Circle Image

ڈاکٹر طارق انور باجوہ

@TariqBajwa

ہو سکی تم سے ملا قات بہت تھوڑی ہے
تم سے ہو پائی ہے جو بات بہت تھوڑی ہے
تم کو جی بھر کے ابھی دیکھا کہاں ہے میں نے
اب جو باقی ہے بچی رات بہت تھوڑی ہے
شمع کی طرح لُٹا دیتے ہیں جاں پروانے
پھر بھی پروانے کی اوقات بہت تھوڑی ہے

0
2
ابتدا انتہا تو نہیں ہے پتا
میں تو سمجھا یہی علم کی انتہا
یہ بتایا گیا ہے مجھے بارہا
عشق میں ہو نہ جانا کہیں مبتلا
پی کے امرت کا پیالہ جو رسوا ہوا
خُلد سے آدمی کو نکالا گیا

0
6
آنکھیں سچی ہوتی ہیں سچ بولتی ہیں
لاکھ چھپاؤ راز دلوں کے کھولتی ہیں
سچی باتیں دکھتی رگ پر ہاتھ رکھیں
جذبوں کے پھر مُردہ جسم ٹٹولتی ہیں
مولا تُجھ کو دیکھ نہ پائیں آنکھیں پر
تیری باتیں کانوں میں رس گھولتی ہیں

0
3
آنکھوں میں خواب بھر کے جو سویا کرو کبھی
یادوں کا حسن دل میں سمویا کرو کبھی
پھولوں سے قربتیں ہوں تو کانٹے ہوں ساتھ ساتھ
تم دشمنی کے بیج نہ بویا کرو کبھی
تم کو جو راس آئے قناعت کی زندگی
راتوں کی نیند ، چین نہ کھویا کرو کبھی

0
12
تم آئینے کے سامنے جاؤ گے پھر کبھی
باطن بھی اپنا سامنے لاؤ گے پھر کبھی
تم نے کیا نہ گر کبھی دستِ طمع دراز
مایوس ہو کے سر نہ جھکاؤ گے پھر کبھی
اپنی محبّتوں سے کرو گے جو انحراف
تم زندگی میں چین نہ پاؤ گے پھر کبھی

0
1
نسخہ ہائے آزمودہ کی کتابوں میں لکھا
کب ہے اکسیرِ حیاتِ جاودانی کا پتا
گر خدا کی معرفت پا جائے انساں ہر گھڑی
وہ رہے راضی خدا سے جس کی وہ پائے رضا
کس قدر آزردہ خاطر ہو گئے یہ دیکھ کر
وہ جسے ملنے گئے چپکے سے وہ چلتا بنا

0
5
تم بھی کیا کیا کچھ لکھتے ہو
لکھتے ہو جو سچ کہتے ہو
مشکل میں گھر آ جاتے ہو
یوں تو آوارہ پھرتے ہو
مرنا ہے تو جی کے دکھاؤ
جانے کس کس پر مرتے ہو

0
4
میری یادوں میں وہ ہنسی ہے ابھی
یاد لہجے کی دلکشی ہے ابھی
آ گیا ہوں جو میں اسے ملنے
اس کی مجھ پر نظر پڑی ہے ابھی
دل ہے بے تاب اُس سے ملنے کو
ایک وارفتگی بچی ہے ابھی

0
3
ایسا دیکھا نہ کبھی عشق کا اظہار ہوا
چارہ گر دیکھنے آیا تو وہ بیمار ہوا
رات کے پچھلے پہر چاند نکل آیا جب
مضمحل تاروں کو پھر ہجر کا آزار ہوا
حسرتِ دید لیے جاں سے گئے برسوں لوگ
تب کہیں جا کے مسیحا کا ہے دیدار ہوا

0
2
سجدہ ہائے آخرِ شب ، اشک مژگاں پر رواں
حالِ دل لب پر ہو جاری ، سینے میں آتش فشاں
محوِ خوابِ حُسنِ جاناں ہو کے جانا اس قدر
ہیں تلاطم خیز جذبے ایک بحرِ بیکراں
آدمیّ گر، انس رکھے گا خدا اور خلق سے
تب کہیں انسان کہلانے کے قابل ہو میاں

0
3
اوس بھی اتری ، اشکوں کے سنگ آدھی رات کے بعد
دیکھے ہم نے الفت کے رنگ آدھی رات کے بعد
نیند نہ آئے جب تک اس کی یادیں ساتھ رہیں
سپنوں میں وہ کرتا ہے تنگ آدھی رات کے بعد
چھوڑنے کب دے نیند کو بستر ، کھینچے یار کی چاہ
جذبوں کی چھڑ جاتی ہے جنگ آدھی رات کے بعد

0
3
جیون ہے سانسوں کی ڈور پہ اڑتی جاتی ایک پتنگ
کیسے دیکھ فضا میں کٹ کر ہے لہراتی ایک پتنگ
کسی کسی کی ڈوری دور سمے تک اونچی اُڑتی جائے
گرے کسی کی کٹ کر اڑتے ہی بل کھاتی ایک پتنگ
کہے یہ اس سے میں بھی تُجھ پر جان نچھاور کر دوں گا
کوئی شمع جب دیکھے روشن روشن آتی ایک پتنگ

0
4
تمہیں کب کسی نے کہا تھا یہ مرے گھر میں تارے اتار دو
جو کہا فقط تو یہی کہا مرے قرض سارے اتار دو
مری روح تو لئے درد ہے مرے دل میں سوزشِ کرب ہے
وہ سکون پائیں گے سب ادھر یہاں غم کے مارے اتار دو
مرے جانتے ہیں یہ مہرباں نہیں اب رہا کوئی گلستاں
نہیں پھول کوئی بچے اگر مجھے کانٹے سارے اتار دو

0
4
سارا عالم دُہائی دیتا ہے
کون کس کو خدائی دیتا ہے
ذرَّہ ذرّہ گواہ تیرا ہے
دعوتِ رونمائی دیتا ہے
عشق بیٹھا تماش بیں کیوں ہے
حسن ہر سُو دکھائی دیتا ہے

0
4
20
خود کو آزاد کر رہا ہوں اب
دل کو آباد کر رہا ہوں اب
صید کو میں نے کر دیا آزاد
قید صیّاد کر رہا ہوں اب
غور کر لیں تو کچھ سمجھ آئے
یہ جو ارشاد کر رہا ہوں اب

0
4
الفاظ میں جادو ہے معانی میں نہیں ہے
سو اُس کی طلب میری کہانی میں نہیں ہے
وہ پیاس بجھاتا ہے ڈبوتا نہیں تم کو
گہرائی تو دریا میں ہے پانی میں نہیں ہے
ہر کوئی بڑھاپے میں تو ہو زاہد و عابد
کیا توبہ اگرعہدِجوانی میں نہیں ہے

0
9
اُس سے ہو جائے ملاقات یہ وعدہ بھی نہیں
اُس کی رحمت سے تو مایوس زیادہ بھی نہیں
سر میں سودا جو سمایا ہے اسے ملنے کا
چل پڑا ہوں مرا رُکنے کا ارادہ بھی نہیں
میرے دامن پہ اگرچہ ہیں ہزاروں دھبّے
روکنے والا مجھے میرا لبادہ بھی نہیں

0
8
ہم جو تھوڑا سا کہیں شکوہ شکایت کر لیں
آپ بھی ہم پہ ذرا نظرِ عنایت کر لیں
آپ سے یوں تو ملاقات بڑی مشکِل ہے
کیوں نہ اب آپ کے ہی شہر میں ہجرت کر لیں
گر نہیں تُجھ سے ملاقات کے قابل یارب
ہم تجھے سجدہ ہی کرنے پہ قناعت کر لیں

0
7
اے مرے پاک وطن میرے وطن پیارے وطن
تُجھ پہ قربان مری جان مرے تن من دھَن
تیری خوشبو سے مہکتا ہے مرے دل کا چمن
تیرے نظّارے وہ دریا وہ ترے کوہ و دمن
تیرے صحراؤں میں سونا بھی بنا ہے کندن
لعل و گوہر تری مٹی سے جو نکلے روشن

0
15
یوں تو ہے آبگینہ، عورت ہے اک خزینہ
ہم کو ملا زمیں پر یہ قیمتی نگینہ
آتی ہے گھر میں جب یہ ہوتی ہیں رونقیں یوں
اتری پری ہو کوئی یا حور سی حسینہ
ہوتی ہے لاڈلی یہ ماں باپ کی تو ایسی
جیسے کہ مل گیا ہو قارون کا دفینہ

0
19
گنبد کو توڑ دو گے مینار توڑ دو گے
تم مسجدیں بھی شاید دو چار توڑ دو گے
آخر کو کیا ملے گا کلمہ تمہیں مٹا کے
حق کا جو ہو رہا تھا اظہار توڑ دو گے
ایمان سے منوّر توڑو گے دل یہ کیسے
ان پر رقم خدا کا کیا پیار توڑ دو گے

0
11
پھر سے جاہل کوئی کرسی پہ بٹھا دیں نہ کہیں
پھر سے منصور کو سُولی پہ چڑھا دیں نہ کہیں
وہ جو ہے نقش تِرا چہرہ مری یادوں میں
میرے بدلے ہوئے حالات چھپا دیں نہ کہیں
بیٹھ کر ریت پہ ساحل کی، تِرا نام لکھوں
پھر میں لہروں سے لڑوں ، اُس کو مِٹا دیں نہ کہیں

