Circle Image

ڈاکٹر زیرک نسیم

@ZeerakNasim

دردِ دل کی دوا، مانگتا ہے گدا
غم سبھی دے بُھلا، دے مجھے وہ شِفا
ہو کرم ہو عطا، دور ہو ہر بلا
از پئے مُصطفیٰ، بحرِ غوثُ الوَریٰ
امتِحاں سخت ہے، حوصلہ پست ہے
میری ہمت بڑھا، ہر قدم پر خدا

2
17
سُسرال چلو سُسرال چلو، سُسرال چلو سُسرال چلو
خوش ہے بیوی دیکھو کتنی، تم ڈال کہ لُڈّی دھمال چلو
اسکوٹر گاڑی پیدل بھی، ہو رکشہ چاہے تانگہ ہی
انکار نہ ممکن آج کوئی، ہے کس کی ایسی مجال چلو
کپڑے عمدہ جوتے مہنگے، سِلوَٹ نہ کوئی پالِش چمکے
مُسکان سجی ہو ہونٹوں پر، جذبات کو اپنے سنبھال چلو

0
10
یاد بچپن کی ہے آئی دل لُبھانے کے لئے
غم کے ماروں کے غموں کو اب مِٹانے کے لئے
ہر سَماں کتنا سُہانا تھا تصور تو کرو
فصلِ گُل میں بُلبُلیں تھیں چہچہانےکے لئے
نیند آتے ہی چلے جاتے تھے ماں کی گود میں
وہ سُناتی ہم کو لوری پھر سُلانے کے لئے

0
8
مُبارک مُبارک نیا گھر مُبارک
سدا خوش رہو تم بنے دَر مُبارک
سُکوں ہو مُیسّر ملے دل کو راحت
محبت کا اُلفت کا ساغر مبارک
سجے باغ پھولوں سے ایسا خدایا
مُعَطّر مُعَطّر مُعَنبر مبارک

0
9
رمضان شروع کب ہوتا ہے؟ اب تکتی دنیا ساری ہے
اُمت کو یک جا کون کرے، یہ کام بڑا ہی بھاری ہے
اُس پار نظر تُو آتا ہے، اِس پار تُو کیوں چُھپ جاتا ہے؟
اے چاند تِرا یوں تڑپانا، ارمان پہ چلتی آری ہے
اک چال مقرر تیری ہے، انتیس دنوں کی پھیری ہے
ہم دیکھ کہ تم کو عید کریں، یہ عادت کتنی پیاری ہے

0
11
خون میں ہے فلسطین ڈوبا ہُوا، ظلم کی انتہا بے بہا بے بہا
سُن کہ خاموش ہیں اُن کی آہ و بُکا، ختم ہو ظالموں کی یہ جَور و جفا
قلب اپنا تو شیدائی اغیار کا، اُن کی تہذیب کا اُن کے افکار کا
خوف اُن کو نہیں اپنی للکار کا، عشقِ احمد کی اب شمع دل میں جَلا
امتِحاں سخت ہے ہر مُسَلمان کا، ہمّت و صبر کا اور ایمان کا
ہر رِعایا کا بھی ساتھ سلطان کا، جذبہ ایمان کا کاش پائے جِلا

0
9
خاص ہم پر ہُوا فضلِ رحمان ہے
مومِنو آگیا ماہِ رمضان ہے
جان میں عاصیوں کی پڑی جان ہے
مومِنو آگیا ماہِ رمضان ہے
سَحر و افطار کی برکتیں لوٹ لو
رات دن خوب تم رحمتیں لوٹ لو

41
شعبان شروع کب ہوتا ہے؟ اب تکتی دنیا ساری ہے
اُمت کو یک جا کون کرے، یہ کام بڑا ہی بھاری ہے
اُس پار نظر تُو آتا ہے، اِس پار تُو کیوں چُھپ جاتا ہے؟
اے چاند تِرا یوں تڑپانا، ارمان پہ چلتی آری ہے
اک چال مقرر ہے تیری، انتیس دنوں کی ہے پھیری
ہم دیکھ کہ تم کو عید کریں، یہ عادت کتنی پیاری ہے

