نور کی دیکھ لو ہر سو برسات ہے
دل مرا کھِل اُٹھا ماہِ میلاد ہے
جھوم کر کیف و مستی میں سب نے کہا
آئے شاہِ ہُدیٰ ماہِ میلاد ہے
عید کا ہے سماں رونقیں ہر جہاں
فرش والے یہاں عرش والے وہاں
ہر گھڑی ہر سماں اُن کے وردِ زباں
مرحبا مرحبا ماہِ میلاد ہے
شان میں جن کے ہے بزم ساری سجی
بعد جن کے نہیں آخِری وہ نبی
ہے رِضا میں انھی کی خدا کی خوشی
جان اُن پر فدا ماہِ میلاد ہے
ہم کو ایمان بھی اُن کے صدقے ملا
اور قرآن بھی اُن کے صدقے ملا
خود وہ رحمان بھی اُن کے صدقے ملا
خوب اُن کی عطا ماہِ میلاد ہے
جشن میلاد کا تو ادب سے منا
گھر میں جھنڈے لگا ہر گلی کو سجا
کُھل کہ لنگر کِھلا شُکر کر تو ادا
رحمَتِ رب کو پا ماہِ میلاد ہے
سب گناہوں سے زیرکؔ کنارہ کرو
نفس و شیطان سے ہر گھڑی ہی لڑو
عشق میں تم نبی کے جئو اور مرو
پاؤ پھر تم جزا ماہِ میلاد ہے

0
32