1
29
لوٹ کر اپنے گھر جو آنے لگے
دل کو اچھے کئی بہانے لگے
کھو گئے ہم کہیں پہ رستے میں
ڈھونڈنے میں کئی زمانے لگے
جو ملے دوست وہ پرانے تھے
ہم کو وہ دوست ہی خزانے لگے

3
141
دم بدم ہم قدم، ہم قدم دم بدم
سارے مل کر چلیں ہم قدم دم بدم
ساتھ تیرے چلیں سانس کے زیر و بم
دم بدم ہم قدم، ہم قدم دم بدم
تُو نے پہنا خلافت کا جب پیرہن
تُجھ سے بیعت ہوئے ہیں سبھی مرد و زن

1
31
رفاقت تُجھ سے ہوتی جا رہی ہے
کہ اُلفت تُجھ سے ہوتی جا رہی ہے
خلافت کا جو پہنا تاج سر پر
ارادت تُجھ سے ہوتی جا رہی ہے
ترے اخلاق کا ہے یہ کرشمہ
کرامت تُجھ سے ہوتی جا رہی ہے

0
4
45
اب امانت میں خیانت نہیں کی جا سکتی
ہو فراست تو حماقت نہیں کی جا سکتی
مجھ کو بھیجا ہے یہاں کوئی تو مقصد ہو گا
زندگی یوں تو ودیعت نہیں کی جا سکتی
ہر کوئی اپنے عمل کا ہے اگر ذمہّ دار
بن تعلّق تو شفاعت نہیں کی جا سکتی

0
6
شرافت ہچکچائے جن سے یہ وہ پیر لگتے ہیں
تو ان کے معتقد کیوں صاحبِ توقیر لگتے ہیں
سنا تھا ذکر جن لوٹوں کا اب بھی ہیں سیاست میں
کبھی چمچے جو کہلاتے تھے اب کفگیر لگتے ہیں
مرے کچھ مہرباں نالاں ہیں اتنے ڈاکٹر سے اب
حکیموں کے سبھی نسخے انہیں اکسیر لگتے ہیں

0
9
دل کی تنہائی کہیں مار نہ ڈالے مجھ کو
یہ تمنّا ہے کہ تُو اپنا بنا لے مجھ کو
ٹوٹ کر جب میں بکھر جاؤں کبھی وقت کے ساتھ
تیری یادوں کا کوئی لمحہ بچا لے مجھ کو
پھول سے مجھ کو بھلا شکوہ کوئی کیسے ہو
رنگ بدلے تو وہ خوشبو میں بسا لے مجھ کو

9
ہم ترے شہر میں اس طور گزارا کرتے
یاد کر کر کے ، تجھے روز پکارا کرتے
تیری خاطر ہی اتر آئے تھے میدان میں ہم
ورنہ ہر گام پہ ہم ، دنیا سے ہارا کرتے
وقت مشکل تھا ملاقات کا ساماں نہ ہوا
کیسے ممکن تھا کہ ہم تم سے کنارا کرتے

0
12
جو تم نے چاہا کبھی ویسے ڈھل نہ پائے ہم
کبھی بھی خواہشِ دُنیا کچل نہ پائے ہم
کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی ہم نے
کہ اپنی ذات سے باہَر نکل نہ پائے ہم
سبق لیا نہ کبھی کائنات سے ہم نے
نظامِ گردشِ دوراں پہ چل نہ پائے ہم

2
19
روشن ہیں آسمان پہ جیسے مہ و نجوم
بِکھرے ہوئے ہیں چار سُو عشّاق کے ہجوم
ہے برکتوں سے پُر جو مسیحا کا ہے نزول
خوشبو اسی کی پھیلتی جاتی ہے بالعموم
جس نے اُٹھایا بوجھ یہ قربانیوں کا خود
اُس کو خُدا نے خود کہا جہول اور ظلوم

0
13
ہے کوئی ربط باہم لکھا ہے
اور بھی ایک عالَم لکھا ہے
مجھ کو خوشیاں ودیعت ہوئی ہیں
تیری قسمت میں ماتم لکھا ہے
ہے خدا کا ہی وہ اسمِ ذاتی
گر کہیں اسمِ اعظم لکھا ہے

0
12
حشر کا سوچا تو ایسے مضطرب ہونے لگے
ہم تو اپنے آپ ہی سے مجتنب ہونے لگے
احتساب اپنا وہ خود لیتا فرشتے بھی مگر
بیٹھ کر کندھوں پہ اپنے محتسب ہونے لگے
انتخاب اس کا اگر بندے کریں تو کیا ہوا
اذنِ ربّ سے جب خلیفہ منتخب ہونے لگے

0
8
سحر ہماری بھی ہر روز شام ہوتی رہی
یہ زیست گر چہ تمہارے ہی نام ہوتی رہی
رموزِ عشق سمجھنے کا حوصلہ نہ ہوا
جنوں سے گرچہ خرد ہمکلام ہوتی رہی
مسیحا آ گیا ایفائے عہد کرنے کو
اسی کے حکم سے تیغ اب نیام ہوتی رہی

1
26
پردے میں رہ کے بھی عیاں حسن و جمال کر دیا
ہر شے بنا کے آئنہ اس نے کمال کر دیا
میں تو گیا تھا مانگنے دید کی اک جھلک مگر
وعدۂ وصل سے مجھے اس نے نہال کر دیا
اس کے بغیر زندگی گزری جو بے مزہ تھی وہ
پایا اسے تو بھولنا دل نے محال کر دیا

0
21
دیکھا ہے وہ چہرہ کبھی جی بھر نہیں دیکھا
نظریں جو ملیں ، نظریں اُٹھا کر نہیں دیکھا
اک حسن کے جلوے کا تصور تو ہے قائم
آنکھوں نے اسے نور سے باہَر نہیں دیکھا
اُس شمعِ فروزاں پہ فدا ہم جو ہوئے ہیں
اُس لعل سا روشن کوئی گوہر نہیں دیکھا

0
11
یہ نظارے مصور کی بنی تصویر لگتے ہیں
کتابِ زندگانی کی لکھی تفسیر لگتے ہیں
یہ غزلیں گیت نغمے جو کہ بکھرے ہیں فضاؤں میں
سراپا حُسنِ کامل کی مجھے تحریر لگتے ہیں
چمن میں غنچہ و گل ، رنگ و بُو پھیلے ہیں جتنے بھی
مرے محبوب کے رنگوں کی ہی تشہیر لگتے ہیں

4
223
ہم نے آئین کی جو پار کی حد
تم لگاؤ گے اختیار کی حد
آزمائش کو آگئے ہو پھر
تم نے دیکھی نہیں ہے پیار کی حد
جان لے لو گے اس سے آگے کیا
ہو گی کوئی تمہاری مار کی حد

0
13
جب سے اپنے آپ سے ہم مجتنب ہونے لگے
اپنے ہونے پر بھی ہم ہیں مضطرب ہونے لگے
احتساب اپنا وہ خود کرتا فرشتے بھی مگر
بیٹھ کر کندھوں پہ اپنے محتسب ہونے لگے

1
15
تم ہم سے شکایت کرتے ہو کس نے یہ کہا خاموش رہو
ہم بولے جب تو دھیرے سے یہ کہہ بھی دیا خاموش رہو
منہ کھولو جب تو تم ساری سچی باتیں ہی کرتے ہو
سچ کہنے سے کٹتا ہے گَلا پھر کیا ہے گِلہ خاموش رہو
سقراط کے قدموں پر چل کر تم زہر کا پیالہ پی جاؤ
ہے باقی کیا کہنے کو بچا اچھا یا برا خاموش رہو

0
1
24
خیر تُو یونہی دان چاہتا ہے
اور اونچی اڑان چاہتا ہے
رات بھر جاگتا ہے تیرے لئے
وہ جو تیری امان چاہتا ہے

0
16
دابّة الأرض نے اک حشر بپا رکھا ہے
جابجا شور قیامت کا مچا رکھا ہے
شہر کے شہر نے دستانے پہن رکھے ہیں
سب نے چہروں کو نقابوں سے چھپا رکھا ہے

0
21
مسکراہٹ بانٹنے تم آؤ نا
آ کے محفل میں کبھی تم جاؤ نا
یاد کے گہرے سمندر میں کبھی
تم اتر جاؤ تو واپس آؤ نا
اک طلسماتی محل میں بیٹھ کر
گیت مدھم سُر میں کوئی گاؤ نا

0
20
اب تو اپنوں سے بھی ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے
زندگی جیسے کٹھن کوئی سفر لگتا ہے
ہم نے دشواریٔ حالات کو دیکھا ہے مگر
آج انجانا ہمیں اپنا ہی گھر لگتا ہے
ہم کو دشمن نے ہمیشہ ہی غلط سمجھا ہے
اس کو ہر بات میں سازش کا اثر لگتا ہے

