Circle Image

ڈاکٹر طارق انور باجوہ

@TariqBajwa

تیری محفل سے کہاں جانے کو جی چاہتا ہے
گر چلے جائیں تو پھر آنے کو جی چاہتا ہے
جب سے دیکھا ہے تجھے پانے کو جی چاہتا ہے
تیری آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے
چند لمحات غنیمت ہیں تری صحبت میں
قُرب تیرا تو سدا پانے کو جی چاہتا ہے

0
2
کہیں کسی کے لئے بات یہ عجیب نہ ہو
نجیب کیسے ہو ، جو بندۂ منیب نہ ہو
ملے وہ مجھ سے مگر ساتھ میں رقیب نہ ہو
پھر اس کے بعد گھڑی ہجر کی نصیب نہ ہو
رکھے وہ دوستی مجھ سے بغیر شرطوں کے
وہ دل کی بات کرے گو کہ وہ ادیب نہ ہو

0
6
عمر بھر جس نے کبھی دھوکا دیا ہوتا نہیں
کیا عجب اس کا خدا اس سے خفا ہوتا نہیں
ہم بیاباں میں چلے تو راستہ تھا اجنبی
ہم بھٹک جاتے اگر وہ آشنا ہوتا نہیں
ہم بھنور میں ڈوب جاتے گر خدائے بحر و بر
زندگی کی ناؤ کا خود ناخدا ہوتا نہیں

0
6
گناہ جب بھی کبھی تجھ کو آزمائے گا
ضمیر تیرا تجھے روشنی دکھائے گا
کبھی کسی کی مدد بے غرض جو کی ہوگی
کوئی فرشتہ ضرورت کے وقت آئے گا
پکار پر تری آئیں گے لوگ سننے کو
اگر خدا کے لئے تُو صدا لگائے گا

1
11
تصوّر میں حسیں نظّارے دیکھوں
میں اکثر خواب تیرے بارے دیکھوں
میں دیکھوں چاندنی پھیلی جو ہر سُو
منیر اک مہر کے لشکارے دیکھوں
محبّت سے تجھے جو دیکھتے ہیں
ملے فرصت تو چہرے سارے دیکھوں

0
4
اس کی تقدیر فلک پر سے جو مبرم اتری
دو جہانوں میں اسے کر کے وہ اکرم اتری
کوئی چپکے سے اتر آیا مرے خوابوں میں
رات گلشن میں دبے پاؤں جو شبنم اتری
دے گیا کوئی جواں سال شہادت کی خبر
یہ خوشی غم کے سیہ سائے میں مدغم اتری

0
3
جسے دیکھنا ہو وہ دیکھ لے یہ جہاں میں جاری نظام ہے
ہیں نماز میں سبھی مقتدی فقط ایک ہی تو امام ہے
تُو نقاب اُٹھا تو میں دیکھ لوں مجھے تیرے حسن کی تاب کیا
ہے جہاں بنا تِرا آئنہ وہی تیرا جلوۂ عام ہے
ذرا دیکھ کر مری نبض تُو مجھے دردِ دل کی دوا بتا
مرے چارہ گر تُو علاج کر ہو شفا کہاں تِرا کام ہے

0
3
مرے مرشد نے مجھ سے یہ کہا تھا تم
حفاظت کے لئے اپنی
سمجھ کر پڑھ کے چاروں قل
انہیں سینے پہ اپنے پھونک دینا جب
نظر آئے دُھواں کوئی
کہیں جلنے کی بُو آئے

0
2
کب تک ہم کو خواب دکھایا جائے گا
کب جنَّت کا باب دکھایا جائے گا
آیا ہے سیلاب دکھایا جائے گا
ہوں گے وہ غرقاب دکھایا جائے گا
وعدوں پر کب تک بیتے گا جیون یہ
کب پیاسوں کو آب دکھایا جائے گا

0
3
جس چہرے سے نظروں کو ہٹایا نہیں جا تا
اس چاند کو دنیا سے چھپایا نہیں جاتا
توڑا ہے اگر دل تو اکٹھے کرو ٹکڑے
یوں کانچ کو رستے میں بچھایا نہیں جاتا
وہ سنتے نہیں گر تو چلیں آنکھوں سے بولیں
چپ رہ کے تو اب شور مچایا نہیں جاتا

0
7
وہ بظاہر عیاں نہیں ہوتا
پھر بھی دل سے نہاں نہیں ہوتا
جلوۂ حسن دیکھ لے تو کون
عشق میں نیم جاں نہیں ہوتا
دردِ دل ہر کسی سے کیا کہنا
ہر کوئی راز داں نہیں ہوتا

0
5
رنگ بھرتے ہوئے تصویر میں سوچا ہو گا
کون سا رنگ ترے چہرے پہ جچتا ہو گا
حسن جب دیکھا پسِ پردہ یہ سوچا میں نے
خوبصورت تو فقط رنگ حیا کا ہو گا
کر سکوں حسن بیاں اس کا یہ ممکن ہی نہیں
میں اگر سوچوں غلط فہمی یا دھوکا ہو گا

0
5
دشتِ تنہائی کو یادوں سے جو سیراب کیا
دل نے انجانے میں آنکھوں کو بھی سیلاب کیا
اشک مژگاں پہ ندامت کے چھپاؤں کیسے
مجھ کو گزرے ہوئے لمحات نے آب آب کیا
شام کو آ کے ترے گیت مجھے لوری دے دیں
صبح دم آکے ترے نغموں نے آداب کیا

0
5
جلا تھا علم کی دنیا میں جو چراغ کوئی
خدا نے اس کو دیا تھا ذہیں دماغ کوئی
وہ آیتوں کی تلاوت سے جس کو سمجھا تھا
لگایا اُس نے اسی راز کا سراغ کوئی
عجیب لوگ تھے سمجھے نہ اس کی الفت کو
اسے تھی فکر وطن پر لگے نہ داغ کوئی

0
3
وہ جو آگے کی کبھی سوچنے لگ جاتے ہیں
ہر امانت وہ مجھے سونپنے لگ جاتے ہیں
میں گڈریا ، مرے الفاظ ہیں ٹوٹے پھوٹے
بن کے موسیٰ سبھی ، کیوں ٹوکنے لگ جاتے ہیں
میں جو سچائی کو دیکھوں تو اثر ہوتا ہے
پھر بھی کیوں لوگ مجھے روکنے لگ جاتے ہیں

0
16
جس کے کن کہنے سے اک حشر بپا ہوتا ہے
اس کے ہر حکم میں اک پیار چھپا ہوتا ہے
لوگ یونہی تو نہیں ہوتے محبّت کے امیں
دستِ شفقت کہیں کاندھے پہ پڑا ہوتا ہے
لاکھ سمجھانے پہ بچے کو سکوں آتا نہیں
ماں کی آغوش میں جا کر جو عطا ہوتا ہے

0
6
عمر بھر جھکتی رہی جس پہ جبیں میری ہے
آسماں اس کو یہ کہتا ہے زمیں میری ہے
عشق سورج تو کرے گرمئِ جذبات کے ساتھ
چاند کا دعویٰ ہے صورت تو حسیں میری ہے
یوں تو آدم بھی کہے بھیجا گیا مجھ کو یہاں
اس کو شیطان یہ کہتا ہے نہیں میری ہے

0
3
چپکے سے آ کے جو مرے من میں اتر گیا
سوچا تو اس کے آنے سے ، جیون سنور گیا
ڈھونڈا اسے اگرچہ تخیّل میں بار ہا
آیا وہ جب بھی سامنے ، ہنس کے گزر گیا
اس کے بھی دل میں ، ہو گی محبّت مرے لئے
میں خوش ہوا جو میرے لئے وہ ٹھہر گیا

0
10
اشک مژگاں پر کسی کی یاد میں آنے کے بعد
سوچتا ہوں کیسے بھولیں گے اسے جانے کے بعد
روح اک سیراب ہو کر اپنی منزل کو گئی
جاتے جاتے کر گئی بیتاب تڑپانے کے بعد
اک محبّت تھی زمیں سے آسماں پر لے گئی
عشق کا شعلہ دلوں میں اور بھڑکانے کے بعد

8
کھلے بندوں عبادت ہو رہی ہے
زمیں پر کیوں بغاوت ہو رہی ہے
عدالت میں سماعت ہو رہی ہے
بڑی مشکل وضاحت ہو رہی ہے
سکھائی جس نے مجھ کو ہے محبّت
فقط اس کی اطاعت ہو رہی ہے

0
6
اے سمندر تری وسعت ، تری گہرائی کو
کون جانے ترے اندر چھپی سچائی کو
بیٹھ کر میں لبِ ساحل فقط اتنا سوچوں
عمر لگ جائے گی تجھ سے تو شناسائی کو
اپنے اندر تُو سمو لیتا ہے دریاؤں کو
خود کبھی آگے نہیں بڑھتا پذیرائی کو

0
9
اشک جب آنکھ سے گرتے ہیں تو مر جاتے ہیں
صبر سے کام نہ لیں ہم تو بکھر جاتے ہیں
جھیل سی آنکھوں میں ان کی مہِ روشن اتریں
آئینے دیکھ لیں ان کو تو نکھر جاتے ہیں
صبح دم نکلے تھے اب لوٹ کے جائیں ہم بھی
شام ہوتے ہی پرندے بھی تو گھر جاتے ہیں

