دُنیا بھر میں دُھوم مچائیں، پندرہ سوواں جشنِ وِلادت
خوب جلے شیطاں کا کلیجہ، دِل عُشّاق کے پائیں راحت
جھنڈے لگاؤ گھر کو سجاؤ، گیت خوشی کے سارے گاؤ
فضلِ خُدا وہ بن کر آئے، کُھل کہ لُٹاؤ مال و دولت
گھر میں سجے میلاد کی محفِل، دور ہو اپنی ہر اک مُشکِل
مرد جواں اور بچے بوڑھے، سارے کریں سرکار کی مدحت
کار جُلُوس نکالیں گے ہم، پیدل دُھوم بھی ڈالیں گے ہم
موٹر بائِک، سائیکل، کشتی، پَورَب، پَچھّم، دَکھّن، پربت
عشقِ نبی پہچان ہماری، اُن پہ ہے قُرباں جان ہماری
پندرہ صدیاں بیت چُکی ہیں، بڑھتی جائے اُن کی محبّت
رحمَتِ عالَم بن کر آئے، پاک کلام خدا کا لائے
نُور سے اُن کے چمکا عالَم، دور ہوئی پھر ساری ظُلمت
آپ ہی اَوّل، آپ ہی آخر، آپ ہیں باطِن، آپ ہیں ظاہر
آپ کے بعد نبی نہ کوئی، ختمِ نُبُوّت ختمِ رِسالت
اُن کے سِوا ہے کون ہمارا؟ اُن کے سِوا ہے کون سہارا؟
ساقِئِ کوثر،، شافِعِ محشر، قاسِمِ نعمت، مالِکِ جنت
بجتا ہے اسلام کا ڈنکا، نامِ مُحمّد گونج رہا ہے
گلی گلی ہر کوچے میں، خوب سجا ہے باغِ سُنّت
سب سے آخر میں جو آئے، سب سے پہلے خلد میں جائے
جس کو فضیلت رب نی دی ہے، آپ کی اُمّت آپ کی اُمّت
عیب ہمارے رب نے چُھپائے، بہتر اُمت ہم کہلائے
صدقہ ہے محبوبِ خُدا کا، ہم کو مِلی ہے ایسی عظمت
آؤ کریں عصیاں سے کِنارہ، ظاہر باطِن پاک ہو سارا
مان لیں ہر فرمانِ اِلٰہی، کاش کریں ہم ایسی اِطاعت
سِیرَتِ آقا ہم اپنائیں، رب کی رِضا کو یُوں ہم پائیں
سر پہ عَمامہ رُخ پہ داڑھی، آنکھ میں سُرمہ اپنی زینت
مُرشِد میرے ہیں عطار، عِطرِ سُنّت کی مہکار
خوب سجایا گُلشن دیکھو، ہر سُو چھائی اہلِ سُنّت
خالی ہاتھ ہے زیرکؔ آقا، کر دو عطا میلاد کا صدقہ
اور نہیں ہے خواہش کوئی، بھیک میں دے دو اپنی شفاعت

0
3