسے لوگوں پر، مہینہ اور سال کیا کرے

0
1
اک دو، نہیں ہے سارا گلشن تمہارے ساتھ
کچھ منتخب ہیں اہلِ گلخن تمہارے ساتھ
پرواز کی بلندی نے کی ہے قبض روح
پرواز ہو نہ اور بھی دھڑکن تمہارے ساتھ
شاگرد کتنے جھوٹے لے کر پَوِتر نام
برباد کر لئے ہیں جیون تمہارے ساتھ

0
دیوانگی میں ہی ، میں نے کیا کیا نہ کھو دیا
ہنستا رہا غموں پہ کبھی پل میں رو دیا
اڑ کر کہاں میں جاؤں نشیمن سے اس گھڑی
امید کے پروں کو کسی نے بھگو دیا
درد و الم فراق ، جو کچھ تجھ سے ہے ملا
دل میں سمو لیا، تو نے سامان جو دیا

0
2
اے دلِ نا کام تو ہل، اب یہاں سے
دور کیا تیری ہے منزل، اب یہاں سے
پاس تیرے صرف عزمِ پختہ ہی ہے
راہ چل، جتنی ہو مشکل، اب یہاں سے
اب مقدر سے کریں کیا ہم شکایت
لے چلیں جو کچھ ہے حاصل، اب یہاں سے

0
9
وہ ہنستے ہیں اوروں کے سنگ، پھر اپنی ہنسی پر روتے ہیں
ترکِ تعلق کر کے ہم سے اس آن و گھڑی پر روتے ہیں
وقت بھلا دے کس کا ساتھ یہ کاتبِ قسمت کی مرضی
لوگ تو سب فی الحال یہاں اپنی مرضی پر روتے ہیں
دوست و دشمن اپنے پرائے سب تو ہیں موجود یہاں
شام و سحر ہو کہ دن راتیں اک تیری کمی پر روتے ہیں

0
6
شام نے زلفیں اپنی سنواری تو کیا
رات اپنی کہیں اور گزاری تو کیا
کیا ہے لینا کسی کو گئی راتوں سے
اب کوئی شب نہیں بھی کنواری تو کیا
چاندنی تو نمودار ہو کے رہی
لاکھ تھی ابر کی پہرےداری تو کیا

0
2
ہنسنے لگی ہے دنیا اپنی جو داستاں پر
لانا کبھی نہ لفظِ شکوہ کوئی زباں پر
ہو گر زبان پیاسی تو اشکِ گرم پی لے
بھاتا نہ اب کسی کو آنا ترا کنواں پر
رستے میں میرے کانٹے ڈالیں نہ لوگ تیرے
ان کی چبھن سے کیا ہو موجود تو جہاں پر

0
5
ہنسنے لگی ہے دنیا اپنی جو داستاں پر
لانا کبھی نہ لفظِ شکوہ کوئی زباں پر
ہو گر زبان پیاسی تو اشکِ گرم پی لے
بھاتا نہ اب کسی کو آنا ترا کنواں پر
رستے میں میرے کانٹے ڈالیں نہ لوگ تیرے
ان کی چبھن سے کیا ہو موجود تو جہاں پر

0
1
مری قسمت پہ خوش یہ سنسار پھر ہے
پڑا مجھ پر الم جو اک بار پھر ہے
نبھاؤں کیسے میں بد حالی میں رشتے
تہی دستی سے حالت نا چار پھر ہے
لے سکتی ہے جاں اس کی شیریں زبانی
چلن اس کا وہی اور گفتار پھر ہے

0
11
غیروں سے خوب میل ترا مجھ سے عار ہے
خیر اب مرا نہ تجھ پہ کوئی اختیار ہے
غنچے کھلا کے دل کے انہیں پھر مسل گئے
ہر غنچہ ایک بار پھر اب اشک بار ہے
اقرار تھا کبھی لبوں پر ساتھ دینے کا
آج ان لبوں پہ لفظِ نہیں بار بار ہے

0
9
مسیحا میں سمجھوں اسے یا لٹیرا
مجھے ہر طرح سے اسی نے ہے گھیرا
بھٹکتا رہا جن چراغوں کے پیچھے
ملا ان چراغوں سے ہر شب اندھیرا
مجھے چھوڑ کر تجھ کو جانا اگر تھا
تو پھر کیوں بسایا یہ گھر تو نے میرا