0
10
صالح ، وہ خاندان کا فرزندِ ارجمند
طالع وہ جان دے کے ہوا ، جس کا سر بلند
حق وقف کا ادا کیا ہے اس نے اس طرح
ہر لحظہ فرضِ منصبی پہ تھا وہ کار بند
وہ با وقار ، خوبرو ، کم گو تھا ، نیک بخت
میدان میں عمل کے نمایاں تھا ، فتح مند

0
31
خزاں میں بدلی بہاروں سے ڈر نہیں لگتا
تمہیں خدا کے اشاروں سے ڈر نہیں لگتا
وہ کون گھر سے نکالے گئے تھے یاد کرو
تمہیں بھی ہجر کے ماروں سے ڈر نہیں لگتا
وہ لوگ دن میں بھی سورج کی پوجا کرتے ہیں
ہمیں تو رات کو تاروں سے ڈر نہیں لگتا

15
ہم اُس کے لئے کب دنیا کے احسان اُٹھائے پھرتے ہیں
ہم تو اس نور کی مشعل کو گھر گھر میں جلائے پھرتے ہیں
قرباں کر کے سب آشائیں اور اپنے سارے جذبوں کو
اس دل میں تُجھی سے ملنے کے ارمان سجائے پھرتے ہیں
کس کس نے دل رنجُور کیا زخموں سے سینہ چُور کیا
اپنوں سے ہم کو دور کیا گھر بار لُٹائے پھرتے ہیں

0
7
کبھی کالج میں ہم پڑھتے پڑھاتے تھے وہ کیا دن تھے
وہاں مرکز سےکچھ مہماں بھی آتے تھے وہ کیا دن تھے
انہی میں یاد ہے اک خوبصورت شخصیت والے
ہماری رہنمائی کو جو آتے تھے وہ کیا دن تھے
گرم جوشی سے باتیں جب کیا کرتے تھے وہ ہم سے
ہمارے دل کی دھڑکن وہ بڑھاتے تھے وہ کیا دن تھے

0
9
میں تشنہ صحرا میں ہوں تو سراب دیکھتا ہوں
اندھیروں میں بھی اجالوں کے خواب دیکھتا ہوں
سمجھ نہیں سکا جو مقصدِ حیات ابھی
یہ جاننے کو میں پڑھ کر کتاب دیکھتا ہوں
نہ پڑ سکی مجھے اب تک جو غور کی عادت
ہر ایک شے کو بہ نظرِ شتاب دیکھتا ہوں

0
3
کسے بتائیں ستم کا شکار ہم بھی ہیں
وطن سے دور ، غریب الدّیار ہم بھی ہیں
جنونِ عشق میں صحرا نوردیاں کرتے
لباس جن کے ہوئے تار تار ، ہم بھی ہیں
کسی کے حسن کا جادو ہمارے دل پہ چلا
وہیں پہ ہو گئے جو جاں نثار ، ہم بھی ہیں

0
18
کچھ دیر تو ٹھہرو ، رک جاؤ ، تمہیں دیکھ تو لوں میں جی بھر کے
کچھ اپنے دل کا حال کہوں ، کچھ تم سے سنوں میں جی بھر کے
تم آج ابھی تو آئے ہو ، جانے کی اجازت پھر کیسی
اب وقت تو میرا اپنا ہے ، جسں کو بھی دوں میں جی بھر کے
تم دوست مرے ، تم میت مرے ، تم میرے دل میں رہتے ہو
پھر ملنے میں کیوں دیر ہوئی ، بیٹھا سوچوں میں ، جی بھر کے

1
14
خدا کا سامنا کرنے سے لاحق خوف گر ہو گا
کسی پر ظلم کرنے سے ہمارے دل میں ڈر ہو گا
لہو سے سینچتا ہو جو محبّت کی زمینوں کو
نہ اُس جیسا کسی کا دل نہ اس جیسا جگر ہو گا
نہیں مجنوں کوئی ہوتا فقط صحرا میں جانے سے
کوئی تو منتظر ہو گا کہ وا لیلیٰ کا در ہو گا

0
7
گھر میں سامانِ مسرّت ہو تو گھر میں رہیئے
ورنہ محبوب کی آنکھوں میں ، نظر میں رہیئے
روک ایمان و عبادت کی ، وطن میں ہو تو
آپ ہجرت کی رعایت سے ، سفر میں ، رہیئے
سانس لینا بھی ہو دُشوار اگر اپنے گھر
جا کے پھر آپ کسی اور نگر میں رہیئے

0
4
لب پہ صلِّے علیٰ محمّد کا
وِرد و ذکر ِ صفا محمّد کا
میرا محسن مرا حبیب ہے وہ
میرے دل کے بڑا قریب ہے وہ
آشنا لطف سے زبان کروں
کچھ صفات اس کی میں بیان کروں

0
9
پڑی تھی پاؤں میں خوابوں کی لاش ، کیا کرتے
ہم اپنے راز زمانے پہ فاش ، کیا کرتے ؟
تلاش کر نہ سکے اپنی ذات ہی کو اگر
یہاں خدا کی بھلا ہم تلاش کیا کرتے
ہمیں جو ہر قدم امّید نے دلاسہ دیا
بُھلا کے ہم اسے ، دل کو نراش کیا کرتے

0
8
سبق استاد جو تم کو سکھائیں ، یاد کر لینا
اگر دشمن کھری کھوٹی سنائیں ، صاد کر لینا
خیال و خواب کے طائر قفس میں پھڑپھڑائیں تو
انہیں تم شاد کر لینا ، انہیں آزاد کر لینا
اگر گلشن میں جا کر دن پرانے یاد آئیں تو
تم اپنا رُخ جہاں پر ہوں گل و شمشاد کر لینا

0
6
ہجر میں ہم نے سہے درد اضافی تو نہیں
کوئی مرہم ترے زخموں کی تلافی تو نہیں
ساتھ دینے کا جو وعدہ تھا نبھایا اس نے
ہم نے شکوہ جو کیا وعدہ خلافی تو نہیں
اعلیٰ اخلاق سے بھی لوگ ہیں قائل ہوتے
اک پیمبر کے لئے معجزہ کافی تو نہیں

1
13
نام ہی لب پر نہ آئے، پیار یہ کیسا ہوا
مطمئن تو ذکرکرنے سے دلِ شیدا ہوا
ہو مسافر ڈوبتی کشتی کا یا بیمارِ دل
نام لیتا ہے اسی کا اتّفاق ایسا ہوا
پوچھتے ہو کیا مرے دلبر کا رنگ و روپ تم
جس نے دیکھا حسن اس کا وہ تو پھر اس کا ہوا

0
6
ہم پہ پھر نظرِ عنایت ہو ضروری تو نہیں
ان سے ملنے کی اجازت ہو ضروری تو نہیں
آ گیا جب سے مسیحا ، ہوئے مُردے زندہ
روز اک تازہ قیامت ہو ضروری تو نہیں
رات اٹکھیلیاں کرتی رہی مشعل سے ہوا
دشمنوں ہی کی شرارت ہو ضروری تو نہیں

0
8
خوب سے تھی خوب تر کی جستجو
رنگ لائی عمر بھر کی جستجو
خواب سب پورے ہوں یہ سوچا نہیں
ہاں مگر کچھ با ثمر کی جستجو
یاد ہیں بچپن کی کچھ باتیں ہمیں
نوجوانی میں سفر کی جستجو

0
4
کیا فلک سے ، سنو! ندا آئے
ڈھونڈتے کس کو ہو ، چلا آئے
تم زمیں کی پکار کو سُن لو
وقت جب تھا امام کا ، آئے
کوئی سننے کا منتظر گر ہے
کان کھولے ، سنے صدا آئے

0
27
محمد بادشاہِ دوسرا ہے
محمد جو ہمارا رہنما ہے
محمد جو حبیبِ کبریا ہے
دو عالم کے لئے رحمت بنا ہے
خطاب اس کو دیا صادق سبھی نے
امیں کا بھی لقب اس کو ملا ہے

0
7
محبّت میں فنا ہو کر خیالِ یار کو جانا
اسی سے زندگی پائی ہے ہم نے پیار کو جانا
سلیقہ آ گیا ہے آزمائش سے نکلنے کا
پڑی سر پر جو ہجرت ہم نے یارِ غار کو جانا
اُڑے تھے جو پرندے مل کے منزل پا گئے ہیں وہ
الگ ہو کر جو رستہ کھو گئے تب ڈار کو جانا

0
7
اس نے جو بات بھی کی تھی وہ پشیمانی کی
یوں لگا ہم نے تو ہر موڑ پہ نادانی کی
ہم تو اُسلوبِ وفا سیکھ نہ پائے اب تک
اس نے حد کر دی محبّت کی فراوانی کی
شہر کا شہر امڈ آیا ہمیں سننے کو
بات ہم نے تو فقط کر دی تھی ارزانی کی