0
13
بڑا پُر فِتَن یہ تو دَور ہے، یہاں جنگ اپنی اَنا کی ہے
نہ ہمیں ہے خوفِ خُدا کوئی، نہ ذرا بھی فکر قَضا کی ہے
مرا نام سب سے بُلَند ہو، مری ذات سب کو پسند ہو
مجھے داد سب سے مِلا کرے، نہ طلب کوئی بھی سِوا کی ہے
میں کَماؤں بیش بَہا رَقَم، کبھی پاس آئے نہ کوئی غم
کبھی ختم ہو نہ یہ زندگی، مری جستجو تو بَقا کی ہے

18
ہو مبارک کامیابی زندگی کی دوڑ میں
مل گئی گاڑی کی چابی زندگی کی دوڑ میں
راستے ہموار ہیں اور مَنزِلیں ہیں بے شمار
خوب اس پر ہم رَکابی زندگی کی دوڑ میں
قیمتی موتی و ہیرے بھی مِلیں گے بیشتر
ہوں نگاہیں گر عُقابی زندگی کی دوڑ میں

0
12
جامعہ کا چَمَن لہلَہاتا رہے
علمِ دِیں کے خزانے لُٹاتا رہے
رونقیں ہوں بہاراں کی ہر آن ہی
طائِرِ خوش گُلو چہچہاتا رہے
علم و حکمت کا چشمہ یہ بہتا رہے
تشنہ لب تشنگی کو مٹاتا رہے

0
18
ولادت ہے بیٹی کی رحمت خدا کی
ہمیں چاند سی اک کلی پھر عطا کی
اُسی کا کرم ہے جو پوری دُعا کی
اُسی نے ہمارے دُکھوں کی دوا کی
یہ بیٹی تو سب کی ہے آنکھوں کا تارا
بنے زندگی میں سبھی کا سہارا

41
خدا کر کے آئی ہے باری مبارک
مبارک مبارک ہو شادی مبارک
مُعطّر فضا ہے خوشی کا سماں ہے
نکاح کی یہ سُنّت ہو پیاری مبارک
پئیں دید کے خوب کثرت سے شربت
رہے کوئی باقی نہ آنکھوں کی حسرت

0
47
یہ سلسلہ ذہنی آزمائش، بنا ہے سب کے دلوں کی دھڑکن
بہار آئی ہے علمِ دیں کی، خوشی سے مچلا ہے اپنا تن من
تُو علم کا نور کر لے حاصل، سفر اکیلے کی اک ہے منزل
دُرُست کیا ہے غَلَط کہاں ہے؟ سوال کا دیں جواب فوراً
حدیث آقا کی آؤ سُن لیں، یوں عشق کے پھول ہم بھی چُن لیں
وہ جوش میں بھی ہے ہوش کرنا، کہیں بھی ان کا نہ چھوٹے دامن

0
17
اے فَلَسطِین سُن کر کہانی تِری، دل مِرا آج آنسو بہاتا رہا
ہائے معصوم جانیں تڑپتی رَہِیں، وہ نشیمن پہ بجلی گراتا رہا
گھر کے گھر ہر طرف آہ مسمار ہیں، آہ لاشوں کے ہر سمت انبار ہیں
کرب سے کتنے ماں باپ غمگین ہیں، ساز غم کا عَدُو پھر بجاتا رہا
آج خاموش ہے رہبروں کی زَباں، ہر کِسی کی بنی حق کی جو ترجُماں
کیوں روا رکھتے ہو امتیازی سلوک؟ دعویٰ انصاف کا مُنہ چُھپاتا رہا

0
9
موبائل کے دیوانوں پر اک کیف و مستی چھائی ہے
مخمور ہوئے ہیں کچھ ایسے ہر چیز کی ہوش بُھلائی ہے
دل جان سے پیارا موبائل ہر آنکھ کا تارا موبائل
بِن اس کے بہار کا موسم بھی لگتا ہے خزاں سی چھائی ہے
نظروں سے اگر یہ اوَجھل ہو دل سب کا کتنا بَوجھل ہو
بے ربط دلوں کی دھڑکن نے تسکین اسی میں پائی ہے