0
12
گزشتہ سے آگے۔۔۔۔۔
عید کیسے مَنے ، آج کیسے مَنے
کیا ہے کاجل یہ سرمہ ہے کیا ہے حنا
چشم سونی ہے سونے کفِ دست و پا
روز و شب کی شفق لاڈلی سے خفا
اشک جاری کہے لاڈلی بھی تو کیا

0
7
عید کیسے منے عید کیسے منے
ہم غریبوں کے گھر عید کیسے منے
دودھ و شکر نہیں کاجو خر ما نہیں
آج پیسے بنا تن پہ کپڑا نہیں
چاند کی شب حسیں صبح اس کی حسیں
مال و دولت جسے عید اس کی حسیں

0
11
کس کو سنائیں اب حالِ زندگی کو ہم
لے کر کہاں یہ جائیں اپنی خودی کو ہم
کچھ یاد ہی نہیں کیا اپنے لئے کیا
ترجیح دیتے آئے ان کی خوشی کو ہم
ایک آن کے لئے آئی تھی جو روشنی
برسوں سے ڈھونڈھتے ہیں اس روشنی کو ہم

0
10
دلگیر خامشی لئے ہے رات کس طرح
بھیجے اگر کوئی تو پیامات کس طرح
معلوم ہے مجھے وہ تکبر میں علم کے
بھرتے ہیں جاہلوں میں خرافات کس طرح
اسلام کے وقار سے کب ان کو پیار ہے
نیلام کرتے دین، دن و رات کس طرح

0
12
دے معافی ذرا دیکھ رحمان کو
کس طرح بخشتا ہے وہ نادان کو
دل دکھانا مِرا تو ارادہ نہ تھا
بخش دو دل سے مجھ جیسے انسان کو
میں نہ بھولا کبھی اور نہ بھولوں کبھی
آج تک اس ملے تیرے احسان کو

0
14
ہجر کی رات میں روتی ہیں کسی کی آنکھیں
اور کہیں چین سے سوتی ہیں کسی کی آنکھیں
لعل و گوہر ہو کہ یاقوت مگر ان سب کو
مات دے دے جو وہ موتی ہیں کسی کی آنکھیں
راہ سونی ہو اگر رات اندھیری تنہا
ایسے حالات میں جوتی ہیں کسی کی آنکھیں

0
11
ملی ناکامیاں اس جگہ سے بھی زیادہ
جہاں چکر لگا تھا گدا سے بھی زیادہ
مِری حالت پہ ان بد دعاؤں کا اثر ہے
جنہیں اپنوں نے دی ہے دعا سے بھی زیادہ
در و دیوار وہ اب ترستے روشنی کو
جہاں پل پل جلا میں دیا سے بھی زیادہ

0
20
رفاقت رفیقوں سے اب بیر سی ہے
خصومت دلوں کو لگے خیر سی ہے
شناسا جو تھی چشم اب غیر سی ہے
نشیڑی کی وہ کھوپڑی دیر سی ہے
فضیحت کی زنجیر ہے اس گلے میں
سراپا دیا جو وطن کے بھلے میں

0
13
کہے خود کو دیشی، سبھی کو بدیشی
رکھے خوب دنگوں میں قاتل سے خویشی
نہ ہو کیوں عدالت میں مجرم کی پیشی
مزے میں ہیں غنڈے لٹیرے مویشی
حریفوں کو اپنے ہی من سے سزا دے
یہی راج کا راز ہے کیوں بتا دے

0
11
سیاست کی چھب ہو گئی کتنی گندی
رعایا سے پیاری اسے خود پسندی
کرے من کی مرضی ملے جب بلندی
کہیں ہونٹ بندی کہیں نسل بندی
عوامی خطابوں میں یوں ذکر سب ہے
مگر ذاتِ مخصوص کی فکر اب ہے

0
11
میرے دشمن مِرے مرنے کی دعا کرتے ہیں
اور ہم ٹھہرے کہ ان ہی پہ مرا کرتے ہیں
ساتھ رہتے ہیں اجالوں میں جو سایہ بن کے
جب اندھیرا ہو وہی خود کو جدا کرتے ہیں
اب بھروسہ کریں کس پر دکھے اپنا کوئی
مطلبی بن کے سبھی سب سے ملا کرتے ہیں

0
31
سبھی بے مال ہو جائیں وہ مالا مال ہو جائے
یہ ان کی سازشیں ملک یہ کنگال ہو جائے
لٹے مظلوم فریاد لے کر کس جگہ جائیں
حکومت کے لئے جب عدالت ڈھال ہو جائے
جدھر دیکھو اُدھر لشکرِ باطل کھڑا ہے
خبر کیا کب کوئی شخص زیرِ نال ہو جائے

