پندرہ سوواں یہ میلادِ شہہ ابرار ہے
عید دیوانوں کی جشنِ آمدِ سرکار ہے
پندرہ سوویں ہے آئی عیدِ میلادُالنبی
جھومو سب اسلامی بھائی عیدِ میلادُالنبی
رب کی رحمت لے کہ آئی عیدِ میلادُالنبی
خوب خوشیاں ساتھ لائی عیدِ میلادُالنبی
نور کی شمع ہے روشن نور کی چادر تنی
روشنی ہر سمت چھائی عیدِ میلادُالنبی
چھٹ گئے ظلمت کے بادل چار سُو ہے روشنی
نور کی خیرات لائی عیدِ میلادُالنبی
گُل مَہَک اُٹھے چلی بادِ بہاری واہ واہ
ہر کلی ہے مسکُرائی عیدِ میلادُالنبی
غم گئے خوشیوں میں ڈَھل اور دُکھ گئے سُکھ سے بَدَل
دِل کی دُنیا جگمگائی عیدِ میلادُالنبی
تیرے ہاتھوں سے پِئے سرکار وہ کوثر کا جام
جِس کِسی نے بھی منائی عیدِ میلادُالنبی
تُو خوشی سے جُھوم کر عطار پڑھ اُن پر دُرُود
خُود خُوشی بھی مُسکُرائی عیدِ میلادُالنبی

0
17