کبھی شُمال تو کبھی جُنوب جا رہا ہے یہ
ہاں شرق و غرب میں بھی برکتیں لُٹا رہا ہے یہ
نیا ہے کامران بھی، ہے جذبہ بھی جَوان بھی
لہو بھی گرم اور ضربِ خم لگا رہا ہے یہ
خدا کی راہ میں چلیں، ابھی چلیں سبھی چلیں
سُنو ترانہ قافلے کا گُنگُنا رہا ہے یہ
زباں میں ایسا ہو اثر، کرے دِلوں کو نرم تر
قُبول کر لیں جام جو، ہمیں پِلا رہا ہے یہ
جو سُستِیاں ہیں دُور ہُوں، رُکاوٹیں عُبُور ہُوں
ہو زیر نفس کس طرح، وہ گُر سِکھا رہا ہے یہ
دو ساتھ زیرکؔ اِس کا تُم، اُٹھا قلم بڑھا قدم
رِضائے رب تمھیں مِلے، جِدھر بُلا رہا ہے یہ

0
5