Circle Image

زاہد سحر

@Zahidsaher8

مزاحیہ غزل نمبر 30
بنتا ہے قصائی کا بھی نخرہ مرے آگے
بکرا مرے پیچھے ہے تو دنبہ مرے آگے
مرغی کو ابھی نیچے دے کے آ رہا ہوں میں
آتا ہے ابھی دیکھئے کیا گیا مرے آگے
گو ہاتھ میں جنبش نہیں لاتوں میں تو دم ہے

0
69
مزاحیہ غزل نمبر 29
بکرا جو لا رہا ہے سو وہ بھی ہے آدمی
بکرا جو کھا رہا ہے سو وہ بھی ہے آدمی
سالن میں بال آگیا تو جھگڑا بن گیا
سالن پکا رہا ہے سو وہ بھی ہے آدمی
رو رو کے اس نے بالٹی بھر لی فراق میں

0
72
غزل نمبر 28
کوئی امید بر نہیں آتی
بجلی کیوں رات بھر نہیں آتی
بند ہے تیری ناک کھلوا لے
بُو بھی تجھ کو اگر نہیں آتی
ہیں یہاں آنٹیاں سب کی سب

0
102
مزاحیہ غزل نمبر 27
وہ لے کے بیٹھ گئے بات گدھے کی
جو نہیں جانتے اوقات گدھے کی
دن کو تارے بھی نظر آتے ہیں صاحب
زور سے لگتی ہے جب لات گدھے کی
ہر کوئی ڈنڈا اٹھائے ہوئے آیا

0
74
مزاحیہ غزل 26
خاک رکھا ہے تم نے دھیان کتے کا
کردیا پولیس نے چالان کتے کا
دیکھ ایسے رہے ہو چائے کو میری
جیسے یہ کپ ہو میری جان کتے کا
تیز کرنا پڑے گا دانتوں کو اپنے

0
59
مزاحیہ غزل 25
رائتہ رکھ دو آدمی کے لیے
حلوہ کافی ہے مولوی کے لیے
آپ کے پاس تو لطیفے تھے
ہم ترستے رہے ہنسی کے لیے
کھا پی لیتا ہوں میں مزاروں سے

0
80
مزاحیہ غزل نمبر 24
(اس غزل کا ثواب حسرت موہانی کی روح کو پہنچے)
کچھ نہیں بھولا ہوں میں ہنسنا ہنسانا یاد ہے
دوستوں کو رات بھر جگتیں سنانا یاد ہے
غصے میں اس کا وہ میری انگلی پے چک کاٹنا
اور وہ میرا آسماں سر پہ اٹھانا یاد ہے

0
98
مزاحیہ غزل نمبر 23
(منیر نیازی مرحوم سے معزرت کے ساتھ)
چمن میں رنگِ بہار اترا تو میں نے دیکھا
ٹرک سے تازہ انار اترا تو میں نے دیکھا
فروٹ میرا تو کھا گیا ڈاکٹر ہی سارا
گزشتہ شب جب بخار اترا تو میں نے دیکھا

0
153
مزاحیہ غزل نمبر 22
فقط صورت نہیں دل کا بھی کالا تھا
مجھے دھکے دے کر اس نے نکالا تھا
میں نے ماری تھی اس کو لات پیچھے سے
وہ کب آگے سے میرے ہٹنے والا تھا
وہ بہتی ریتی تھی ہر وقت تقریباً

0
99
مزاحیہ غزل نمبر 21
کل کی عجب اک رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
کچھ نے کہا ابا ترا کچھ نے کہا چاچا ترا
میں بھی وہیں موجود تھا میں نے بھی سب دیکھا کئے
میں چپ رہا بس اور اٹھا کر چل دیا بکسہ ترا
مجھ پر لگایا جھوٹا کیوں الزام تو نے چوری کا

0
50
مزاحیہ غزل نمبر 20
کم نہیں ہے شادی طوفان سے ایمان سے
جیتے تھے ہم بھی کبھی شان سے ایمان سے
قصہ اس مجنوں کا ہم ہی سنتے جائیے
چرس نکلی اس کے سامان سے ایمان سے
سب تو کہتے ہیں کہ سونا نکلتا ہے مگر

0
77
مزاحیہ غزل نمبر 19
ہوگئی میری لڑائی عید پر
بن گیا میں بھی قصائی عید پر
میں بھلا انکار کر سکتا تھا کیا
گوشت رکھوانے وہ آئ عید پر
ہڈیوں سے بھر گیا میرا فریج

0
70
مزاحیہ غزل نمبر 18
ہو رہی ہے اگر تشہیر بکرے کی
غصے میں کیوں ہے پھر ہمشیر بکرے کی
میں میں کے ساتھ بو بو کی صدائیں تھی
میں بھی سنتا رہا تقریر بکرے کی
کھمبے کو جا لگی ٹکر خدا کی شان

0
61
مزاحیہ غزل نمبر 17
اپنی صورت دکھا گیا بکرا
خواب میں میرے آگیا بکرا
اپنے حصے کا کھا پی کے چارہ
میری روٹی بھی کھا گیا بکرا
کان میں چھینک مار کے مجھ کو

0
90
مزاحیہ غزل نمبر 15
پیروڈی غزل
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پِیٹوں جِگر کو میں
بہتر ہے اب یہی کہ چلا جاؤں گھر کو میں
کافی نہیں ہے ایک ہی صوفہ ترے لیے
کیا جانتا نہیں ہوں تمھاری کمر کو میں