0
16
سر زمینِ انبیاء پر آج تڑپا ہے بشر
جبر کی تسکین کو خوں میں نہایا ہے بشر
ظالموں نے چھین لی ہے سانس نومولود کی
موت کی ہچکی پہ اُس کی دیکھ لرزا ہے بشر
لاش بچوں کی جگر کو کر رہی ہے پاش پاش
چُپکے چُپکے خون کے آنسو بہاتا ہے بشر

0
15
وقت بدلے گا پھر آج کی رات کو
کاش بدلیں بھی ہم اپنی عادات کو
ایک پر آئے گی سوئی پھر دو بجے
کون ہے روک لے گھٹتے لمحات کو
سب کہیں ایک گھنٹا ہے زائِد ملِا
سوئی کے تم نہ سمجھے اشارات کو

0
17
ظالِموں کو چھوٹ ہے جو دل میں آئے سو کریں
کون روکے ظلم اِن کا اِن کی مرضی جو کریں
ظالِموں سے بن پڑے گر چھین لیں جینے کا حق
بد سے بدتر جو ستم ہے کھُل کہ ظالم وہ کریں
اُلٹی منطِق اِن کی دیکھو وَحشی دُشمن کو کہیں
خود مُہذّب بنتے ہیں گو قتل لاکھوں کو کریں

0
19
بھیڑیوں کو چھوٹ ہے جو دل میں آئے سو کریں
کون روکے جبر ان کا ان کی مرضی جو کریں
خون بہتا ہے مُسلمانوں کا بہنے دو اِسے؟
مُنصِفو انصاف کے ہی نام پر کُچھ تو کریں

0
17
ظالم کا ظلم ہم سے بھُلایا نہ جائے گا
قصہ یہ غم کا ہم سے سنایا نہ جائے گا
گرتے ہیں آج اہلِ فلسطیں پہ بم ہزار
یوں موت سے انھیں تو ڈرایا نہ جائے گا
کلمہ پڑھو او بھائی شہادت کا وقت ہے
بچوں کو ایسا جذبہ سکھایا نہ جائے گا

0
32
خون میں آج ڈوبا فلسطین ہے
کس قدر دل ہمارا یہ غمگین ہے
ظلم کی انتہا بے بہا بے بہا
کیسی اُمّت یہ لاچار و مِسکین ہے
ہاتھ میں باپ کے لاش بچے کی ہے
اور بھی کیا کوئی جرم سنگین ہے؟

0
17
دھوم ہے ہر طرف شور ہے اک مَچا
پھر مہم ہے چلی عزم ہے اک بڑا
کس قدر بہتریں دین کے واسطے
خرچ کرنے کا موقع ہمیں ہے ملا
جتنا بھی کر سکو اور زائد کرو
آخرت کا اَجَرْ لوٹ لو تم ذرا

0
16
یہ عرس پیرانِ پیر کا ہم، سدا مَناتے رہیں گے دل سے
نیاز غوثُ الورا کی ہم تو، سدا کھِلاتے رہیں گے دل سے
نَسَب بھی عالی ملِا ہے ان کو، یہاں ملے فیض اِنس و جن کو
قدم ہے گردن پہ اولیاء کی، وہ سر جُھکاتے رہیں گے دل سے
جِلائے مُردے تِرائی کشتی، رہی جو بارہ بَرَس سے ڈوبی
کرامتوں کا یہ تذکرہ ہر، گھڑی سُناتے رہیں گے دل سے

29
مناؤ میلاد تم خوشی سے، سدا یہ محفل سجائے رکھنا
دلوں میں اپنے چراغ عشقِ، نبی کا ہر دم جلائے رکھنا
مناؤ خوشیاں لُٹاؤ دولت، ملے تمہیں جب بھی فضل و رحمت
کلام رب کا ہے حکم دیتا، یہ حکم سینے لگائے رکھنا
بیان کرنا نبی کی مدحت، خدا کے سب انبیاء کی سُنّت
خدایا سُنّت پہ اپنے نبیوں، کی ہم کو ہر دم چلائے رکھنا

