رنگ لائی ہے محنت تمھاری خُرم
بڑھ گئی اس سے عزت ہماری خُرم
دِل میں پھوٹے ہیں لڈو سُنی جب خبر
کھا لو لڈو مِلے گی ہمیں کب خبر
خدمَتِ خلق میں تمغَۂِ امتیاز
تُم کو دو جگ میں مولا کرے سرفراز
دین و دُنیا کا تُم میں حَسِین امتزاج
رُخ پہ داڑھی عمامے کا سر پر ہے تاج
نرم لہجہ ترا، مُسکراہٹ تری
حُسنِ اخلاق میں ہے سجاوٹ تری
تیری تو خاص نسبت ہے عطار سے
ہاں بچائے گی تُم کو یہ اشرار سے
طَے کرو تُم ترقی کی سب منزلیں
ہر قدم پر مِلیں خوب ہی برکتیں
لایا زیرکؔ ہے بس تحفہ اشعار کا
کاش بن جائےسگ یہ بھی عطار کا

0
4