تُف ہے ایسے عملے پر جو، اپنا فرض نبھا نہ سکے
جلتی آگ پہ قطرہ پانی، کا جو ایک بہا نہ سکے
جان بچائی ایک بھی جس نے، اُس نے سب کو بچایا ہے
ہاتھ سے اپنے کِتنوں کی ہم، ہائے جان بچا نہ سکے
جتنوں نے برتی ہے غفلت، اُن کو نصیحت جلد مِلے
اُس انسان سے کُتے بہتر، عہدِ وفا جو نبھا نہ سکے
ہو تدبیر مُقدّم ہر دم، دِین سے ہم کو درس مِلا
پھر بھی نجانے ہاتھ سے اپنے، ہم تقدیر مِٹا نہ سکے؟
شرم نہ آئے تُم کو زیرکؔ، کیسے زباں کو چلاتے ہو
نفس کو اپنے راہِ شریعت، پر بتلا کیوں چلا نہ سکے؟

0
5