6
کیا پرکھوں سے محبت ہے کہ بغاوت ہے یا کچھ اور ہے
ان سے ملی جو امانت ہے کہ ذلالت ہے یا کچھ اور ہے
اپنے نہ بھائے ان کو کبھی کیوں خون بہائے اپنوں کا
کیا یہ زمانہِ دشرتھ ہے مہابھارت ہے یا کچھ اور ہے
ملک ہے سارا دھوکے میں کاغذ پر جو دکھے دھرتی پہ نہیں
اب کیا صرف سیاست ہے کہ جہالت ہے یا کچھ اور ہے

0
11
دکھایا وہ سپنا نہ جس کی حقیقت
ریا کار و کاذب، بے دل، بے مروت
سنا کر نئی اک کہانی حکومت
تباہی پہ ڈالا نظامِ معیشت
ہے عقل و ضمائر پہ قابض مداری
وہ سادھو پہ ساحر پہ قابض مداری

0
18
نشانے پہ تہذیب گنگ و جمن کی
جہاں جان بستی ہے اہلِ وطن کی
بھرے آہ اب حسرتیں اپنے من کی
لٹی جا رہی زیب و زینت چمن کی
چنندہ گلوں کو مسل کر مٹائے
شگوفوں کو بس زہرِ نفرت پلائے

0
7
دیکھ کیا مجبور ہوں نا چار ہوں
ہاں مگر قسمت سے میں نادار ہوں
ہر کوئی مصروف ہے اپنے لئے
اوروں کی خاطر میں ہی تیار ہوں
ڈھونڈھتا ہوں ہر بہانہ رات و دن
کہنے کو تو میں بہت خوددار ہوں

0
7
سوچ سوچ کر دلِ نادان بے قرار ہوا
ایک بار ہی تو نہیں اس طرح سو بار ہوا
رو رہا ہے خانہِ گِل رنگ ابر دیکھتے ہی
محلوں والوں کے لئے موسم یہ خوشگوار ہوا
باغ باغ جھوم اٹھے آمدِ بہار سے کب
آمدِ خزاں کا رخِ گل تو اب شکار ہوا

0
7
کس وقت اس کو چھونے کی خواہش نہیں ہوئی
نظریں اٹھیں تو ہاتھوں میں جنبش نہیں ہوئی
سب پوجتے رہے جسے دن رات ہر گھڑی
اس کی کبھی تو مجھ سے پرستش نہیں ہوئی
کرتا ہے ظلم چہرہِ حق دار دیکھ کر
حق داروں پر کبھی تو نوازش نہیں ہوئی

0
12
درِ مرشد پہ آئیں ہم عقیدت کا تقاضا ہے
لٹائیں قیمتی ہر وقت الفت کا تقاضا ہے
منور دل کو کر اپنے مزین روح کو اِم شب
تعلق باطنی مرشد سے قربت کا تقاضا ہے
فضا پر نور ہے ہر سو طفیلِ بو الُحسن چشتی
سجائیں کیوں نہ ہم محفل مسرت کا تقاضا ہے

0
21
ہنسنا ترا یہ خوب ہے رونا مِرا نصیب
پلکوں پہ موتیوں کو سجونا مِرا نصیب
میری نظر میں تو ہی تو ہے ہر گھڑی مگر
میرا تری نظر میں نہ ہونا مِرا نصیب
نا کامیوں کے بیچ تو گم ہے مِری حیات
شمعِ امید صرف ہے ڈھونا مِرا نصیب

0
11
دلِ غم زدہ پہ ہو اک نظر دن و رات یہ بے قرار ہے
ہے پتہ سبھی خبر آپ کو یہ مِری جو حالتِ زار ہے
بہ طفیلِ نورِ محمدی ہے وجود کون و مکان کا
یہ زمین و عرش ہر ایک شے اسی سے تو پائی قرار ہے
کوئی لاکھ کر لے عبادتیں دے زباں سبھی وہ شہادتیں
ہاں جسے نبی سے وفا نہیں تو عمل تمام بے کار ہے