0
4
اب نظر آتے نہیں صاحبِ کشّاف یہاں
مہربانوں کے تھے ہم پر کبھی الطاف یہاں
کس کے گھر جاتے جہاں جا کے دہائی دیتے
منصفوں کو بھی میسّر نہیں انصاف یہاں
وہ جو بولیں بھی تو سچ بات نہیں کہہ سکتے
اپنی عزّت کو بچاتے ہوئے اشراف یہاں

0
13
دُکھوں کے درد دعاؤں میں ڈھل نہ جائیں کہیں
ستم گروں پہ یہ تلواریں چل نہ جائیں کہیں
تماشہ دیکھتے ہیں روز جینے مرنے کا
بُلاوا آ گیا تو سر کے بل نہ جائیں کہیں
ہیں تاک میں سبھی صیّاد یوں قفس لے کر
پرندے اپنے نشیمن بدل نہ جائیں کہیں

0
14
وہ جو کہتے ہیں بتاؤ تو محبّت کیا ہے
کیسے بتلائیں انہیں وصل کی لذّت کیا ہے
بادشاہت کو دیا چھوڑ کئی لوگوں نے
پیار کے سامنے یہ عزّت و شُہرت کیا ہے
ہم نے خورشید سے ذرّات کی طاقت جانی
جانے اب اور چھپی ان میں حقیقت کیا ہے

0
9
چشمِ نم سے واقعہ میں نے سُنا ہے آج جو
جی میں آیا ہے سناؤں آپ کو بھی دوستو
میں گیا مطبع پہ جب اپنی کتابوں کے لئے
بیٹھنا مجھ کو پڑا کچھ دیر باتوں کے لئے
مالکِ مطبع تھا ہاتھوں سے ہوا کو جھل رہا
اور بھی کچھ ذہن میں تھا اس کے شاید چل رہا

0
9
حادثے کیا اور ہوں گے لوگ ہیں مضطر تمام
دیکھ کر بیٹھے ہیں یوں تو خونچکاں منظر تمام
سنگدل اور سنگ باری ہم نے کیا دیکھا نہیں
کیا رکھیں امّید ہوں گے ختم اب پتھر تمام
پھیلتا ہے بے گناہوں کا جو دھرتی پر لہو
پھر رہی ہے قوم ہاتھوں میں لئے خنجر تمام

0
4
مبتلا اب ہے پس و پیش میں جیون اپنا
جبکہ آتا ہے نظر دنیا سے رفتن اپنا
پیش کرنے کو وہاں ساتھ لیا کچھ بھی نہیں
ہم تو دنیا سے لگا بیٹھے تھے تن من اپنا
ہم نے پھولوں کی نگہداشت نہیں کی ورنہ
آج کیوں سُونا نظر آتا یہ آنگن اپنا

0
5
رُخِ گل کو چھو کر گزرتی ہوا
مہک دے گئی ناز کرتی ہوا
ہوں آنکھیں یہ ٹھنڈی انہیں جب لگے
ترے گھر سے آئی سنورتی ہوا
یہ طوفان دل میں بپا جب کرے
نہیں پھر محبّت کی ڈرتی ہوا

0
2
34
اس سے جب تم پیار کرو گے سب اچھا ہو جائے گا
جب باتیں دو چار کرو گے سب اچھا ہو جائے گا
مشکل تو ہو گی چلنے میں کانٹے راہ میں آئیں گے
جب جنگل کو پار کرو گے سب اچھا ہو جائے گا
ہاتھ پکڑ کر چلنا سیکھو گے تم اس کے ساتھ اگر
جب تم اُس کو یار کرو گے سب اچھا ہو جائے گا

0
7
خوشی کے لمحے ہمیشہ قلیل ہوتے ہیں
سفر غموں کے اگرچہ طویل ہوتے ہیں
جو اضطرار کی حالت میں اشک گر جائیں
مراد پانے کی اکثر سبیل ہوتے ہیں
کھڑے جو ہوتے ہیں مظلوم کی حمایت میں
فرشتے ان کے لئے خود وکیل ہوتے ہیں

1
13
نہیں جس آنکھ میں سپنوں کا ہی جہاں آباد
تو ہونا چاہتا ہے کون پھر وہاں آباد
نہ جس گلی میں سکوں پا سکے گا میرا من
خوشی سے دل مرا ہو جائے گا کہاں آباد
کچھ اس طرح سے ہے ویراں ہوا چمن میرا
میں سوچتا ہوں کہ ہو کیسے گلستاں آباد

0
4
نقاب چہرے سے گر وہ کہیں اُٹھا لیتا
تو کون ہوتا نظر اس سے جو ملا لیتا
اگرچہ حسن پسِ پردہ بھی قیامت ہے
پہ حشر ہوتا اگر سامنے بُلا لیتا
خیال آیا ہے جب وقت واپسی کا ہے
میں اس کے دل میں بھی کوئی جگہ بنا لیتا

0
3
چلی ہے کس ڈَگَر، بگڑی ہوئی ہے
زباں پر ہے اثر ، بگڑی ہوئی ہے
کریں ہم اعتبار اب کیا کسی پر
جو ملتی ہے خبر ، بگڑی ہوئی ہے
وہ اُس کے گھر کو جاتی تھی سڑک جو
نہیں آساں سفر ، بگڑی ہوئی ہے

0
3
دوسری اس پہ نظر میں نے تو ڈالی بھی نہیں
اس نے دیکھا تھا مجھے خام خیالی بھی نہیں
میں نے داغوں سے تو دامن کو بچا کر رکھا
یہ الگ بات گناہوں سے یہ خالی بھی نہیں
مہرباں مجھ پہ رہی ذات وہ احساں اس کا
زندگی میری رہی ایسی مثالی بھی نہیں

0
4
یہ آنکھیں شاد ہوتی ہیں یہ دل مسرور ہوتا ہے
نظر کے سامنے اک چہرۂ پُر نور ہوتا ہے
نگاہِ مستِ ساقی سے جو پی لیتا ہے محفل میں
محبّت کے نشے میں رات دن مخمور ہوتا ہے
خموشی ، مسکراہٹ بھی تو اک تاثیر رکھتے ہیں
کشش ان میں ، عجب اک حسن سا مستور ہوتا ہے

2
7
ہماری بے بسی پر مسکرا لے جس کا جی چاہے
ہمارے صبر کو بھی آزما لے جس کا جی چاہے
اسے شکوہ ہے کیوں جس کو نہیں ہے ضبط کا یارا
وہاں اشکوں کے دریا بھی بہا لے جس کا جی چاہے
شکایت ان کو ہے ہم سے ،خدا کا نام لینے پر
گناہوں کے سمندر میں نہا لے جس کا جی چاہے

0
24
قیادت کا عَلَم تھامے ہوئے ہوں
شہادت کا قلم تھامے ہوئے ہوں
عجب کیا ہاتھ میں ان کے ہیں پتھر
صداقت لا جَرَ م تھامے ہوئے ہوں
نہ جانے کیا دیا جائے گا فتویٰ
کلیسا میں حرَم تھامے ہوئے ہوں

1
12
تُو نے خود لکھی جو اپنی حمد وہ تیری لکھوں
ورنہ کیا اوقات میری حمدمیں تیری لکھوں
کر دیا آغاز تیرے نام سے جب کام کا
تیری رحمت سےبھرا ہر لحظہ صبح و شام کا
جو تری تعریف کامل ہے مکمل بھی ہے وہ
ذکر کوئی رہ نہ جائے اس قدر اکمل ہے وہ

1
271
مٹی سے میں بنایا گیا پہلی بار تھا
کچھ نور سے بنے ہوئے ، اک ابنِ نار تھا
تھا وہ عبادتوں میں گر اتنا ہی معتبر
اس کو پھر ایک سجدے میں کیوں اتنا عار تھا
منزل تو دور تھی ابھی ، چلنا ہوا کٹھن
میں آبلہ پا مبتدئِ رہگزار تھا

5
ہوں مبارک عید کی قربانیاں
ہو قبولیّت ملیں تابانیاں
کام تب آئیں گی یہ قربانیاں
دل سے جب مٹ جائیں گی شیطانیاں
دردِ دل پیدا ہو انساں کے لئے
دکھ مٹانے کی ہوں کارستانیاں

0
11
کس کا حساب پیار میں بے باق ہی رہا
مکتب میں کون شاملِ اسباق ہی رہا
سوچا تھا اپنے ہاتھ سے ہم بھی کریں گے چاک
ہے تار تار دامنِ عشّاق ہی رہا
سپنوں میں یوں تو اس سے ملاقات ہو گئی
دل اس سے پھر وصال کا مشتاق ہی رہا

13
آج ہے دل میں جو ہَل چَل کبھی ایسی تو نہ تھی
دید اس کی ہوئی مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
کیوں مرا صبر کا پیمانہ نہ لبریز ہوا
زندگی جہدِ مسلسل کبھی ایسی تو نہ تھی
شمع ہر حال میں جلتی ہے رہ دکھانے کو
رات ساحل پہ رہے گُل کبھی ایسی تو نہ تھی

