Circle Image

ڈاکٹر طارق انور باجوہ

@TariqBajwa

تم بھی شاید ضمیر رکھتے ہو
لیکن اس کو ، اسیر رکھتے ہو
کہہ کے یہ ، دل میں ہے چھپا کچھ اور
دل ہمارا تو چیر رکھتے ہو
جھوٹا وعدہ بہشت کا دے کر
خود کُشی پر حصیر رکھتے ہو

0
1
آ کے یادوں میں حسیں ان کو بنا جاتے ہو
آؤ جب سامنے کچھ اور غضب ڈھاتے ہو
یاد جب تک نہ کرو چاہنے والے اپنے
تم کہاں سوتے ہو آرام کہاں پاتے ہو
سیکھ لیں امن سے رہنا یہ زمانے والے
ان کو خط لکھتے ہو جا جا کے بھی سمجھاتے ہو

0
6
چاند کو پھر سے رو برو دیکھا
نور پھیلا وہ ہو بہو دیکھا
اس کے پیچھے جو کی نماز ادا
دل کو پھر ہوتے با وضو دیکھا
وہ تبسّم بھرا حسیں چہرہ
کوئی ویسا نہ خوبرو دیکھا

0
2
منتظر تم ہو کہ کب اس کا پتہ پاؤ گے
ہو کے کب سامنے بات اپنی سنا پاؤ گے
کب یقیں ہو گا حقیقت میں خدا قادر ہے
نفسِ امّارہ سے کب جان بچا پاؤ گے
تزکیہ نفس کا ہوتا ہے محبّت کے طفیل
ہو گی جب اس میں ترقّی تو خدا پاؤ گے

0
9
اشک ہوتے ہیں رواں آنکھوں کے بھر جانے کے بعد
دل بھر آئے جب نہ وہ مانے مُکر جانے کے بعد
کچھ نہ کچھ بدلہ سزا ہو یا جزا مل جائے یاں
آخری گو فیصلہ ہونا ہے مر جانے کے بعد
گھر کے سارے کام دفتر میں رہے سر پر سوار
کام دفتر کے سبھی یاد آئے گھر جانے کے بعد

0
4
تیرگی میں دل کی لے کر روشنی آیا ہے کون
دشمنوں کی کر کے باتیں ان سنی آیا ہے کون
دوستی آپس کی چھُوٹی چھوٹی چھوٹی بات پر
اب مٹانے کو ہماری دشمنی آیا ہے کون
رات تاریکی میں آنگن کس قدر سُونا لگا
پھر کسی نے ہے بچھائی چاندنی آیا ہے کون

0
5
تو سمندر ہے تو پھر اس میں بڑائی کیا ہے
وسعتِ قلب کے بھی کوئی دکھا نظّارے
تُو نے موتی بھی کہیں تہہ میں چھپا رکھے ہیں
ہم نے رکھے ہیں سجا کر سرِ مژگاں تارے

4
جو دیکھا چاند کو چھلکا سمندر
ہمارا حوصلہ اس سے سوا ہے
چھپا رکھے ہیں اس نے تہہ میں موتی
انہیں ہم نے تو پلکوں پر رکھا ہے

0
11
جب کمی پیار کے اظہار میں آ جاتی ہے
“وقت کےساتھ کمی پیار میں آجاتی ہے”
سرد پڑ جاتے ہیں جذبات اگر ذکر نہ ہو
دل میں جو بات ہو گُفتار میں آ جاتی ہے
جب بھی آتی ہے صبا تیری گلی سے ہو کر
تیری خوشبو در و دیوار میں آ جاتی ہے

0
6
آئے ہیں جو پھر جلسہ کے ایّام مبارک
آغاز بھی خوشیوں سے ہو انجام مبارک
ہر لحظہ فرشتوں کی حفاظت میں رہو تم
روشن ہو ہر اک صبح ، ہر اک شام مبارک
تائید الٰہی کے جو تم ذکر سُنو گے
افضالِ الٰہی ، تمہیں انعام مبارک

0
15
نہیں کہتا کہ مے باقی نہیں ہے
تعجّب ہے مگر ، ساقی نہیں ہے
نہ گھر ہوں میزباں ، آئیں جو مہماں
عمل یہ غیر اخلاقی نہیں ہے ؟
جو آئے بعد میں ، محروم کیوں ہوں
خدا کی ایسی رزّاقی نہیں ہے

0
1
13
ہے صبر یہی تقدیر پہ راضی ہونے میں تاخیر نہ کر
تدبیر میں گر باقی ہے کمی رکھ اس پہ نظر تقصیر نہ کر
جو خواب سُہانے دیکھے تُو آئندہ شان و شوکت کے
گھر بیٹھے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے تُو ان کی غلط تعبیر نہ کر
آئی ہے چمن میں ایسی خزاں یا ربّ جانے کا نام نہ لے
ڈالی ہے بُری جس نے بھی نظر تُو اتنی بری تاثیر نہ کر

0
3
کہتے رہے ہیں لوگ تو اچھا نہیں کیا
ہم نے کبھی ضمیر کا سودا نہیں کیا
کھائے ہیں جان بوجھ کے بھی ہم نے کچھ فریب
پھر بھی انہیں گِلہ ہے بھروسا نہیں کیا
معصومیت پہ ان کی بھی قربان جائیے
کہتے ہیں قتل جب کیا چرچا نہیں کیا

0
3
خلافت پر جو فائز بادشہ ہے
مرا محبوب وہ سب سے جُدا ہے
خدا کا فضل اس پر جو ہوا ہے
خدا کی خاص اس کو یہ عطا ہے
وہ عجز و انکساری کا ہے پیکر
ملا اِس سے ، اُسے یہ مرتبہ ہے

0
31
عدالت سے رہا ہو کر یہاں خود کو بَری سمجھے
حساب اک اور باقی ہے اگر تو آدمی سمجھے
صلاحیّت جنم دیتی ہے جذبہ آگے بڑھنے کا
ترقی گر نہ ہو پھر علم و دانش کی کمی سمجھے
یونہی ہم نے گزاری ، عمر ساری ، اب شعور آیا
وصالِ یار کو تخلیق کا مقصد ابھی سمجھے

0
9
یادوں میں اس کا گھر جو ہمیشہ بسا رہے
پھر کیسے دور ہم سے ہمارا خدا رہے
جب دل میں اس کے پیار کا روشن دیا رہے
آنکھوں میں نور اس کا ہمیشہ سجا رہے
ہم نے سفر میں کب کوئی خود سے قدم لیا
ہم تو اسی کا ڈھونڈتے ہیں نقشِ پا رہے

0
9
کہنے کی سچ یہاں پہ اجازت نہیں مجھے
"کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے"
شکوہ نہیں کہ اس کی توجّہ نہ پا سکا
اس سے تو ذرّہ بھر بھی شکایت نہیں مجھے
مدّت ہوئی گناہوں سے توبہ کئے ہوئے
شاید اسی لئے کوئی حسرت نہیں مجھے

0
11
آنکھوں میں روز و شب اسی کا گھر بسا رہے
پھر کیسے دور ہم سے ہمارا خدا رہے
ہم نے سفر میں کب کوئی خود سے قدم لیا
اسکا ہمیشہ ڈھونڈتے ہم نقشِ پا رہے
پھولوں کے ساتھ دوستی کچھ اس لئے بھی کی
گلشن کے ساتھ رشتۂ بوئے وفا رہے

0
7
عید خوشیاں لے کے آئی ہے ، منائیں مل کے ہم
دید سب کی ساتھ لائی ہے ، منائیں مل کے ہم
بعد مدّت کے گھڑی اتنی سعید آئی ہے یہ
ایک دوجے تک رسائی ہے ، منائیں مل کے ہم
عید کی خوشیاں ہیں دو بالا ہوئیں پھر سے ملے
دور اس نے کی جُدائی ہے ، منائیں مل کے ہم

0
2
مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئے تو کیا مسلماں ہیں
کبھی سوچا بھی ہے کس بات پر ہم اتنے نازاں ہیں
جنم لے کر اسی مٹی سے کیوں تقسیم ہے اتنی
ہم اپنے دیس کے لوگوں سے کیوں لڑنے کے خواہاں ہیں
ضروری تو نہیں مجبور ہوں گر مال مل جائے
تو پہلے سب سے ہم ہی بیچ کر کھا جاتے ایماں ہیں

0
5
وہ ایک شخص ہزاروں کمال رکھتا ہے
وہ ماہِ کنعاں سا حسن و جمال رکھتا ہے
ہے اس کو چاہتا دنیا میں ایک جمِّ غفیر
ہر ایک اس سے امیدِ وصال رکھتا ہے
وہ آ کے بیٹھتا ہے سامنے کہ پوچھ سکے
کوئی جو ذہن میں اپنے سوال رکھتا ہے

0
3
ہم نے یوں عید منائی ہے کہ تم یاد آئے
دوستی کیسی نبھائی ہے کہ تم یاد آئے
تم کو دیکھے ہوئے اب ایک زمانہ گزرا
دل نے تصویر دکھائی ہے کہ تم یاد آئے
ہم نے سمجھایا قلم کو کہ نہ ہو ذکر کہیں
اس نے تحریر لکھائی ہے کہ تم یاد آئے