0
14
کروں زباں سے بیان کیا کیا تمہیں مِری کیا خبر نہیں ہے
کرے جو حاجت روائی میری یہی ہے در اور در نہیں ہے
سنو گزارش تڑپتے دل کی کلی کھلے کب جھلستے دل کی
کرم کی بارش ذرا ہو دل پر یہ دل تو ہے خشک تر نہیں ہے
بھنور میں کشتی مِری پڑی ہے نکالو مجھ کو کٹھن گھڑی ہے
مِرے اے مرشد تمہارے آگے بھنور یہ کچھ بھی بھنور نہیں ہے

9
میرا ہی انتظار تری بے رخی کو ہے
پھر کیوں مجھی سے عار تری بے رخی کو ہے
چاہے سنوار دے کہ مٹا دے تو زندگی
یہ سب تو اختیار تری بے رخی کو ہے
جب تک ستا نہ لے وہ مجھے دن میں ایک بار
تب تک کہاں قرار تری بے رخی کو ہے

0
13
زبانوں میں ان کی ہے کیسی روانی
زباں کا اشارہ کہے سب کہانی
سنی ہے کبیرا کی مشہور وانی
کہیں برسے کمبل کہیں بھینگے پانی
چھپا ضابطہ میں ہے مخصوص مطلب
دبا ہے جو دل میں کھلے کیا کبھی لب

0
15
کٹے وقت وقتِ قضا کی طرح
ہو لطف و کرم جب ریا کی طرح
دن و رات شام و سحر اب لگے
وہ نزدیکیاں اک بلا کی طرح
ملی دوستوں سے دعائیں بہت
لگی کیا دعا بد دعا کی طرح

0
9
مسیحا ہے قاتل کہ رہبر لٹیرا
یہی کش مکش نے کڑوروں کو گھیرا
سمٹنے لگیں سات رنگوں کی کرنیں
بڑھا جب تعصب سے یہ گھپ اندھیرا
فضاؤں میں گھلتے رہے زہرِ اژدر
بجاتا رہا بین نقلی سپیرا

0
13
یہ رحیمن کبیرا یہ رسخان میں ہے
یہ بدھا اشوکا کی پہچان میں ہے
یہ عیسائی ہندو مسلمان میں ہے
محبت وطن کی ہر اک جان میں ہے

0
14
سزا مجھ کو ملی ہے آج ماضی کے گناہوں کی
اکیلا چھانتا ہوں خاک اِن سنسان راہوں کی
دیا تھا حکم طوفاں نے اسے اس پار جانے کا
بھنور میں ہی ڈُبا ڈالی بھری کشتی پناہوں کی
اب ان کی مہر بانی اور بھی جھیلی نہیں جاتی
چھپی ہے مہر بانی میں سلگتی آگ شاہوں کی

0
13
گاؤں کی ہر گلیوں میں مرا چرچہ صبح و شام رہا
مل نہ سکا وہ آج تلک میں جس کے لئے بد نام رہا
کیسے کروں ساقی سے شکایت اس کی نظر تو اٹھی ہی نہیں
پینے کو لب تو ترستے رہے آنکھوں میں اس کی جام رہا
ساون کی بھری ہر یالی میں دھانی چنر کا لہرانا
اس کے اشارے سمجھنے میں پاگل بادل تو ناکام رہا

0
17
غمگین کیوں ہے شوخ نظر اب تو کچھ کہو
تیرا بھی کیا جلا حسیں گھر اب تو کچھ کہو
کیا حال ہے ترا مرے اس سخت حال میں
اپنی تو دی نہ خیر و خبر اب تو کچھ کہو
مل جائے گی کبھی تو وہ منزل تمہیں کہیں
جس کی تلاش مجھ کو مگر اب تو کچھ کہو

0
32
کیا یہاں چاہیے کیا وہاں چاہیے
ہاں کہیں بھی مجھے تیری ہاں چاہیے
دل ہے سجدوں سے خالی ریا کار کا
بس زمیں سے جبیں کو نشاں چاہیے
گلستاں کی حفاظت جو دل سے کرے
سب کو ویسا یہاں باغباں چاہیے

9
نہ طاقت نہ دولت بھناؤں میں کیا
نہیں کچھ مِرے پاس لاؤں میں کیا
امید و توکل وہ صبرِ حسین
یہ اپنے خزانے لٹاؤں میں کیا
یہ نیندیں وہ آنکھیں خفا ہیں مگر
کوئی ذہن میں ہے سلاؤں میں کیا