0
1
24
کہاں جنوں پہ خرد کا کچھ اختیار چلے
مگر سیانے وہی تھے جو دل کو وار چلے
پڑی ہے جب سے نظر اک حسین کی ہم پر
نگاہِ چشمِ ِفسوں ساز کا خُمار چلے
خبر ملی ہے انہیں بھی ہمارے ملنے کی
رقیب ، کوچۂ یاراں سے ، دل فِگار چلے

0
14
82
گھر میں کیوں شور ہے ، شہروں میں ہوا سنّاٹا
دل کی دھڑکن نے مری توڑ دیا سنّاٹا
شہر کے دشت میں تھا ، صبح و مسا ہنگامہ
اس پہ تنہائی کےصحرا میں ملا سنّاٹا
وقت کی جھیل پہ ، اس نے ہی مرا ساتھ دیا
جب مری یادوں کی ناؤ میں چلا سنّاٹا

1
47
وہ جو مجرم تھے کہاں موردِ الزام ہوئے
ہم ترے کوچے میں آ کر یونہی بدنام ہوئے
پھینک کر تیر نگاہوں کا تو صیّاد گئے
ہم جگر سوختہ بسمل یوں لبِ بام ہوئے
نور کو تیرگی کب تک نہ اترنے دے گی
روز آ جاتی ہے گھر پر جو مرے شام ہوئے

0
12
اک اور عاشقِ مولا ہے جا ملا اُس سے
وہ اُس سے راضی تھا راضی رہے خُدا اس سے
مبارک اس کا تھا نام احمد اور طاہر بھی
کہ انجمن لیا کرتی تھی مشورہ اس سے
خدا نے وقف کی توفیق دی جوانی میں
کیا تھا عہد تو کی عمر بھر وفا اس سے

0
16
مجھ کو لگا وہ شخص بڑا معتبر سا تھا
وہ آگے چل رہا تھا مگر ہمسفر سا تھا
صدیوں کے بعد پیدا ہوا جب تو چار سُو
ہر کوئی انتظار میں تھا باخبر سا تھا
علم و ہنر کی بام پہ کرتا تھا گفتگو
وہ راہبر تھا گرچہ وسیع النظر سا تھا

0
16
کتنے ہی خواب اپنے سہانے دبا دئے
یادوں میں رہ گئے جو فسانے دبا دئے
آئے تو تھے زمیں سے خزانے نکالنے
ہم نے زمیں میں کتنے خزانے دبا دئے
ماحول خوشگوار میسّر رہا مگر
ہم نے ہی دل فریب ترانے دبا دئے

0
3
24
نہ ہم سے پوچھا کسی نے ، نہ کچھ حساب ہوا
کسی کے پیچھے چلے یوں نہ احتساب ہوا
تمہیں نکال کے لائے تھے جو خرابوں سے
عتاب ان پہ ہوا اور وہ شتاب ہوا
دل و دماغ میں یہ جنگ اب بھی جاری ہے
کہ خیر و شر میں بھلا ، کس کا انتخاب ہوا

0
9
بچپن سے ہی سبق ہمیں ایسے پڑھا دئے
جینے کے زندگی نے سلیقے سکھا دئے
قوسِ قُزَح کو دیکھ کے حیران ہم ہوئے
قدرت نے اس میں رنگ جو بھر کے دکھا دئے
دیکھا ہے برف باری نے ڈھانپے سبھی بدن
سب کو سفید رنگ کے کپڑے دلا دئے

1
13
وحشت تری آنکھوں سے نکل جائے تو اچھا
حسرت جو مسرّت میں بدل جائے تو اچھا
مہمانوں سے ہوتی تھی ترے گھر میں جو رونق
اب یاد سے اس کی تُو بہل جائے تو اچھا
خود بینی کا سامان ، شکستہ ہوئے دیکھا
گر دل کا بھی آئینہ بدل جائے تو اچھا

0
11
ذکر کل محفل میں چل نکلا مرے دلدار کا
مل گیا موقع مجھے بھی پیار کے اظہار کا
حسن کا نقشہ جو کھینچا لکھ دئے سارے حروف
جن سے بن جائے گا مجموعہ مرے اشعار کا
اپنی آنکھیں دیکھ کر شرما گئی چشمِ غزال
حسن جب اس کو نظر آیا ہے چشمِ یار کا

0
60
مدّتوں کے بعد پھر سے چین آیا ہے مجھے
اس نے ملنے کیلئے خود گھر بلایا ہے مجھے
دل کے دروازے پہ دستک دینے والا کون ہے
رات کے پچھلے پہر کس نے جگایا ہے مجھے
میں تو کاروبار اہلِ دل سے کچھ واقف نہ تھا
آشنائے دردِ دل کس نے کرایا ہے مجھے

0
6
زندگی ہم نے گزاری ہے انہی لوگوں میں
سلسلہ پیار کا جاری ہے انہی لوگوں میں
ہیں محبّت میں گرفتار اسی محسن کے
کوئی تو بات ہماری ہے انہی لوگوں میں
اُس کی سچائی کو قرآن نے جو پیش کیا
سب ثبوتوں پہ وہ بھاری ہے انہی لوگوں میں

0
8
شکر اس محسن خدا کا روز و شب شام و سحر
جس کے احسانوں کے نیچے ہم ہیں سارے سر بسر
اس نے پیدائش سے پہلے بخش دی ہر چیز وہ
جس کی پڑ سکتی ضرورت تھی بہ حیثیت بشر
پرورش کرنے کو جو موجود تھے ماں باپ یاں
ان کے دل میں ڈال دی الفت رہے ہم جن کے گھر

0
9
پانی ہو معرفت کا میسّر اگر رواں
پا جائیں اس کے پینے سے اک دوسرا جہاں
اس سے کریں وضو تو ہو لذّت نماز میں
عرفاں کے پانیوں میں رہیں رات دن یہاں
روحانی مائدہ کے یہ اترے ہیں طشت جو
نازل ہوئے ہیں اُس پہ جو ہے مہدئ زماں

4
40
آتے آتے اس کو ہم پر اعتبار آ ہی گیا
وقت جس کا کر رہا تھا انتظار آ ہی گیا
عمر اک ہم نے گزاری خواب اس کے دیکھتے
آنکھ جب آخر کھلی موسم بہار آ ہی گیا
ہم محبّت میں خوشی سے سب ستم سہتے رہے
دیکھ کر آخر وفا اس کو بھی پیار آ ہی گیا

0
8
شکر کرنے کے لئے اپنے خدا کا بار بار
چاہئے کرنا کبھی کچھ اُس کے فضلوں کا شمار
کون ہوتا ہے تری محفل میں آ آ کے شریک
پڑ رہی ہے کس کی رحمت کی ترے گھر پر پھوار
کون ہے جس نے تجھے بچپن سے رکھا ہے عزیز
کس کے دم سے ہر خزاں کے بعد آئی ہے بہار

1
11
غمِ ہجراں میں جو اک شہر کو آباد کیا
ہم کو اچھا وہ لگا جس نے ہمیں یاد کیا
کچھ تو انجانے میں سرزد ہوئے ایسے بھی عمل
جن کی یادوں نے ہمیں آج بھی ناشاد کیا
کس سلیقے سے بھری آہ جو دیکھا اُس نے
سامنے اس کے جو ہم نے دلِ برباد کیا

1
44
ہم محبّت کے طلب گار کہے جاتے ہیں
وہ ہمیں کاہے کو اغیار کہے جاتے ہیں
ہم کو کب یارا ہے جلوے کا ، پسِ پردہ ہی
گفتگو ہو ، اسے دیدار کہے جاتے ہیں
ہے جنوں خیز خرَد تجربہ کر کے دیکھا
ہیں الگ اپنے جو افکار کہے جاتے ہیں

1
17
خواہشِ نفس کے شعلوں کو دبا رکھا ہے
آتشِ عشق کو ہم نے بھی جلا رکھا ہے
شہر کے شہر نے دستانے پہن رکھے ہیں
ڈر سے قاتل کے ،نقاب اپنا چڑھا رکھا ہے
آبِ زمزم سے جو کعبے کی صفائی کی ہے
اُس نے مہمانوں کے آنے کا بتا رکھا ہے

1
14
میکدے میں کبھی ساقی نے اگر چھوڑ دیا
ہم نے کب نشّے میں محبوب کا در چھوڑ دیا
ذکرِ دُشنام دہی سُن کے جو رونا آیا
اشک پلکوں میں پرونے کا ہنر چھوڑ دیا
راحتِ وصل کی عادت نہیں ڈالی خود کو
قیس نے ہجر میں تنہائی کا ڈر چھوڑ دیا

1
13
تیار ہو کے گھر سے جو آتے تو خوب تھا
خوشبو جو بن سنور کے لگاتے تو خوب تھا
ہوتی چمن سے معرفت کے آشنائی جب
تم صبح و شام سیر کو آتے تو خوب تھا
لکھتے محبّتوں کے پیام اس کے نام سب
گیت اس کے پیار میں سبھی گاتے تو خوب تھا

0
2
80
ترے نقوش کو تصویر میں اُبھارا گیا
ترے سُخن تری تحریر کو نکھارا گیا
قصیدے شان میں تیری بہت سے لکھے گئے
عطا کئے گئے القاب سے پکارا گیا
تجھے تو ایک ہی تمغہ تھا باعثِ اعزاز
وہاں تو مدح کے انبار سے گزارا گیا