0
5
مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئے تو کیا مسلماں ہیں
کبھی سوچا بھی ہے کس بات پر ہم اتنے نازاں ہیں
جنم لے کر اسی مٹی سے کیوں تقسیم ہے اتنی
ہم اپنے دیس کے لوگوں سے کیوں لڑنے کے خواہاں ہیں
ضروری تو نہیں مجبور ہوں گر مال مل جائے
تو پہلے سب سے ہم ہی بیچ کر کھا جاتے ایماں ہیں

2
15
دوستی نا پی نہیں جاتی ہے پیمانے میں
دو سَتی ہوتے ہیں اک دوجے پہ یارانے میں
دوستی یوں تو مقدّر سے ملے جس کو ملے
زیست کھو دیتے ہیں کچھ لوگ اسے پانے میں
بسترِ مرگ پہ ہوں قبر کی تیّاری ہے
اور تم کہتے ہو کچھ دیر ہوئی آنے میں

8
دشت میں لیلیٰ سے ملنے ہی اگر جانا تھا
سب جہاں چھوڑ کے مجنوں نے اُدھر جانا تھا
عشق گر آگ میں کودا تو وہ زندہ ہے ابھی
عقل پیمانہ اگر ہوتی تو مر جانا تھا
مجھ کو الزام نہ دو پھر سے چلا آیا ہوں
کیا بھلا میں نے یہاں آنے سے ڈر جانا تھا

0
7
گھونٹ کڑوا پیا نہیں جاتا
دکھ چھپا کر ہنسا نہیں جاتا
کیا ضروری ہے عشق میں مرنا
عشق بن کیا جیا نہیں جاتا
جاں وہ مانگے تو منع کر دیں کیا
ہم سے احساں لیا نہیں جاتا

0
12
بتلائیں کیا ہمیں اسے ملنے سے کیا ملا
عرفانِ ذات ہو گیا اپنا پتا ملا
صدمات اپنے دیکھ کے تھے دل گرفتہ ہم
بھولے سبھی ہمیں جو وہ غم آشنا ملا
منزل کا کچھ پتہ نہیں تھا جب چلے تھے ہم
اس کی عطا سے پھر ہمیں اک رہنما ملا

0
7
رات تو رات ہے آئی تو گزر جائے گی
دیکھنا ہے کہ ہمیں لے کے کدھر جائے گی
شب یہ افضل ہے مقابل گو مہینے ہوں ہزار
پا لیا اس کو تو قسمت ہی سنور جائے گی
فجر تک اس میں مسلسل ہو فرشتوں کا نزول
روح وہ اترے گی دل پاک جو کر جائے گی

0
2
21
لے کے جاتا ہے زمانہ کس طرف ، گردش لئے
روٹھ کر ہم سے چلا جائے نہ وہ رنجش لئے
وہ اترتا ہے زمیں پر نیم شب یہ دیکھنے
کون سجدے میں پڑا ہے دید کی خواہش لئے
اس کی رحمت پوچھتے ہو کیا، بس اتنا جان لو
ہر گھڑی بادَل رکھے سر پر جو ہیں بارش لئے

0
6
پیتم بن من سُونا ہے ، برسن لاگے نین
ہجر کی لمبی کالی ، کیسے گزرے رین
دھڑکن شور مچاوے، نیند کدھر سے آئے
دل کو کیسے سمجھائیں ، ہے پگلا بے چین

0
7
ہاتھوں میں جیون کا پیالہ
تھامے میں یہ سوچ رہا ہوں
تھوڑے سے دن باقی ہیں اب
پیالہ خالی ہو جائے گا
بھرا ہوا تھا پیالہ جب یہ
کس کو یہ احساس تھا قیمت

0
6
بات دانائی کی ہم کرنے سے باز آتے نہیں
یوں اگر شکوہ کسی کو ہو تو گھبراتے نہیں
حیف ہے ان پر جنھیں ملتے ہیں بوڑھے والدین
کر کے خدمت ان کی پھر جنَّت میں وہ جاتے نہیں
یا جو پائیں ماہِ رمضاں تندرستی میں مگر
روزہ رکھ کر آگ سے دوزخ کی بچ جاتے نہیں

0
5
دیر تک رات کو محفل تو جمی رہتی ہے
پھر بھی شکوہ ہے محبّت کی کمی رہتی ہے
تم بھی ان آنکھوں پہ لکھتے رہے غزلیں لیکن
یہ نہ پوچھا کبھی کیوں ان میں نمی رہتی ہے
وہ نہیں بھولتے وابستہ ہوں یادیں جن سے
دوست مل جاتے ہیں پر ان کی کمی رہتی ہے

0
2
حیف ہے ان پر جنھیں ملتے ہیں بوڑھے والدین
کر کے خدمت ان کی پھر جنَّت میں وہ جاتے نہیں
یا جو پائیں ماہِ رمضاں تندرستی میں مگر
روزہ رکھ کر آگ سے دوزخ کی بچ جاتے نہیں

0
5
ہم نصیحت بھی کبھی کرنے سے باز آتے نہیں
تا نہ شکوہ ہو کسی کو پھر کہ سمجھاتے نہیں
حیف ہے ان پر جنھیں ملتے ہیں بوڑھے والدین
کر کے خدمت ان کی پھر جنَّت میں وہ جاتے نہیں
یا جو پائیں ماہِ رمضاں تندرستی میں مگر
روزہ رکھ کر آگ سے دوزخ کی بچ جاتے نہیں

0
8
حیف ہے ان پر جنھیں ملتے ہیں بوڑھے والدین
کر کے خدمت ان کی پھر جنَّت میں وہ جاتے نہیں
یا جو پائیں ماہِ رمضاں ، تندرستی میں مگر
روزہ رکھ کر آگ سے دوزخ کی بچ جاتے نہیں

0
4
تمہیں اب تلک جس نے سمجھا نہیں
تو شاید کبھی اس نے سوچا نہیں
تجھے پڑھ کے کہتے ہیں سب بر ملا
کسی نے ترے جیسا لکھا نہیں
ترے حسن کا جو نہ شیدا ہوا
تو دیکھا تِرا اس نے جلوہ نہیں

0
6
اس مرتبہ کیا خدا کے گھر کا جب طواف
نکلی یہ میرے دل سے دعا دیکھ کر غلاف
کرتا ہے تُو قبول دعائیں سبھی یہاں
رحمت سے اپنی کر دے مرے سب گنہ معاف
شیطان مجھ سے دور ہو تیری پنہ ملے
مجھ کو نہ ہو کبھی ترے حکموں سے انحراف

1
12
سجا کے دل میں رکھا ہم نے ہجرِ یار کا داغ
لگا تھا گرچہ کلیجے پہ اس کے وار کا داغ
عیاں کیا ہی نہیں اس پہ جب ملا ہوں اسے
چھپا کے رکھا ہے سینے میں اس کے پیار کا داغ
نمایاں میں نے کیا کب تھا ضد تمہاری تھی
دکھایا جائے سبھی کو دلِ فِگار کا داغ

0
7
حوصلہ آپ سبھی کا ہیں بڑھانے والے
آپ ہیں ان میں ، ہمیں جو ہیں سکھانے والے
گر نہ ہو شعر کی تعریف برا مانتے ہیں
ایسے بھی دیکھے کئی شعر سنانے والے
آپ تنقید کریں ہم نہ بُرا مانیں گے
لوگ ہوتے ہیں تو ہوں منہ کو پھلانے والے

0
8
زائچہ اپنا پڑھ رہا ہو گا
بات اپنی پہ اڑ رہا ہو گا
ایک سچا ہے لاکھ جھوٹے ہیں
ان پہ بھاری وہ پڑ رہا ہو گا
جانتے کیا نہیں وہ پاگل ہے
پہلی صف میں وہ لڑ رہا ہوگا

0
6
دعویٰ کرنے کو تو کرتے ہیں زمانے والے
کم ہیں دنیا میں محبّت کو نبھانے والے
دودھ پینے کو ہیں تیّار یہاں سب مجنوں
پر کہاں ملتے ہیں اب ، جان لُٹانے والے
مال و دولت کی محبّت میں گرفتار ہیں پر
چھوڑ جاتے ہیں یہیں ، دنیا سے جانے والے

0
11
یوں تو نہیں کہ وہ کبھی تنہا نہیں گیا
محفل سے اُٹھ کے پر وہ اکیلا نہیں گیا
سودا ضمیر کا یہاں پہلے بھی تو ہوا
پہلے یہ کھیل کیا کبھی کھیلا نہیں گیا
میں جب بھی اس کے حسن کا قصّہ بیاں کروں
کہتے ہیں تم سے ٹھیک سے دیکھا نہیں گیا

0
5
تم بھی اس لفظ کے کچھ اور ہی معنی کرتے
تم نے دیکھا ہی نہیں اس سے محبّت کر کے
یہ محبّت کا تقاضا نہیں اخلاق میں ہے
تھام لیتے ہیں گرے کوئی تو آگے بڑھ کے
اتنا پیچیدہ نہیں عرش کا رستہ ورنہ
لفظ واں کیسے پہنچ جاتے اڑانیں بھر کے

