Circle Image

ڈاکٹر طارق انور باجوہ

@TariqBajwa

ہر ایک درد کا درماں نہیں ہوا کرتا
جو اپنی ذات کا عرفاں نہیں ہوا کرتا
جو اپنا آپ مٹا دے کرے محبّت وہ
ہر ایک عشق میں قرباں نہیں ہوا کرتا
وہ جس کو ڈھونڈتا پھرتا ہے آدمی ہر سُو
وہ دل سے اس کے تو پنہاں نہیں ہوا کرتا

0
4
دل میں روشن ہوئی وفا بھی ہے
اور سینے میں اک خلا بھی ہے
تیری آنکھوں میں ہے یہ کیا جادو
ان میں دریا بھی اک دعا بھی ہے
عشق میں خود کو ہم بھلا بیٹھے
اس خسارے میں اک عطا بھی ہے

0
4
تری نگاہ میں اک رازِ آگہی دیکھا
میں اپنے آپ میں اترا تو تجھ کو ہی دیکھا
وہ ایک لمحہ کہ جب دل نے آنکھ کھولی تھی
تو کائنات کو تھا محوِ بندگی دیکھا
عجیب رنگ تھا تیری خموشیوں میں بھی
سکوتِ شب میں کوئی نغمہ سرمدی دیکھا

0
4
غرق اپنے تکبّر کی سیاہی میں ملے گا
فرعون جو لپٹی ہوئی ممّی میں ملے گا
دن چڑھتے ہی جس نے تھی بڑی دھوم مچائی
“وہ نام تمہیں شام کو ردّی میں ملے گا”
سیلابِ بلا آتے ہیں آتے ہی رہیں گے
جو نوح کا پیرو ہے وہ کشتی میں ملے گا

0
4
اثر نگاہ کا دل پر عیاں بھی ہوتا رہا
اسی سبب سے یقیں پر گماں بھی ہوتا رہا
ترے خیال کی خوشبو تھی میرے چاروں طرف
اسی سے گھر کا معطّر سماں بھی ہوتا رہا
عجیب طرزِ محبت تھا تیری قربت کا
میں جل کے خاک بھی اور گلستاں بھی ہوتا رہا

0
3
مجھے تو مدحِ نبیؐ بے حساب کرنی ہے
ہر ایک سانس ہی نذرِ جناب کرنی ہے
درودِ پاک سے دھونی ہے تیرگی دل کی
چراغِ عشق سے دنیا گلاب کرنی ہے
حضورؐ! آپ کی سیرت ہے آفتابِ حیات
اسی سے زیست مجھے کامیاب کرنی ہے

0
5
یہ شہرِ شوق بھی کیا شہرِ بے اماں نکلا
جہاں بھی دیکھا وہیں آدمی گماں نکلا
نہ جانے کس لیے ٹھہری تھی چشمِ تر میں نمی
وہ ایک خواب تھا آنکھوں سے بے نشاں نکلا
ہمیں تو عمر لگی ایک بات کہنے میں
وہ ایک لمحہ جو گزرا ہماری جاں نکلا

0
3
وہ جو اک شخص مرے دل میں بسا رہتا ہے
دور رہ کر بھی مرے پاس سدا رہتا ہے
ہم نے مانا کہ محبت میں خموشی ہے مگر
چُپ کے سنّاٹے میں بھی نُطقِ وفا رہتا ہے
تیری یادوں کا عجب رنگ ہے شامِ ہجراں
درد بڑھتا ہے مگر زخم ہرا رہتا ہے

0
4
تری نظر کا مری ذات پر اثر ہے ابھی
مرے وجود میں جاری ترا سفر ہے ابھی
میں اپنے آپ سے ملنے کی جستجو میں رہا
مگر مجھے بھی تو پہنچی تری خبر ہے ابھی
وہ ایک لمس کہ جس کو بھلا نہیں پایا
مرے خیال میں اس لمس کی سحر ہے ابھی

0
4
تری نظر سے جو اک بار آشنا ہوا دل
پھر اپنے آپ سے کب یوں لگا خفا ہوا دل
وہ ایک لمس کہ جس کی خبر نہ تھی پہلے
اسی کے بعد زمانے سے ہے جدا ہوا دل
ترے سکوت میں ایسی صدا تھی پنہاں کیا
خود اپنے شور سے آخر گریز پا ہوا دل

0
4
ترے خیال کی خوشبو سے گھر مہکتا ہے
کہ دل یہ تیرے تصور سے آہ بھرتا ہے
کسی کے لمس کی خواہش کسی کی یاد کا نور
یہ کون شخص ہے سینے میں جو دھڑکتا ہے
وہ ایک نام جو لب پر کبھی نہیں آیا
وہی تو میرے لہو میں مدام بہتا ہے

0
4
تری خاموشیوں میں بھی صدا محسوس ہوتی ہے
ترے ہونے سے دنیا باصفا محسوس ہوتی ہے
ترے چہرے پہ ٹھہری روشنی کے روبرو مجھ کو
دُھندَلْکوں سے بھری باقی فضا محسوس ہوتی ہے
عجب اک فاصلہ سا ہے ترے نزدیک آ کر بھی
تری قُربت کی مجھ کو ابتدا محسوس ہوتی ہے

0
4
کسی کو پا کے بھی دل کو اگر قرار نہیں
سمجھ لو رشتہ محبّت کا سازگار نہیں
جو اپنے آپ سے ملنے کی جستجو رکھّے
تو عمر بھر اسے رہتا پھر انتظار نہیں
گمان ہوتا ہے منزل نہ کوئی دھوکا ہو
سفر کے رستے میں ورنہ کوئی غبار نہیں