0
23
عقیدت سے جو ہم میلاد کی محفل سجاتے ہیں
مُنَوَّر دل کو کرتے ہیں سوئی قسمت جگاتے ہیں
سنیں ہم عشق و مستی میں رسولِ پاک کی نعتیں
اُنھی کا کھاتے ہیں ہم تو اُنھی کے گیت گاتے ہیں
تڑپتے ہیں بلکتے ہیں زیارت ہو مدینے کی
کرم جس پر وہ کرتے ہیں اسے در پر بُلاتے ہیں

0
23
عقیدت سے جو ہم میلاد کی محفل سجاتے ہیں
مُنَوَّر دل کو کرتے ہیں سوئی قسمت جگاتے ہیں
ہے فرمانِ خدا “فَليَفرَحُو” جب فضل و رحمت پاؤ
اِسی فرمان پر میلاد کی خوشیاں مناتے ہیں
بتائی ہر نبی نے شان آقا کی تھی اُمّت کو
یہ تھا میثاق کا وعدہ جو سارے ہی نبھاتے ہیں

0
35
نور کی دیکھ لو ہر سو برسات ہے
دل مرا کھِل اُٹھا ماہِ میلاد ہے
جھوم کر کیف و مستی میں سب نے کہا
آئے شاہِ ہُدیٰ ماہِ میلاد ہے
عید کا ہے سماں رونقیں ہر جہاں
فرش والے یہاں عرش والے وہاں

0
28
اداسی ہے چھائی دلوں پر ہمارے
ہمیں ہے مراکش مدد کو پکارے
ہوئی ہے شہادت ہزاروں کی اب تک
دبے کتنے ملبے میں ہیں بے سہارے
کریں غمزدوں کی مدد اس گھڑی جو
خدایا لگا اُن کی محنت کنارے

0
26
درس بیٹے نے دیا جوتے پَہَن کر باپ کے
رَہ چلوں گا میں وُہی جس پر قدم ہیں آپ کے

0
23
احسان تیرا ہم نہ بھولیں گے کبھی شاہد رضا
ہر آن خدمت دین کی تم نے جو کی شاہد رضا
تقریر تیری سے جَھلَکتی یاد تھی اسلاف کی
وہ تھی فصاحت اور بلاغت سے بھری شاہد رضا
گفتار میٹھی تھی تری کردار بھی عالی ترا
ہونٹوں پہ تیرے مسکراہٹ ہی رہی شاہد رضا

0
18
محفل ہے بہارِ مدینہ کی، برکھا انوارِ مدینہ کی
آجاؤ سبھی مِل کر لوٹیں، رحمت سرکارِ مدینہ کی
سرکار کی مدحت میں جھومیں، لب نامِ محمّد پر چومیں
اے کاش زیارت ہو جائے، مجھ کو دلدارِ مدینہ کی
عُشّاق ہزاروں آتے ہیں، عمرہ کا ٹکٹ بھی پاتے ہیں
معلوم کسے مل جائے پھر، چِٹھی دربارِ مدینہ کی

0
20
میں صدقے ترے جاؤں، اے دعوَتِ اسلامی
دیوانے ترے لاکھوں، اے دعوَتِ اسلامی
فتنوں کے زمانے میں، ایماں کو بچایا ہے
دامن کو ترے تھاموں، اے دعوَتِ اسلامی
ہے رب کا کرم تجھ پر، آقا کی عنایت بھی
گُن کیوں نہ ترے گاؤں، اے دعوَتِ اسلامی

0
57
مدنی مرکز تیری پاکیزہ فضاؤں کو سلام
ٹھنڈی ٹھنڈی روح پرور اِن ہواؤں کو سلام
مدنی گنبد اور اس کے ساتھ جو مینار ہے
اِن پہ ہیں سایہ فِگن جو اُن گھٹاؤں کو سلام
صَحنِ مسجد میں جہاں دل کو سُکوں ملتا رہا
شام کی اُس دلرُبا پُر کیف چھاؤں کو سلام

0
30
جذبات کے بہتے دھارے میں، تم ڈوب نہ جانا غفلت میں
جو کام بُرا انجام بُرا، نقصان کرو نہ حماقت میں
ہر جشن منانا تم لیکن، یہ بات لو میری سُن لیکن
شیطان کے حربے پہچانو، آ جاؤ خدا کی طاعت میں
تم بھول گئے اجداد کو کیوں؟ اپنایا ہے اغیار کو کیوں؟
سستے میں لہو کو بیچ دیا، وہ کم تو نہیں تھا حرمت میں