8
نجیبوں کی سعادت کہہ رہی ہے
کہیں خوں میں شرافت بہہ رہی ہے
کہیں دل میں محبّت کا ہے جذبہ
یہ لفظوں کی لطافت کہہ رہی ہے
اُٹھی ہے اس سے ملنے کی جو خواہش
کہیں دل میں عبادت تہہ رہی ہے

0
5
حسن کا اعتبار کیوں کرتے
عشق کا انتظار کیوں کرتے
وہ ہمیں گر نہ آسرا دیتے
ہم بھلا ان سے پیار کیوں کرتے
دھوکہ کھایا تھا کتنے لوگوں سے
ورنہ یہ اضطرار کیوں کرتے

0
12
آئنہ دیکھ کے ہم تیرا ، سنورتے جاتے
ہم تری بات جو سنتے تو نکھرتے جاتے
دیکھ کر ہم کو فرشتے بھی تو حیراں ہوتے
ہم تِرا رنگ جو کردار میں بھرتے جاتے
کتنی گہرائی سے بندہ تِرا لایا موتی
دیکھ کر ان کی چمک لوگ ٹھہرتے جاتے

5
آج پھر ٹوٹ کے وہ یاد آیا
دل گیا لُوٹ کے وہ یاد آیا
تم نے پوچھا تو کہہ دیا ہے سچ
ہاں بلا جھوٹ کے وہ یاد آیا
دل کسی زلف کا اسیر رہا
قید سے چھوٹ کے وہ یاد آیا

0
15
اس کی آنکھوں پر جو ہالے پڑ گئے
اس کے پیچھے ، غم جو پالے ، پڑ گئے
ہم تو گرویدہ ہوئے اس حسن کے
آنکھ میں دشمن کی جالے پڑ گئے
بے تکلّف آ گئے تھے اس کے در
جو جہاں پر اس نے ڈالے ، پڑ گئے

12
کشش قدرت عطا کرتی ہمیں جو سادگی آتی
تصنّع سے نہیں چہرے پہ ویسی تازگی آتی
اگر ہم مسکراہٹ دیکھ کر ان کی غزل کہتے
ہمارے سارے لفظوں میں یقیناً نغمگی آتی
اگر ہوتی میسّر ہم کو صحبت پاک لوگوں کی
تعلّق میں خدا سے خود بخود وارفتگی آتی

0
1
15
جو تم نہیں تو ہزاروں میں جی نہیں لگتا
خزاں تو دور بہاروں میں جی نہیں لگتا
ہمیں کوئی نہ ملا آج تک جو کہتا ہو
ہمارا ان دنوں یاروں میں جی نہیں لگتا
یہ ہم جو ہجرتوں کے تجربے سے گزرے ہیں
نہیں یہ بات پیاروں میں جی نہیں لگتا

1
12
دل کو جب فرقت کا صحرا دیجئے
آنکھ کو اشکوں کا دریا دیجئے
آئینہ یوں دل کا ہو جائے گا صاف
حسن کا دیدار کروا دیجئے
گر ندامت اس پہ ہے جو کر چکے
دل کو پچھتاوے کا جذبہ دیجئے

0
12
در جوانی ہو خزاں میں بھی بہارِ زندگی
وقتِ پیری سبزہ و گل ، خارزارِ زندگی
دل کو راحت دیں حسیں نظّارے گرد و پیش کے
ہوں اگر حاصل ہمیں شیریں ثمارِ زندگی
اشک گرتے ہوں ندامت کے اگر وقتِ سحر
خود بخود دُھل جائے سب گرد و غبارِ زندگی

0
11
مان ہم لیتے اسے تم جو ہدایت کرتے
ہم کسی بات کی تم سے نہ شکایت کرتے
تم کبھی چپکے سے آ جاتے چمن میں دل کے
ہم بیاں پھر گل و بلبل کی حکایت کرتے
ہم تو مشتاق رہے تم سے ہوں دل کی باتیں
تم ملاقات ہمیں اپنی عنایت کرتے

0
8
آئینہ دیکھ کے چہرہ مرا حیراں سا لگے
خود مجھے نقشۂ ایّامِ پریشاں سا لگے
گاؤں کے لوگ روانہ جو ہوئے شہروں کو
دیکھ کر خالی مکاں ، اب ہوا ویراں سا لگے
وعظ کرنا بڑا آسان ہے ، کرنا مشکل
مفتئ دین کو فتویٰ بڑا آساں سا لگے

0
24
جو دیکھ کر تیرا ایک جلوہ نہال ہوتے کمال ہوتے
جو پاک صحبت میں تیری رہ کر خیال ہوتے کمال ہوتے
ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں وہ رونقیں محفلوں کی جن میں
جواب جو بھی سبھی کے سن کر سوال ہوتے کمال ہوتے
وہ اہلِ صفّہ جو بیٹھے رہتے کہ بات سننے سے رہ نہ جائے
اگر تو ہم بھی ابو ہریرہ بلال ہوتے کمال ہوتے

0
9
ہجر میں دردِ دل بڑھے تو آہِ شب فراز کر
خود پہ جو شرم سار ہو دستِ دعا دراز کر
دوستوں دشمنوں سبھی سے ہو جو بات صاف ہو
ان کے خلاف تُو کوئی دل میں نہ ساز باز کر
پردہ دری نہ ہو کسی کی ہو جو عام گفتگو
قُرب کی ہوں جو ساعتیں ان میں بیان راز کر

11
تم اونچے محلوں والے ہو مسکین کی عزّت کیا جانو
کیا بیتے بھوکے بچوں پر تم صاحبِ دولت کیا جانو
تم ساتھی روز بدلتے ہو کیا جانو سچے جذبوں کو
تم سمجھو کچے دھاگے یہ رشتوں کی نزاکت کیا جانو
تم ہم کو کہہ کر دیوانےمنہ پھیر کے یوں جو ہنستے ہو
تم عقل کی پوجا کرتے ہو تم عشق محبّت کیا جانو

20
احسان ہیں یہ اس کے یا حسن و جمال ہے
یادوں کو اس کی دل سے مٹانا محال ہے
دل میں مرے سما گیا وہ شخص ہے جسے
مجھ سے بھی بڑھ کے ہر گھڑی میرا خیال ہے
میں ہاتھ اس کا تھام کے جو ہر قدم چلوں
گرنے کا خوف ہے نہ کوئی احتمال ہے

0
13
نکہتِ گل سے مہک جائے گلستاں میرا
تم چلے آؤ تو ہو جشنِ بہاراں میرا
نور ہی نور اُتر آئے مرے آنگن میں
جگمگائے یوں ستاروں سے شبستاں میرا
تیرگی رات کی بھاگی ہے بڑی تیزی سے
جب فلک پر نظر آیا مہِ تاباں میرا

0
29
وعدے کر کے مشکل کیوں پھر ان کو نبھانے ہو جاتے ہیں
لوگ محبّت کرتے ہیں پھر خود انجانے ہو جاتے ہیں
جیون ایسی راہگزر ہے جس پر چلنا مشکل ہے
چلتے چلتے رُکنے کے بھی لاکھ بہانے ہو جاتے ہیں
ہم جیسوں کو علم کتابوں سے ہی پڑھنا پڑتا ہے
قاضی کے گھر کے بچے تو آپ سیانے ہو جاتے ہیں

0
103
چارہ گر کوئی تو ہوتا دلِ بیمار کے پاس
کیوں دمِ مرگ اکیلے رہے ، اغیار کے پاس
دولتِ حسن ، وفا ، عشق بنیں تاج محل
اک شہنشاہ چلا آئے جو معمار کے پاس
آ گئے ہم تو یہاں ، بے سر و سامانی میں
آئے تھے جیسے مہاجر کبھی انصار کے پاس

0
16
تری تلاش کا جذبہ جو دل میں جاگے ہے
کہیں پہ تیری محبّت کی آگ لاگے ہے
ہم اپنی مرضی چلاتے تو تیرے پاس آتے
کہاں نہ جانے یہ تقدیر کھینچے دھاگے ہے
نہیں ہے نور سے آنکھوں کو گر شناسائی
چراغ لاکھ ہوں روشن اندھیرا لاگے ہے

0
25
نہیں نیند آتی کبھی ساری رات
تمہارے بنا یونہی گزری حیات
ہوئی تم کو پانے کی خواہش جو اب
نہ لغزش میں آئے گا پائے ثبات
ہیں تخلیق تیری یہ بندے ترے
تُو مالک ہے اے خالقِ کائنات

0
10
تُجھ کو پانے کی تمنّا جو کیا کرتا ہوں
رات کے پچھلے پہر اُٹھ کے دُعا کرتا ہوں
دشتِ تنہائی میں ڈر جاتا ہوں سنّاٹے سے
خامشی، دے کے صدا ، توڑ دیا کرتا ہوں
میرے خوابوں کی جو تعبیر سہانی ہو گی
روز کچھ خواب نئے دیکھ لیا کرتا ہوں

1
27
اس کو پیری میں مریدی کا خیال آیا ہے
ہاتھ میں کوئی نیا ، لگتا ہے جال آیا ہے
جس کے چُنگل سے میں نکلا تھا بڑی مشکل سے
پھانسنے کو مجھے پھر لے کے وہ مال آیا ہے
جبّہ پو شوں سے نہیں جان چھڑائی جاتی
تفرقہ ، دل میں اگر نفرتیں پال آیا ہے