1
27
نظریں پھسل نہ جائیں ہو عاقِل کی احتیاط
کرتا ہے شیخ گرچہ مسائل کی احتیاط
میرے طریق پر چلیں گے جانے کتنے لوگ
کرنا ہے مجھ کو اپنے شمائل کی احتیاط
ہیں اس قدر کٹھن یہ عمل امتحان کے
کر پائے کون ایسے عوامل کی احتیاط

1
19
نقیبِ شہر نے چرچا کیا ہے گلیوں میں
ہے آیا حکم کہ منصور کو سزا دیں گے
چلی ہے رسم جو حق بات صاف کہنے کی
وہ ایسی رسم کو بنیاد سے مٹا دیں گے
بپھر گیا ہے سمندر تو اب وہ موجوں کو
ہماری سمت میں چلنے کی خود ہوا دیں گے

0
21
جو محبّت کا لئے آیا پیام اس کو سلام
جس کو کرتے ہیں فرشتے بھی سلام اس کو سلام
جس کے آنے سے مہک پھیلی ہوئی ہے چار سُو
جس سے گلشن میں ہوئی رونق تمام اس کو سلام
اس زمانے میں محمد کا نما ئندہ ہے جو
ہے مسیحا اور مہدی جس کا نام اس کو سلام

0
10
مانگتے ہیں اس کے در سے ہم سبھی کی خیر کو
جب کبھی جلتے ہوئے دیکھیں حسد سے غیر کو
دل کے دروازے پہ دستک دے کے سب اس کے خیال
پوچھتے کب ہیں ، کہ آ جائیں ذرا ہم سیر کو
پڑھ کے پیمانِ حرم کے سب تقاضے کہہ دیا
الوداع کہنے صنم کو ، جا رہے ہیں دَیر کو

0
16
وہ مسیحا بھی ہے مہدی بھی نبی ہوتے ہوئے
دی فرشتوں نے خبر اس کو وحی ہوتے ہوئے
حق کا پیغام ہَوا جب بھی کہیں لائی ہے
قدغنیں بنتی ہیں دیواریں کھڑی ہوتے ہوئے
نا خدا ہوتے ہوئے خود ہی کنارہ جو کرے
وہ تو نابینا رہا آنکھیں کھلی ہوتے ہوئے

0
12
ہے بصارت تو کہیں چشمِ بصیرت ہی نہیں
اشک بہتے ہیں مگر دل میں وہ رقّت ہی نہیں
سارے سامانِ مدارات میسّر ہوں ہمیں
تُو نہ ہو ساتھ تو ایسی کوئی چاہت ہی نہیں
آئنہ صاف ہو دل کا ، تو نظر آتا ہے
وہ تِرا چہرہ کہ ویسی کوئی صورت ہی نہیں

0
14
تم نے یہ دین کہاں سے یہ دھرم سیکھا ہے
نفرتیں دل میں بڑھانے کا کرم سیکھا ہے
جاں بہ لب لوگ بھی مایوس نہیں اس سے ہوئے
اس مسیحا نے مرے موت کا دم سیکھا ہے
ہم نے ہر دور میں دیکھا ہے محبّت کا اثر
آگے بڑھتا ہے جو نیکی کا قدم سیکھا ہے

0
9
زمین نکلے کبھی تو مدار سے باہر
حدود اس کی اگر ہیں، حصار سے باہر
ستارہ ٹوٹتا دیکھا تو ہو گا تم نے بھی
پلک جھپکتے میں گرتا شرار سے باہر
ہمیں تو ہجر نے ترسا دیا محبّت میں
ہیں اور لذّتیں کیا وصلِ یار سے باہر

0
14
دل کہاں اس سے آشنا ہوگا
زخم کوئی نیا ملا ہو گا
دوسروں سے ، الگ سے لگتے ہو
مضطرب دل کہیں ہوا ہو گا
تم جو تنہائیوں میں رہتے ہو
روگ کوئی لگا لیا ہوگا

0
11
ذکر چھیڑا ہے ایک مہ رُخ کا
ایسی ہمت بھلا کہاں مُجھ کو
اِک حسیں تذکرہ محبت کا
تیرے جلووں نے دی زباں مُجھ کو
اس قدر رات کا اندھیرا تھا
چشمِ بینا ملی وہاں مُجھ کو

1
23
تم جو تنہائیوں میں رہتے ہو
دوسروں سے الگ سے لگتے ہو
تم نے بھی عشق ہی کیا ہو گا
یہ جو تم ایسے آہ بھرتے ہو
پیرہن تم نے بھی سیا ہو گا
تم جو دامن بچا کے چلتے ہو

0
14
آج دلبر نے سُنا ہے کہ یہ ارشاد کیا
آپ نے وقت کو یوں ہی نہیں برباد کیا
پہلے اپنوں کو بھی فرصت نہ ملی ملنے کی
اب تو گھر بیٹھ کے غیروں نے ہمیں یاد کیا
اس کے ہر ایک محلّے میں تمہارا گھر تھا
شہر اک ہم نے تصوّر میں جو آباد کیا

0
14
خوب روؤں نے بھی خود آکے پذیرائی کی
ہم نے تھوڑی سی جو بس قافیہ پیمائی کی
آنکھوں آنکھوں میں ہوا درد ہمارا اس کا
اس نے کچھ ایسی نظر سے ہے مسیحائی کی
اجنبی تھا وہ مری اس پہ نگاہیں جو پڑیں
اس نے خاموش نگاہوں سے شناسائی کی

0
14
وہ کیسے کیسے لوگ تھے کیا کیا نہ کر گئے
وہ تو ہمارے پیش رو تھے ہم کدھر گئے
جن کے سبب تھیں رونقیں، آباد محفلیں
ہم ڈھونڈتے ہیں اب کہاں وہ ہم سفر گئے
چلتا رہا ہے ساتھ ہمارے ہی قافلہ
کتنے ہی لوگ راہ میں چلتے ٹھہر گئے

0
12
جنوں کو چھوڑو ،خرد کا نہ اعتبار کرو
خدا نے رکھّا جبلّت میں ہے کہ پیار کرو
ہمیں شکایتِ دنیا سے کچھ نہیں مطلب
تمہیں گِلہ ہے اگر ہم سے بار بار کرو
ہماری گفتگو گزری اگر گراں تم کو
اِدھر نگاہ اُٹھا کر ، نظر تو چار کرو

0
10
ہے شکر اس کا جو ہم نے دیکھی عنایتوں کی کمال بارش
سمجھ رہے تھے کہ پھر زمیں پر فلک کی ٹپکی ہے رال بارش
تری اداؤں پہ مر مٹے ہیں تو کیوں نہ دل تیرے نام کر دیں
ہے تیرے احساں کے بادَلوں کی یہ تیرا حسن و جمال بارش
محبّتوں کی کہانیوں میں یہی ہوا ہے یہ اب بھی ہو گا
کہ شوق سے بھیگتے ہیں اس میں جنہیں ہے ملنا محال بارش

0
5
دل میں ارمانوں کے طوفان نہاں رکھتا ہے
عشق اس کا مرے جذبوں کو جواں رکھتا ہے
میں تو حیران سا بس اس کو سنا کرتا ہوں
اس کا ہر لفظ محبت کا بیاں رکھتا ہے
اس کی باتوں کو سنوں، آنکھ سے صورت دیکھوں
باعثِ لطف و کرم ، چہرہ عیاں رکھتا ہے

1
18
اب تو ڈھونڈے سے بھی ،استاد ،جو ڈانٹے ، نہ ملے
کوئی ایسا ، جو کبھی درد کو بانٹے ،نہ ملے
زندگی میں تو کبھی ، یاد نہیں ، ایسا ہوا
ڈھونڈنے نکلا کوئی پھول ، تو کانٹے نہ ملے
زندگی گزری ہے ، تنہائی کے آزاروں میں
گو ملے ، جو نہ کسی بات پہ ڈانٹے ،نہ ملے

0
8
ہم سے کیوں تم نے یہ برتاؤ روا رکھا ہے
ہم نے کب تم کو کبھی اپنا خدا رکھا ہے
چاند سورج نے تو ملکر بھی گواہی دی ہے
ہم نے خود سے تو نہیں مہدی بنا رکھا ہے
یہ زمیں نے بھی پکارا ہے صدا دے دے کر
آگیا ہے وہ فلک پر جو بٹھا رکھا ہے

0
8
ہمارے ساتھ جو چلنا ہے چل سکو تو چلو
گِرائے کوئی جو اُٹھ کر سنبھل سکو تو چلو
زمانہ سوچ کے انداز کب بدلتا ہے
تم اپنی سوچ کا دھارا بدل سکو تو چلو
تمہیں تما شۂ دنیا سے ہی نہیں فرصت
جو اس سے جان بچا کر نکل سکو تو چلو

5
نور سے آشنا نہیں ہوتا
جب تلک دل دیا نہیں ہوتا
اس پہ بیتی نہیں جو کہتا ہے
عشق صبر آزما نہیں ہوتا
اب کے کیسی بہار آئی ہے
زخم کوئی ہرا نہیں ہوتا