0
39
یا خدا دے شفا، کاملہ، عاجلہ
جلد مشکل ٹَلے، بحرِ شاہِ ہُدیٰ
باپ بیٹا اُٹھیں، گھر کی جانب چلیں
مسکراتے ہوئے، ہم کو دن وہ دِکھا
صبر و ہمت بھی دے، ان کو راحت بھی دے
سب گھرانے سے ہو، دور ہر اک بَلا

0
25
وہ جس کا حسیں ہے ہر اک ہی نظارا وہ میرا وطن ہے وہ میرا وطن ہے
دل و جان ہم نے ہے جس پر ہی وارا وہ میرا وطن ہے وہ میرا وطن ہے
فلک بوس کہسار برفانی بھی ہیں تو دریا کے بہتے ہوئے پانی بھی ہیں
ہے صحرا نے جس کو عجب سا نکھارا وہ میرا وطن ہے وہ میرا وطن ہے
کہیں آب شاروں کے دلکش مناظرکہیں چہچہاتے فلک پر وہ طائر
سُروں میں گھِرا جس کا ہراک کناراوہ میرا وطن ہے وہ میرا وطن ہے

0
39
یہ ساقی جامِ سُنّت کے
یہ ہادی راہِ شریعت کے
یہ کامِل پیر طریقت کے
یہ محرم راز حقیقت کے
یاں رازِ حقیقت کُھلتا ہے
عطار کا سکہ چلتا ہے

0
22
ہمیں مِلا ہے وہ پیر ایسا مقام جس کا بڑا ہے اعلی
نہیں ہے کوئی بھی اِن کے جیسا مُرید اِن کا نصیب والا
سُنَن کی خوشبو لُٹا رہے ہیں ادب نبی کا سِکھا رہے ہیں
بھٹک گئے تھے جو راہ سیدھی بدی میں ڈوبوں کو ہے نکالا
عمل ہے ان کا مِثال اپنی نہ اِستِقامت میں کوئی ثانی
خُلوص کے بھی یہ خوب پیکر رِیا سے کوئی نہیں ہے پالا

0
25
کاش ہوتا وہ مبارک دور آقا آپ کا
ہم بھی ہوتے اور ہوتا وہ مدینہ آپ کا
چوم کر ہم بھی سَجاتے اپنی پلکوں میں اُنھیں
خاص ذرّے وہ جنہوں نے تلوا چوما آپ کا
بیٹھ جاتے رَہ گُزَر میں یوں بِچھا کر دل کو ہم
جان میں پھر جان آتی تکتے چہرہ آپ کا

0
31
شہرِ مرشد کی ہے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا
ابر چھایا ہوا ہے سَماں دلرُبا
کالی بدلی میں اڑتے ہوئے طائِران
شکر میں رب کے ہیں آج نغمہ سَرا
بوندا باندی کبھی تیز بارش کبھی
اک عجب اس میں ہے بھیگنے کا مزہ

0
40
بدی سے دامن کو ہے بچانا، بچا کے رکھنا کمال یہ ہے
حیا سے اپنی نظر جُھکانا، جُھکا کے رکھنا کمال یہ ہے
جہاں پہ فیشن رچا بسا ہو، دلوں میں شیطان بھی گُھسا ہو
لباسِ سنت وہاں سجانا، سجا کے رکھنا کمال یہ ہے
عمل میں اخلاص گر ہو شامل، ملاؤ تقوی بنے یہ کامل
ریا کی خواہش کو پھر دبانا، دبا کے رکھنا کمال یہ ہے

0
303
ہر ایک زباں یہ کہتی ہے ماضی کا دور سُہانا تھا
ماضی تھا حال کبھی یارو ہر حال میں لُطف اُٹھانا تھا
آئیں گے دن اچھے کل کو ہے آس ہماری مُدَّت سے
ہے آج کا دن سب سے اچھا اس راز کو ہی سمجھانا تھا
ڈوبے ہیں منفی سوچوں میں ہم مفلس بن کر جیتے ہیں
انبار لگا ہے نعمت کا نا شکری کا ساز بجانا تھا