0
14
لگا تھا دل پہ اچانک جو تیرِ یار کا زخم
بھرا نہیں ہے وہ اب تک نظر کے وار کا زخم
ہمیشہ رِستا رہا ہے وہ میری یادوں میں
خزاں میں اور ہرا ہو گیا بہار کا زخم
مرا بدن نہیں زخمی ہوا ہے پتھر سے
گلاب نے یہ دیا ہے نہیں ہے خار کا زخم

84
رکھی ہے فطرتِ انساں میں جستجو تیری
دکھائے آئنہ تصویر چار سُو تیری
نہ جانے کتنے تجھے ڈھونڈنے نکلتے ہیں
سفر میں رکھتی ہے کتنوں کو آرزو تیری
ہمیشہ پاتا ہے اعزاز وہ جہاں بھر میں
عزیز جس نے بھی رکھی ہے آبرو تیری

2
17
ہرا رہا ہے خزاں میں بھی یہ بہار کا زخم
بھرا نہیں جو لگا تھا نظر کے وار کا زخم
مرا بدن نہیں زخمی ہوا ہے پتھر سے
گلاب نے یہ دیا ہے نہیں ہے خار کا زخم
مجھے عزیز رہا درد جو ملا تُجھ سے
لگا جو راستے میں تیرے سنگسار کا زخم

0
25
زمانے میں نہیں ہے اس سے بڑھ کر جب حسیں کوئی
یقیناً انتہائے عشق کو پہنچا کہیں کوئی
محبّت کے عجب آثار اس میں پائے جاتے ہیں
نظر آئے نہ جس کو اس زمیں پر مہ جبیں کوئی
چمن میں گل فلک پر چاند اس کو جب نظر آئیں
وہ ان کو دیکھ کر کہتا ہے اس جیسا نہیں کوئی

0
13
دل میں جب روشنی نہیں ہوتی
آسماں سے وحی نہیں ہوتی
یوں تو ظاہر ہوئے ہیں شمس و قمر
دور کیوں تیرگی نہیں ہوتی
موت آتی نہیں ہے مرضی سے
ہاتھ میں زندگی نہیں ہوتی

0
6
41
دیارِ عشق کے رستے نے جب نکھار دیا
تو ہم نے آخری سانسوں کو تُجھ پہ وار دیا
کٹی ہے رات ترے سامنے جُھکا کے جبیں
اور اپنا دن بھی ترے ذکر میں گزار دیا
ترے مے خانے سے اک جام تھا پیا میں نے
نشے نے اس کے مجھے چین اور قرار دیا

0
10
جب تم سے اس نے آنے کا وعدہ نہیں کیا
تو پھر وفا کا اس نے ارادہ نہیں کیا
تم نے جگہ بنانے کی کو شش تو کی بہت
دل اس نے اپنا اتنا کشادہ نہیں کیا
بالا سمجھ کے خود کو جو بیٹھا رہا الگ
اس نے نصیحتوں سے افادہ کیا نہ تھا

0
23
کرتا رہا جو روشنی سب کو عطا چلا گیا
وہ جو تھا لعلِ بے بہا ، ہم کو ملا ، چلا گیا
علم کی شمعِ نور سے ، روشن کئے ہیں بحر و بر
وہ جو مثالِ ماہ تھا ، چمکا کیا ، چلا گیا
جب بھی کہیں امیدّ کی دل میں ضیا تھی کم ہوئی
تو رہ دکھا کے آس کی ، وہ مہ لقا ، چلا گیا

0
22
وصل کی جو گھڑی نہیں ہوتی
پھول کوئی کلی نہیں ہوتی
بے قراری رہے جو اس کے لئے
اس سے شرمندگی نہیں ہوتی
عشق تم کو نہیں ہوا ورنہ
اتنی افسردگی نہیں ہوتی

0
14
خونِ دل میں ہوا ہے شامل کون
کون رہزن ہے میرا قاتل کون
ناؤ کیسے لگی کنارے پر
کھینچ لایا ہے پاس ساحل کون
ان کا شب خون کا ارادہ ہے
اب رہے دشمنوں سے غافل کون

0
20
کاش پورا یہ خواب ہو جائے
زندگی لاجواب ہو جائے
امتحاں زندگی کا ہو اور تُو
امتحاں کا نصاب ہو جائے
تُجھ پہ ہر روز شعر لکھتا رہوں
تُو غزل کی کتاب ہو جائے

0
11
عمل نہیں ہے ، زباں میں ہو پھر اثر کیسے
نہ باغ سینچیں اگر ہم ، ملیں ثمر کیسے
ہوا ہے تجربہ حالات سے گزر کے ہمیں
طویل گرچہ تھی شب ، ہو گئی سحر کیسے
رموزِ عشق سے واقف نہیں خرد اب تک
جنوں نے آگ کو ٹھنڈا کیا ، مگر کیسے

0
9
تُو نہ ملتا تو سکوں دل کو کہاں ہونا تھا
گھر مرا تیرے بنا خالی مکاں ہونا تھا
مجھ کو اشرف جو بنایا مجھے معلوم نہ تھا
کہ جُھکا میرے لئے سارا جہاں ہونا تھا
تیرے احسانوں کا ممکن نہیں ہو پائے شمار
حق ادا شکر کا ہو وہم و گماں ہونا تھا

3
73
کوئی تو روک بنے اس بلا کے رستے میں
خدا کا رحم ہی آئے وبا کے رستے میں
ہمیں تو پہلے ہی قربانیوں کی عادت ہے
“ نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں”
ملائیں ہاتھ لگائیں جو ہم کسی کو گلے
یہ ڈر ہے لے کے نہ جائے فنا کے رستے میں

0
15
نہ دل اگر کسی عشقِ بتان سے گزرے
یقین کیسے ہو وہم و گمان سے گزرے
ہم اور ہی کسی دنیا میں اب تو رہتے ہیں
کہ ایک عر صہ ہوا اس جہان سے گزرے
وہ خواہشوں کے سبھی دائروں سے آگے ہے
اسے وہ پائے جو کون و مکان سے گزرے

0
64
اُس کی نظر کا دیکھ لو اعجاز کیا ہوا
اک انقلاب کا نہیں آغاز کیا ہوا
ابھرا افق پہ وقت پہ وہ چودھویں کا چاند
روشن ہوئے خزانوں کے سب راز کیا ہوا
وہ تھا ید بیضا کہ تھا عصا کا معجزہ
زندہ دمِ عیسیٰ کا نہ انداز کیا ہوا

0
13
گرچہ رہے ہیں غم ہمیں بھی روزگار کے
بھولے نہیں کرم کبھی پروردگار کے
ان کو خزاں کے آنے سے تم کیا ڈراتے ہو
روتے ہوئے گزار دیں جو دن بہار کے
یادوں سے تیری کھیل کے تھک جائیں گے صنم
ہم سے نہ کٹ سکیں گے یہ دن انتظار کے

0
16
آسماں سے پیام آیا ہے
کوئی بن کر امام آیا ہے
اس پہ بھیجو درود وہ بن کر
جس کا قائم مقام آیا ہے
برف پر چل کے جا کے اس کو دو
وہ جو اس کو سلام آیا ہے

0
30
مسلسل قوم ، جب سے سو رہی ہے
تو قسمت اس کی ، اس پر رو رہی ہے
دلِ مضطر کو آئے چین کیونکر
دگر گوں حالت اس کی ہو رہی ہے
بدلنے کا خیال آئے گا اک دن
یہی امّید اب تک تو رہی ہے

0
25
نور کو رہنما نہیں کرتے
وہ جو روشن دیا نہیں کرتے
کیوں زمانہ بہا کے لے جائے
ہاتھ باندھے ، بہا نہیں کرتے
زندگی جس کی ہو کسی کے نام
وہ بہانے کیا نہیں کرتے

0
10
خواہشوں کو کبھی دامن سے ، بڑھایا ہی نہیں
اس لئے دل کو کوئی روگ لگایا ہی نہیں
زندگی گزری ہے کیسے یہ پتہ ہی نہ چلا
ہم پلٹ جاتے جہاں ، موڑ وہ آیا ہی نہیں
چاند نکلا شبِ تاریک میں روشن ہو کر
ہم نے پھر گھر میں دیا کوئی جلایا ہی نہیں

0
22
زمین و آسماں ، گردش میں رہتے ہیں جو سیّارے
یہ صحرا ، دشت و دریا ، کوہ و میداں کیوں بنے سارے
برستا ہے جو بادَل وہ تو پانی ایک ہی لائے
ہے میٹھا پانی دریا کا ، سمندر کیوں ہوئے کھارے
کئے مالک نے دانے ، کھیت میں ، باغوں میں پھل پیدا
تری تخلیق کی خاطر چلے یہ سلسلے سارے

