Circle Image

مہر مبشّر بزمی

@Bazmi

مرے ہیں قاتل یہ تیرے تیور۔نظر کے بھالے سخن کے نشتر

دو بار پتھروں سے ہے واسطہ پڑا
ٹھوکر لگی تھی تب اور اب جانتے ہیں آپ

0
9
جنابِ صدر الجھن ہے عجب دھندلا سا ہے منظر
وہاں پر لوگ بیٹھے ہیں یا رکھے ہیں وہاں پتھر
سمجھ آئے تو دے دینا وگرنہ پاس رہنے دیں
جنابِ من ہے کیسی داد جو لینی ہے کہہ کہہ کر

0
15
نہیں ہے کوئی پیمانہ یہاں احساس کا دلبر
محبّت ہو کہ نفرت ہو یہ اس جھنجھٹ سے بالا تر
یہ کیا دیوانگی ہے تم مرے جذبات ناپو گے
وہ بھی چوڑی کے ٹکڑوں سے یا بازو اپنے پھیلا کر
کہاں حاصل ہے فوقیّت کسی کو ما سوا تقوی
خدا کے ہاں برابر ہیں، کوئی برتر نہ ہی کم تر

0
25
لے آۓ ہو جب توڑ کے گل کیا بولوں
ہاں اتنا کہوں گا نہیں ایسا کرتے
اظہار محبت ہے ضروری مانا
یر پھول نہیں شاخ سے توڑا کرتے
معلوم کیا کرتے ہیں پہلے اس کا
جس سمت سفر کا ہیں ارادہ کرتے

0
20
جب بھی ہو میری تمہیں خاص طلب آ جانا
کبھی بچوں کو ملانے کے سبب آ جانا
یہ جو ہم کو ہے پڑا کام چلو رہنے دو
ہاں ا گر میری ضرورت پڑے تب آ جانا
رو پڑا سن کے میں حالات ترے لوگوں سے
اب کے میں آپ سے کہتا ہوں کہ اب آ جانا

0
45
پوچھتے روز ہی ہو ہم سے یہی آ جائیں
ہم بھی ہر بار یہی کہتے ہیں جی آ جائیں
پہلے دیکھا ہے تماشا مرا یاں لوگوں نے
آپ بھی دیکھ لیں میری بے بسی آ جائیں
بات آپس کی ہے آپس میں ہیں طے کر لیتے
ہم میں ہے کون غلط کون سہی آ جائیں

0
28
لبادہ ہے کہ بدن اسے اتار نہ دوں
عجیب سی ہے گھٹن اسے اتار نہ دوں
پھروں کہاں کہاں لے کے میں وجود بھلا
یہ راستہ ہے کٹھن اسے اتار نہ دوں

0
15
گر تو محبت یہاں اک جرم ہے تو
ہاں ہوا ہے مجھ سے گنہگار ہوں میں
میں نہیں کہتا کہ رعایت دو مجھے
اب جو سزا ہے دو لو تیار ہوں میں

0
14
موسمِ رنگ و بو آئے
رو برو جب بھی تو آئے
کون ہے تجھ سا مری جاں
اور جتنے خوب رو آئے
میکدے میں تیرے ساقی
ایک ہم ہی با وضو آئے

0
15
بھلا میں کوسوں کسی کو کیوں کر، ستم زدہ بھی, میں خود ستم گر
کسی کا میں نے ہے کیا بگاڑا، تو کیوں کرے کو ئی ظلم مجھ پر
ضرر ہی کیا ہے کہو تو اس میں، پھروں میں یونہی جو در بدر گر
رکھوں کسی سے میں کیوں عداوت، مرا عدو ہے مرا مقدّر
مجھے سمجھتے ہو تم بھی پاگل، جو دیکھتے ہو یوں ہو کے ششدر
کبھی بدلتا ہے وقت تیور تو چھوڑ جاتے ہیں لوگ اکثر

0
17
مری تو جان بھی حاضر نچھاور مال و زر اس پر
اسے گر ہو ضرورت تو میں بیچوں گھر اسے دے دوں
میں اس کی زلف کا قیدی ہوں اس کے حکم کے تابع
اشارہ تو کرے وہ اک، اتاروں سر اسے دے دوں

