Circle Image

Tahira Masood

@T.Masood786

تازہ غزل
زباں پہ قابو بھی رکھنا کمال ہوتا ہے
کہاں کسی کو بھلا یہ خیال ہوتا ہے
سبھی کی اپنی نگہ اور خیال ہوتا ہے
جو ہم خیال ملے تو کمال ہوتا ہے
کہ ایک دن خوشی پالیں گے اپنے حصے کی

0
3
بچپن میں جس میں کھیلا تھا ملتا وہ گھر نہیں
"عرصے سے اس دیار کی کوئی خبر نہیں"
یہ نیم جان گُھلتا ہے ہی رہتا ہے بے طرح
دل کی مرے ڈگر جو تری رہ گزر نہیں
ہوتا کوئی تو سہتا نہ بیداد کو تری
لیکن مرا جنون بھی آشفتہ سر نہیں

0
4
مہرباں ہوں نہ جو حالات تو دکھ ہوتا ہے
کچلے جاتے ہیں جو جذبات تو دکھ ہوتا ہے
وقت کا کیا ہے بدلتا ہے بدل جائے گا
نا مساعد ہوں جو حالات تو دکھ ہوتا ہے
با ت بے بات بڑھے بات تو دکھ ہوتا ہے
غمِ دنیا ہو غمِ ذات ہو دکھ ہوتا ہے

4
میری دنیا عجیب ہے لوگو!
اس کا ہیرو" غریب" ہے لوگو!
اس کو کیا غم حساب کا ہو گا
پہلے جو کم نصیب ہے لوگو!
فکر تو اصل ہے امیروں کی
پوچھے گا جو حسیب ہے لوگو!

0
4
کٹ گئی ہے اسی گمان کے ساتھ
عمر گزری بڑے رسان کے ساتھ
اپنی مرضی کو بھول جاؤ تم
چلنا چاہو اگر جہان کے ساتھ
ماتھے قشقہ کسی کی الفت کا
ہمیں جینا اسی نشان کے ساتھ

0
5
ہماری جان کو جس نے فقط بے جان سمجھا تھا
ہماری سادگی ہم نے اُسے بھگوان سمجھا تھا
تمنا جو بھی ہم نے کی اسے خِلجان سمجھا تھا
ہمیشہ ہی ہمیں اس نے بہت نادان سمجھا تھا
وہ جس کے پیار میں ہم سانس کی مالائیں جپتے ہیں
ضرورت جب پڑی اس کی ہمیں انجان سمجھا تھا

0
2
جو ہے غلط اسے میں کہوں بر ملا نہیں
کیونکہ مرا ضمیر کبھی بھی بکا نہیں
جب تک نہ کن کہے گا وہ ہوتی شفا نہیں
جو اس کا حکم ہو نہ تو لگتی دوا نہیں
کتنا بدل دیا ہے اے عمرِ رواں مجھے
میرا ہی عکس آج سرِ آئینہ نہیں

0
3
24
محبتوں کے دیے تم بجھائے بیٹھے ہو
یہ نفرتوں کی جو دھونی رمائے بیٹھے ہو
کہ فصل کینوں کی دل میں اُگائے بیٹھے ہو
خدا ہی جانے خدا کیوں بھلائے بیٹھے ہو
اَلاؤ دشمنی کے کیوں جلائے بیٹھے ہو
خدا کے بندوں کو کیوں کر لڑائے بیٹھے ہو

0
7
دکھوں کی راجدھانی پر غموں کی حکمرانی ہے
بڑی تکلیف میں کیوں آج کل یہ زندگانی ہے
سماعت کھوگئی سب کی بصیرت پر اندھیرا ہے
جہاں کو آج کل ہر دم نئی آفت نے گھیرا ہے
بہت کم ہیں جو دنیا کی بھلائی کو تڑپتے ہیں
زیادہ تر یہاں اپنے لئے سب کام کرتے ہیں

7
یہ ہنر بھی آگیا ہےعمر اک کرنے کے بعد
سیکھ ہی ڈالا ہے جینا مدتوں مرنے کے بعد
ایک خواہش اور ہوتی ہے ہر اک خواہش کے بعد
آخرش ہم نے یہ جانا خواہشیں کرنے کے بعد
ڈر گیا سو مر گیا کہتی تو ہے دنیا مگر
کچھ نڈر بھی ہو ہی جاتا ہے بشر ڈرنے کے بعد

8
ہم سارے ہی پورے ہیں آدھا نہیں کوئی
فنکار ہیں اک نمبر سادہ نہیں کوئی
پستا ہے جو نادار تو روتانہیں کوئی
اس دکھ میں بے چین بھی ہوتا نہیں کوئی
یا رب ہے سجانا مجھے اس دیس کو لازم
اس دیس کی خاطر مجھے کرنا ہیں دعائیں

