اس سال کی نسبت پیاری ہے، نسبت پہ فدا عطاری ہے
عطار کا دامن ہم کو مِلا، احسان یہ ذاتِ باری ہے
کیا علم کے دیپ جلائے ہیں، اندھے شیشے چمکائے ہیں
اخلاص و عمل کا جذبہ دِیا، فیض اِن کا جگ میں جاری ہے
پھر خوفِ خُدا اور عشقِ نبی، کی مَے بھی کیسی خوب بٹی؟
اک کیف و مستی کا عالم، دیوانوں پر ہاں طاری ہے
عُشّاق کا خُوب قرینہ ہے، ہر لب پہ مدینہ مدینہ ہے
دل میں بھی تڑپ اور آنکھوں میں، جَنّت کی بسی وہ کیاری ہے
ہم اہلِ محبّت ہیں ہم پر، تُم اہلِ خِرد کیوں طعن کرو؟
یہ عقل ترازُو کیا تولے؟ جو عشق سے ہی انکاری ہے
کب مادی بندھن توڑو گے؟ کب رب سے رشتہ جوڑو گے؟
کب حال ہمارا بدلے گا؟ دُنیا تو کھیل مداری ہے
عصیاں سے بچنا کٹَھن زیرکؔ، ہر آن ہزار جتَن زیرکؔ
نیکی تو جِہدِ مُسلسل ہے، اور نفس پہ کتنی بھاری ہے

0
7