0
2
تری نگاہ میں ایسی کشش کہاں سے ہے
کہیں پہ دل کو تعلّق رہا بتاں سے ہے
لبوں پہ تیرے تبسّم ہے آنکھ مے خانہ
یہ حسنِ ناز تو اندازِ دلبراں سے ہے
شبِ فراق میں بھی چاندنی اترتی دیکھ
خیالِ یار کی خوشبو بھی آسماں سے ہے

0
4
دلِ بے تاب کو اک خوابِ گراں چاہیے ہے
چشم و ابرو کی فقط ایک کماں چاہیے ہے
شبِ ہجراں میں سراپے کا تصوّر ایسا
دشت میں جیسے کوئی ٹھنڈا کنواں چاہیے ہے
تیری آواز نے ہولے سے کہا کان میں یوں
عشق کو ذکر نہیں قلبِ تپاں چاہیے ہے

0
4
تجھ کو جب دیکھا مرے دل کو قرار آنے لگا
میرے اندر بھی کوئی موسم بہار آنے لگا
تیری آنکھوں میں بھی کچھ ایسی کشش دیکھی کہ اُف!
دیکھتے ہی اس کو ، مجھ کو تجھ پہ پیار آنے لگا
وہ جو تھا اک شخص کل مجھ سے خفا سا ہو گیا
یاد مجھ کو آج کیسے بار بار آنے لگا

0
8
اشارے وقت نے کتنے دیئے کہاں سمجھے!
خدا کرے کہ محبت کی بھی زباں سمجھے
نشان دیکھ کے کتنے ہی اپنی آنکھوں سے
ہیں کم ہی لوگ مصیبت کو امتحاں سمجھے
جو دل کے زخم کو پڑھ لے بغیر پوچھے کچھ
وہی تو درد کی خاموش داستاں سمجھے

0
6
اشارے وقت نے کتنے دیئے ، کہاں سمجھے؟
خدا کرے کہ محبت کی تُو زباں سمجھے
نشان دیکھ کے کتنے ہی اپنی آنکھوں سے
ہیں کم ہی لوگ مصیبت کو امتحاں سمجھے
جو دل کے زخم کو پڑھ لے بغیر پوچھے کچھ
وہی تو درد کی خاموش داستاں سمجھے

0
4
بجھا ہے چاند بھی تو روشنی نہ پانے سے
“اک آفتاب کے بے وقت ڈوب جانے سے”
کریں اجالا ہے موقع ملا چراغوں کو
اندھیری رات نے پوچھا ہے یہ زمانے سے
وہ ایک شخص جو روشن تھا میرے سینے میں
میں ڈھونڈتا ہوں اسے آج ہر بہانے سے

0
5
بجھا ہے چاند بھی تو روشنی نہ پانے سے
“اک آفتاب کے بے وقت ڈوب جانے سے”
کریں اجالا ہے موقع ملا چراغوں کو
اندھیری رات نے پوچھا ہے یہ زمانے سے
وہ ایک شخص جو روشن تھا میرے سینے میں
میں ڈھونڈتا ہوں اسے آج ہر بہانے سے

0
5
غیب سے رزق کا سامان ہوا چاہتا ہے
کون رازق ہے یہ اعلان ہوا چاہتا ہے
تجھ سے رکھّا نہ کبھی جس نے تعلّق کوئی
تیرا اپنا کوئی انجان ہوا چاہتا ہے
بھول بیٹھے تھے کہ امید نہ تھی پورا ہو
وصل کا پورا وہ پیمان ہوا چاہتا ہے

0
5
مَدُھر خاموشیوں میں بھی صدا کوئی سہانی ہے
کسی کی بات میں مخفی کوئی گہری کہانی ہے
کسی کے ساتھ چلنے میں بڑا ہی لطف ہے بے شک
مگر تنہائیوں سے دوستی اپنی پرانی ہے
وہ چُپ رہتا ہے دے کر ڈھیل آخر ہے پکڑ لیتا
عدالت اس نے دنیا میں بھی کوئی تو لگانی ہے

0
6
کسی کے ساتھ رہ کر بھی اکیلا ہو گیا ہوں میں
کہ اپنے آپ سے مل کر بھی تنہا ہو گیا ہوں میں
کسی کی یاد ہوتی ہی نہیں رخصت مرے دل سے
میں جس کو بھولنا چاہوں اسی کا ہو گیا ہوں میں
ترے جانے کا دکھ اتنا نہیں جتنی خوشی ہے یہ
کہ تیرے بعد خود سے بھی شناسا ہو گیا ہوں میں

0
9
ترے خیال سے دل کا چراغ جلتا ہے
اندھیری رات میں بھی راستہ نکلتا ہے
وہ ایک لمس جو مل جائے تیرے ہاتھوں کا
مرے وجود میں لطفِ بہار پلتا ہے
میں اپنے آپ سے ملتا ہوں جب کبھی تنہا
ترا ہی عکس مرے آئنے میں ڈھلتا ہے

0
8
جہاں پر شمع جلتی ہے تو پروانے بھی آتے ہیں
وہاں دیوانے لے کر دل کے نذ رانے بھی آتے ہیں
محبت صرف ملنے کا کوئی وعدہ نہیں ہوتی
اسے سمجھو تو لکھنے جلد افسانے بھی آتے ہیں
جو اپنے آپ سے لڑ کر اندھیروں سے نکلتا ہے
اسی کے ساتھ روشن عقل فرزانے بھی آتے ہیں

0
8
تیری آنکھوں کو کچھ جواب تو دوں
دل کا مستور کچھ حساب تو دوں
تو ذرا پاس آ کے بیٹھ کبھی
میں تجھے اپنی اک کتاب تو دوں
رات خاموش ہے ہوا بھی چپ
تجھ کو گاتا ہوا رباب تو دوں

0
8
کیا محبّت سبق سکھاتی ہے
زندگی جب بھی آزماتی ہے
تم مرے پاس آ کے بیٹھو تو
دل کو اک بات یاد آتی ہے
تیری آواز کا کہوں میں کیا
خامشی بھی غزل سناتی ہے

