کاش ہوتا وہ مبارک دور آقا آپ کا
ہم بھی ہوتے اور ہوتا وہ مدینہ آپ کا
چوم کر ہم بھی سَجاتے اپنی پلکوں میں اُنھیں
خاص ذرّے وہ جنہوں نے تلوہ چوما آپ کا
بیٹھ جاتے رَہ گُزَر میں یوں بِچھا کر دل کو ہم
جان میں پھر جان آتی تکتے چہرہ آپ کا
دید کرتے خوب ہم بھی آپ کے اصحاب کی
اُن میں ہر اک ہے ہِدایت کا سِتارا آپ کا
وہ سماں پُر کیف بھی ہم دیکھ لیتے جھوم کر
اُنگلیوں سے آب جاری معجزہ تھا آپ کا
نعمتیں کونین کی تقسیم جب ہوتیں وہاں
خوب میں بھی سیر ہو کر فیض پاتا آپ کا
چین آ جاتا مجھے اور لُطف پاتی زندگی
جاں نچھاور کرتا زیرک ادنیٰ بندہ آپ کا

0
41