0
13
حُسنِ بے داغ کا جلوہ جو نظر آ جائے
واعظِ خشک کے لفظوں میں اثر آ جائے
رونقِ بزم تو ہوتی ہے سدا شمع کے ساتھ
وہ نہ ہو پھر کہاں پروانہ نظر آ جائے
کُشتہٕ شوق ہوئے ہم بھی انہی آنکھوں کے
دیکھ کرجن کو کوئی بھی ہو ادھر آ جائے

0
16
ہمارے ساتھ جو چلنا ہے چل سکو تو چلو
گِرائے کوئی جو اُٹھ کر سنبھل سکو تو چلو
زمانہ سوچ کے انداز کب بدلتا ہے؟
تم اپنی سوچ کا دھارا بدل سکو تو چلو
تمہیں تما شۂ دنیا سے ہی نہیں فرصت
جو اس سے جان بچا کر نکل سکو تو چلو

1
9
کہاں کہاں پہ وفا کا نگر تلاش کیا
ارے یہ راز تو صحرا نے ہم پہ فاش کیا
وفا کا تھا یہ صلہ ، عرش تک صدا پہنچی
زمیں نے قدموں میں پیاسے کے دل خراش کیا
دکھایا راستہ اس نے جو اپنی قربت کا
وہیں کے ہو گئے اس رہ کو بودو باش کیا

7
146
یہ صحرا میں تو کتراتے ہیں بود و باش سے بادل
یہ صحرا میں تو کتراتے ہیں بود و باش سے بادَل
اُتر آتے ہیں دھرتی پر کہیں آ کاش سے بادَل
یہ ساون کے مہینے بھی رہے اس سال سُوکھے سے
اگرچہ آئے تھے دو چار دن قلّاش سے بادَل
ہمارے ہاں تو سورج سردیوں میں کم نکلتاہے

0
9
گو ہر قدم پہ زندگی میں امتحاں رہا
اتنا گلہ ہے مجھ سے کوئی بد گماں رہا
جتنی بھی اس کے ساتھ مری گفتگو ہوئی
پردہ کوئی شکوک کا ہی درمیاں رہا
نکلا تھا اپنے گھر سے تو وہ آگ ڈھونڈنے
رستے میں آگ کے بھی تو حائل دُھواں رہا

0
10
آگئے ہیں جو ہم سامنے ہیں کھڑے
ہاتھ میں ہے قلم سامنے ہیں کھڑے
ہم چلے بھی تھے آنکھوں کو پُر نم لئے
آگئے ہیں تو غم سامنے ہیں کھڑے
ہم نے اس کو پکارا ہے جب بھی کبھی
دیکھا کہ ایک دم ،سامنے ہیں کھڑے

0
9
رکھا گیا ہے کیوں ہمیں ایسی حدود میں
کیونکر ہے اس قدر بھلا انساں قیود میں
دے کر شعور اشرف المخلوق جو کہا
ابلیس کی کھٹکتے ہیں چشمِ حُسود میں
ہم پا گئے تجلّئ تنزیہہِ ذات جو
امکاں ہے دخل ہو گا ہمارا شہود میں

1
8
تری عظمتوں کی تو حد نہیں تری رحمتوں کا حساب کیا
کہاں آگہی کو تھا حوصلہ تری معرفت کی تھی تاب کیا
تری خامُشی میں قرار ہے تری گُفتگو میں خُمار ہے
ترے حُسن پر جو نظر پڑے تو عذاب کیا تو ثواب کیا
مری طاعتیں تو قبول تھیں مری جُر اَتیں بھی روا رہیں
ترے ساتھ قول و قرار تھا تو حساب کیا تو کتاب کیا

0
12
کچھ اشک تو ہوتے ہی چھپانے کے لئے ہیں
موتی ہیں جو سجدوں میں لُٹانے کے لئے ہیں
کچھ درد تو ہوتے ہیں مریضوں کے مسیحا
جو سانس کے رشتوں کو نبھانے کے لئے ہیں
طوفاں سے الجھ جائیں جو ٹکرائیں ہوا سے
کچھ لوگ یہاں دیپ جلانے کے لیے ہیں

0
11
لے گیا دل سرِ محفل تھا وہ رہزن جیسے
اس سے پہلے نہ ہوا اس کا تھا درشن جیسے
اس کی آہٹ کہیں نزدیک سنائی دی ہے
تیز ہوتی ہے مرے دل کی یہ دھڑکن جیسے
جب مجھے چلنا پڑا جلتے ہوئے رستوں پر
وہ دعا بن کے رہا دھوپ میں چلمن جیسے

0
7
دلِ رنجیدہ کو جام اور نشہ دیتا ہے
میکدے جائیں تو ساقی بھی پلا دیتا ہے
آتشِ عشق بھڑکتی ہے جو دیدار کے ساتھ
ہجر بھی عشق کی حدّت کو ہوا دیتا ہے
تلخ ایّامِ گذشتہ کا نہیں کوئی گِلہ
اب تو ہر روز کوئی دُکھ وہ نیا دیتا ہے

0
4
اظہارِ حسن باعثِ تخلیقِ کائنات
قلب و نظر ہیں محوِ ظہورِ تجلّیات
ہوش و خرد فقط تو کریں وصل کو محال
عشق و جنوں سے طے ہوں یہ سارے معاملات
پائے زمین و آسماں میں ایسے اتفاق
چشمِ فلک نے دیکھ لئے کتنے معجزات

0
1
21
الگ سے حسرتوں کا ہم حساب لکھیں گے
محبّتوں کی کبھی گر کتاب لکھیں گے
کتابِ زیست کے پہلے ورق پہ پیار کے ساتھ
ترے ہی نام کا ہم انتساب لکھیں گے
ہمارا حال تو لکھے بنا عیاں ہو گا
وہ دیکھ کر مجھے کیا کیا خطاب لکھیں گے

0
10
یہ سال ختم ہوا ہے خدا خدا کر کے
کریں گے اب تو نئی صُبح ہم دُعا کر کے
ہیں دورِ ابتلا آئے بھی اور گئے ہیں بہت
گزار ہم نے دئے ہیں سبھی وفا کر کے
یہ مانتے ہیں کہ ہم ہی قصور وار رہے
اسی کے سامنے جُھکتے ہیں ہم خطا کر کے

1
9
تم ہم کو کیا سمجھاتے ہو ،حالات کی نیت ٹھیک نہیں
ہم گزرے اس سے پہلے بھی ، اس رات کی نیت ٹھیک نہیں
جب مشعل روشن ہو شب بھر ، پروانے جان تو دیتے ہیں
کیوں جگنو بن کر راہ چلیں ، ظلمات کی نیت ٹھیک نہیں
ہم پھل کھانے تو آ جاتے ، ہم مالی کو سمجھا لیتے
پھل پکنے میں پر دیر لگی ، باغات کی نیّت ٹھیک نہیں

2
17
جب در پہ آگئے ترے تو جائیں گے کہاں
آنکھوں کا چین دل کا سکوں پائیں گے کہاں
آغوش میں ترے ہی تو پائی ہے پرورش
اب تُجھ سے دور ہم گئے تو جائیں گے کہاں
ہے ہر طرف جو آ رہی تعریف میں صدا
ہم اس سے بڑھ کے گیت کوئی گائیں گے کہاں

0
12
مجھ سے وہ بے حجاب پہلے نہ تھا
چہرہ یوں بے نقاب پہلے نہ تھا
یوں ہر آہٹ پہ دل تھا کب دھڑکا
دل میں یہ اضطراب پہلے نہ تھا
جھوم کر اب گھٹا جو اُٹھی ہے
آنکھ میں سیلِ آب پہلے نہ تھا

0
10
حیرانگی سے میں ہوا دو چار دو گھڑی
ہوتا ہے راستہ کبھی دشوار دو گھڑی
اس نے قلم کو رکھ دیا ہے اپنے ہاتھ سے
یہ ماننے کو میں نہ تھا تیّار دو گھڑی
اس واسطے رُکا تھا وہ تھوڑی سی دیر کو
سستا لیں راستے میں تھے اشجار، دو گھڑی

0
14
اُس ترے شہر میں جائیں بھی تو جائیں کیسے
راستے میں ہے بلا ، کرب چھپائیں کیسے
ان دنوں اور بھی چرچا ہے تری رنجش کا
تُو جو ناراض ہے اب تُجھ کو منائیں کیسے
ہم تو بے بس ہیں فقط یاد کئے جاتے ہیں
تیرے احسان ہیں اتنے کہ بھلائیں کیسے

0
7
پاتا ہے آدمی تو خزانے کوئی کوئی
اور دیکھتا ہے خواب سہانے کوئی کوئی
فطرت کھلی کتاب ہے جو چاہے دیکھ لے
رازِ درونِ خانہ تو جانے کوئی کوئی
غاروں میں رہ کے لوگ گزارہ کریں مگر
آتا ہے شہر کو تو بسانے کوئی کوئی

1
16
کوئی کفّارہ نہیں دیتا گناہوں سے نجات
کان سننے کے ہوں جس کے وہ سنے گا میری بات
زید کے ہو درد سر میں، بکر لے آنکھوں کو پھوڑ
درد سے پھر زید پا جائے بھلا کیسے نجات
ہاں اگر کفّارہ دے سکتا گناہوں سے نجات
پاک ہو جاتی نہ پھر ،یورپ کے لوگوں کی حیات؟

