| جو گھر سے نکلے تھے منزلوں کی تلاش میں وہ بکھر گئے ہیں
|
| فضا میں چیخوں کی گونج باقی ہے خواب سارے تو مر گئے ہیں
|
| زمیں پہ بکھرا پڑا ہے سامان زندگی کی ہنسی اڑائے
|
| فلک پہ قسمت کے سب ستارے ہی رُخ بدل کر گزر گئے ہیں
|
| نہ ماں کی ممتا بچی ہے باقی نہ پیارے بچوں کی مسکراہٹ
|
| مسرّتوں کے حسین لمحے وہ ایک پل میں کدھر گئے ہیں
|
|
|