0
6
خود اپنے آپ سے ملنے کا سلسلہ رکھنا
یہ سرخروئی ہے زخموں کو بھی ہرا رکھنا
ہوا کے سامنے کب تک چراغ جلتے ہیں
سو اپنے خون میں جلنے کا حوصلہ رکھنا
گر اپنے خواب کو تعبیر دے نہیں سکتے
تو ایسے خواب سے کوئی نہ پھر گلہ رکھنا

0
7
دل میں اک خوابِ حسیں بے تاب سا پلتا رہا
حسن اس کا وقت کے ہاتھوں سے پر ڈھلتا رہا
ایک چہرہ تھا کہ آنکھوں سے کبھی اوجھل نہ تھا
ایک موسم تھا کہ دھڑکن میں سدا چلتا رہا
میں نے پتھر سے بھی پوچھا کس لیے خاموش ہو
چشمہ پھوٹا اس کے دل سے ہاتھ میں مَلتا رہا

0
5
غفلتوں سے بر سرِ پیکار ہونا چاہیے
عاشقی میں بھی کوئی معیار ہونا چاہیے
دل اگر سچ بولنے کی تاب رکھتا ہے تو پھر
آئنے کو بھی ذرا تیار ہونا چاہیے
عشق میں کچھ فاصلوں کا گو تقاضا ہے مگر
کیوں کسی کو وصل سے انکار ہونا چاہیے

0
5
دل کے صحرا میں کہیں ابرِ بہاراں رہ گیا
تجھ کو پا کر یوں لگا کوئی نہ ارماں رہ گیا
عشق نے چھینا ہے مجھ سے یوں مرا نام و نشاں
میں نہیں باقی رہا بس تیرا فیضاں رہ گیا
ہم نے جس کو زندگی سمجھا وہ اک پردہ تھا بس
پردہ اٹھتے ہی کوئی کب راز پنہاں رہ گیا

0
8
بدل گیا ہوں بہت تجھ سے مُلا قات کے بعد
میں خود کو ڈھونڈ رہا ہوں جو تیری بات کے بعد
یہ کون لوگ ہیں جو روشنی سے ڈرتے ہیں
چراغ کرتے ہیں گُل اک ذرا سی رات کے بعد
ہمیں بھی زخم رُلاتے رہے زمانے سے
قرار دل کو ہے ایمان کے ثبات کے بعد

0
6
ہر محبت میں مروّت ہو ضروری تو نہیں
عشق میں لفظوں کی حاجت ہو ضروری تو نہیں
دل تو چپ چاپ کسی کو بھی بنا لے اپنا
ہر تعلق میں وضاحت ہو ضروری تو نہیں
وہ مرے پاس نہیں، پھر بھی مرے ساتھ تو ہے
ہر محبت میں رفاقت ہو ضروری تو نہیں

0
11
تھا ایک شخص مرے واسطے کمال کچھ اور
وہ مجھ کو ٹھیک سے سمجھا مرا تھا حال کچھ اور
مجھے خبر تھی کہ دنیا بدل نہیں سکتی
مگر جو دل میں رہا وہ بھی تھا خیال کچھ اور
وہ مجھ سے دور رہا پھر بھی میرے پاس رہا
یہ فاصلہ ہی نہ تھا دل کا تھا ملال کچھ اور

0
8
کسی کے درد کا کیونکر اثر نہیں ہوتا
اگرچہ دل ہے کوئی بے خبر نہیں ہوتا
ہمیں تو چلتے ہی رہنا ہے اپنی راہوں پر
کہ رک گئے تو مکمّل سفر نہیں ہوتا
یہ اور بات کہ چہرے پہ مسکراہٹ ہے
ہر ایک شخص یہاں معتبر نہیں ہوتا

0
9
کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا
دل کا در سب کا وا نہیں ہوتا
لوٹ آتا ہے جو خرد رکھے
عشق میں وہ فنا نہیں ہوتا
زخم عاشق کا لاکھ گہرا ہو
درد ظاہر ہُوا نہیں ہوتا

0
11
جاگتے میں بھی خواب دیکھے ہیں
کیسے کیسے شباب دیکھے ہیں
عمر گزری ہے ساری صحرا میں
تشنہ لب نے سراب دیکھے ہیں
آج تک جو کبھی نہیں برسے
آتے جاتے سحاب دیکھے ہیں

0
11
خواب کچھ دیر حسیں رہنے دو
خُلد کا مجھ کو مکیں رہنے دو
لوگ کہتے ہیں بدل جاتا ہوں
مجھ کو کچھ اور وہیں رہنے دو
جو کہو گے وہی تو سچ ہو گا
لب پہ کچھ حرفِ یقیں رہنے دو

0
7
آنا تھا میرے گھر میں جو طوفاں تو ٹل گیا
“میں دوسروں کی آگ بجھانے میں جل گیا”
کب یہ پتہ چلا کہ جوانی کدھر گئی
وہ وقت تھا کہ ہاتھ سے جیسے نکل گیا
دنیا کے آئینے میں حقیقت نہ مل سکی
جو عکس تھا وہ وقت کے سانچے میں ڈھل گیا

0
12
عرفان اپنی ذات کا پانے میں جل گیا
اپنے ہی گھر کا دیپ جلانے میں جل گیا
دنیا کو روشنی کی تھی حاجت سو عمر بھر
میں اپنی ذات شمع بنانے میں جل گیا
جو جل رہے تھے دھوپ میں سایہ دیا انہیں
بن کے شجر میں سایہ سجانے میں جل گیا

0
12
سکون اپنے ہی دل میں ذرا تلاش کرو
خود اپنے آپ میں رب کا پتا تلاش کرو
یہ زندگی ہے تو پھر زندگی کے معنی میں
کتابِ وقت کا صفحہ نیا تلاش کرو
جو اپنے پاس ہے اس کی بھی قدر چاہیے کچھ
ہر ایک چیز میں کیوں دوسرا تلاش کرو