0
2
تیرگی چھائی تھی جیسے شبِ دیجور بنے
اک چراغ اُترا ہمارے لئے پُر نور بنے
عشق کب عقل کے پیمانے پہ پورا اترے
حسن کہلائے وہی دل کو جو منظور بنے
دل میں پالی ہی نہیں کوئی بھی خواہش ایسی
بن کے حسرت مرے سینے کا جو ناسور بنے

0
5
قانون کی جو پڑ گئے ہیں مُو شگاف میں
کہتے ہیں فرق ہے پڑھیں تو شین قاف میں
ماہِ صیام کی یونہی راتیں گزر گئیں
کچھ فائدہ اٹھایا نہیں المضاف میں
شیطان سے جو پوچھا ہوئے تم ہو قید کیا
اس کو تو اعتراض نہیں اعتراف میں

0
4
رمضان جب سے آ گیا اکناف و ناف میں
شام و سحر ہیں رونقیں شہر و مضاف میں
مہمان بن کے آتا ہے ماہِ صیام یہ
ضائع نہ ہوں یہ دن کہیں لاف و گزاف میں
یہ برکتوں کے دن ہیں یہ راتیں ہیں قیمتی
غفلت کے ہم نہ سو کے گزاریں لحاف میں

0
3
پیغام یہ دیا گیا الفاظ صاف میں
ملتا نہیں خدا کبھی لاف و گزاف میں
ماہِ صیام آگیا ہے برکتوں کے ساتھ
کچھ خوش نصیب بیٹھیں گے اب اعتکاف میں
شیطان سے جو پوچھا ہوئے تم ہو قید کیا
اس کو تو اعتراض نہیں اعتراف میں

0
3
دیکھنے پر اسے ان آنکھوں سے اصرار نہ کر
دل کی آنکھوں سے اسے دیکھ یوں انکار نہ کر
آدمی ہوتا ہے انسان فرشتہ تو نہیں
ہو خطا اس سے تو رسوا سرِ بازار نہ کر
جو چلا آیا ترے پاس امیدیں لے کر
دے بشارت اسے یوں خُو گرِ انذار نہ کر

0
5
تری جُدائی کا دکھ ہی نہیں جو سہنا پڑا
جو دل پہ ہجر میں گزری ہے اب وہ کہنا پڑا
جو ظلم ڈھائے کسی نے ہے داستان الگ
ستم تو یہ تھا مجھے دور تُجھ سے رہنا پڑا
بپھرتی موج کو ساحل تو روک لیتا ہے
جو دل بھرا تو اسے چشمِ تر سے بہنا پڑا

0
6
عارض و لب کو جو گلزار بنا دیتے ہیں
حسن کو شرم و حیا اور جِلا دیتے ہیں
آپ تو دل کے نہاں خانوں میں رہتے ہیں کہیں
ہم تو غیروں کو سر آنکھوں پہ بٹھا دیتے ہیں
مل انہیں جا کے کبھی ، بات ذرا کر کے دیکھ
مشورہ دوست جو اپنے ہوں کھرا دیتے ہیں

0
5
کہتے ہو ، چاہتے تھے جو ، کرنے نہیں دیا
خود کو تمہارے ہاتھ سے مرنے نہیں دیا
تم آگ کے کنارے پہنچ کر بھی بچ گئے
یوں چاہتوں نے تم کو بکھرنے نہیں دیا
دیکھا تو ہو گا آئنہ تم نے بھی بارہا
تاریکیوں نے تم کو سنورنے نہیں دیا

8
باقی تو امتحان کوئی رہ نہیں گیا
جائے پنہ مکان کوئی رہ نہیں گیا
اب کس بنا پہ ساتھ میں دوں اس کا دوستو
رشتہ ہی درمیان کوئی رہ نہیں گیا
مہمان ہو کے جاؤں تو ٹھہروں میں اب کہاں
اُس گھر میں میزبان کوئی رہ نہیں گیا

0
12
گہرا اثر ہوا ہے بزرگوں کی بات کا
یا معجزہ ہے دل کی کسی واردات کا
میری سبھی محبّتیں اب اس کے نام ہیں
مالک ہے وہ جو ساری مری کائنات کا
کرنے کو پیش اس کو مرے پاس کچھ نہیں
رکھے گا کیوں حساب مرے واجبات کا

0
10
یہ بات تو نہیں تھی کہ حُسنِ غزل نہ تھا
تاثیر یوں نہیں تھی کہ اُس پر عمل نہ تھا
سایہ بھی دھوپ میں نہ دیا جس نے دو گھڑی
کس کام کا وہ پیڑ ، دیا جس نے پھل نہ تھا
آیا ہی لوٹ کر جو ہوا جاں بہ لب تو پھر
اُس وقت ، اس کے مسئلے کا کوئی حل نہ تھا

0
26
عارض و لب کو جو گلزار بنا دیتے ہیں
حسن کو شرم و حیا اور جِلا دیتے ہیں
آپ تو دل کے نہاں خانوں میں رہتے ہیں کہیں
ہم تو غیروں کو سر آنکھوں پہ بٹھا دیتے ہیں
مل انہیں جا کے کبھی ، محفلِ یاراں تو سجا
دوست جتنے بھی پرانے ہوں ، مزا دیتے ہیں

0
10
اے سخنور اُٹھ کہ وابستہ ہے تُجھ سے انقلاب
تھام لے اپنا قلم اب چھوڑ طاؤس و رباب
پھیلتا جاتا ہے بحر و بر میں ہر جانب فساد
دیکھ لے اخلاق سے عاری ہوئے اہلِ کتاب
دہریوں سے کیا گلہ ان کا خدا کوئی نہیں
اب خدا والوں پہ بھی آئے نظر اس کا عتاب

0
3
کب ہم نے روٹھ کر گئے پہلے منا لئے
اُس نے بھی امتحان کئی بارہا لئے
برسوں کے رتجگے تھے کہاں خواب دیکھتے
پلکوں پہ اس کی یاد میں موتی سجا لئے
سورج نکل رہا تھا ہمیں آئی اونگھ جب
پھر کھڑکیوں سے ہم نے ہی پردے ہٹا لئے

0
7
باقی تو امتحان ، کوئی رہ نہیں گیا
جائے پنہ مکان ، کوئی رہ نہیں گیا
اب کس بنا پہ ساتھ دوں میں اس کا دوستو
رشتہ ہی درمیان کوئی رہ نہیں گیا
مہمان ہو کے جاؤں بھی تو اب کہاں رکوں
اس گھر میں میزبان کوئی رہ نہیں گیا

0
8
پڑھنے کو اس نے کب کہا کوئی کتاب دو
پوچھا گیا وہ بیتے دنوں کا حساب دو
پوچھا گیا تھا عام سا گرچہ وہ اک سوال
اس سے کہا گیا یہی فوراً جواب دو
بے تاب دیکھنے کو تمہیں لوگ تھے تو کیا
کس نے کہا تمہیں کہ الٹ تم نقاب دو

0
8
اب خالی از فساد بحر و بر نہیں رہا
دامن ہمارا گرچہ کبھی تر نہیں رہا
دیکھی ہے جیسے زندگی ہم نے قریب سے
اب سچ کہیں تو موت کا بھی ڈر نہیں رہا
حرص و ہوا میں ظلم کی حد پار ہو گئی
جھولی میں آگ کون یہاں بھر نہیں رہا

0
8
کہتا ہے کون مسجد و مندر نہیں رہا
ایمان ہاں دلوں کے بھی اندر نہیں رہا
کرتے تھے رشک مذہبِ اسلام دیکھ کر
پہلا سا اب جہان میں منظر نہیں رہا
کیسے کہوں وہ حالتِ مسلم نہیں رہی
اب کوئی رہنما جو میسّر نہیں رہا

0
13
یہ بات تو نہیں تھی کہ حُسنِ غزل نہ تھا
تاثیر گر نہیں تھی تو اُس پر عمل نہ تھا
سایہ تو دھوپ میں دیا تھا اس نے دو گھڑی
سر سبز تھا درخت مگر اُس پہ پھل نہ تھا
آیا ہی لوٹ کر جو ہوا جاں بہ لب تو پھر
اُس وقت اس کے مسئلے کا کوئی حل نہ تھا

0
9
تُم نے کل بام پہ آ کے جو کہا تھا کیا تھا
ذکر ہونٹوں سے تمہارے جو سنا تھا کیا تھا
ہو کے امّید کی رتھ پر جو سوار آئے تھے
خواب وہ ٹوٹے تِرا عہدِ وفا تھا کیا تھا
بسترِ مرگ سے اُٹھ آئے ہیں اب دل کے مریض
یونہی کہتے ہیں بنا پھرتا مسیحا کیا تھا

0
10
کب ہم نے روٹھ کر گئے پہلے منا لئے
اُس نے تو امتحان کئی بارہا لئے
برسوں کے رتجگے تھے کہاں خواب دیکھتے
آنکھوں نے ان کی یاد میں آنسو بہا لئے
سورج نکل رہا تھا کہ آئی تھی اونگھ جب
پھر کھڑکیوں سے ہم نے ہی پردے ہٹا لئے