0
28
عطار تو میرے مُرشِد ہیں فیض ان کا جگ میں بٹتا ہے
جب دید کریں ان کی ہم تو پھر چین دلوں کو ملتا ہے
یہ ہادی راہِ شریعت کے یہ کامِل پیر طریقت کے
یہ محرم راز حقیقت کے یاں رازِ حقیقت کُھلتا ہے
اَخلاق مِثالی ہے ان کا پیغام غزالی ہے ان کا
اورعشق بِلالی ہے ان کا اک جامِ مَحبَّت مِلتا ہے

0
52
جان تم پر فدا میرے احمد رضا
میرے احمد رضا میرے احمد رضا
ہند میں اہلِ حق کے ہو تم پیشوا
جان تم پر فدا میرے احمد رضا
شکر ہر دم کروں میں تو اس بات کا
تم ہو رب کی عطا میرے احمد رضا

0
34
خوش نصیبی ہے ہماری مِلے احمد رَضا خاں
تم نے پختہ ہیں عقائد کِئے احمد رَضا خاں
تیری قسمت پہ فِدا ہم اے بریلی کی زمیں
جلوہ افروز تمھی پر ہوئے احمد رضا خاں
شک نہیں کوئی تمھیں علمِ لدُنّی ہے مِلا
کس طرح کوئی ترا رد کرے احمد رضا خاں

0
32
مدنی چینل کی برکت سے فیضانِ مدینہ بٹتا ہے
اور مسلَکِ اعلیٰ حضرت کا کس شان سے ڈنکا بجتا ہے
ہے حَمدِ خُدا کی کثرت بھی اور عشقِ نبی کی لذّت بھی
قرآں کی تلاوت ہوتی ہے اور نعت کا حلقہ سجتا ہے
ہے آلِ نبی سے الفت بھی اصحاب کی دل میں محبت بھی
ولیوں سے عقیدت بڑھتی ہے باطِن بھی ہمارا دُھلتا ہے

0
42
خیر خواہِ اہلِ سُنّت آپ کی کیا بات ہے
ہے خدا کی خاص رحمت آپ کی کیا بات ہے
ہے سعادت کتنی میری آپ کا شاگرد ہوں
دور ہو گی اب جہالت آپ کی کیا بات ہے
فی سبیلِ اللّہ پڑھتے آن لائن ہیں سبھی
جس کو جیسے ہو سُہُولت آپ کی کیا بات ہے

0
33
ہم آٹھوں دینی کام کریں عِصیاں کی روک و تھام کریں
فیشن کے اِس طوفان میں ہم پھر شرم و حیا کو عام کریں
ہر ایک بَہَن سے مل کر ہم دیں اُس کو دعوت نیکی کی
بیدار عمل کا جذبہ ہو رب سے حاصل اِنعام کریں
چُھوٹے نہ ہمارا درس کبھی گھر میں ہو محفل روز سجی
پھر چُن کر موتی حکمت کے ہم خوب محبت عام کریں

0
50
ہر دن صبح و شام کریں گے بارہ دینی کام کریں گے
دعوَتِ اسلامی کی برکت گھر گھر سُنّت عام کریں گے
سب سے پہلے فجر میں جاگو رحمَتِ رب کو یوں تم پالو
سوتا کوئی بھی رہ نہ جائے اس کا ہم اقدام کریں گے
خوفِ اِلٰہی دل میں بٹھا کر قرآں کی تفسیر سُنا کر
وقتِ مُناسب پر روزانہ رب کے بُلند اَحکام کریں گے

0
55
اے دعوتِ اسلامی تیرا کس شان سے ڈنکا بجتا ہے
مسلک کی خدمت کیا کہنے اعزاز کا سہرا سجتا ہے
لہرا کر اہلِ سُنّت کا یہ پرچم کونے کونے میں
اک دھاک بٹھائی غیروں پر شیطاں کا کلیجہ جلتا ہے
سُنّت کی بہاروں کا موسم اور عشقِ نبی کا بھی سنگم
فیضان مدینے کا ہر دم محفل میں تِری تو بٹتا ہے

