جانے کتنے ہی غم سہہ گئے ہیں
ہم ستم در ستم سہہ گئے ہیں
دشمنِ جاں بنی ہے یہ فرقت
بے رخی تو صنم سہہ گئے ہیں
کیا بتائیں تمہیں وقت رخصت
ہو گئی آنکھ نم سہہ گئے ہیں
آ گئے ہو نئے زخم دینے
بولئے پہلے کم سہہ گئے ہیں
لو ترا بے وفا بے مروت
رکھ لیا ہے بھرم سہہ گئے ہیں
یاد رکھنا کسی سے نہ کرنا
تلخ باتیں جو ہم سہہ گئے ہیں
دل جلانے کو اک مسکراہٹ
تیرے لب کی قسم سہہ گئے ہیں
سہہ گئے وار تیری ادا کے
زلف کے پیچ و خم سہہ گئے ہیں
کم سہے ہیں مبشر کسی نے
جتنے اب تک الم سہہ گئے ہیں

0
75