0
12
وہ جو دنیا کی نگاہوں سے رہا مستور تھا
پانچواں ہو کر خلیفہ ہو گیا مشہور تھا
منتخب ہو کر جو آیا نام وہ مسرور تھا
جو خدا نے اپنے ہاتھوں خود کیا منظور تھا
مرتبے پر ناظرِ اعلٰی کے جو پہلے سے تھا
ایک عالم دیکھ کر اس کو ہوا مسرور تھا

0
9
گھر میں رونق ہی کی صورت ہو ہمیں اچھا لگے
کب کوئی ماٹی کی مورت ہو ہمیں اچھا لگے
ارد گرد اپنے جو دیکھیں زندگی بوسیدہ حال
اور بھی پائی جو نعمت ہو ہمیں اچھا لگے
اِس سے وابستہ ترقّی دین کی دنیا کی بھی
ورنہ کب گر یونہی ہجرت ہو ہمیں اچھا لگے

0
8
حیراں ہمیں زمانے کی خبریں تو کر گئیں
کب لوٹ کر ہماری بھی نظریں اُدھر گئیں
جی خوش ہوا ہے منزلِ مقصود دیکھ کر
ساری مسافتوں کی تکانیں اتر گئیں
چلتے رہے ہیں قربتوں کی آس لے کے ہم
کچھ اس طرح سے کر کے نگاہیں اثر گئیں

0
9
آواز مری سُن کے اگر لوٹ وہ آئے
سمجھوں گا صدا دل کی نہ خالی کبھی جائے
خوابوں کو ترستے ہی رہے ہجر کے مارے
آنکھوں میں نظر آئے نہیں نیند کے سائے
جیون جو بِتایا ہے تو احسان ہے کس پر
چاہا نہیں دل نے یہ کبھی اُس کو جتائے

0
7
تھا بھلا پہلا یا کہ آخر کا
علم اس کو ہے غیب و حاضر کا
عسکری تربیت ملی مجھ کو
دل ہے سینے میں ایک شاعر کا
شہر در شہر اُڑ کے جاتا ہوں
یہ ہنر مجھ میں بھی ہے طائر کا

0
11
ماہِ تمام وہ جو سرِ شام آگیا
ہاتھوں میں لے کے صلح کا پیغام آ گیا
عرصہ ہوا کہ ڈھونڈ رہے تھے اُسے سبھی
وہ جس کے منتظر تھے سرِ عام آ گیا
مایوس تھا جو خوش ہوا جب یہ ملی خبر
اک پہلوانِ مذہبِ اسلام آ گیا

0
9
سُن کے سوھنی کی کہانی داستاں سمجھا نہ کر
عشق میں دیتا ہے جاں کوئی کہاں سمجھا نہ کر
ہر کوئی تعبیر پائے گا جو دیکھے گا اسے
زندگی کو ایک خوابِ رائیگاں سمجھا نہ کر
ساتھ لے کر ان کو چل جو بھی ترے ہمراہ ہیں
صرف اپنے جسم و جاں کو کارواں سمجھا نہ کر

0
8
یوں تو آیا بہار کا موسم
سُونا من رہ گیا بنا پریتَم
گو چمن میں گلاب کِھلتے ہیں
کوئی اُس سا لگے مگر کم کم
دلرُبا اور بھی بہت دیکھے
کوئی رکھتا نہیں ہے وہ دَم خَم

0
7
ہر کوئی اپنی خودی کے نشّے میں مدہوش تھا
ایسے میں مردِ خدا اک کب رہا خاموش تھا
سچ کو سہنے کی نہیں عادت، یہ ہے رسمِ قدیم
بول کر سولی پہ چڑھتا، کس کو اتنا ہوش تھا
جس کو ساقی نے پلایا ، پی گیا الفت کا جام
اُس کی محفل میں بلا کا ہر کوئی مے نوش تھا

0
7
وصالِ یار کو دل اس طرح مچلتا رہا
میں تیز دھوپ میں بھی تیز تیز چلتا رہا
اگرچہ رات تھی تاریک اور طویل بہت
سحر کی آس میں دل کا دیا تو جلتا رہا
وہ آیا سامنے تو آفتاب کی مانند
ہوئی جو روشنی سایہ دُکھوں کا ڈھلتا رہا

0
6
انداز اُس کی دھڑکنوں کا دل میں آ گیا
کچھ اس طرح سے وہ مرے دل میں سما گیا
دیکھا ہے اس کے حُسنِ تلطّف کو جس قدر
میرے دل و دماغ میں چہرہ وہ چھا گیا
تھکتی نہیں زبان مری اُس کے ذکر سے
کی جب بھی بات اس کا ذکر لب پہ آ گیا

0
7
اگرچہ لہجے میں بے حد مٹھاس رکھتے ہیں
نہ جانے دل میں وہ کیا کیا بھڑاس رکھتے ہیں
میں اپنے دوستوں کی سادگی پہ حیراں ہوں
جو دشمنوں سے مروّت کی آس رکھتے ہیں
وہ لوگ چین سے سوتے ہیں رات جی بھر کے
جو لوگ دن میں قناعت کو پاس رکھتے ہیں

0
11
کیوں یہاں آئے یہ اکثر بولتا رہتا ہوں میں
زندگی کا کیا ہے مقصد ، تولتا رہتا ہوں میں
میری قربت میں جو رہتا ہے بڑا دلگیر ہے
ساتھ شاید اس کو اپنے رولتا رہتا ہوں میں
زندگی میں کیا ہے کھویا، کیا ہے پانے کا جنون
دل ہی دل میں خود کو اکثر تولتا رہتا ہوں میں

0
10
زندگی بھر بھاگتے سا یوں کا ہی پیچھا کیا
ہر چمکتی چیز کو سونا اگر سمجھا کیا
سامنا کرنے کی تیرے حسن کی ہمّت نہ تھی
بس تماشا دور ہی سے بزم کا دیکھا کیا
تُجھ کو شکوہ ہے جہاں میں گھومتا پھرتا رہا
ہر گلی جا کر پتہ تیرا ہی تو پوچھا کیا

0
7
حمد کے گیت گنگنایا ہوں
تیرے گھر نور میں نہایا ہوں
ہو کے آیا حرم سے میں واپس
دل وہیں گرچہ چھوڑ آیا ہوں
حجر اسود قریب سے دیکھا
حسن کب اس کا بھول پایا ہوں

0
19
رونق ہے جو مکّہ کی تو اللّٰہ کے گھر سے
تعمیر کرایا تھا جسے اُس نے بشر سے
توحید کی بنیاد کا مظہر یہ بنا ہے
دنیا کی امامت ہو مقدّر تھا ادھر سے
چھوڑا تھا براہیم نے فرزند یہاں پر
زمزم ہے جہاں ماں کی دعاؤں کے اثر سے

0
14
یوں تو نہیں کہ تُجھ سے محبّت نہ کر سکے
ہاں تیرا حق تھا جو وہ عبادت نہ کر سکے
دنیا کے پیچھے بھاگ کے دیکھا بہت مگر
اس زندگی کو باعثِ راحت نہ کر سکے
اتنی عنایتیں ہوئی ہیں تُجھ سے بار بار
دو چار حسرتوں کی شکایت نہ کر سکے

0
13
وہ جو عرفان کے چشمے سے پلاتا ہے مجھے
روز قدرت کا نیا جلوہ دکھاتا ہے مجھے
یوں تو دیدار نصیبوں سے ہوا کرتا ہے
وہ قریب آنے کا مژدہ بھی سناتا ہے ، مجھے
حسن سے اس کے تو شرماتے ہیں مہتاب و گلاب
پھر یہ کیوں کہتے ہو دیوانہ بناتا ہے مجھے

0
9
عمر بھر کیونکر جگر اپنا لہو کرتے رہے
کس کو پانے کی دگر ہم آرزو کرتے رہے
خط کا مضموں بھانپ جائیں گے لفافہ دیکھ کر
اس لئے بھی روز ہم دامن رفو کرتے رہے
کیا کریں گے آ کے جب رخصت ہوا وقتِ نماز
تھی امامت جن کے ذمّے گر وضو کرتے رہے

0
10
کب ڈرے دریا میں جو سیلاب تھا
سامنے کشتی کے بھی گرداب تھا
مل کے سارے بیٹھتے تھے ہم کبھی
اب تو یوں لگتا ہے جیسے خواب تھا
خوں مرا جس سے ہوا تھا دوستو
پیٹھ پیچھے خنجرِ احباب تھا

1
21
آواز آ رہی ہے سُنو آسمان سے
آ جائے گی سمجھ جو سُنو گے دھیان سے
پہنچے ہو تم دہانے پہ جنگِ عظیم کے
اندازہ آگ کا تو ہو اُٹھتے دُخان سے
ہم نے تو وہ کہا جو کتابوں میں ہے لکھا
تم ہم سے کیوں ہوئے ہو ذرا بد گمان سے

0
8
وارا یہ دل کسی پہ تو ہارا نہیں اسے
کیا ہم نے رکھا جان سے پیارا نہیں اسے
اس پر جو ہے بھروسہ کسی اور پر نہیں
ہم نے بھی بے سبب تو پکارا نہیں اسے
لاکھوں ہی جاں نثار پڑے اس کے در پہ ہیں
اک ہم سے دوستی کا سہارا نہیں اسے

