ہے خاص کرم رب کا، عطار مِلے ہم کو
اس دور کے ولیوں کے، سردار مِلے ہم کو
جب اُن کی نگاہوں کی، تاثیر مِلی دِل کو
تاریک جو دِل تھے وہ، ضوبار مِلے ہم کو
دُنیا کے تھے شیدائی، دُنیا پہ ہی مرتے تھے
وہ غم میں مدینے کے، سرشار مِلے ہم کو
عِصیاں کی دَلدَل میں، جو ڈوبے ہی رہتے تھے
عصیاں کی نحوست سے، بیزار مِلے ہم کو
بدنامِ زمانہ تھے، کوئی مُنہ نہ لگاتا تھا
ایسے بھی یہاں عالی، کردار مِلے ہم کو
گانوں کے جو رسیا تھے، شوقین بھی فلموں کے
مدحت میں وہ گُم شاہِ، ابرار مِلے ہم کو
زیرکؔ تُو مُرید اُن کا، یہ تیری سعادت ہے
عطار کے صدقے ہی، سرکار مِلے ہم کو

0
3