0
48
مزاحیہ غزل نمبر 14
چاہے انار دیکھ یا چاہے اچار دیکھ
ہے کھانے کی یہ چیز اسے بار بار دیکھ
تیری گلی تو کیا میں ترا شہر چھوڑ دوں
بس ایک بار تو مجھے دے کر ادھار دیکھ
آیا ہوں شادی حال میں کھا پی کے جاؤں گا

0
78
غزل نمبر 12
مزاحیہ غزل
سوچیں جو درمیان سے ذاتیں نکال کر
ہر کوئی مارنے لگے لاتیں نکال کر
میرے کفن کے بند نہ باندھو ابھی مجھے
تھپڑ لگانے ہیں انہیں بانہیں نکال کر

0
62
مزاحیہ غزل نمبر 11
نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں​
تُو مرے ہاتھوں مر نہ جائے کہیں​
ڈر ہے مجھ کو کہ تو یہاں آئے
​اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں
ہاتھ اتنا نہ پھیر بالوں میں

0
114
مزاحیہ غزل
ہزاروں لڑکیاں ایسی کہ ہر لڑکی پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
کہا اس نے کہ پھر سے آ گئے ہو دانت تڑوانے
محلے میں تمھی ہو ایک جو ثابت قدم نکلے
خدا کے واسطے پردہ نہ چہرے سے ہٹا ساجن

0
282
مزاحیہ غزل
نہا کے جب نکلتا ہوں تو کانپیں ٹانگ جاتی ہیں
میں چھلکے سے پھسلتا ہوں تو کانپیں ٹانگ جاتی ہیں
تمھارے ابا کی خاطر تواضع یاد ہے اب تک
تمھارے خط جو پڑھتا ہوں تو کانپیں ٹانگ جاتی ہیں
ہو کوئی شیر یا چوہا کبھی ڈرتا نہیں لیکن

0
109
مزاحیہ غزل
خدا ہی جانے یہ کیا پک رہا ہے کھچڑی کے پیچھے
پڑا ہوا ہے میرا بکرا تیری بکری کے پیچھے
گلی میں چھوڑ رکھے تھے کسی نے کتے بھی یارو
مجھے وہ دیکھ کے ہی چھپ گئے تھے لکڑی کے پیچھے
نہ میرا نام تک پوچھا نہ میری زات ہی پوچھی

0
86
مزاحیہ غزل
کاش میں پیارا سا کوئی بکرا ہوتا
تو نے رسی سے بھی مجھ کو پکڑا ہوتا
رویا کرتی تو گلے سے لگ کے میرے
جب کبھی امی سے تیرا جھگڑا ہوتا
دور ہوتی ہے کھجانے سے ہی کھجلی

0
108
مذاحیہ غزل
بکرا عید کے حوالے سے
کیا ہوا جو رنگ کالا ہے بکرے کا
بچہ لے کر ہم نے پالا ہے بکرے کا
یہ پٹاخے کون لے آیا ہے یہاں
خوف سے دل پھٹنے والا ہے بکرے کا

0
93
پیروڈی غزل
تمھارے شہر کا چونسہ بڑا سہانا لگے
میں ایک آم چرا لوں اگر برا نہ لگے
کہا تو کچھ نہیں جنات نے مجھے لیکن
یہ اور بات کہ تھپڑ ہی غائبانہ لگے
تمہارے بس میں اگر ہے تو بھول جاؤ ادھار

0
75
مزاحیہ غزل
اکیلے اکیلے کھائے وہ مجھ کو زرا نہ دے
یہی بددعا ہے گنجے کو ناخن خدا نہ دے
مرے گھر کے سامنے ہی تو وہ رہتی تھی مگر
مجھے خوف تھا کہ زوجہ کو کوئی بتا نہ دے
بھری بزم میں تو آ گیا پھر سے کوئی بزرگ

0
97
مزاحیہ غزل
اکیلے اکیلے کھائے وہ مجھ کو زرا نہ دے
یہی بددعا ہے گنجے کو ناخن خدا نہ دے
مرے گھر کے سامنے ہی تو وہ رہتی تھی مگر
مجھے خوف تھا کہ زوجہ کو کوئی بتا نہ دے
بھری بزم میں تو آ گیا پھر سے کوئی بزرگ

0
101
مزاحیہ غزل
اس نے دھمکی دی تھی حملے کے ساتھ
پھول بھی مارا تو گملے کے ساتھ
مارا کس کس نے یہ بھی یاد نہیں
لوگ ہی لوگ تھے عملے کے ساتھ
اس جگہ میرا ہی تھا کوٹ مگر

0
106
مزاحیہ غزل
آپ کے واسطے لانے تھے پکوڑے ہم نے
کھا لئے خود ہی زرا سے بھی نہ چھوڑے ہم نے
گرمی میں خوب بھگایا اسے اور پھر صاحب
باغ سے چوری کے امرود بھی توڑے ہم نے
آج تو خوش ہوا انگریز پی کے دیسی سوپ

0
181
مزاحیہ نظم
میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا
بزم میں مری کوئی بات وات چل جائے
یہ نہ ہو کہ تیرا بھی مجھ پہ ہاتھ چل جائے
مجھ غریب پر مکا اور لات چل جائے
کیا خبر کہ مکا لات اک ہی ساتھ چل جائے

0
392
غزل
دونوں مکان اپنے ہی جوئے میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے
حیرت بھری نگاہوں سے تکتا رہا مریض
نرسوں نے خوب چھلکے اتارے انار کے
دو بال ہی اگرچہ مرے سر پہ رہ گئے

0
88