0
9
ہم نے جو بے ساختہ چاہا ، کیا
کیا عجب ، اس نے ہمیں چلتا کیا
چاہئے تھا جو ہمیں کرنا ، کیا
اس نے جو کچھ بھی کیا ، اچھا کیا
کھو گئے رنگینئ دنیا میں ہم
اس محبّت نے ہمیں ، رُسوا کیا

0
22
چلے جو دھوپ میں پھر جسم نے تو جلنا تھا
جو سایہ بن کے چلا ساتھ اس کے چلنا تھا
قدم رکھا تھا جوانی میں کچھ دنوں پہلے
خبر نہیں تھی اسے اتنی جلدی ڈھلنا تھا
وہ ہم سے پہلے مسافر تھے حوصلے والے
وگرنہ ہم نے کہاں راستہ بدلنا تھا

0
10
پہلے تو کہیں زخم یہ کھایا بھی نہ ہو گا
یہ تیرِ نگہ اس نے چلایا بھی نہ ہو گا
اک سایۂ دیوار میں بیٹھے ہیں سمجھ کر
سورج گیا تو پھر کہیں سایہ بھی نہ ہو گا
بارش نے مسلسل جو یہاں ڈیرے لگائے
بادَل کہیں صحرا میں تو چھایا بھی نہ ہو گا

0
10
در پہ دستک دیا کرے کوئی
دل یہ آہٹ سدا سُنے کوئی
شام کی تیرگی سے پہلے ہی
اپنے دل میں دیا جلے کوئی
شہر تنہائیوں سے ڈرتا ہے
اُس سے ملنے چلا چلے کوئی

0
23
خلافت خدا کی ہے سنّت قدیم
خلافت عطائے خدائے کریم
خلافت اندھیرے میں شمعِ حریم
خلافت خدا کی ہے نعمت عظیم
جہاں میں خلافت کا جو نور ہے
جو دور اس سے اُس سے خدا دور ہے

0
27
خدا نے خود بشارت دی خلافت کی جو قرآں میں
عطا کر کے یہ نعمت تمکنت بخشی ہے ایماں میں
یہی ہے نور مومن روشنی پاتے ہیں اس سے جب
سمجھ لیتے ہیں دشمن اب یہ بھٹکیں گے بیاباں میں
ابوبکر و عمر عثماں علی سب کی خلافت میں
محمّد مصطفےٰ کے بعد طاقت تھی مسلماں میں

0
21
جب ضروری ہو کچھ کہا جائے
جرم ہے یہ کہ چپ رہا جائے
قتل ہوں بے گناہ لوگ مگر
بند آنکھوں کو کر لیا جائے
دل کی آواز کو سُنا جائے
شورِ محشر بپا کیا جائے

0
19
نہ دیکھ پائیں گے ہم گر وہ بے نقاب آیا
ہمیں تو وصل کی خواہش سے بھی حجاب آیا
مدد کو آؤ گے کیا تم جو رُوبرو ہوں گے
کسی سوال کا ہم کو نہ گر جواب آیا
ہوا میں جب ہوئی تحلیل اِس کی حدّت سے
یقین ہو گیا شبنم کو آفتاب آیا

0
15
من میں چین کہاں پر ہووے، نین جو اس سے لاگے
راہ تکے ہیں اُس کی ہر پل ، سب سُکھ چین تیاگے
آس کی دیوی رات کو آکر میٹھی نیند سُلاوے
سپنوں میں آ جائے پھر وہ ، اس کارن ہم جاگے
مدھم مدھم سُر میں اُس کے گیت فضا میں گونجیں
راگ کے سارے سر گم مل کر جُھک گئے اُس کے آگے

0
34
نہیں ضروری کوئی واردات ، بھی کرنا
جو پیش آئے رقم ، حادثات ، بھی کرنا
حقیقتوں سے شناسا ہوں یہ ضروری ہے
بیاں ہمارے لئے واقعات بھی کرنا
جہان بھر کے پس و پیش جانتے ہو تم
جو ہو سکے کبھی عرفانِ ذات بھی کرنا

0
13
دامنِِ تر سے نہیں داغوں کو دھونا آیا
ہم کو پلکوں پہ نہیں اشک پرونا آیا
بھول جائیں گے اسے ہم نے یہ سوچا تھا مگر
ذکر اس کا نہ تھا پھر بھی ہمیں رونا آیا
کھیل کر مجھ سے ذرا دیر پرے پھینک دیا
ہاتھ میں اس کے نیا جیسے کھلونا آیا

0
31
اُس نے پوچھا تو مُدّعا ہم سے
کیسے آئے ہو یہ کہا ہم سے
بد گُمانی تو تھی زمانے کو
اُس کو کوئی نہ تھا گِلہ ہم سے
ہم نے کب دوسروں کی پروا کی
فکر تھی وہ نہ ہو خفا ہم سے

0
20
دل اب بھی ڈھونڈتا ہے یہ ناصر سعید کو
جنَّت میں دیکھتا ہے یہ ناصر سعید کو
رحمت قدم قدم رہی ساتھ اس کے ہر گھڑی
اجرِ وفا ملا ہے یہ ناصر سعید کو
ناصر کے ساتھ بھی رہا طاہر کے ساتھ بھی
موقع عطا ہوا ہے یہ ناصر سعید کو

0
16
یہ اگر سلسلہ نہیں ہوتا
اُس سے پھر رابطہ نہیں ہوتا
جس نے خود ہاتھ سے بنایا ہو
وہ کبھی لاپتہ نہیں ہوتا
بات ہم کو ادھوری لگتی ہے
جب تِرا تذکرہ نہیں ہوتا

0
16
چاندنی رات میں جگنو اڑے کیا دیکھو گے
چاند آئے جو نظر دیر سے کیا دیکھو گے
سوزِ دل، سازِ محبّت سے ملا کر جو سُخن
یاد میں گل کی جو بلبل کہے ، کیا دیکھو گے
حُسنِ یوسف کی جھلک دیکھنے کی تاب نہیں
تم ہو انگُشت بدنداں اُسے کیا دیکھو گے

0
36
نشّۂ عشق میں اک جلوے نے سر شار کیا
داستاں اپنی ہی لے کر اسے اشعار کیا
تجھ کو دیکھا ہے تو کھو بیٹھے ہیں سب عقل و خرد
کیسی مشکل سے ترے حسن نے دو چار کیا
تُو نے اظہار وفا ایسے کیا ہے مجھ سے
یوں لگے مجھ کو مرے یار نے بیمار کیا

1
19
جو نُور کائنات میں ، شمس و قمر میں ہے
جلوہ نما ہوا وہی ، قلب و نظر میں ہے
گزری ہے تیری جستجو میں جو گھڑی وہی
سرمایۂ حیات مرا ، اس سفر میں ہے
گزرے بغیر اس سے ، پہنچ پائیں گے کہاں
وہ امتحان جو کہ ابھی رہ گزر میں ہے

1
55
ترے نقوش کو تصویر میں اُبھارا گیا
ترے سُخن تری تحریر کو نکھارا گیا
قصیدے شان میں تیری بہت سے لکھے گئے
عطا کئے گئے القاب سے پکارا گیا
تجھے تو ایک ہی تمغہ تھا باعثِ اعزاز
وہاں تو مدح کے انبار سے گزارا گیا

3
53
ایک دن تُجھ کو پڑے گی جو ضرورت میری
تجھ کو یاد آئے گی اُس روز یہ چاہت میری
یوں تکبّر سے مجھے دیکھ کے منہ پھیر نہ تُو
میں تِرا دوست ہوں بدلی نہیں الفت میری
میں ترے کوچہ سے جاؤں گا تو یاد آؤں گا
جب رہے گی نہ ترے سر پہ حفاظت میری

0
21
آگئے ہیں جو یہاں اب نہیں جانے والے
میکدے سے نہیں آئیں گے اٹھانے والے
تشنہ لب پیاس بجھائیں گے تو جائیں گے کہیں
چشمۂ فیض پہ آئے ہیں جو آنے والے
وقت کی بات ہے پکڑے گی مکافاتِ عمل
کب سکوں پا ئیں ، فقیروں کو ستانے والے

2
37
وہ ہاتھ دھو کے پیچھے مرے پڑ گئے ہیں کیوں
اچھے بھلے تھے آج انہیں کیا ہوا جنوں
پوچھا جو میں نے ان سے کہ احوال کچھ کہیں
شاعر ہیں کہہ رہے ہیں غزل ان کی میں سنوں

4
48
تم سے ملنے اگر گئے ہوتے
یہ مقدّر سنور گئے ہوتے
ہم بتوں سے فریب کھا بیٹھے
ورنہ کیا کیا نہ کرگئے ہوتے
زندہ رہنا تمہی سے سیکھا ہے
ورنہ ہم کب کے مر گئے ہوتے

3
55
عجب ہے عید کی برکت، خوشی ہم سب مناتے ہیں
جو ہفتہ بھر نہ کھا پائیں وہ ہم اک دن میں کھاتے ہیں
خدا کی بارگہ میں گر قبولیّت ہو روزوں کی
فرشتے عید ملنے آسماں سے گھر پہ آتے ہیں
سُنا ہے عید کے دن وہ گلے ملتے ہیں لوگوں سے
یہی تو سوچ کر ہم عید ملنے ان سے جاتے ہیں