0
11
کچھ سنا جائے کچھ کہا جائے
کیا ضروری ہے چپ رہا جائے
ضبط میں اصل حسن ہوتا ہے
کیسے جذبات میں بہا جائے
عشق کم مائگی پہ نادم ہو
کیا پسینے میں پھر نہا جائے

0
9
بات بے بات یہاں دل کو پریشان نہ کر
اپنی تقدیر کو حالات کا عنوان نہ کر
عشق وہ آگ ہے جو روح کو روشن کر دے
اس کو لفظوں کی نمائش کا قلمدان نہ کر
جو ترے ساتھ کھڑا ہے وہ ترا اپنا ہے
ہر کسی شخص کو دنیا میں پشیمان نہ کر

0
6
دل میں اک اور محبّت بھی جگا کر دیکھو
خود کو کھو کر بھی کبھی خود کو ہی پا کر دیکھو
عشق گر عشق ہے بازار نہیں ہوتا ہے
دل کی قیمت نہ لگاؤ یہ لُٹا کر دیکھو
وہ جو نزدیک ہے باہر اسے کیا ڈھونڈنا ہے
اپنی آنکھوں سے ذرا پردہ ہٹا کر دیکھو

0
7
جو اپنے آپ سے ملنے کا راستہ نکلا
تو زندگی کا نیا ایک سلسلہ نکلا
ہجومِ شہر میں چہرے تو بے شمار ملے
مگر جو دل کو سمجھتا تھا وہ جدا نکلا
چراغ بانٹنے والوں کا ذکر کیا کرنا
ہر ایک آپ اندھیروں میں مبتلا نکلا

0
8
ختم صفیہ نے کیا قرآن ہے
یہ خدا کا فضل اور احسان ہے
ہے خدا کی مہربانی خاص یہ
فضلِ ربّی ہم پہ گو ہر آن ہے
نابغہ نے کی جو محنت روز و شب
وقت کاشف کا ہوا قربان ہے

0
12
حسین نقش و ادا ہی جمال تھوڑی ہے
جمال ہو بھی اگر لا زوال تھوڑی ہے
عمل سے خواب کو تعبیر دے تو بات بنے
فقط خیال سجانا کمال تھوڑی ہے
لہو پسینہ اگر راستوں میں بہتا ہو
تو کوئی روکے کسی کی مجال تھوڑی ہے

0
17
اپنے آنے کی خبر سب کو سُنا رکھّی ہے
گو کہ بولے بھی پہ دھیمی ہی صدا رکھی ہے
جس کو سچ بولنا آتا تھا ہوا چپ کیوں ہے
اس کی آواز زمانے نے دبا رکھی ہے
آشیاں جس پہ بنانے کی تمنّا کی تھی
“پھر وہی شاخ ہواؤں نے ہلا رکھّی ہے”

0
15
سامنے پا کے بھی آنکھوں میں حیا رکھّی ہے
عشق نے دل میں مقدّم جو وفا رکھی ہے
باوضو ہو کے گئے رند سبھی مسجد کو
مے کدے والوں نے واعظ کو پلا رکھی ہے
سبز پتّوں کو خزاؤں نے کیا پہلے زرد
“پھر وہی شاخ ہواؤں نے ہلا رکھی ہے”

0
16
کسی کے درد کو اپنا بنا کے دیکھ ذرا
کسی کی سن کے پھر اپنی سنا کے دیکھ ذرا
یہ زندگی جو کبھی امتحان بن جائے
کسی کے واسطے آساں بنا کے دیکھ ذرا
دلوں کے درمیاں دشمن نے جو کھڑی کی ہے
تُو نفرتوں کی وہ دیوار ڈھا کے دیکھ ذرا

0
17
آدمی آج بھی اندر کہیں انسان سا ہے
واپسی اُس کی ہو جنّت میں یہ امکان سا ہے
اس نے بازار میں رشتوں کی بھی قیمت رکھ دی
پھر بھی آنکھوں میں کہیں درد کا سامان سا ہے
وہ جو ہنستا ہے زمانے میں بہت خوش ہو کر
اس کے سینے میں کوئی غم ہے پریشان سا ہے

0
17
کس کس نے اپنی ذات سے اپنا پتہ لیا
کیوں دوسروں کی آگ میں خود کو جلا لیا
اپنی حماقتیں تھیں سبھی دوش خود کا تھا
تقدیر کہہ کے ہم نے جہاں منہ چھپا لیا
جو شخص اپنے آپ سے لڑتا رہا سدا
آخر اسی نے اپنے مقدّر کو پا لیا

0
14
یہ شہرِ دل ہے یہاں کچھ بھی پائدار نہیں
جو آج اپنا ہے کل اس کا اعتبار نہیں
چراغِ شب کو ہوا سے بچا کے کیا حاصل
اگر دلوں میں ذرا روشنی کا پیار نہیں
ہم اپنے زخم چھپاتے رہے زمانے سے
یہ بات اب تو کسی راز میں شمار نہیں

0
10
ستارے ان کے لئے مہرباں نہیں ہوتے
کہ باپ جن کے لئے سائباں نہیں ہوتے
جوانی آئی تھی کب کب گئی نہ ہوش انہیں
“غریب باپ کے بچے جواں نہیں ہوتے”
غریب خواب بھی دیکھیں اگر محلّوں کے
یہ خواب ان کے کہیں پر بیاں نہیں ہوتے

0
10
دلوں کے واسطے آرامِ جاں محمدؐ ہیں
کہ سر پہ رحمتوں کا سائباں محمدؐ ہیں
یتیم ، جن کو زمانہ سمجھ نہیں پایا
وہ خوش ہیں اس لئے کہ مہرباں محمدؐ ہیں
غریب جس کی طرف دیکھتا نہ تھا کوئی
اُسی غریب کی ہر دم اماں محمدؐ ہیں