0
5
مکّہ ہوا آباد تو اللّٰہ کے گھر سے
تعمیر کرایا تھا اسے اُس نے بشر سے
توحید کی بنیاد کا مظہر یہ بنا ہے
تھا اس کے مقدّر میں قیادت ہو ادھر سے
چھوڑا تھا براہیم نے فرزند یہاں پر
زمزم ہے جہاں ماں کی دعاؤں کے اثر سے

0
12
اپنا چہرہ بھی کچھ نکھر آئے
جب کبھی وہ ہمیں نظر آئے
ہم تو آنکھیں بچھائے رستے میں
منتظر ہیں کہ کب ادھر آئے
گو تھکے تو نہیں ہیں چلنے سے
ختم ہونے کو اب سفر آئے

0
10
کہیں بزرگ جو باتیں ، سنبھالتے رہنا
عمل کے سانچے میں پھر ان کو ڈھالتے رہنا
یہ آفتاب ہمیں کہہ گیا تھا جاتے ہوئے
کہ چاند رات میں گھر کو اجالتے رہنا
کمند ڈال کے تحقیق کی فصیلوں پر
جہانِ تازہ کو حیرت میں ڈالتے رہنا

0
7
پہنچ رہا ہے وہ چلتی ہوئی ہوا پہ مجھے
دیا گیا تھا جو پیغام اک حرا پہ مجھے
فرشتہ ہوتا میں اس کی جو سن لیا کرتا
ضمیر ٹوکتا رہتا ہے ہر خطا پہ مجھے
سلوک پیار کا ایسا کیا ہے ظالم نے
کہ دل نے خود کہا اس کے لئے دعا پہ مجھے

0
11
مالک ہے وہ جو عالمِ نا پائے دار کا
سب حال جانتا ہے غریب الدیار کا
وقتِ سحر قریب ہے رخصت ہوئی ہے شب
لاتا ہے آفتاب زمانہ نہار کا
جاتی ہوئی خزاں کو کہیں الوداع اب
دستک ہے در پہ دے رہا موسم بہار کا

0
26
جہاں ، آپس میں ٹکراتا ہوا محسوس ہوتا ہے
تباہی اک بڑی لاتا ہوا محسوس ہوتا ہے
عصا ڈالا تھا موسٰی نے کہ سانپوں کو نگل جائے
مگر مجمع ہے ، گھبراتا ہوا محسوس ہوتا ہے
کیا مصلوب ، جھوٹا کہہ کے ، دنیا نے ، مسیحا کو
فلک پر کیوں وہ پھر جاتا ہوا محسوس ہوتا ہے

0
21
بہار آئے گی گلشن کے رنگ بدلیں گے
لباس ، پیڑ بھی ، پھولوں کے سنگ بدلیں گے
مہک اُٹھے گی ، فضا غنچوں کے چٹکنے سے
کہ گیت گا کے پرندے ، ترنگ بدلیں گے
زمیں کے کیڑے نکل آئے ہیں پناہوں سے
کھلی فضا میں نکل کر سرنگ بدلیں گے

0
11
کھڑے کھڑے یہ کس طرح کی واردات ہو گئی
کچھ ایسے پھر سحر ہوئی کہ ختم رات ہو گئی
ابھی تھے ہم شباب میں کہ تم ملے تھے خواب میں
تم آئے اس طرح کہ شب، شبِ برات ہو گئی
پتہ چلا وجود کا تمہارے ، اس طرح ہمیں
کہ حمد میں تمہاری محو ، کائنات ہو گئی

0
24
ہر ایک ہماری جو روایت ہے پرانی
رگ رگ میں ہوئی اب تو سرایت ہے پرانی
ہم مل نہ سکے ان کو گلے جب ، ہوئے مایوس
امید تھی ان کو یہ ہدایت ہے پرانی
ہم پر تو کوئی خاص عنایت کی نظر ہے
ہر روز جو ہوتی ہے ، شکایت ہے پرانی

0
18
اب تو ایسا کوئی قانون بنایا جائے
سچ کہے جو بھی اسے سولی چڑھایا جائے
اس لئے بھی ترے عشّاق گرفتار ہوئے
اپنے سینے پہ تِرا نام کڑھایا جائے
اب تو سورج بھی سوا نیزے پہ آ پہنچا ہے
اب تو سوئے ہوئے لوگوں کو جگایا جائے

0
8
الزام دے کے لائے مصیبت تو کیا ہوا
آتی ہے روز نت نئی آفت تو کیا ہوا
ظاہر ہوئے ہیں کیسے سبھی ان کے کاروبار
کہتے ہیں اب کہ کر دی شکایت تو کیا ہوا
صورت تو ان کی دیکھ کے حیراں ہوئے سبھی
آئی ہے سامنے جو یہ سیرت تو کیا ہوا

0
38
آنکھوں میں محبّت جو دکھائی نہیں دیتی
دولت تو فقط دل کو رسائی نہیں دیتی
آواز کسی کو جو دیے جائیں شب و روز
ہو پیار نہ اُس میں تو سنائی نہیں دیتی
مشکل ہے سفر راہ میں پتھر بھی بہت ہیں
پر راہ تری آبلہ پائی نہیں دیتی

0
13
ہم ابھی آ کے ترے گھر پہ نِرے بیٹھے ہیں
ایسے لگتا ہے کہ دن اپنے پھرے بیٹھے ہیں
دشت میں دھونی رمائے ترے یہ سودائی
جیب و دامن بھی ہیں گو ان کے چِرے بیٹھے ہیں
آ گئے چھوڑ کے دنیا کے تماشے سارے
سارے عالم سے ہی کچھ دن سے پھرے بیٹھے ہیں

0
20
حرص غالب آ گئی انسان شیطاں ہو گئے
بھول کر انسانیت ، دست و گریباں ہو گئے
امتحاں ہوتے ہیں جذبے بھی کبھی اخلاق کا
قہر میں دیکھا ہے انسانوں کو حیواں ہو گئے
جاں پہ بن آئی تو جائز ہو گیا مردار بھی
بھوک کی شدّت سے جب انساں ، پریشاں ہو گئے

0
52
ہمیں جس سے محبّت ہے خلافت ایک نعمت ہے
اسی سے عہدِ بیعت ہے خلافت ایک نعمت ہے
کیا وعدہ خدا نے مومنوں سے جس کا قرآں میں
وہی واضح بشارت ہے خلافت ایک نعمت ہے
خدا خود اپنے ہاتھوں سے اسے منظور کرتا ہے
خدا کی بادشاہت ہے خلافت ایک نعمت ہے

0
18
حالات اپنے خود بھی ذرا سا سنبھالئے
ہیں آج کے جو مسئلے ، کل پر نہ ٹالئے
نکلے ہیں آسماں پہ زمیں کی حدود سے
تہہ میں سمندروں کے بھی پاؤں لگا لئے
احساس کچھ عجیب سا آکر ہوا یہاں
جیسے کسی نے سوچ پہ پہرے بٹھا لئے

0
15
ہم سے جو کبھی تم کو شکایت بھی رہی ہے
یہ ہم سے محبّت کی علامت بھی رہی ہے
کچھ آپ سے اپنا ہے تعلّق بھی پرانا
کچھ ہم کو روایت سے محبّت بھی رہی ہے
اک غنچۂ گل صبح ، چٹکتے ہوئے بولا
ساتھی مرا سورج کی حرارت بھی رہی ہے

0
37
پھر کسی شخص کو سولی پہ چڑھایا جائے
شہر میں جو بھی کہے سچ وہ گھمایا جائے
تیرے عاشق جو گرفتار کئے جاتے ہیں
اپنے سینے پہ تِرا نام کڑھایا جائے
اب تو سورج بھی سوا نیزے پہ آ پہنچا ہے
اب تو سوئے ہوئے لوگوں کو جگایا جائے

0
5
زلف اس کی دراز ہوتی ہے
شب ہماری گداز ہوتی ہے
زخم جب بھی لگے ہیں کانٹوں سے
فصلِ گُل چارہ ساز ہوتی ہے
سجدۂ عشق عرش پر پہنچے
تب ہماری نماز ہوتی ہے

0
19
وہ ہاتھ دھو کے پیچھے مرے پڑ گئے ہیں کیوں
اچھے بھلے تھے آج انہیں کیا ہوا جنوں
پوچھا جو میں نے ان سے کہ احوال کچھ کہیں
شاعر ہیں کہہ رہے ہیں غزل ان کی میں سنوں

5
88
اپنی ظاہر جو وہ اوقات کئے جاتے ہیں
جھوٹ ہر بات سبھی سات کئے جاتے ہیں
بات کرنے کا مجھے موقع وہ دیتے ہی نہیں
پر کٹھن میرے وہ ، حالات کئے جاتے ہیں
جب بگاڑا ہی نہیں میں نے کسی کا کچھ تو
اس طرح مجھ سے وہ کیوں ہات کئے جاتے ہیں

0
8
تمہارے ساتھ جو گزری کسی بھی ساعت کو
کبھی بھلا نہیں پائے ہم اس سعادت کو
ملا نہیں ہے شجر کوئی اور ، رستے میں
تمہارے سائے نے آساں کیا مسافت کو
بچھڑنا جن کا قیامت تھا میرے دل کے لئے
اب آسرا ہے ملیں گے انہیں قیامت کو