0
26
جو چھپا رکھا تھا چہرہ کُھل گیا
حسن کا ہم سے جو پردہ کُھل گیا
آنکھ سے ٹپکا ہے خونِ دل مگر
کوچۂ جاناں کا رستہ کُھل گیا
زلف اس نے کھول دی جب شام کو
رات کی آمد کا عُقدہ کُھل گیا

0
30
گو فرشتہ نہیں ہوں میں عاجز بشر
میری پرواز روکیں نہ دیوار و در
روک لوں میں قدم کیا یہی سوچ کر
دُور منزل ہے اور راستہ پُر خطر
میں تری رہنمائی میں چلتا رہا
تیری جانب ہوا ہے جو اب تک سفر

0
12
تغزّل ہے ترنّم ہے سلاست ہے روانی ہے
مجھے اک بات لیکن آج شعروں میں سنانی ہے
ہماری داستاں سن کر تمہیں بھی حوصلہ ہو گا
بہت جدّو جہد پھر کامیابی کامرانی ہے
خدا جانے ہماری زندگی کیا رنگ لائے گی
تموّج ہے تلاطم ہے خیالوں کی جوانی ہے

0
71
کبھی بھی عشق کے مارے برے نہیں ہوتے
برا ہو ایک تو سارے برے نہیں ہوتے
تمھارے ساتھ نصیبوں نے کھیل کھیلا ہے
یہ آسمان کے تارے برے نہیں ہوتے
تم ایک بار اتر کر تو دیکھو میداں میں
ہمیشہ تم سے جو ہارے، برے نہیں ہوتے

0
18
جو ہم نے عالمِ کون و مکان دیکھا ہے
ہے آگے اور کیا پر یہ جہان دیکھا ہے
کسی کی چشمِ تلطّف نے کر دیا گھائل
نہ اُس سا کوئی حسیں مہربان دیکھا ہے
ہمیں خوشی سے گزرنا ہے آزمائش سے
کہ اس سے پہلے بھی یہ امتحان دیکھا ہے

0
19
اس سفر کی تکان کیا کم ہے
زندگی امتحان کیا کم ہے
اور کیا کیا مصیبتیں ہوں گی
سر پہ اِک آسمان کیا کم ہے
ہم جو باہَر نظر نہیں آتے
دیکھنے کو مکان کیا کم ہے

1
36
وہ لمحہ پھر خوشی بن کر بھی آئے
ہمارے گھر وہ خود چل کر بھی آئے
ہم اس کے سامنے ہیں وہ ہمارے
مرے خوابوں میں یہ منظر بھی آئے
بہار آئی چمن میں گُل کھلے ہیں
گلاب احمر ، شجر اخضر بھی آئے

0
26
زندگی ہے یہ امتحان ہی کیا
لب پہ اٹکی رہے گی جان ہی کیا
جلوۂ حسن بھی کبھی ہو گا
یا رہے گا فقط گمان ہی کیا
جاتے جاتے وہ کر گئے احساں
حسرتیں دے گئے ہیں دان ہی کیا

0
15
دیکھ سکتے ہی نہیں نورِ عیاں سے آگے
ہم پہنچ پائیں گے کیا اس کے بیاں سے آگے
ہم تو اُڑ کر بھی ترے پاس چلے آتے اگر
سوچتے ہم بھی کبھی دونوں جہاں سے آگے
کیسے کہہ دوں ہے تعلّق اسے گہرا مجھ سے
گفتگو بڑھتی نہیں سود و زیاں سے آگے

0
49
زمیں پہ شورِ قیامت مچا گئے یارو
خبر ملی ہے مسیحا ہیں آ گئے یارو
نیا اب آسماں اور اک نئی زمیں ہو گی
یہ مژدہ آکے وہ سب کو سنا گئے یارو
دلیل لے کے وہ آئے تو ہم نے مان لیا
نشان بھی تو سبھی ہیں دکھا گئے یارو

0
11
دل اگر اپنا مسلمان کہیں ہو جاتا
صورتِ وصل کا امکان کہیں ہو جاتا
ہم نے سودا اِسے بس سود و زیاں کا سمجھا
دوستی ہوتی تو نقصان کہیں ہو جاتا
عمر بھر اوروں سے ہی ہم نے شناسائی کی
ذات کا اپنی بھی عرفان کہیں ہو جاتا

1
42
لبوں پر اک تبسّم اس کی باتوں میں تغزُّل ہے
فرشتوں جیسا چہرے پر سکوں حسن و تجمُّل ہے
خدا کی دوسری قدرت کا مظہر پانچواں ہے وہ
اسی سے اب مسیحا کی خلافت کا تسلسُل ہے
وہ کلمہ ہے خدا کا اور خدا جو بات کہتا ہے
کبھی اس بات میں دیکھا نہیں ہوتا تبدُّل ہے

4
67
مزید پانے کی خواہش جو بے تحاشا ہے
اسی سے ہر جگہ دنیا میں یہ تماشا ہے
ملا ہے اب جو اُسے چھوڑ دیں نہیں ممکن
جتن ہزار کئے تب اُسے تلاشا ہے
حسیں بدن کی اداؤں نے خود گواہی دی
اُسے کسی نے بڑے پیار سے تراشا ہے

2
30
لوگ تنہائی کا اتنا جو گِلا کرتے ہیں
سب کے ہاں کیا کوئی مہمان ہوا کرتے ہیں
جو بھی شاعر تری صحبت میں رہا کرتے ہیں
کوئی اچھی سی غزل روز کہا کرتے ہیں
داستاں تیری عیاں چہرے سے ہوتی ہے مگر
ہم بصد شوق کئی بار پڑھا کرتے ہیں

0
25
بات دل کی وہ جیسے جان گئے
میں نہ جو کہہ سکا وہ مان گئے
ڈال کر یوں گئے وہ مجھ پہ نظر
دے کے سر پر وہ سائبان گئے
روگ دل کو لگا لیا جب وہ
جلوۂ حسن دے کے دان گئے

6
294
دشمن کو تو ہم یوں کبھی خاطر میں نہ لائے
اپنوں کو بھی دیکھا ہے ، مگر ہوتے پرائے
ماضی کے دریچوں میں بھی جھانکا تو یہ دیکھا
پہلے بھی ستم ہم پہ ، زمانے نے ہیں ڈھائے
جب جب بھی ہوئے شمع ، بجھانے کے وہ درپے
دیکھے ہیں ، اندھیروں کے ، سمٹتے ہوئے سائے

36
آئی کل رونق نظر ، افطار میں
مل کے بیٹھے ، گو تھا ڈر ، افطار میں
طیّب و تنویر نے دعوت جو کی
ہم گئے ، گھر چھوڑ کر ، افطار میں
تھی اجازت پندرہ افراد کی
یہ رہا مدِّ نظر ، افطار میں

12
سفر کا شوق بھی دُشوار رہگزار بھی ہے
جو چل پڑا ہوں تو منزل کا انتظار بھی ہے
چمن میں پھول کھلے ہیں فضا میں خوشبو ہے
ہو الوداع اےخزاں ، کہہ رہی بہار بھی ہے
ہم اس سے پہلے بھی آئے ہیں اس طرف اکثر
مگر وہ آیا ہے جب سے یہاں قرار بھی ہے

28
گر خُدا سے دوستی کا ہو تعلّق استوار
پھر مثال اس کی ملے کوئی نہ گو ڈھونڈیں ہزار
دل سے دل مل جائیں جب ، روحوں میں اترے پیار وہ
ورطۂ حیرت میں ڈوبے ہوں ملائک بے شمار
ہوں جُدا اک دوسرے سے دوستی میں جب کبھی
دو ، سَتی ہو ں ایک دوجے کے لئے دیوانہ وار

0
32
میں ترے پیشِ نظر گو پسِ منظر ہوتا
مجھ کو حسرت ہی رہی میں بھی قلندر ہوتا
میں فلک پر جو چمکتا ہوا اختر ہوتا
اثر انداز تِرا کچھ تو مقدّر ہوتا
تو نہ ملتا تو کسی قیس کا مظہر ہوتا
تُجھ کو پاتا تو مقدّر کا سکندر ہوتا

0
2
34
سکونِ قلب اطمینان پایا
خدا کا ہم نے جب وجدان پایا
ہماری زیست کا مقصد عبادت
خدا کا تو یہی فرمان پایا
خدا کے ذکر سے لب ہیں معطّر
ہے جب سے قلب نے عرفان پایا

0
20
وہ جو ہو سامنے جذبات بدل جاتے ہیں
گھر کو لوٹیں تو خیالات بدل جاتے ہیں
اک محبّت کا نشہ کر کے تو دیکھو یارو
دیکھنا کیسے یہ دن رات بدل جاتے ہیں
ہم نے دیکھا ہے بدلتے ہوئے لوگوں کو اصول
دیکھ کر سود و زیاں بات بدل جاتے ہیں

0
41
ساتھ مشکل میں اگر شانہ بہ شانہ دے دو
درگزر کرنے کا اس کو بھی بہانہ دے دو
تم نے جانا ہے تو جاؤ کہ ہوئی دیر بہت
شب گزاری کو ہمیں آج یہ میخانہ دے دو
ہم تو اشعار میں لکھیں گے کہانی اپنی
تم بھی لکھنے کو ہمیں اپنا فسانہ دے دو