0
13
جو اپنے آپ سے لڑتا رہا نکھر نہ گیا
وہ خاک ہی تھا گیا جب تو معتبر نہ گیا
چراغ لے کے اندھیروں میں جو اتر نہ گیا
وہ لے کے عہد کے چہروں کا پھر اثر نہ گیا
کسی کے سامنے جھکنا تو سیکھا تھا میں نے
کبھی ضمیر کو میں بیچ کر مگر نہ گیا

0
12
زمانہ بہت تیز چلتا رہا ہے
بظاہر تو آگے ہی بڑھتا رہا ہے
وہی شخص دنیا کو روشن کرے گا
جو اپنے اندھیروں سے لڑتا رہا ہے
جسے سامنا تھا سدا آئنے کا
وہی شخص ہر دم سنورتا رہا ہے

0
15
دل میں اب تک وہی اک خوابِ سفر باقی ہے
رات گو بھیگی رہی شوقِ سحر باقی ہے
وقت نے چھین لیے شہر رفیق اور رستے
پھر بھی اک شخص مرے دل میں مگر باقی ہے
ہم نے ہر دور کے چہرے کو بدلتے دیکھا
آدمی میں ابھی انسان کا ڈر باقی ہے

0
13
فلک کے تاروں سے پوچھا ہے رات بھر میں نے
کِیا تمھارے بھروسے پہ کیا سفر میں نے
وہ ایک شخص جو خود سے بھی دور ہوتا گیا
اسی کو ڈھونڈ لیا آخرِ نظر میں نے
ہوا کے ساتھ بہت دور تک گیا لیکن
چراغ رکھ دیا پھر بھی اسی نگر میں نے

0
11
عشقِ مولا کا رستہ ملا آپؐ سے
زندگی کا قرینہ ملا آپؐ سے
سارا عالم بھٹکتا اندھیروں میں تھا
شمعِ حق کا اجالا ملا آپؐ سے
آپؐ رحمت کا سایہ یتیموں پہ تھے
بحرِ الفت ، خزینہ ملا آپؐ سے

0
9
یہ ستارے کہاں مہرباں ہو گئے
“جو زمیں بھی نہ تھے آسماں ہو گئے”
جن کو اپنی خبر بھی نہ تھی کل تلک
اب زمانے کے وہ رازداں ہو گئے
ہم نے سچ بولنے کی سزا کیا سہی
اپنے کردار میں جاوداں ہو گئے

0
13
دلوں کو نورِ محبت عطا کیا کس نے
سدا جہان کو درسِ وفا دیا کس نے
جہاں میں ظلمتِ باطل کا دور دورہ تھا
چراغَ حق کو زماں میں دیا جلا کس نے
یتیم و بے کس و مجبور کی صدا سن کر
ہر ایک درد کو اپنا سمجھ لیا کس نے

0
12
دلوں میں میرے خدا کیوں غبار باقی ہے
چھُپی خزاں میں تو اب بھی بہار باقی ہے
یہ سچ ہے وقت نے ہر موڑ پر ہرایا بھی
مگر شکست میں بھی اعتبار باقی ہے
وہ جس نے تخت الٹ کر ہی چین پایا تھا
اسی کے دل میں کوئی اضطرار باقی ہے

0
11
طریقِ عشق میں کیونکر سکوں نہیں ملتا
خرد تلاش بھی کر لے ، جنوں نہیں ملتا
یہ کیسی بستی ہے جس میں چراغ جلتے ہیں
دلِ غریب تو روشن دروں نہیں ملتا
ہزار آئینے رکھے ہیں ہم نے دنیا میں
کسی میں اپنا مگر عکسِ خوں نہیں ملتا

0
16
شمار کرتا ہے اب تک عدو تو زیروں میں
خدایا ! دیر ہے کتنی ابھی سویروں میں!
وہ بد نصیب ہیں جو روشنی سے ڈرتے ہیں
چراغ ڈھونڈتے پھرتے ہیں سب اندھیروں میں
وہ ایک شخص جو تنہا کھڑا تھا سچ کے لیے
شمار ہوتا ہے ہر پل خدا کے شیروں میں

0
16
نئے ہیں لوگ کہیں اب پرانے کس کس کو
کہ وقت چل دیا دیکھو بھُلانے کس کس کو
کسی کے ہاتھ میں پتھر کسی کے ہاتھ میں پھول
یہ شہر دیتا رہا ہے خزانے کس کس کو
کسی کے لب پہ تبسّم کسی کی آنکھ میں غم
یہ کون بانٹ رہا ہے زمانے کس کس کو

0
12
حد بے حِسی کی گرچہ بتائی نہیں گئی
کس نے کہا فلک پہ دُہائی نہیں گئی
دے کر رکھی تھیں سب نے ہی کانوں میں انگلیاں
کہتے ہیں داستان سنائی نہیں گئی
تھی روشنی ہنوز مگر شہر سو گیا
پھر صبح تو کسی کو دکھائی نہیں گئی

0
12
خامُشی سے کوئی اپنا مدّعا کہتا رہا
دل مگر ہر بار سن کر ماجرا ہنستا رہا
آئینوں سے پوچھتے تھے لوگ میری داستاں
میرا چہرہ خود حقیقت کا پتہ دیتا رہا
جس نے مٹّی میں اُگائے آس کے برگد ہمیش
چلچلاتی دھوپ میں سائے تلے رہتا رہا

0
14
محبّت نبھانے کو دل چاہتا ہے
سدا چاہے جانے کو دل چاہتا ہے
مرے دل نے پھر سے کیا ہے تقاضا
ترے پاس آنے کو دل چاہتا ہے
کوئی روٹھ جائے تو کب چین آئے
کسی کو منانے کو دل چاہتا ہے

