دور بچپن کا سُہانا، یاد آتا ہے ہمیں
مار کھا کر بھول جانا، یاد آتا ہے ہمیں
مشغلہ تھا کھیل اپنا، کھیل سے تھکتے نہ تھے
خاک گلیوں کی اُڑانا، یاد آتا ہے ہمیں
کھوئے رہتے حال میں ہم، کَل کی کِس کو تھی تلاش
اب وہ ماضی کا زمانہ، یاد آتا ہے ہمیں
ڈھونڈ لیتے تھے خُوشی ہم، ہر قدم پر کس طرح
ہر قدم پر مُسکُرانا، یاد آتا ہے ہمیں
جِھلمِلاتے، ٹِمٹِماتے، خُوب اندھیری رات میں
دیپ جُگنو کا جلانا، یاد آتا ہے ہمیں
کیا مُعطّر تھے وہ لمحے، رنگ اُن میں قوس کے
پُھول سے تِتلی اُڑانا، یاد آتا ہے ہمیں
چوٹ لگتی جب ہمیں، سینے لگاتی ہم کو ماں
ماں کا وہ سینے لگانا، یاد آتا ہے ہمیں
چل چلیں بچپن میں زیرکؔ، بُھول جائیں غم سبھی
گود میں ماں کا سُلانا، یاد آتا ہے ہمیں

0
3