4
65
اس کی یاد آنکھوں میں آنسو سی بسی رہتی ہے
روشنی بھی کہیں جگنو سی بسی رہتی ہے
جب تلک سوچتا رہتا ہوں ترے بارے میں
میرے ماحول میں خوشبو سی بسی رہتی ہے
ذہن میں تیرے تصوّر کے کئی غنچےلئے
تیری تصویر ہی گل رُ و سی بسی رہتی ہے

1
34
تم بھی کیا کیا کچھ لکھتے ہو
لکھتے ہو جو سچ کہتے ہو
مشکل میں گھر آ جاتے ہو
یوں تو آوارہ پھرتے ہو
مرنا ہے تو جی کے دکھاؤ
جانے کس کس پر مرتے ہو

0
2
49
ہو سکی تم سے ملا قات ، بہت تھوڑی ہے
اور پھر تم سے ہوئی بات ، بہت تھوڑی ہے
تم کو جی بھر کے ابھی دیکھا کہاں ہے میں نہیں
اب جو باقی ہے بچی رات بہت تھوڑی ہے
شمع کی طرح لُٹا دیتے ہیں جاں پروانے
پھر بھی پروانے کی اوقات بہت تھوڑی ہے

0
30
ابتدا انتہا تو نہیں ہے پتا
میں تو سمجھا یہی علم کی انتہا
یہ بتایا گیا ہے مجھے بارہا
عشق میں ہو نہ جانا کہیں مبتلا
پی کے امرت کا پیالہ جو رسوا ہوا
خُلد سے آدمی کو نکالا گیا

0
51
آنکھیں سچی ہوتی ہیں سچ بولتی ہیں
لاکھ چھپاؤ راز دلوں کے کھولتی ہیں
سچی باتیں دکھتی رگ پر ہاتھ رکھیں
جذبوں کے پھر مُردہ جسم ٹٹولتی ہیں
مولا تُجھ کو دیکھ نہ پائیں آنکھیں پر
تیری باتیں کانوں میں رس گھولتی ہیں

0
55
آنکھوں میں خواب بھر کے جو سویا کرو کبھی
یادوں کا حسن دل میں سمویا کرو کبھی
پھولوں سے قربتیں ہوں تو کانٹے ہوں ساتھ ساتھ
تم دشمنی کے بیج نہ بویا کرو کبھی
تم کو جو راس آئے قناعت کی زندگی
راتوں کی نیند ، چین نہ کھویا کرو کبھی

0
52
تم آئینے کے سامنے جاؤ گے پھر کبھی
باطن بھی اپنا سامنے لاؤ گے پھر کبھی
تم نے کیا نہ گر کبھی دستِ طمع دراز
مایوس ہو کے سر نہ جھکاؤ گے پھر کبھی
اپنی محبّتوں سے کرو گے جو انحراف
تم زندگی میں چین نہ پاؤ گے پھر کبھی

0
33
نسخہ ہائے آزمودہ کی کتابوں میں لکھا
کب ہے اکسیرِ حیاتِ جاودانی کا پتا
گر خدا کی معرفت پا جائے انساں ہر گھڑی
وہ رہے راضی خدا سے جس کی وہ پائے رضا
کس قدر آزردہ خاطر ہو گئے یہ دیکھ کر
وہ جسے ملنے گئے چپکے سے وہ چلتا بنا

0
37
میری یادوں میں وہ ہنسی ہے ابھی
یاد لہجے کی دلکشی ہے ابھی
آ گیا ہوں جو میں اسے ملنے
اس کی مجھ پر نظر پڑی ہے ابھی
دل ہے بے تاب اُس سے ملنے کو
ایک وارفتگی بچی ہے ابھی

0
32
ایسا دیکھا نہ کبھی عشق کا اظہار ہوا
چارہ گر دیکھنے آیا تو وہ بیمار ہوا
رات کے پچھلے پہر چاند نکل آیا جب
مضمحل تاروں کو پھر ہجر کا آزار ہوا
حسرتِ دید لیے جاں سے گئے برسوں لوگ
تب کہیں جا کے مسیحا کا ہے دیدار ہوا

0
33
سجدہ ہائے آخرِ شب ، اشک مژگاں پر رواں
حالِ دل لب پر ہو جاری ، سینے میں آتش فشاں
محوِ خوابِ حُسنِ جاناں ہو کے جانا اس قدر
ہیں تلاطم خیز جذبے ایک بحرِ بیکراں
آدمیّ گر، انس رکھے گا خدا اور خلق سے
تب کہیں انسان کہلانے کے قابل ہو میاں

0
22
اوس بھی اتری ، اشکوں کے سنگ آدھی رات کے بعد
دیکھے ہم نے الفت کے رنگ آدھی رات کے بعد
نیند نہ آئے جب تک اس کی یادیں ساتھ رہیں
سپنوں میں وہ کرتا ہے تنگ آدھی رات کے بعد
چھوڑنے کب دے نیند کو بستر ، کھینچے یار کی چاہ
جذبوں کی چھڑ جاتی ہے جنگ آدھی رات کے بعد

0
40
جیون ہے سانسوں کی ڈور پہ اڑتی جاتی ایک پتنگ
کیسے دیکھ فضا میں کٹ کر ہے لہراتی ایک پتنگ
کسی کسی کی ڈوری دور سمے تک اونچی اُڑتی جائے
گرے کسی کی کٹ کر اڑتے ہی بل کھاتی ایک پتنگ
کہے یہ اس سے میں بھی تُجھ پر جان نچھاور کر دوں گا
کوئی شمع جب دیکھے روشن روشن آتی ایک پتنگ

0
28
تمہیں کب کسی نے کہا تھا یہ مرے گھر میں تارے اتار دو
جو کہا فقط تو یہی کہا مرے قرض سارے اتار دو
مری روح تو لئے درد ہے مرے دل میں سوزشِ کرب ہے
وہ سکون پائیں گے سب ادھر یہاں غم کے مارے اتار دو
مرے جانتے ہیں یہ مہرباں نہیں اب رہا کوئی گلستاں
نہیں پھول کوئی بچے اگر مجھے کانٹے سارے اتار دو

0
28
سارا عالم دُہائی دیتا ہے
کون کس کو خدائی دیتا ہے
ذرَّہ ذرّہ گواہ تیرا ہے
دعوتِ رونمائی دیتا ہے
عشق بیٹھا تماش بیں کیوں ہے
حسن ہر سُو دکھائی دیتا ہے

0
4
54
خود کو آزاد کر رہا ہوں اب
دل کو آباد کر رہا ہوں اب
صید کو میں نے کر دیا آزاد
قید صیّاد کر رہا ہوں اب
غور کر لیں تو کچھ سمجھ آئے
یہ جو ارشاد کر رہا ہوں اب

0
15
الفاظ میں جادو ہے معانی میں نہیں ہے
سو اُس کی طلب میری کہانی میں نہیں ہے
وہ پیاس بجھاتا ہے ڈبوتا نہیں تم کو
گہرائی تو دریا میں ہے پانی میں نہیں ہے
ہر کوئی بڑھاپے میں تو ہو زاہد و عابد
کیا توبہ اگرعہدِجوانی میں نہیں ہے

0
35
اُس سے ہو جائے ملاقات یہ وعدہ بھی نہیں
اُس کی رحمت سے تو مایوس زیادہ بھی نہیں
سر میں سودا جو سمایا ہے اسے ملنے کا
چل پڑا ہوں مرا رُکنے کا ارادہ بھی نہیں
میرے دامن پہ اگرچہ ہیں ہزاروں دھبّے
روکنے والا مجھے میرا لبادہ بھی نہیں

0
37
ہم جو تھوڑا سا کہیں شکوہ شکایت کر لیں
آپ بھی ہم پہ ذرا نظرِ عنایت کر لیں
آپ سے یوں تو ملاقات بڑی مشکِل ہے
کیوں نہ اب آپ کے ہی شہر میں ہجرت کر لیں
گر نہیں تُجھ سے ملاقات کے قابل یارب
ہم تجھے سجدہ ہی کرنے پہ قناعت کر لیں

0
34
اے مرے پاک وطن میرے وطن پیارے وطن
تُجھ پہ قربان مری جان مرے تن من دھَن
تیری خوشبو سے مہکتا ہے مرے دل کا چمن
تیرے نظّارے وہ دریا وہ ترے کوہ و دمن
تیرے صحراؤں میں سونا بھی بنا ہے کندن
لعل و گوہر تری مٹی سے جو نکلے روشن

0
103
یوں تو ہے آبگینہ، عورت ہے اک خزینہ
ہم کو ملا زمیں پر یہ قیمتی نگینہ
آتی ہے گھر میں جب یہ ہوتی ہیں رونقیں یوں
اتری پری ہو کوئی یا حور سی حسینہ
ہوتی ہے لاڈلی یہ ماں باپ کی تو ایسی
جیسے کہ مل گیا ہو قارون کا دفینہ

0
40