0
16
ہوا کے شور سے بگڑا مرا مزاج نہیں
اصول بیچ کے جینا کوئی علاج نہیں
ہے شہر والوں کو منزل کی آرزو کیسی
امیرِ شہر کا جب تک دلوں پہ راج نہیں
یہ کیا کہ عمر گزاری یہاں پہنچنے میں
تو کہہ رہا ہے وہ ملنے کا اب رواج نہیں

0
13
محبتوں کو بھی اب اختیار چاہیے ہے
ہر ایک دل کو نیا اعتبار چاہیے ہے
جو اپنے آپ سے ملنے کا حوصلہ رکھے
اُسے بھی آئینۂٔ کردگار چاہیے ہے
یہ زندگی یوں اکیلے گزر نہیں سکتی
ہر ایک موڑ پہ اک راز دار چاہیے ہے

0
15
وہ ایک شخص جو خاموش مسکراتا رہا
مرے وجود میں موسم نئے اُگاتا رہا
چراغ بن کے اندھیروں سے جنگ کی اُس نے
ہوا کے سامنے خود کو سپَر بناتا رہا
کسی نے پوچھ لیا عشق کا پتہ تو ہنسا
وہ اپنے زخم کو بھی مِثلِ گُل دکھاتا رہا

0
18
نقشِ پا جب کہیں ٹھہرے تو خبر ہوتی ہے
کیا کبھی زندگی ایسے بھی بسر ہوتی ہے
ہم نے آواز کو دیوار نہیں ہونے دیا
یعنی چُپ بھی تو تکلّم کا ہنر ہوتی ہے
ایک کھڑکی جو کھلا کرتی ہے باطن کی طرف
اُس دریچے پہ ہمہ وقت نظر ہوتی ہے

0
15
کوئی بھی شہر کب اپنے مکان جیسا لگے
نہ کوئی شخص کسی مہربان جیسا لگے
کڑی ہو دھوپ تو سایہ ہی ساتھ ساتھ چلے
یہ کون ہے جو مجھے سائبان جیسا لگے
میں اُس کو سوچ کے چپ ہوں یہ چپ بھی ایسی ہے
کہ جیسے برف پہ کوئی نشان جیسا لگے

0
16
وقت کے بازار میں ہر شخص تنہا ہو گیا
اس قدر دنیا سے کھیلا خود کھلونا ہو گیا
درد سب کے بانٹ لینا جس کا شیوہ ہو گیا
دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا اپنا ہو گیا
روشنی تقسیم کرنے کا نتیجہ یہ ہوا
اک دیا ایسا جلا سورج کا ہمتا ہو گیا

0
17
مرے قریب ہے جو سادگی سے ملتا ہے
بڑا وہ شخص ہے جو عاجزی سے ملتا ہے
جو اپنے دل کی عدالت میں سرخرو نہ رہے
وہ ہر کسی سے بڑی بے دلی سے ملتا ہے
یہ اور بات ہے لہجے میں اس کے شیرینی
جسے بھی ملتا ہے رسماً ہنسی سے ملتا ہے

0
21
کسی کے دل میں اترنے کا گر ، ہنر ہوتا
قیام شہر میں اتنا نہ مختصر ہوتا
جو اپنے آپ سے ملنے کی جستجو ہوتی
زمانے بھر سے بچھڑنے کا پھر نہ ڈر ہوتا
چراغ بانٹنے والوں کی یہ نشانی ہے
چلے جو بادِ مخالف نہیں اثر ہوتا

0
17
دلو ں میں جو صداقت کی لگن آباد رکھتے ہیں
زباں اپنی ستم کے سامنے آزاد رکھتے ہیں
ہوا کتنی مخالف ہو، چراغوں کی تو فطرت ہے
وہ اپنے آپ کے جلنے پہ بھی دل ، شاد رکھتے ہیں
کسی کے زخم پر رکھ دیں اگر لہجے کی ٹھنڈک ہم
تو لفظ اپنے بھی مرہم کی عجب ایجاد رکھتے ہیں

0
13
لفظ تو آئے مرے لب پہ ملاقات کے بعد
بڑھ گیا اس کا کرم دل کی مناجات کے بعد
اپنی آواز بھی پہچان میں آئی نہ مرے
اتنی خاموش ہوئی بزم مری ذات کے بعد
جس نے خوشبو کی طرح درد لٹایا ہر سو
مندمل زخم ہوئے اُس کی کرامات کے بعد

0
15
ہوا کے دوش پہ اک خوش گلو یہ گاتا رہا
چراغ اپنے ہی اشکوں سے جگمگاتا رہا
میں اپنے شہر میں چہروں کو پڑھ نہیں پایا
ہر ایک شخص جو بہروپ ہی دکھاتا رہا
وہ ایک حرفِ محبت جو لب پہ آ نہ سکا
تمام عمر مرے دل میں گنگناتا رہا

0
11
ہوا کے دوش پہ اک خوش گلو یہ گاتا رہا
چراغ اپنے ہی آنسو سے جگمگاتا رہا
میں اپنے شہر میں چہروں کو پڑھ نہیں پایا
ہر ایک شخص جو بہروپ ہی دکھاتا رہا
وہ ایک حرفِ محبت جو لب پہ آ نہ سکا
تمام عمر مرے دل میں گنگناتا رہا

0
31
ہوا نے پھر سے مرا حوصلہ جگایا ہے
چراغ رات کے سینے میں مسکرایا ہے
وہ ایک شخص جو خاموشیوں کا دریا تھا
اسی نے زندگی کا فلسفہ بتایا ہے
میں اپنی ذات کے صحرا سے جب بھی لوٹا ہوں
کوئی گلاب مرے ساتھ ساتھ آیا ہے