0
11
غزل آپ کی ہے کہانی مِری
سنو کچھ کہانی زبانی مِری
بہت کش مکش میں یہ قسمت رہی
کٹی خلوتوں میں جوانی مِری
کئی دوست بن کے بچھڑ بھی گئے
ہے تنہا ابھی زندگانی مِری

0
11
ہم لوگ ایک اور خیالات الگ الگ
کرتے ہیں محفلوں میں جلی بات الگ الگ
ہر آدمی کے سینے میں ہے قلب ایک ہے
مخفی اسی میں سب کے ہیں جذبات الگ الگ
دیتے رہے خوشی سے اسے ہاتھ بے دھڑک
کٹتے رہے ہمارے وہی ہاتھ الگ الگ

0
19
دشمن بہت ہے خوش کہ مرے سر پہ چھت نہیں
پھر بھی خوشی سے ان کو ملے عافیت نہیں
بھاتے نہ خاندان کے اپنے اسے یہاں
تعلیم بہترین ملی تربیت نہیں
جرات کہاں کہ پوچھ سکوں خیریت تری
تو ہے جہاں تو کیسے وہاں خیریت نہیں

0
21
گدائی نہیں ہے ہماری گزارش
سنی جائے گی کب غریبوں کی نالش
ن فی میں خفی ہیں کئی رازِ مثبت
بدلنے لگی کروٹیں اپنی کاوش
وراثت پہ حق صرف اس کا نہیں ہے
کرے گا کہاں تک وہ سازش پہ سازش

0
10
نہ ہے اس کے جیسا ہزاروں میں کوئی
کہاں گل ہے ویسا بہاروں میں کوئی
بسائے ہوئے ان گنت داغ دل میں
ہنسے چاند جیسے ستاروں میں کوئی
یہ فطرت کہ اپنا وہ سمجھے سبھی کو
نہ سمجھا اسے اتنے یاروں میں کوئی

0
12
کر نہ سکے ہم بات وہ پوری، بات بھلائے اب نہ بنے
تب تھے کہاں حالات برے، حالات بھلائے اب نہ بنے
لمس ہوا نظروں کا جب تو شرم کے بادل اور جھکے
ماتھے سے پھر برسات ہوئی، برسات بھلائے اب نہ بنے
جشن میں لوگوں کے درمیاں تو جیسے تاروں کے بیچ ہو چاند
تھی وہ تری بارات سجی، بارات بھلائے اب نہ بنے

0
14
سب کا دماغ پہلے تو اس کا قدم چلے
سن کر سبھی وہ مشوروں کو ان پہ کم چلے
اعلان کر دے رات میں کب کیا کسے پتہ
لمبی زباں پہ ویسے تو لمبی قسم چلے
رہتے ہیں دور دور ہمیشہ اسی سے لوگ
تلخی بھری زبان ہمیشہ جو خم چلےآ

0
26
جینا تو ہے مر کے یہاں یہ راز سبھی کو کیا معلوم
اپنے پرائے ہونے لگے سب خاص کسی کو کیا معلوم
نکلے ہم جنت سے تیری یہ تو تری ہی مرضی تھی
ترسیں گے ہم آ کے یہاں ہر ایک خوشی کو کیا معلوم
حسنِ عمل کو دیکھ ترے کرتے ہیں رشک فرشتے بھی
مٹی کے پتلے کی قیمت حور و پری کو کیا معلوم

0
30
بھلی فکرِ انساں کدھر کھو گئی ہے
تمیز و ادب اور ڈر کھو گئی ہے
شبِ تیرگی میں ہزاروں ہیں جگنو
اجالوں میں ان کے ڈگر کھو گئی ہے
ستارے فلک سے لبھاتے ہیں مجھ کو
انہیں میں ضیائے نظر کھو گئی ہیں

0
35
عشق ہے جسے یہاں آمنہ کے لال سے
رب اسے بچائے گا حشر میں وبال سے
اتباعِ مصطفٰے جان و دل سے گر عزیز
پائے گا اجر تبھی ربِ ذو الَجلال سے
کائنات کا سبب ایک نورِ حق ہے بس
جو چمک رہا ابھی تک کروڑوں سال سے

0
25
کوئی نہ روزگار کوئی پوچھتا نہیں
ویسے بہت ہیں یار کوئی پوچھتا نہیں
ہاں دولت و شعور و ہنر اور زمیں کہاں
بس خامیاں ہیں چار کوئی پوچھتا نہیں
آنکھوں میں گرم ذرے بیابانِ ہجر کے
سوکھے لب و عذار کوئی پوچھتا نہیں

0
14