1
9
انہیں سر ڈھانپنے کا گر کہیں سر درد رکھتے ہیں
چھپا کر عیب اپنے ،خود کو وہ بے پرد رکھتے ہیں
حیا عورت کا زیور ہے پہن کر گھر سے نکلے جب
نگاہیں پھر جُھکا کر اپنی ، اکثر مرد رکھتے ہیں
سُنا کر حالِ دل اپنا ، چھپا کر درد رکھتے ہیں
وہ کترا کر گزرتے ہیں جو چہرہ زرد رکھتے ہیں

1
28
یاد تیری ، ہمیں مدّت ہوئی آتی بھی نہیں
آ بھی جائے تو وہ پہلا سا ستاتی بھی نہیں
فصلِ گل کاٹتے تم کو بھی زمانہ گزرا
وہ جو خوشبو سی ، چمن میں ہے وہ جاتی بھی نہیں
چاند آنگن میں نئے طور سے جو ابھرا ہے
کیوں نظر چاندنی اس کی تمہیں آتی بھی نہیں

0
20
ہم کیا کریں اگر خدا کا پیار چاہئے
لذّت نماز کی ہمیں ہر بار چاہئے
اُس کے حضور جانے سے پہلے وضو کریں
پاکیزگی کا اس طرح اظہار چاہئے
قُربِ خدا اسے ملے دھوئے جو اپنا دل
دھونے کو اس کے نور ہی کی دھار چاہئے

1
14
ہر اک سنگِ سیہ کعبے کے کونے میں نہیں آتا
ہو پتھر دل ، سیہ دامن تو ، دھونے میں نہیں آتا
اگر کوئی ملمّع ، دیکھنے میں بھی سنہرا ہو
چمک جانے سے بھی زیور ، وہ سونے میں نہیں آتا
زمانے میں بہت کچھ ہو گیا ہے ارتقا دیکھو
مگر جو چاہئے ہونا، وہ ہونے میں نہیں آتا

1
18
زندگی کا مدّعا پانے کے ہیں کیا کیا طریق
ہو عطا کیونکر لقا،وہ کیا وسائل ہیں دقیق
گر خدا تک ہو پہنچنا ، وہ اٹھانے ہیں قدم
جو کہ سورہ فاتحہ میں روز و شب پڑھتے ہیں ہم
سب سے پہلے تو ضروری ہے کہ یہ عرفان ہو
قادرِ مطلق ہمارا ہے خُدا ، ایمان ہو

13
ابتدا میں تو ہر اک انسان کو بھائے کبھی
اتّباعِ نفسِ امّارہ پہ آ جائے کبھی
پوری آزادی سے کر گزرے جو اُس کا چاہے دل
اِس سے بڑھ کر جینے کا مقصد نہ وہ پائے کبھی
پھر شعور اس کا ترقی جب کرے کچھ خُلق میں
نفسِ لوّامہ مدد کو اس کی آ جائے کبھی

0
9
میں تو لکھتا ہوں کبھی ،چاہے جو من ہے میرا
طفلِ مکتب ہوں یہ آغازِ سُخن ہے میرا
گھر کی دیواروں نے گاتے ہوئے سُن رکھا ہے
صوت و آہنگ سے اتنا سا لگن ہے میرا
میری بیماری میں پھولوں نے عیادت کی ہے
یوں تو خوشبو سے بھرا رہتا چمن ہے میرا

0
13
ابتدا کرتا ہوں لے کر نام اُس اللّٰہ کا
جس نے بِن مانگے دیا ہے رحم جس کا بے بہا
جو بھی ممکن ہو سبھی تعریف ہے اللّٰہ کی
جس سے بہتر ہو نہ ممکن وہ ثنا اللّٰہ کی
سب جہانوں کا ہمیشہ سے وہی پرور دگار
سب پہ بِن مانگے عطایا رحم اس کا بار بار

0
16
کامیابی پر وہ اِترائیں تو اِترائیں گے کیا
دل ہمارا جیت کر جائیں تو کر جائیں گے کیا
آنا چاہیں حضرتِ ناصح تو آ جائیں مگر
اس سے پہلے یہ تو سمجھائیں کہ سمجھائیں گے کیا
آپ دنیا میں کریں دل کھول کر جو دل کرے
روزِ محشر آپ بتلائیں تو بتلائیں گے کیا

0
12
نیند ہے یا موت معنی ہے توفّیٰ لفظ کا
جب کوئی مفعول ہو ذی روح، فاعل ہو خدا

0
15
درد آشنا سے ہم شہِ رگ سے قریب ہیں
یہ جان کر ہی درد ہمارے حبیب ہیں
ہر شخص ایک نسخہ بتاتا ہے اب ہمیں
بیمار ہو کے علم ہوا سب طبیب ہیں
قدرت کے کارخانے کا دیکھو تو انتظام
جتنے بھی کاروبار ہیں اس کے عجیب ہیں

8
آغاز جو کیا ہے اللّٰہ نام لے کر
بن مانگے دینے والا وہ رحم کا ہے پیکر
رحمٰن اس خدا نے قرآن ہے سکھایا
انسان کو بنایا اس کو بیاں سکھایا
شمس و قمر کو ایسے ترتیب سے چلایا
نجم و شجر کو اس نے سجدے میں ہے گرایا

32
سُنو گر حوصلہ رکھتے ہو تم تنقید سننے کا
نری لفّاظی ہی مقصد نہیں ہے شعر کہنے کا
اگر لفظوں میں سچ کو جھوٹ ثابت کر دیا جائے
تو پھر معیار ہے یہ قوم کے اخلاق گرنے کا
مرے الفاظ تب اشعار کی صورت میں ڈھلتے ہیں
تسلّی دل کو دے جب تجربہ سچ کو پرکھنے کا

1
19
نور وہ ماہ تاب سا ہو گا
اس کا چہرہ کتاب سا ہو گا
جب چڑھا وہ مہِ چہار دہم
بدر وہ آفتاب سا ہو گا
معرفت ہو گی اس کی باتوں میں
علم و فن لا جواب سا ہو گا

1
23
ذرّے میں بند ہے جو قیامت یہ کس لئے
دل اس کا چیرنے میں ندامت یہ کس لئے
مانند جو شجر کے اُٹھے گا اب دُھواں
سوچو کہ آ رہی ہے شامت یہ کس لئے
انسان دشمنی کرے حیوان کی طرح
جِدّت میں ڈھل گئی ہے قدامت یہ کس لئے

0
4
عشق ہر چاہنے والے کا تو ناکام نہیں
ہم محبّت میں ہوئے یونہی تو بدنام نہیں
ہم غمِ دہر سے آزاد ہوئے ہیں جب سے
اب غمِ جاں، غمِ محبوب سے آرام نہیں
اب کے سیلاب کا کچھ اور سبب لگتا ہے
یہ مصیبت ہے کوئی گردشِ ایّام نہیں

0
19
ایک چھوٹے سے مکاں میں تھے محل میں آئے
راہبر ایسے ملے ہم نہ دجَل میں آئے
جب محمد ہوئے مدفون ہیں اس دنیا میں
حضرتِ عیسٰی بھی پھر دامِ اجل میں آئے
موت کا ذائقہ چکھتے ہیں سبھی شاہ و گدا
کوئی ہر روز ہی تدفین عمل میں آئے

1
17
ہم فقط ہاتھ میں قرطاس و قلم رکھتے ہیں
جانے کیوں لوگ روا ظلم و ستم رکھتے ہیں
سُود مندانِ بلا سے کوئی پوچھے تو سہی
وہ بھی کیا مُردے جلانے کا دھرم رکھتے ہیں
آ گئے آنے کو یہ ہم سے مگر مت پوچھو
پیش کرنے کے ہیں قابل جو کرم رکھتے ہیں

1
27
میں ہمکلام ہوا اس سے بے خودی میں تھا
مرا سفر تو کٹا سارا تشنگی میں تھا
اسے ملا ہوں تو احساس اور گہرا ہوا
اسی کا عکس مری ساری زندگی میں تھا
حساب لیتے ہوئے یونہی مجھ کو جانے دے
مرا تو لکھّا ہوا نام بندگی میں تھا

0
16
کون پہچان پائے انساں کو
جانے کب مات دے یہ حیواں کو
آجکل کون یاد رکھتا ہے
بھول جاتے ہیں لوگ احساں کو
کب سے وہ دن گئے کہ جب دنیا
پوچھا کرتی تھی اپنے مہماں کو

0
21
مرا بھی خون بہا تھا چمن بنانے میں
انہیں یہ ذکر گوارا نہیں فسانے میں
جنوں میں آکے خرد نے بھی ساتھ چھوڑ دیا
خرد پہ دور یہ آیا ہے اس زمانے میں
گماں ہے اس کو کوئی عیب اب نہیں باقی
اگرچہ وقت لگا آئینہ چھپانے میں

11
جانے کیا کیا دل پہ گزرتا رہتا تھا
میں جب اپنے آپ سے ڈرتا رہتا تھا
چاند بھی شاید تنہا تھا میری مانند
جب دیکھو وہ مجھ کو تکتا رہتا تھا
جب جب گلیوں میں رونق ہو جاتی تھی
تیرا ذکر تو اکثر چلتا رہتا تھا