0
13
چڑھا جو تیسرا دن ہے یہ پُر انوار جلسے کا
دعاؤں میں سمٹ آیا ہے سب کردار جلسے کا
ہے منظر عالمی بیعت کا دھڑکیں دل تو آنکھیں نم
امامِ وقت سے عہدِ وفا اقرار جلسے کا
ہزاروں جاں نثاروں نے وفا کا عہد دہرایا
نئے شامل ہوئے کتنے یہ ہے اظہار جلسے کا

0
18
عجب نظّارہ دیکھا دوسرے دن پھر ہے جلسے کا
سنی تقریریں نظمیں سب اثر تھا کل کے خطبے کا
خلیفہ کے سبھی خطبات نے دل جگمگا ڈالے
ہر اک جملہ بنا پیغام نورِ حق کے جلوے کا
بچھا روحانی ایسا مائدہ ہر سمت محفل میں
ملے باہم تو لگتا تھا ہر اک بندہ محلّے کا

0
15
چلو نظّارہ پھر سے ہم کریں اک بار جلسے کا
سمیٹیں رحمتیں آ کر کھُلا دربار جلسے کا
یہاں ہر سمت ذکرِ کبریا کی روشنی بکھری
منوّر دل ہوئے موسم ہے پُر انوار جلسے کا
مسیحا کی دعاؤں کا ثمر یہ فیضِ ربّانی
زمانہ دیکھتا ہے پھیلتا گلزار جلسے کا

0
15
سُکُوت خود مرے اندر سُکوں کی راہ رہا
سو شور دل کا مرے حق میں ہے گواہ رہا
میں اپنے گھر میں رہا ایک اجنبی کی طرح
مرا وجود مرے نام کی پناہ رہا
وہ ایک شخص جو آئینۂ یقین بھی تھا
اسی کے بعد ہر اک عکس بے نگاہ رہا

0
21
وہی خوشی ہے جو سب کے لبوں پہ آ جائے
وہی سخن ہے جو خاموشیوں کو بھا جائے
کسی کے درد کو اپنا سمجھ کے دیکھ ذرا
اس ایک لمحے کی لے کر کہاں وفا جائے
چراغ بن کے اندھیروں سے لڑنے والو سنو
تمہاری خاک پہ کوئی دیا جلا جائے

0
17
دل سے غبارِ ہجر مکمّل نہیں گیا
“رسّی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیا”
کہنے کو مسکرا کے سبھی زخم سی لیے
دل سے کسی کا درد مسلسل نہیں گیا
ہر چند وقت لے گیا چہروں کی تازگی
ماتھے سے پہلی چاہ کا آنچل نہیں گیا

0
17
کسی کے کام جو آ جائے، زندگی وہ ہے
دلوں میں گھر جو بنا جائے، زندگی وہ ہے
جو اپنے درد کو چپ چاپ مسکرا کے سہے
جو دوسروں کو ہنسا جائے، زندگی وہ ہے
چراغ خود ہی اندھیروں سے لڑ نہیں سکتے
ہوا بھی ساتھ نبھا جائے، زندگی وہ ہے

0
28
دلوں میں آپ محبّت حضور رکھتے ہیں
جہاں ہوں آپ ، اندھیروں میں نور رکھتے ہیں
جو اپنے حصّے کی خوشبو لٹا چکے پہلے
ہوا کے سامنے سینے ضرور رکھتے ہیں
کسی کے درد کو سننا بھی اک عبادت ہے
نہ جانے کیوں وہ سماعت کو دور رکھتے ہیں

0
17
دیے کا جھونپڑی کے مرتبہ نہیں بھولا
اندھیرا لاکھ بڑھا حوصلہ نہیں بھولا
کسی نے زخم دیئے ہم نے پر دعا ہی دی
ہمیں تو اپنا کوئی سلسلہ نہیں بھولا
میں اپنے گھر سے چلا تھا تو ایک سچ لے کر
تمام عمر وہی راستہ نہیں بھولا

0
15
کسی کے دل میں اُترنا کمال ہوتا ہے
اُتر کے اس میں ٹھہرنا کمال ہوتا ہے
سفر میں یوں تو ملیں گے ہزار لوگ مگر
کسی کا جُڑ کے بکھرنا کمال ہوتا ہے
جو آبلے کی طرح پھوٹ کر کبھی نہ بہے
وہی تو درد کا جھرنا کمال ہوتا ہے

0
22
دلوں میں روشنی تقسیم کرتا جا رہا ہوں میں
چراغ اپنا جلا کر خود ہی جلتا جا رہا ہوں میں
کسی کے درد کو اپنا سمجھ لینا عبادت ہے
مسلسل اک یہی تو ورد جپتا جا رہا ہوں میں
جو سچ کے ساتھ چلتے ہیں وہی کم کم ہیں دنیا میں
مگر اس بھیڑ میں رہ کر بدلتا جا رہا ہوں میں

0
21
ہوا نے زخم کو خوشبو میں یوں چھپایا ہے
کسی نے دل کو مرے ، مجھ سے ہی ملایا ہے
ہمیں تو ایک تبسم نے عمر بھر کے لیے
ہزار قلزمِ آلام سے بچایا ہے
عجب اصول ہے اُس کی نگاہِ الفت کا
جو ہار جائے وہ فاتح قرار پایا ہے

0
17
لشکر سجا تو لب پہ دعا ہی رہی سدا
تلوار سے بلند وفا ہی رہی سدا
میدانِ کارزار میں بھی رحم کی ہوا
آئینۂ جمالِ خدا ہی رہی سدا
بدر و اُحد میں عدل کا پرچم بلند تھا
منظور جو رضائے خدا ہی رہی سدا

0
21
کہتے ہیں لوگ ہم لگے ان کو عجیب سے
حالانکہ جانتے نہیں ہم کو قریب سے
جو مسکراہٹیں بھی کسی کو نہ دے سکیں
لگتے ہیں وہ امیر بھی ہم کو غریب سے
پہلو میں بیٹھ کر بھی ہوئی اُن سے گفتگو
ازحد ہیں خوش کہ موقع ملا یہ نصیب سے