5
سکونِ قلب ملتا ہے بشر کو باخدا ہو کر
اسی کے در پہ جاتا ہے جبھی توبا صفا ہوکر
عطا کی روح کو اگلے جہاں میں جاوداںنی شکر
گزر جاتا وگر انساں جہاں سے بے بقا ہو کر
ترے دیوانے جب بھی دید کو مشتاق ہوتے ہیں
تو چل دیتے تری گلیوں کو وہ آشفتہ پا ہو کر

3
یہ جان و دل بھی تری چاہ میں ہیں ہار چلے
لو دیکھو خلد کی جانب یہ بے قرار چلے
خیال خوش گماں نکہت مشام جاں میں بھرے
مہک فضا میں رچے بوئے مشکبار چلے
بشوق زیست تو کی ہم نے کشمکش دن رات
مگر یہ آج ترے تیرہ بخت ہار چلے

5
نکلے نہ کبھی دل سے وہی پیار ہے تیرا
ہم جس کو بھی دیکھیں وہی بیمار ہے تیرا
تا حشر نہ پورا ہو وہ اقرار ہے تیرا
دل توڑنا ظالم ہوا بیوپار ہے تیرا
مجھ دل کو مگر رہنا پرستار ہے تیرا
اک میں نہیں ہر اک ہی طلب گار ہے تیرا

2
نیک و بد سب تمہیں بتا کر کے
لو چلا ہے کوئی صدا کر کے
یہ جو اتنا ہمیں ستاتے ہو
کیا ملے گا ہمیں جلا کر کے
کھو گئی ہوں میں ڈھونڈ دو مجھ کو
کچھ خبر دو ذرا پتا کر کے

0
12
ہم جو کہہ دیں اسے پھر بدلتے نہیں
بات سے اپنی پھر ہم مُکرتے نہیں
وہ جو فرقت زدہ ہوں بہلتے نہیں
آئینہ سامنے ہو سنورتے نہیں
جو بکھر جائیں پھر وہ سمٹتے نہیں
کرچی کرچی جو ٹوٹیں وہ جڑتے نہیں

0
6
زمیں پہ لکھنا ابرو سحاب میں لکھنا
سوال پر مرے کچھ تو جواب میں لکھنا
جفا کے بدلے بھی ہر گز جفا نہیں کرنا
یہ وصف اب کے وفا کے نصاب میں لکھنا
بدونِ وحشت کچھ بھی نہ ہاتھ آئے گا
" کبھی نہ پڑھنا جو دل کی کتاب میں لکھنا"

0
8
مل سکے گا کوئی مخلصوں کی طرح
ڈھونڈنا ہے عبث پاگلوں کی طرح
دل کے ساحل پہ دیکھوں میں جس اَور بھی
یادیں بکھری پڑیں سیپیوں کی طرح
روٹھ کر وہ گیا تو نہ کچھ کر سکے
اُس کو تکتے رہے باولوں کی طرح

27
زمیں پہ لکھنا ابرو سحاب میں لکھنا
سوال پر مرے کچھ تو جواب میں لکھنا
جفا کے بدلے بھی ہر گز جفا نہیں کرنا
یہ وصف اب کے وفا کے نصاب میں لکھنا
بدونِ وحشت کچھ بھی نہ ہاتھ آئے گا
" کبھی نہ پڑھنا جو دل کی کتاب میں لکھنا"

5
زمامِ وقت کو ہم نے گھما دیا اکثر
دیا دکھا کے ہوا کو ڈرا دیا اکثر
ذرا سنبھل کے تم ہم سے واسطہ رکھنا
جنوں میں خود کو بھی ہم نے بھلا دیا اکثر
جو وقت آئے تو انصاف ایسا کرتے ہیں
خلاف فیصلہ اپنے سنا دیا اکثر

14
انسان کو ہے اب نئے افکار کی تلاش
جو امن و آشتی کو ہیں درکار، کی تلاش
ذمّہ کوئی نہ ہم پہ ہو ہم چاہے کچھ کریں
ہم کو ہے بس کہ ایسے ہی آدھار کی تلاش
جو سچ کو جھوٹ، جھوٹ کو سچ پیش کر سکے
دنیا کو اب ہے ایسے ہی فنکار کی تلاش

24
غزلِ مسلسل کا پہلا حصہ
اس دور میں ہو کیسے اقدار کی تلاش
اخلاص ڈھونڈنا ہے بے کار کی تلاش
کرلیں تلاش ہم سے بہتر اگر ملے
پوری نہ ہوگی لیکن سرکار کی تلاش
رہتی ہے ہم کو زینتِ دنیا کی جستجو

21