3
47
جنوں میں جیسی بھی گزری گزارے بیٹھا ہوں
یہ مت سمجھنا خرد کے سہارے بیٹھا ہوں
مجھے تو اس نے کہا تھا کہ اب چلے آؤ
میں انتظار میں اب بھی تمہارے بیٹھا ہوں
تم آؤ کچے گھڑے پر کہا تھا کس نے تمہیں
تمہیں پتہ تھا میں دریا کنارے بیٹھا ہوں

0
14
جب خزاں آئے تو پتے بھی بتا دیتے ہیں
بوجھ بن جاؤ تو اپنے بھی گرا دیتے ہیں
شدّتِ دھوپ سے رکھتے ہیں بچا کر یوں تو
آگ لگ جائے تو پتّے بھی ہوا دیتے ہیں
گر نہ ایندھن ملے ، مہماں کی ضیافت کے لئے
گھر کا سامان بھی کچھ لوگ جلا دیتے ہیں

0
14
ہمیشہ سے مرے دل میں کوئی آباد رہتا ہے
جو سچ اور جھوٹ کی پہچان میں آزاد رہتا ہے
میں چپ رہ کر سنا کرتا ہوں پھر پڑتا ہوں سوچوں میں
عمل اس کے کہے پر گر کروں وہ شاد رہتا ہے
تمہیں کیسے سُنائیں حال اپنی بے خودی کا ہم
اسیرِ زلفِ جاناں ہو جو کب آزاد رہتا ہے

1
16
میرے افکارِ پریشاں بھی تمہی ہوتے ہو
دل کی تسکین کا ساماں بھی تمہی ہوتے ہو
نور در نور کی چادر میں منوّر پیکر
میری نظروں میں وہ انساں بھی تمہی ہوتے ہو
تم محبّت پہ مری ناز بھی کرتے ہو مگر
میرے اخِلاص پہ حیراں بھی تمہی ہوتے ہو

1
15
اک حسیں خواب کی تعبیر دکھاتے جاتے
ہم سے مل جاتے اگر آپ بھی آتے جاتے
ہے کوئی ایسی جگہ یاد نہ آؤ گے جہاں
ہم کہاں جائیں گے تم اتنا بتاتے جاتے
تم نے جانا تھا بہ صدشوق چلے جاتے مگر
کوئی اچھا سا بہانہ تو بناتے جاتے

0
14
جو اس نے بانٹ دیے روح کے خزانے تھے
اسے تو ہر جگہ دنیا میں وہ لُٹانے تھے
وہ لے کے آ گیا موسم کے بیج ہاتھوں میں
زمین دیکھ کے عمدہ کہیں لگانے تھے
دیا ہے اس نے یہ پیغام ساری دنیا کو
کہ اس نے رُوٹھے ہوئے لوگ سب منانے تھے

13
عیاں ہونے نہیں دیتے وہ دل میں درد رکھتے ہیں
وہ کتراتے ہیں ملنے سے کہ چہرہ زرد رکھتے ہیں
ہمیں ان سے گلہ شکوہ نہیں ہوتا مگر پھر بھی
مزاج اپنا ، ہو رنجش بھی اگر ، ہم سرد رکھتے ہیں
زبوں حالی میں رہ کر خود ، کسی کا حال کیا پوچھیں
بہت سے دل مگر پھر بھی ہمارا درد رکھتے ہیں

0
10
دل محبّت میں کسی کی چُور رکھ
اور دل میں معرفت کا نُور رکھ
غیر کو بھی عشق کا تُو جام دے
خود کو بھی تُو ہر گھڑی مخمُور رکھ
ہو اگر انعام یا ہو ابتلا
جو بھی ہو اُس سے عطا منظور رکھ

0
7
دل میں کوئی بھی رہا باقی جو ارماں ہوگا
وہ جو مل جائے تو ہر درد کا درماں ہو گا
دولتِ حسن مقدّر سے ملا کرتی ہے
اس کی جو کر لو حفاظت تو یہ احساں ہوگا
جس نے حسرت سے تمہیں دیکھ کے یوں آہ بھری
کوئی جنَّت سے نکالا ہوا انساں ہو گا

0
9
آ کے محفل میں تری دل بڑا مسرور ہوا
دل کا آئینہ تجھے دیکھ کے پُر نور ہوا
میرے دل میں جو خیال آیا کہیں جانے کا
سامنے آ گیا چہرہ تِرا منصور ہوا
میں نے جب سے کیا اقرارِ محبّت تُجھ سے
مجھ کو ہرحال میں وعدہ تِرا منظور ہوا

1
16
زندگی کا کوئی مقصد اس سے تو بہتر نہیں
آدمی ہی آدمی کے کام آتا پر نہیں
کیا کبھی سوچا کسی نے زندگی اک دوڑ ہے
اپنے اپنے گھر میں بیٹھے چین سے کیونکر نہیں
اس نے میری داستاں سن کر عجب یہ بات کی
تم جہاں سے آ رہے ہو وہ تو میرا گھر نہیں

0
9
جب وطن میں ہی ہمارے خون ارزاں ہو گئے
ہم بہ مجبوری سپُردِ ارضِ ہجراں ہو گئے
ہم نے آدابِ محبّت سیکھ کر اتنا کیا
ہم مثالِ خاکِ راہِ شہرِ جاناں ہو گئے
اس جہاں میں تیری لو سے جو دئے روشن ہوئے
تیرگی میں نور کی کرنوں کے ساماں ہو گئے

0
14
عقل کی اس سے امّید ہم کیا کریں
عدل کی اس کو تاکید ہم کیا کریں
دھوپ میں بیٹھ پایا نہ جو عمر بھر
سائے کی اُس سے امّید ہم کیا کریں
چھوڑ بیٹھا ہے جو اقربا اپنے ہی
پیار کی اُس سے تمہید ہم کیا کریں

1
12
جب مقابل پہ مرے جان و جگر آ نکلے
دیکھنے ان کو مرے قلب و نظر آ نکلے
رات پھر یاد انہیں آئی ستم ڈھانے کی
وہ رقیبوں کو لئے میرے جو گھر آ نکلے
کوئی ایسے تو گنہ مجھ سے بھی سرزد نہ ہوئے
ہاتھ میں کھینچ کے تلوار ادھر آ نکلے

0
8
مسکرانا زیرِ لب مہمان کا اچھا لگا
جو تعارف بھی ہوا ، انجان کا اچھا لگا
دھیرے دھیرے آ گئے حالات سارے سامنے
مجھ کو تو اخلاق اس انسان کا اچھا لگا
اس کی شخصیّت نمایاں تھی بڑے اوصاف میں
مجھ کو ہر پہلو سے وہ ایمان کا اچھا لگا

0
20
عام بِک جاتے ہیں بیٹھے ہیں جو بازار میں لوگ
کب یقیں کرتے ہیں پڑھتے ہیں جو اخبار میں لوگ
دیکھا جو چشمِ بصیرت سے تو معلوم ہوا
کم ہیں جو صاحبِ معیار ہوں کردار میں لوگ
خوبیاں کچھ بھی عیاں ہوتی نہیں جیون بھر
بعد مرنے کے بیاں کرتے ہیں گفتار میں لوگ

21
اگر سچ کا کریں اقرار دنیا آڑے آتی ہے
حقیقت سے کریں انکار دنیا آڑے آتی ہے
سمجھ کر ہم تمہاری ساری باتیں مان لیں گر تو
یہ ہو گی زندگی دشوار دنیا آڑے آتی ہے
ہمیں تو جیسے تیسے دوستی اپنی نبھانی ہے
بدل تو جائیں ہم سرکار دنیا آڑے آتی ہے

0
16
کل اس سے ہو گئی جو ملاقات خواب میں
پھر وہ نشہ ہوا کہ نہ ہو گا شراب میں
جوبن وہ اس کےحسن و نزاکت کا کیا کہیں
دیکھا تھا ہم نے جب اسے عہدِ شباب میں
کاغذ قلم دوات ہمارے سفیر ہیں
لکھ بھیجیں گے جو کہہ نہ سکے ہم حجاب میں

1
28
آخر کو کیوں پہچان نہیں
انسان کو وہ حیوان نہیں
جب اپنی ذات میں کھو جائیں
اس ذات کا پھر عرفان نہیں
جو راہ بتانے آئے ہیں
کیا وہ بھی تھے انسان نہیں

16
مسکراتے ہوئے آتے ہوئے دیکھا ہے اُسے
دل میں وہ چہرہ بساتے ہوئے دیکھا ہے اُسے
اُس کے انوار سے ماحول منوّر جو ہوا
نور وہ دل میں سماتے ہوئے دیکھا ہے اسے
اس کی پاکیزگیٔ روح نہ پوچھو ہم سے
ہم نے زمزم میں نہاتے ہوئے دیکھا ہے اسے

14
زیست کا لمحہ جو ہر ایک اہم ہوتا ہے
یاد کرنے کا تجھے وقت تو کم ہوتا ہے
ایک کے بعد جفا ایک مسلسل ہم پر
نئے انداز سے ہر روز ستم ہوتا ہے
وہ جو آ جاتا ہے چپکے سے خیالوں میں مرے
چونک جاتا ہوں اچانک وہ صنم ہوتا ہے