0
17
پونچھے ہے قتل کر کے میری قبا سے ہاتھ
کہہ کر سجائے دیکھو میں نے حنا سے ہاتھ
ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چلنا تھا ساتھ ساتھ
اب مجھ سے وہ چھڑائے کِس کِس ادا سے ہاتھ
مجبور کر رہی ہے یہ گردشِ زماں
یا اُس نے ہے ملایا فرمانروا سے ہاتھ

0
6
بھوک کی شدّت سے جب انساں پریشاں ہو گئے
بھول کر انسانیت دست و گریباں ہو گئے
امتحاں ہوتے ہیں جذبے بھی کبھی اخلاق کا
قہر میں دیکھا ہے انسانوں کو حیواں ہو گئے
گو عموماً جھوٹ سے پرہیز ہی کرتے ہیں لوگ
سچ کی خاطر ہیں مگر کتنے جو قرباں ہو گئے

0
15
شمار اپنا بھی اب ہونے لگا ہے خستہ حالوں میں
ملا کرتے تھے جو ہر روز اب ملتے ہیں سالوں میں
ہمارے پیار نے اس کو جواں رکھا ہمیشہ سے
ہمیں چاندی نظر آتی نہیں ہے اس کے بالوں میں
بھلائی جا نہیں سکتی کبھی اس لمس کی گرمی
کسی نے جب مرے ما تھے کو چوما تھا خیالوں میں

0
20
حق و باطل جو ٹکراتا ہوا محسوس ہوتا ہے
تباہی اک بڑی لاتا ہوا محسوس ہوتا ہے
کیا مصلوب ، جھوٹا کہہ کے ، دنیا نے ، مسیحا کو
فلک پر بھی وہی جاتا ہوا محسوس ہوتا ہے
عصا ڈالا تھا موسٰی نے کہ سانپوں کو نگل جائے
مگر مجمع ہی گھبراتا ہوا محسوس ہوتا ہے

0
30
یہاں پہ آئے تو دلچسپ یوں کہانی ہوئی
پتہ چلا ہی نہیں ختم زندگانی ہوئی
نظر پڑی جو کسی پر تو دل بھی وار آئے
پھر اس کی نذر ہماری بھری جوانی ہوئی
ہنوز چھوڑ نہ پائے شباب کی باتیں
بدن پرانا ہوا روح کب پرانی ہوئی

0
16
جو ملا اس سے دل لگی کر لی
کیا قناعت سے عاشقی کر لی!
فصلِ گل کو چُرا لیا تم نے
ہم نے کانٹوں سے دوستی کر لی
جب نہ بارش ہوئی تو صحرا میں
گل نے ، شبنم سے ہی نمی کر لی

0
15
تنہائی میں آکر وہ رلایا نہیں کرتے
اب ان کے خیالات ستایا نہیں کرتے
اُڑ جائیں پرندے جو نشیمن سے سحر کو
ہر شام تو گھر لوٹ کے آیا نہیں کرتے
ان دل کے خزانوں کو رکھو تالے لگا کے
موتی سرِ مژگاں تو لُٹایا نہیں کرتے

0
21
اندر کی بات ہے جو ، سمجھ پائیں گے وہ کیا
ٹھوکر اگر لگی ہے ، سنبھل جائیں گے وہ کیا
کرتے ہیں وہ رقیب سے جا کر شکایتیں
اب اس سے بڑھ کے اور ستم ڈھائیں گے وہ کیا
ترکش سے اپنے تیر چلاتے تو خوب تھا
لشکر بھی ساتھ دشمنوں کا لائیں گے وہ کیا

0
13
دن جو گزرا ہے ترے بن ، مرا کیسے گزرا
پل کٹا جو بھی ہے گن گن ، مرا کیسے گزرا
ہوگئی شام تو ملنے کو مجھے آئے ہو
اور پوچھا بھی نہیں دن مرا کیسے گزرا
فیصلہ جانے کا کرتے ہوئے جانا ہی نہیں
نوجوانی کا تھا جو سِن مرا کیسے گزرا

0
15
اک سوزِ دروں ، دل کے سلگنے کے سبب ہے
یہ روگ لگا کس سے بچھڑنے کے سبب ہے؟
ہم کیسے رہیں زندہ جو اس کو نہ سنبھالیں
یہ زندگی ہی دل کے دھڑکنے کے سبب ہے
اس نیند کے بس خواب ہی دشمن نہیں ہوتے
بے خوابی بھی یادوں میں تڑپنے کے سبب ہے

0
13
زلف اس کی دراز ہوتی ہے
شب ہماری گداز ہوتی ہے
جب بھی کانٹوں سے زخم کھا کے چلے
فصلِ گُل چارہ ساز ہوتی ہے
سجدۂ عشق عرش پر پہنچے
تب ہماری نماز ہوتی ہے

0
6
زندگی دوڑتی جائے بڑی رفتار کے ساتھ
ہم فقط دیکھیں اسے بیٹھ کے دیوار کے ساتھ
ہاتھ میں لے کے قلم ہم نے تو پیغام دیا
کس نے پھیلایا ہے اسلام کو تلوار کے ساتھ
ماہِ کنعاں کو جو دیکھا تو چلے آئے سب
چل دیا چپکے سے لیکن وہ خریدار کے ساتھ

1
16
تمہارے ساتھ جو گزری کسی بھی ساعت کو
کبھی بھلا نہیں پائے ہم اس سعادت کو
ملا نہیں ہے شجر اور کوئی رستے میں
تمہارے سائے نے آساں کیا مسافت کو
بچھڑنا جن کا قیامت تھا میرے دل کے لئے
یہ آسرا ہے ملیں گے انہیں قیامت کو

0
7
ہمارے آنے سے دلچسپ یوں کہانی ہوئی
پتہ چلا ہی نہیں ختم زندگانی ہوئی
نظر پڑی جو کسی پر تو دل بھی وار آئے
پھر اس کی نذر ہماری بھری جوانی ہوئی
ہنوز چھوڑ نہ پائے شباب کی باتیں
بدن پرانا ہوا روح کب پرانی ہوئی

0
17
اک سوزِ دروں ، دل کے سلگنے کے سبب ہے
یہ روگ ملا کس سے بچھڑنے کے سبب ہے
دیکھے جو کسی کو تو اسے کون سنبھالے
زندہ ہوں جو گو دل کے دھڑکنے کے سبب ہے
اس نیند کے بس خواب ہی دشمن نہیں ہوتے
بے خوابی بھی یادوں میں تڑپنے کے سبب ہے

0
13
گر زندگی کا چاہئے آساں سفر ملے
کوشش کرو کہ صحبتِ اہلِ نظر ملے
منزل کی اور ہی بڑھے جو بھی بڑھے قدم
دنیا کا پیار راہ میں حائل بھی گر ملے
تم پر جو رات آئے شبِ قدر ہو وہی
جس پر نہ آئے رات پھر ایسی سحر ملے

0
9
اداس سب ہمیں سرو و سمن نظر آئے
خزاں میں پیڑ برہنہ بدن نظر آئے
کسی کی یاد میں کھوئے تو پھر کہیں ہم کو
نہ رنگ و بُو سے شناسا چمن نظر آئے
کنول سفید جو دیکھے تھے جھیل میں ہم نے
ہمیں وہ پہنے ہوئے کیوں کفن نظر آئے

0
9
سر پہ شفقت سے رکھا دستِ دُعا چاہا تھا
میں نے اک شخص کو اوروں سے سوا چاہا تھا
راستہ ڈھونڈنا مشکل تھا ، وہ تاریکی تھی
روشنی کرنے کو بس ایک دیا چاہا تھا
سو گیا تھک کے اگر راہ میں چلتے چلتے
میں نے خوابوں میں بھی اس کا ہی پتہ چاہا تھا

0
16
بچپن سے ہی رہی ہے تری جستجو مجھے
دیدار کی ہمیشہ رہی آرزو مجھے
آئے گا تب سکوں جو پلائے نگاہ سے
تسکین دے سکے نہیں جام و سبو مجھے
سوچا ہے یاد تُجھ کو دلاؤں گا میں کبھی
بھولی ہے کب جو تُجھ سے ہوئی گفتگو مجھے

0
15
ہوگئی شام تو ملنے کو مجھے آئے ہو
اور پوچھا بھی نہیں دن مرا کیسے گزرا
فیصلہ جانے کا کرتے ہوئے جانا ہی نہیں
نوجوانی کا تھا جو سِن مرا کیسے گزرا
تُجھ سے مل کر بھی الگ رہنا پڑا تھا مجھ کو
وہ زمانہ بھی ترے بن مرا کیسے گزرا

0
25
ہم تجھ سے محبّت نہ کریں گر تو کریں کیا
تجھ سے دمِ الفت نہ بھریں گر تو کریں کیا
پہنی ہوئی تُو نے جو خلافت کی ردا ہے
ہم نے بھی ترے ہاتھوں میں یہ ہاتھ دیا ہے
تُو نے جو کہا ہم نے ہمیشہ ہی کیا ہے
ہر خون کے قطرے میں ہمارے بھی وفا ہے