0
10
تو یاد رکھے کہ بھول جائے ہے تیری مرضی
مری طرف سے ختم نہ ہو گی کبھی محبت
بلا تکلف تجھے اجازت ہے ہر ستم کی
سوائے تیرے کوئی کرے کیوں ہے کس کی جرات

0
9
واں بزمِ یاراں عروج پر تھی سبھی ستارے تھے اک قمر بس
گھمائی میں نے چہار جانب رکی انہی پر مری نظر بس
وہ ایک لمحہ کہ جس میں اس نے نظر سے میری نظر ملائی
ہوا مبشر یوں سکتہ طاری کہ رات ساری گئی گزر بس

0
17
نظروں سے جو کل گزری ہے تحریر کسی کی
گھومے ہے مری آنکھ میں تصویر کسی کی
وا کر گئی ہے مجھ پہ وہ ماضی کے دریچے
شانوں پہ گری زلفِ گرہ گیر کسی کی
احباب سے بھی ملتا ہوں میں عید، ٹھہر کر
مجھ سے ہے ابھی یاد بغلگیر کسی کی

0
26
بنے ہیں قاتل تمہارے تیور
نظر کے بھالے سخن کے نشتر
سقوط دل ہے ترا تبسم
گرا دے پل میں ہزار لشکر
تمہاری پلکوں کی ایک جنبش
کرے ہزاروں ہی لوگ پاگل

0
31
خوشی کی گھڑی ہے
عجب اک سماں ہے
کوئی بچہ بوڑھا کہ کوئی جواں ہے
ہر اک ہی یہاں ہے
خوشی ان کے چہروں سے جیسے عیاں ہے
فلک پر لگی ہیں سبھی کی نگاہیں

54
میرے تو کسی کام نہیں آئی مبشر
تدبیر، بدل دیتی ہے تقدیر سنا ہے

0
62
میری تو آرزوئے شہادت نہ جائے گی
گر جان میں ہے جان یہ حسرت نہ جائے گی
دشمن اگرچہ کر بھی دے چھلنی وجود کو
دل سے مرے، وطن کی محبت نہ جائے گی

0
2
73
کرو تدبیر تدبیروں سے بگڑے کام بنتے ہیں
چلی جاتی ہے بلی کیا یوں آنکھیں موند لینے سے
زمیں میں بیجنے پر ہی ہے بڑھتا رزق سوچو تو
خسارہ تو نہیں ہوتا یوں راہِ حق میں دینے سے

0
2
20
تمہیں اجازت ہے ہر ستم کی
سوا تمہارے ہے کس کی جرات
کبھی تو چھوڑے گی جان میری
یہ میری الجھن یہ میری وحشت

0
58
بے خوابی کی علامت ہے مری آنکھوں کی لالی
تری رنگینی کا مظہر تری آنکھوں کا سرمہ

0
64
بچپن کے دن تھے اور ہم رہتے جدا نہ تھے
کچھ درد تھے مگر وہ تب لا دوا نہ تھے
کیوں جان لے رہی ہے یہ تشنگی مری
وہ پاس تھا تو جذبوں سے آشنا نہ تھے

0
66
بہت عرصہ جسے رکھا ہے سینے سے لگا کر
بڑی تسکین ملی ہو گی وہ تصویر جلا کر

0
56
سرورِ انبیا احمدِ مجتبٰی شانِ صلِّ علٰی اے حبیبِ خدا
روزِ محشر بھلا کون ہے آسرا اس خطا کار کا ایک تیرے سوا
جان و دل، مال و زر ،اقربا آپ پر پاس میرے ہے جو سب نچھاور کروں
آپ کا قرب ہی جب میسّر نہ ہو تو مرا مال و زر میرے کس کام کا
آپ سے دو جہاں میں نہ برتر کوئی سچ تو یہ آپ کا ہے نہ ہمسر کوئی
ہر کسی سے جدا آپ کی ہر ادا رب بنایا نہیں آپ سا دوسرا

0
53
با خدا با خدا جب وہ میرا صنم بام پر آ گیا چاندنی رات میں
ٹوٹ کر گر پڑے سب نجومِ فلک چاند شرما گیا چاندنی رات میں

0
65