1
30
یوں ستم ڈھانا اس کی عادت ہے
ہنس کے سہہ لینا میری فطرت ہے
اُس کو اس بات کا گلہ کیا ہے
سن کے چپ رہنا کیا عداوت ہے
ہم نے اپنا سمجھ کے شکوہ کیا
تم نے جانا کہ یہ بغاوت ہے

15
جو لکھّی جا چکی تحریر کتنی چھوٹی ہے
مرے جو بس میں ہے تقدیر کتنی چھوٹی ہے
دکھا ئی کہکشاں اس نے مجھے یہی کہہ کر
کہ دیکھ لے تری تصویر کتنی چھوٹی ہے
نہیں ہے میرے تخیّل میں گرچہ روک کوئی
ہے دسترس میں جو تدبیر کتنی چھوٹی ہے

17
گو یہاں بھی حساب ہوتے ہیں
سب کہاں بے نقاب ہوتے ہیں
ہے مکافات ایک جاری عمل
رات دن احتساب ہوتے ہیں
تم نے پھینکے تھے ہر قدم کانٹے
اب جو رہ میں گلاب ہوتے ہیں

16
آگہی گرچہ ہو طریقے سے
شعر ہوتا نہیں ہے سیکھے سے
میں نے مجنوں کو بارہا پرکھا
عشق اس نے کیا سلیقے سے
اس نے اپنا بنا لیا مجھ کو
بات کرتا ہے وہ طریقے سے

18
کہہ رہا ہے وہ کیا سُنو تو سہی
اس کا کچھ مدّعا سُنو تو سہی
راہِ حق پر قدم بڑھا ؤ ذرا
آپ کا ہو بھلا سُنو تو سہی
اس کے قدموں میں جا کے سر رکھ دو
فائدہ ہو گا کیا سُنو تو سہی

0
20
دیکھنے میں بھی اسے ایک جھلک جاؤں گا
یہ الگ بات کہ مے بن کے چھلک جاؤں گا
اُس کے چہرے پہ سبھی رنگ ہی گُھل جاتے ہیں
دیکھنے رنگوں سے بنتی میں دھنک جاؤں گا
اس کی آنے سے چمن یوں ہی معطّر ہو گا
ساتھ اس کے جو رہا میں بھی مہک جاؤں گا

0
20
ہم طرزِ تکلّم سے اندازہ لگا لیتے
وہ بات اگر کرتے ہم بات نبھا لیتے
اس رشتۂ پیہم کی اتنی سی کہانی ہے
رُوٹھے جو کبھی ہم سے ،ہم ان کو منا لیتے
سنتے ہیں فقط اُن کی خاطر ہی جہاں بھر کی
گر اتنا سمجھ جاتے وہ پاس بٹھا لیتے

27
مقصود اِس سفر کا کنارا نہیں رہا
ساتھ اُس کا چھوڑ دیں یہ گوارا نہیں رہا
ہم اتنی دور آگئے اپنی تلاش میں
اب خود سے بھاگنے کا تو یارا نہیں رہا
سوچا تھا زندگی سے محبّت کریں گے ہم
ہاتھوں میں پھر یہ وقت کا دھارا نہیں رہا

0
12
دل تو دیتا ہے صدا کچھ کیجئے
وقت یوں ہی کٹ گیا کچھ کیجئے
ان کے گھر جا کر منا کر آ ئیے
یا یہیں ردِبلا کچھ کیجئے
کوئی حق مارا نہ ہو مخلوق کا
دور لوگوں کا گلِا کچھ کیجئے

0
11
حسن کو دیکھ کے جب عشقِ بتاں بولتا تھا
کوئی چپکے سے مرے دل میں نہاں بولتا تھا
جب یقیں مجھ کو نہیں تھا تو گماں بولتا تھا
کیا تھا مقصد مرے آنے کا یہاں بولتا تھا
آئنہ پھینک دیا توڑ کے باہر میں نے
سچ مرے سامنے کر کے وہ عیاں بولتا تھا

0
21
کیسے کیسے ہم نے دیکھے دنیا کے متوالے لوگ
چمڑی جانے دیں پر رکھیں دمڑی حرص کے پالے لوگ
جس دنیا میں ہم بستے ہیں رنگ برنگے لوگ یہاں
کچھ معصوم سے لیکن کچھ ہیں آفت کے پرکالے لوگ
دھوکہ دے کر مال کمائیں اس پر پھر وہ ناز کریں
جھوٹی آن کا دعوٰی کرنے والے کیسے ٹالے لوگ

29
اب میں احباب میں خاموش گنا جاتا ہوں
میرے ساتھی جو نہیں تنہا رہا جاتا ہوں
اپنے بچوں میں مجھے ماضی نظر آتا ہے
دیکھ کر ان کو میں بچپن میں چلا جاتا ہوں
صبحِ نو کی مجھے امّید جواں رکھتی ہے
اس طرح خود کو تسلّی تو دلا جاتا ہوں

0
18
دل میں سرمایہ قناعت کا لگائے رکھا
کسی حسرت نے نہیں ڈیرہ جمائے رکھا
آستینوں میں کبھی جھانک کے دیکھا ہی نہیں
جانے کن سانپوں کو ہم نے تھا چھپائے رکھا
دشمنوں سے تو بھلائی کی توقّع ہی نہ تھی
دوستوں نے بھی ہمیں خود سے پرائے رکھا

0
20
کیا ہے جو بھی ارادہ کبھی دعا کر کے
خدا نے کر دیا پورا اسے دَیا کر کے
ہمارے حوصلے دیکھے ہیں اک زمانے نے
کوئی ہرا نہیں پایا ستم روا کر کے
کہو جو مذہبِ اسلام سے ہیں یہ باہر
رہو گے کیسے مسلماں ہمیں جُدا کرکے

0
20
محبت کی کہانی بھی بڑی گمبھیر ہوتی ہے
جو دل تک بات جا پہنچےعجب تاثیر ہوتی ہے
زباں بندی ہوئی دستور ہے جب سے مرے گھر میں
اگر محبوب کا میں نام لوں تعزیر ہوتی ہے
اڑا پھرتا ہوں اس کے ساتھ میں اونچی ہواوٴں میں
مرے خوابوں کی اکثر ٹھیک ہی تعبیر ہوتی ہے

24
جتنے طاہر ہو گے تم
اُتنے ظاہر ہو گے تم
سب کچھ تم نے مانا جب
کیسے کافر ہو گے تم
دُشمن آخر دشمن ہے
کب تک صابر ہو گے تم

0
51
حسن کو عشق ہے منظور جواب آیا ہے
عمر جب بیت گئی اپنی شباب آیا ہے
ہم تو پہلے سے ہی قرباں تھے اسی مہ رُخ پر
نُور جس چہرے پہ بے حدّ و حساب آیا ہے
اس کو معلوم ہے کیا ہجر میں بیتی مجھ پر
پڑھ کے وہ بھی مرے چہرے کی کتاب آیا ہے

0
22
عشق کی سجدہ گہ فرش ہو جائیں گے
وہ ہمارے لئے عرش ہو جائیں گے
وہ مرے پاس آئیں نہ آئیں مگر
دل کے آئینے پر نقش ہو جائیں گے
مے پلا دے اگر اپنے ہاتھوں سے وہ
جام یہ زندگی بخش ہو جائیں گے

0
18
میں وی گلّ ودھائی رکھی
پیار دی پینگ چڑھائی رکھی
اونہے وی فر ساتھ ناں چھڈیا
میں وی جپھی پائی رکھی
کلّے بیہہ کے نِمّوں جھانے
اینویں اَکھ تَرࣿ یائی رکھی

0
11
گرے جو آنکھ کی جنبش سے تارا دیکھ لیتا ہوں
بھری محفل میں ڈھونڈے جو سہارا دیکھ لیتا ہوں
میں اپنی مشکلوں کا حل کسی سے کیوں بھلا پوچھوں
بھنور میں جب ہو کشتی میں کنارا دیکھ لیتا ہوں
زمانے میں ہوئے رسوا ہیں اکثر لوگ باتوں سے
میں نظروں میں چھپا اکثر اشارا دیکھ لیتا ہوں

17
ہم ہی نہیں تھے گھر سے تیار ہو کے نکلے
جتنے بھی ہمسفر تھے ہشیار ہو کے نکلے
ہم اس کی رہگزر پر یوں بھی گئے ہیں اکثر
شاید کہ اس گلی سے دلدار ہو کے نکلے
ایسا وہ چارہ گر ہے پہنچے جو اس کے در پر
پا کر شفا دلوں کے بیمار ہو کے نکلے

26
حسن جو ہے حجاب میں قلب پہ آشکار کر
عشق کی بے خودی کو خود رہروِ شاہ وار کر
ساتھ کسی کے چل کے دیکھ یونہی سفر نہ آزما
ناؤ قریب ہے تری یونہی نہ بے کنار کر
اس کا بھی دل ترے لئے اتنا ہی بے قرار ہے
تُو بھی قدم بڑھا ذرا بیٹھ نہ جا تُو ہار کر

0
16
ہم ہوئے پیدا مسلماں شکر ہے
ہے خدا کا ہم پہ احساں شکر ہے
صاف کہئے آپ یہ انصاف سے
ہم نے پایا ہے اسے اسلاف سے
لے کے آئیں تو کوئی ایسی نظیر
مل کے بیٹھے ہوں جہاں شاہ و فقیر

0
17