0
39
زُہد و تقویٰ کے ہیں پیکر جانشیں عطار کے
عاصیوں کے یہ ہیں یاور جانشیں عطار کے
مرشِدی کی تربیت کا آپ اِک شہکار ہیں
یوں بنے ہیں اپنے رَہبر جانشیں عطار کے
عاجزی میں انکساری میں تو یہ مشہور ہیں
ہیں ملنساری کے جوہر جانشیں عطار کے

0
24
عجب ہی گُل یہ کھِلا رہا ہے دلوں پہ خنجر چلا رہا ہے
بدل ہی دو تم ِنظامِ فطرت صدا یہ لِبرل لگا رہا ہے
کرو اَدب تم بُرائی کا بھی کہاں کی منِطق بتائے گا بھی
حرام کو تم حلال جانو عذاب رب کا بُھلا رہا ہے
طَبَل بغاوت کا ہے بجایا غضب خدا کا قریب آیا
کہو لواطت ہے حق تمھارا یہ حق کہاں سے ِجتا رہا ہے

0
30
بُلاوا کاش آ جائے تمھارا یا رسولَ اللّہ
مِری قسمت کا چمکے پھر سِتارہ یا رسولَ اللّہ
مدینے کے حَرم پر جان و دل میرا فِدا ہر دم
خدا نے اِس کو کیسا ہے نِکھارا یا رسولَ اللّہ
مدینے کے دَرو دیوار چوموں اپنی پلکوں سے
کروں کیسے میں اس کا کوئی چارہ یا رسولَ اللہ

0
40
ہے یاد تمھیں کس شان سے ہم بچپن میں عید مناتے تھے
جب عید کا چاند نظر آتا ہم ہلچل خوب مچاتے تھے
پھر رات میں نیند نہ آتی تھی نانی بھی کہانی سناتی تھی
آنکھوں میں سجائے سپنے ہم آغوش میں نیند کی جاتے تھے
دن عید کا کتنا سہانا تھا اچھا وہ وقت پرانا تھا
وہ اُبلی سِوَیّاں اور شکر ہم شوق سے کیسے کھاتے تھے

0
44
سب کا وہ سلطان ہے
کلام: ڈاکٹر زیرک نسیم عطاری
سب کا وہ سلطان ہے اللہ ہو اللہ
کس قَدر رحمان ہے اللہ ہو اللہ
اُس پہ جاں قربان ہے اللہ ہو اللہ
نعمتیں ہم کھاتے ہیں اللہ ہو اللہ

0
87
شادی کا اشتہار برائے لڑکا
کلام: ڈاکٹر زیرک نسیم عطاری
تڑپ کر پکارے ہے دل یہ ہمارا
ہمیں بھی ملے زندگی کا سہارا
میں مدّت سے اِس آس پر جی رہا ہوں
کسی دن تو چمکے مِرا بھی ستارا

0
41
یہ رشتہ میاں بیوی کا تو سنتے ہیں فلک پر بنتا ہے
ایماں کی حَلاوت مِلتی ہے سُنّت پہ عمل جو کرتا ہے
خاوِند ہو حامِل تقویٰ کا اور پاک ہو دامَن زوجہ کا
اَحکامِ شریعت پر چل کر ہر لمحہ موتی بنتا ہے
پھر پڑتی نظر جب اُن پر ہے مُسکان لبوں پر سجتی ہے
الفاظ رسیلے جھڑتے ہیں راحت کا دریا بہتا ہے

0
72
جو حق کی رَہ پر چلتے ہیں کانٹوں کو بچھایا جاتا ہے
ہر ایک قدم پر ان کو تو پھر خوب ستایا جاتا ہے
ظاہر کی سجاوٹ مت دیکھو باطن میں عداوت کتنی ہے
اک جام محبّت کا دے کر یوں زہر پلایا جاتا ہے
کرتے ہیں نیکی جس سے ہم چلتا ہے چالیں وہ ہر دم
دل پر میرے اک کوہِ سِتم چُپکے سے گرایا جاتا ہے