0
11
جب کسی نے کوئی بنائی بات
چار لوگوں کو وہ بتائی بات
تاکہ پھیلائیں اس کو سوچے بنا
ان کو کس نے ہے یہ سنائی بات
سوچنے کی ہے بات یہ لیکن
کیا ہے اخلاق نے سکھائی بات

0
6
گرچہ گنے نہیں گئے سود و زیاں میں ہم
شامل رہے ہیں ابتدا سے کارواں میں ہم
طوفاں میں آ پڑے نہ کہیں بر سرِ زمیں
تنکے تو چن کے لائے تھے اس آشیاں میں ہم
جاں دے کے گرچہ اس کی حفاظت تو ہم نے کی
اب لوگ پوچھتے ہیں کب آئے مکاں میں ہم

2
21
کس نے پھر موسمِ بہار دیا
جب خزاں آئی ، بار بار دیا
پھول کلیوں کو یوں نکھار دیا
بھر کے رنگ ان کا اشتہار دیا
وہ حسیں ہو گا کس قدر جس نے
حسن سب کو ہی مستعار دیا

0
16
سفر کا شوق بھی ، منزل کی آرزو بھی ہے
کبھی ہو اس سے ملاقات ، جستجو بھی ہے
یقین رکھتے ہیں اس پر کہ بولتا ہے وہ
کبھی ہماری ہوئی اس سے گفتگو بھی ہے
جو آگئے ہیں جھجکتے نہیں ہیں پینے سے
یہ میکدہ ہے یہاں جام اور سبو بھی ہے

0
10
ساقی مئے عرفان جو دیتا ہے پلا اب
مے خانے میں ہوتی ہے نماز اپنی ادا اب
جانا نہ ہمیں کوئی تو کیا خود کو چھپاتے
ہم نے بھی حرم جا کے سنبھالی ہے قبا اب
مانگے جو قبول اس کی دعا ہوتی ہے اب بھی
بخشش جو نہ ہوتی تو کہاں ہوتی لقا اب

0
15
تمہیں آواز دیتی ہے کہیں بلبل چلے آؤ
بہار آئی چمن میں سب کھلے ہیں گُل چلے آؤ
قفس میں قید ہیں جو ان سے کیا امید رکھتے ہم
تمہارے راستے جیسے ہی جائیں کُھل چلے آؤ
بدلتے موسموں میں کم یقیں ہوتا ہے بارش کا
مگر ایسی جھڑی میں بھیگ کر بالکُل چلے آؤ

0
31
کِس زمانے کی بات کرتا ہے
لوٹ آنے کی بات کرتا ہے
وہ فلک پر کبھی گیا ہی نہ تھا
جس کے آنے کی بات کرتا ہے
جب سے راس آگیا قفس ہر شخص
آشیانے کی بات کرتا ہے

0
16
دل چ آوے کنھی وار
کرئیے بیہ کے گلاں چار
ڈگدے ڈھئیندے ٹُر دے نال
اک جیون ، تے دکھ ہزار
آساں تانگاں کیوں چھڈ دَیّیے
جیوندا رئے او ساڈھا یار

0
12
کَنڈیاں وِچّوں بچ بچا کے لنگھ دا جیہڑا پار
اوہو ای سجن رب دا لوکو، رب وی اوہدا یار
ِشکر دوپہرے ٹُر دے ٹُر دے اسی جے چھاویں بیہہ گئے
کِیہ کرنا اے ایتھے لمّاں ، چوڑا کاروبار
لوکیں یار مناؤن دی خاطر ، کر دے جتن بتھیرے
رب نوں راضی کرن لئی پھڑ ، توبہ دا ہتھیار

0
7
جو بہت سوچیں ، تردّد میں پڑا کرتے ہیں
سادہ ہوتے ہیں محبّت جو کیا کرتے ہیں
یاد آتا ہے مصوّر جو نظر آئے صنم
جن کا ہوتا ہے خدا، یادِ خدا کرتے ہیں
زندگی مثلِ حباب آتی ہے اور جاتی ہے
دیکھتے دیکھتے بن کر وہ مٹا کرتے ہیں

0
17
چاک سے دور ، رفو گر تو نہیں جا سکتا
دور مجھ سے مرا دلبر تو نہیں جا سکتا
اے خدا میری خطائیں مری تقدیر میں تھیں
میں ترے حکم سے باہَر تو نہیں جا سکتا
ہاتھ اٹھائے ہیں ترے در پہ جو آ کے تو بتا
ہاتھ خالی لئے مضطر تو نہیں جا سکتا

26
دروازہ اس کا تھوڑا سا وا چاہئے مجھے
چوکھٹ پہ رکھ دوں سر وہ جگہ چاہئے مجھے
امّید لے کے آ گیا ہوں اس کے در پہ جب
ہو جو قبول اب وہ دعا چاہئے مجھے
اس کے بغیر جینے کا ہے سوچنا محال
اب زندگی نہ اس کے سوا چاہئے مجھے

0
15
کوئی سپنوں میں آنے لگ گیا ہے
مری نیندیں چرانے لگ گیا ہے
ہوا ہوں جب سے میں اس سے شناسا
مزہ جینے میں آنے لگ گیا ہے
نظر آیا ہے جب سے اس کا جلوہ
مرا دل بھی ٹھکانے لگ گیا ہے

1
16
فریب خوردہ ہو تم یا کہ حق شناس نہیں
بنے ہو دشمنِ جاں ، دوستی کا پاس نہیں
کسی نے دل میں عداوت جو ڈال دی ہو گی
گلہ ہے ہم سے ، تمہارے بنا ، اداس نہیں
جو نور اُترا فلک سےہمارے سینے میں
ہمارے چہرے پہ کیا اس کا انعکاس نہیں

0
12
یہ راحتیں مسرّتیں جو آج ہیں تو کل نہیں
یہ عارضی ہیں لذّتیں جو آج ہیں تو کل نہیں
یہ عالی شان مرتبہ یہ گاڑیوں کا کارواں
ہمیشہ کب رواں رہیں جو آج ہیں تو کل نہیں
دِکھانے ہی کی چاہتیں ضرورتوں کی دوستی
کبھی بنیں گی حسرتیں جو آج ہیں تو کل نہیں

0
16
وصل کی آرزو لئے چہرے
گھر سے نکلےکھلے کھِلے چہرے
نورِ عرفاں سے جو ہوئے روشن
ٹمٹمائے نہ پھر بجھے چہرے
گرم جذبے تھے سرد راتوں نے
زرد ان کے نہیں کئے چہرے

0
19
دل سے توحید کے اقرار کی خوشبو آئی
ہر بتِ شرک سے انکار کی خوشبو آئی
آ گئے لوگ جو سننے کو تجھے ویسے ہی
گفتگو سے انہیں افکار کی خوشبو آئی
منہ کی باتوں سے تو قائل نہیں ہوتا کوئی
لوگ مانیں گے جو کردار سے خوشبو آئی

0
12
زخم دل کا جو دکھایا تو فقط تیرے حضور
اشک کو رشک بنایا تو فقط تیرے حضور
دل میں پوشیدہ کئی بت بھی رہے ہوں گے کبھی
خود کو سجدے میں گرایا تو فقط تیرے حضور
غیر کو ہم نے بتایا نہ کبھی درد اپنا
دل نے گر شور مچایا تو فقط تیرے حضور

0
14
ہم نے کہاں اس جُرم سے انکار کیا ہے
تیّار ہیں بھگتیں گے سزا پیار کیا ہے
سوداگری کا شوق گو ہم کو بھی نہیں تھا
سودا دلوں کا ہم نے بھی اک بار کیا ہے
اس عشق میں ہی آدمی ہیں کام کے ہو ئے
وہ تو نہیں یہ عشق کہ بیکار کیا ہے

0
38
کچھ الگ سا ہے اس سے پیار مجھے
کوئی اس سا ملا نہ یار مجھے
وہ گیا تو مجھے خیال آیا
اس کی صحبت کا تھا خُمار مجھے
کب ملاقات ہو گی پھر اس سے
اب تو رہتا ہے انتظار مجھے

0
22
میں جب بھی اس کی گلی کا طواف کرتا رہا
مرے قصور وہ سارے معاف کرتا رہا
وہ آئے گا مجھے مہماں سمجھ کے ملنے کو
یہ سوچ کر میں کبھی اعتکاف کرتا رہا
مجھے تو دھول بھی اس کی گلی کی پیاری لگی
میں سجدہ کر کے وہیں دل کو صاف کرتا رہا

0
42
کیا فلک کی آنکھ نے دیکھے نہیں منظر تمام
ہم پھلے پھولے ہیں ، دشمن رہ گئے ابتر تمام
سرخرو کس نے کیا ہے ساتھ دے کر بارہا
کوئی رستے سے ہٹا دیتا ہے کیوں پتھر تمام
اب افق پر دیکھتے ہو جو اجالے صبح کے
دیکھنا اب جلد ہو گا رات کا منظر تمام

0
24
کھیل کا دن بھی منا لیں تو کوئی بات بنے
غیر کو اپنا بنا لیں تو کوئی بات بنے
پانچ دس بال ہیں اک بال کے پیچھے لیکن
باسکٹ میں اسے ڈالیں تو کوئی بات بنے
کھیلنے والے اگر ان میں ہوں سیّد زادے
ان سے رشتہ ہی جتا لیں تو کوئی بات بنے

