کون سُنے گا اِس کا دُکھڑا، کس کو درد بتائے اِمام
کِس کے کاندھوں پر سر رکھ کر، غم کے نِیر بہائے اِمام
دیکھ کہ زینت بیتِ خَلا کی، داد سبھی نے کُھل کر دی
دیکھ کہ اپنے مکان کی حالت، کِس کو داد سُنائے اِمام
کوئی تو ہو جو حِساب لگائے، اور جگائے مُردہ ضمیر
تیس ہزار میں سارے گھر کا، کیسے خرچ چلائے اِمام
کھول کہ مسِجد کرنی صفائی، وقت پہ دینی اِس نے اذان
دیر اگر ہو شاذ و نادِر، روز ہی طعنے کھائے اِمام
تُم نہ تقاضا کوئی بھی کرنا، ورنہ تُم کو دیں گے نِکال
ایسے حال میں رب کے علاوہ، کِس کے در پر جائے اِمام
کیسا ہے یہ دورِ جہالت، کون غُلام اور کون اِمام
قلب ہمارے مُردہ اتنے، کیسے اِن کو جِلائے اِمام
دین کی عظمت دِل میں نہیں ہے، آج ہیں مُسلم جگ میں ذلیل
قدر اِمام کی کر لو زیرکؔ، تُم کو زمانہ بنائے اِمام

0
1