0
48
تلخ ہے یہ حقیقت فسانہ نہیں
ان دکھوں نے کبھی یار جانا نہیں
آج اک ہے تو کل پھر کوئی دوسرا
شکوہ اس کا مگر لب پہ لانا نہیں
فلسفہ امتحاں کا یہ دشوار ہے
ہر کسی کی سمجھ میں یہ آنا نہیں

50
امتحاں میں مبتلا تیری یہ خلقت آج ہے
یا خدا غم میں پریشاں ساری امت آج ہے
آہ بے کس بے سہارا شام و ترکی کس قدر
زلزلہ سے ان پہ ٹوٹی اک قیامت آج ہے
جو شہادت پا گئے ہیں ان کو جنت کر عطا
سوگواروں کی تڑپ میں کتنی رِقّت آج ہے

0
51
کاش ہوتا وہ مبارک دور آقا آپ کا
ہم بھی ہوتے اور ہوتا وہ مدینہ آپ کا
چوم کر ہم بھی سَجاتے اپنی پلکوں میں اُنھیں
خاص ذرّے وہ جنہوں نے تلوہ چوما آپ کا
بیٹھ جاتے رَہ گُزَر میں یوں بِچھا کر دل کو ہم
جان میں پھر جان آتی تکتے چہرہ آپ کا

0
33
مرحبا جان و دل خوب مسرور ہے
چھا گیا ہر سو رمضان کا نور ہے
خلد بھی سج گئی ہر طرف ہے خوشی
کیف و مستی میں ہر کوئی مخمور ہے
رونقیں مسجدوں کی ذرا دیکھ لو
ان میں پھیلا ہوا نور ہی نور ہے

0
27
آ گیا ہے نیا سال پھر یا خدا
جشن کا ہے سماں شور ہے اک مچا
چشم میری ہے نم کھائے جاتا ہے غم
گزرے غفلت میں دن شرم سے سر جھُکا
جُرم جو بھی ہوئے مجھ سے پچھلے برَس
ہے ندامت مجھے تو نہ دینا سزا

0
57
اداؤں پہ جامی کی قربان جاؤں
اسے دیکھ کر میں سدا مسکراؤں
محبت ہے کتنی میں کیسے بتاؤں
چلے بس جگر چاک کرکے دکھاؤں
کھِلا کر پِلا کر اسے جب سُلاؤں
سُلانے کی خاطر میں لوری سناؤں

0
62
ہمیں مِلا ہے وہ پیر ایسا مقام جس کا بڑا ہے اعلی
نہیں ہے کوئی بھی اِن کے جیسا مُرید اِن کا نصیب والا
سُنَن کی خوشبو لُٹا رہے ہیں ادب نبی کا سِکھا رہے ہیں
بھٹک گئے تھے جو راہ سیدھی بدی میں ڈوبوں کو ہے نکالا
عمل ہے ان کا مِثال اپنی نہ اِستِقامت میں کوئی ثانی
خُلوص کے بھی یہ خوب پیکر رِیا سے کوئی نہیں ہے پالا

0
148
خدا کی امانت ہیں بچے ہمارے
سلامت رہیں اس چمن کے ستارے
ادائیں نرالی وہ شیریں مقالی
سدا ہوں میسر یہ دلکش نظارے
شرارت سے انکی ملے دل کو راحت
اُداسی ہو جیسی خوشی میں سِدھارے

0
43
ہمیں اک بار پھر آقا بُلا لو نا مدینے میں
کرم گر آپ فرمائیں وہ روزوں کے مہینے میں
گدا در پر جو آ جائے عنایت یہ بڑی ہوگی
سلیقہ تو نہیں کوئی گدائی کے قرینے میں
سفر یوں تو ہوئے کتنے درِ مُر شِد کی چوکھٹ کے
سواری کاش سب کی ہو مدینے کے سفینے میں

0
73
سہانا ہے کتنا ہمارا یہ گاؤں
چلو سیر اس کی میں سب کو کراؤں
فضا مہکی مہکی ہوا بھی معطر
درختوں کے جھرمٹ وہ شیشم کی چھاؤں
پرندوں کی بولی سویرے سویرے
سریلی رسیلی سُکوں خوب پاؤں

0
42