0
34
سکوں سے اس کے بنا اب جیا نہیں جاتا
ستم تو یہ ہے کہ اس سے کہا نہیں جاتا
ہیں دُکھ ہزار اٹھائے مگر نہ آہ بھری
یہ دردِ دل ہے جو اب بھی سہا نہیں جاتا
نہیں ہیں وقت سے پہلے جو مرگ کے قائل
یہ کون کہتا ہے اُس پر مرا نہیں جاتا

0
23
رات جب آ جائے تاریکی کا سایا اوڑھ کر
غم ڈھلیں خوشیوں میں سپنوں کا لبادہ اوڑھ کر
کیسے پہچانیں انہیں، ہم سے بھی ہیں سادہ کئی
لوگ ملتے ہیں یہاں چہرے پہ چہرہ اوڑھ کر
حسن ، قدرت نے دیا جو وہ کبھی چھپتا نہیں
کیا سجیں گے سچ چھپا کر ، جھوٹا غازہ اوڑھ کر

0
32
حیا ، حجاب ، تبسّم ، سکون چہرے پر
خدا نے کیسا سجایا ، *فسون چہرے پر
زباں سے جاری معارف ، بیاں حقائق کا
کبھی نہ دیکھا کسی نے جنون چہرے پر
کسی کو کم ہی علامت کوئی نظر آئی
کہ پڑھ سکے وہ جو گزری *درون ، چہرے پر

0
8
سال آتا ہے جب نیا کوئی
سوچتے ہیں کریں بھلا کوئی
ہم نے وعدے کئے جو پچھلے برس
پورا ان میں سے کیا، کِیا کوئی
حادثے ، موت، بھوک ، مہنگائی
کس سے ان کا کرے گِلہ کوئی

0
22
ازل سے جھوٹ تو سچائیوں سے ڈرتا رہا
میں ہر بُرائی کی *انگنائیوں سے ڈرتا رہا
غرور پیدا نہ کر دیں یہ نیک ہونے کا
کبھی کبھی تو میں اچھائیوں سے ڈرتا رہا
میں سچ کی دھوپ میں بچپن سے ہی بٹھایا گیا
تبھی تو جھوٹ کی پرچھائیوں سے ڈرتا رہا

0
29
کب ہم نے کسی جُرم سے انکار کیا ہے
بھگتیں گے سزا ہم بھی اگر پیار کیا ہے
سوداگری کا شوق تو ہم کو بھی نہیں تھا
سودا دلوں کا ہم نے بھی اک بار کیا ہے
اس عشق میں ہی آدمی ہیں کام کے ہو ئے
وہ تو نہیں یہ عشق کہ بیکار کیا ہے

0
15
کیا حقیقت ہے کیا فسانہ ہے
ایک دن سامنے تو آنا ہے
قدریں بدلی ہیں وقت کا ہے اثر
یا ترقی کا شاخسانہ ہے
اب رسائی ہے علم تک سب کی
ہاتھ میں علم کا خزانہ ہے

0
39
حاکم و عادل کے جب منصب کا پردہ کُھل گیا
عام لوگوں سے چھپا مذہب کا پردہ کُھل گیا
اپنی اپنی ہر کوئی سمجھا تھا بہتر فکر کو
سچ پہ جو قائم تھا اس مکتب کا پردہ کُھل گیا
چاند سا مکھڑا چھپا رکھا تھا کب سے زلف نے
زلف لہرائی جو اس نے شب کا پردہ کُھل گیا

0
18
آئی جو فصلِ نو بہار باغ کا رنگ ہے وہی
بانٹیں گے ہم نوید کیا ہاتھ تو تنگ ہے وہی
ارض و سما میں کیا بھلا بنتی رہے گی کربلا
گھیرا ہے جس نے وہ بلا رہنی جو سنگ ہے وہی
اب بھی شرارِ بُولہب لڑتی رہے گی نُور سے
نیکی بدی میں تھی سَدا جاری سو جنگ ہے وہی

0
28
بات میں آپ کو گر اثر چاہئے
پھر حوالہ کوئی معتبر چاہئے
ساتھ سجدہ کوئی رات بھر چاہئے
اور سجدے میں بھی چشمِ تر چاہئے
گر دعا میں اثر چاہئے آپ کو
مانگنے کا سلیقہ، ہنر چاہئے

0
36
دستور یہ ہمارا یہاں ہر قدم رہا
صد شکر جو ملا نہ ملا تو نہ غم رہا
عادت پڑی سجود کی عہدِ شباب میں
اور شیب میں بھی سر تو اسی در پہ خم رہا
کام آ گئے جو وقت پہ لے کر گئے دعا
ان کا مقام دل میں کبھی پھر نہ کم رہا

0
28
روز دل میں خیال آتا ہے
کیسے جلوے خدا دکھاتا ہے
میں بھی لکھتا ہوں خوب لکھتا ہوں
جب سے میرا خدا لکھاتا ہے
اپنی مرضی سے میں نہیں کہتا
وہ جو کہتا ہے خود کراتا ہے

0
43
خود کو تم اس کی پنہ میں جو چھپا لو پہلے
اُس کی سب باتوں کو سینے سے لگا لو پہلے
تم نصیحت جو مجھے کرنے چلے ہو ٹھہرو
اک نظر اپنے گریباں میں بھی ڈالو پہلے
فکر کرتے ہو مرے گھر کی چلے آئے ہو
اپنا جلتا ہوا گھر دیکھو بچا لو پہلے

0
20
کچھ اس برس بھی چلن اور تھا ہواؤں کا
تماشہ دیکھتے گزری ہے پھر بلاؤں کا
تمام سال کیا انتظار ختم ہو اب
مگر نہ بند ہوا سلسلہ وباؤں کا
گزر رہے ہیں اسی آسرے میں روز و شب
کبھی تو ختم سفر ہو گا یہ سزاؤں کا

0
32
آتا ضرور اس کو محبّت نہیں ملی
دل منجمد تھا جس کو حرارت نہیں ملی
میں اس کے گھر پہ جا کے بلاتا اسے ضرور
اس کی بھی مجھ کو اس سے اجازت نہیں ملی
قائل ہماری مخلصی کا وہ نہیں تو کیا
اس کو کبھی ہماری رفاقت نہیں ملی

0
25
چمن میں دیکھ کے اُس کو جو مسکرایا تھا
مرے لئے وہ وہی پھول توڑ لایا تھا
میں گھر بناتے ہوئے وہ درخت کیوں کاٹوں
کہ تیز دھوپ میں اس کا ہی مجھ پہ سایہ تھا
الگ ہوا ہوں جو دنیا سے پھر یقین ہوا
جسے سمجھتا تھا گھر اپنا وہ پرایا تھا

0
32
کٹھن تھی راہ بہت یہ تو اک بہانہ تھا
پہنچ گئے ہیں وہ آخر جنھوں نے آنا تھا
جو آ گئے ہیں تو وہ کشتیاں جلا آئے
انہوں نے لوٹ کے واپس کہاں پہ جانا تھا
خرد سمجھ نہیں پائی ہے عاشقوں کا مزاج
کہ عشق یوں بھی جنوں ہی کا شاخسانہ تھا

0
24
سنا ہے جا رہے ہو اس سے ملنے
اس سے کہہ دینا
بہت سی تشنہ روحیں اور بھی ہیں جو
نہ جانے منتظر کب سے ہیں ملنے کو
مگر مجبوریاں ان کو
یہاں آنے نہیں دیتیں

0
29
روح کی تشنگی مے خانے میں لے آئی ہے
کیوں ترے در پر یہ انجانے میں لے آئی ہے
جب چلی یاد تری ساتھ تو ایسا نہ لگا
وہ محلّے کسی بیگانے میں لے آئی ہے
روشنی ڈھونڈنے نکلا جو میں دل کے اندر
یوں لگا تیرگی تہہ خانے میں لے آئی ہے

0
39
اگرچہ اس سے محبّت کی بات کرتے ہیں
وہ کم ہیں اس کی مقدّم جو ذات کرتے ہیں
کھڑا ہے تاک میں ہر وقت نفسِ امّارہ
ہیں خوش نصیب اسے جو بھی مات کرتے ہیں
ہیں مشکلوں میں بہت لوگ ، جیسے تیسے بس
وہ رات دن کو ، کبھی دن کو رات کرتے ہیں

0
18
پہنچ تو جاتا میں رستہ نہ گر بھُلا دیتا
میں بھول کر ، کسے ، تیرے سوا صدا دیتا
مجھے یقین تھا آئے گا دوڑ کر تُو بھی
اگر میں تیری طرف دو قدم بڑھا دیتا
سکونِ قلب کی خاطر پھرا جو دنیا میں
تُو ابتدا سے مرا خود سے دل لگا دیتا

0
30
گرچہ الزام تو اس پر بھی سراسر آئے
چاند پر تھوکا ہوا اپنے ہی منہ پر آئے
کاش وہ کھول کے آنکھیں انہیں دیکھے اک روز
اس کو پیغام جو الفت کے برابر آئے
دیکھنا یہ ہے کہ اخلاق ہیں کس کے اعلٰی
لے کے سونا تو بہت ہاتھ میں زرگر آئے