0
18
یہ تیغ کا نہیں کردار کا اُجالا تھا
ہر ایک غزوہ حقیقت میں درس اعلیٰ تھا
جہاد بھی تھا مگر رحم کی رفاقت میں
ہر اک قدم پہ کرم امن کا اجالا تھا
کبھی نہ ظلم کو تائید آپ نے بخشی
عدالتوں کو بھی میزان سے سنبھالا تھا

0
26
اسیر کر لیا تُو نے یہ دل اداؤں سے
بچا کے جس کو تھا رکھّا سبھی بلاؤں سے
اشارہ کر کے تو دیکھیں یہ نیم باز آنکھیں
ستارے توڑ کے لاؤں گا کہکشاؤں سے
یہ عشق صرف تمنّا کا نام کب نکلا
وجود ڈھلنے لگا خامشی کی چھاؤں سے

0
21
دل میں برسوں سے ہے سنّاٹا ، وہی سنتا رہا
شہر بدلا، آدمی بدلے، نہ تنہا پن گیا
رات نے جب چاند کی پیشانی پر بوسہ دیا
درد بھی آواز دے کر زخم سے گویا ہوا
وہ جو اپنے نام سے بھی اجنبی لگنے لگا
آئنے سے روز مل کر بھی نہ اپنے گھر گیا

0
18
ہر ایک زخم کو خوشبو بنا رہا ہوں میں
یہ کس کے عشق کا قرضہ چکا رہا ہوں میں
وہ ایک شخص جو ہر بار خواب میں آیا
اسی کو جاگتی آنکھوں سے پا رہا ہوں میں
ہوا نے مجھ سے مرے گھر کا راستہ پوچھا
چراغ بن کے اسے خود بتا رہا ہوں میں

0
20
غزل
بدل گیا ہے جو موسم کا ذائقہ کچھ اور
درخت چپ ہیں، پرندوں نے بھی کہا کچھ اور
کوئی تو تھا جو مرے ساتھ رات بھر جاگا
سحر ہوئی تو چڑھا سر پہ تھا نشّہ کچھ اور
میں اپنے دل کی مسافت سے لوٹ تو آیا

0
15
رسولِ رحمتِ ربّی سراپا چاہ بھی تھے
رہے جو معرکہ آرا وہی پناہ بھی تھے
اُٹھایا وقتِ جہاد اُن کے دستِ حق نے عَلَم
تو شفقتوں کی دلوں کے لیے نگاہ بھی تھے
نہ تیغِ ظلم کی خواہش نہ خون ریزی کی
وہ عدل تھے کہ سراپا خدا کی راہ بھی تھے

0
21
کسی کے نام کی خوشبو سفر میں ساتھ رہی
ہوا بھی جیسے ، ہر اک رہ گزر میں ساتھ رہی
تمام عمر کھلے در کی جستجو میں کٹی
عجیب بات تھی، دیوار گھر میں ساتھ رہی
بنا کے پانی بہایا وہ خاک میں اپنی
پر ایک پیاس مری چشمِ تر میں ساتھ رہی

0
17
ریت پر ساحل کی جیسے داستاں لکھتے رہے
آ کے لہریں دھو گئیں جو بھی زباں لکھتے رہے
تشنگی بڑھتی گئی، دریا بھی صحرا ہو گیا
ہم مگر آنکھوں کو موجِ بیکراں لکھتے رہے
عمر بھر لفظوں نے جس کو چھو لیا، وہ کم نہ تھا
درد کو ہم خامشی کا ترجماں لکھتے رہے

0
20
ہوا کے ہاتھ سے جب اک چراغ بجھتا ہے
اندھیرا اپنے ہی سایوں سے جیت جاتا ہے
کسی کے دل میں تیقّن کی آبیاری کر
گماں کے بیج سے شک کا ہی پیڑ اُگتا ہے
میں اپنے آپ سے ملنے نکل پڑا لیکن
تری گلی سے ہر اک راستہ گزرتا ہے

0
29
نہ ڈوب کر جو اٹھے طرزِ مہر و ماہ نہ لی
مدد کو شاہ سے ہم نے کبھی سپاہ نہ لی
کسی نے دل کی زمیں پر یقیں اگر بویا
محبتوں نے کبھی خوف کی پناہ نہ لی
جہاں بھی سچ کی ہَوا نے کیے دیے روشن
مقدّروں نے وہاں رات پھر سیاہ نہ لی

0
16
بارہا کہہ کے غزل ہم سے سنائی نہ گئی
دل کی خاموشی مگر ہم سے چھُپائی نہ گئی
میں نے ہر شخص کو آئینہ سمجھ کر دیکھا
عکس دیکھا تو نظر خود سے ملائی نہ گئی
جس کو ڈھونڈا مرے اندر کہیں موجود تھا وہ
عمر بھر مجھ سے مگر بات بنائی نہ گئی

0
34
روشنی باقی رہی ہے تیرگی کے باوجود
ہم نے دیکھا ہے یقیں کو بےبسی کے باوجود
دل کے اندر اک دیا جلتا رہا خاموش سا
جیت پایا کب اندھیرا خود سری کے باوجود
ہم نے خود سے بھی چھپایا درد کا سارا سفر
مسکراتا ہی رہا چہرہ نمی کے باوجود

0
19
کسی خیال کا موسم عبور ہوتا رہا
جب اپنی ذات کا باہر ظہور ہوتا رہا
کسی نے خواب کی مٹّی سے گھر بنایا تھا
ہوا چلی تو وہ ہستی سے دُور ہوتا رہا
میں اپنے نام کی آواز ڈھونڈنے نکلا
ہر ایک شہر بے گنبد ضرور ہوتا رہا

0
17
کسی سراب سے آخر گلاب نکلا ہے
میں خشک چشمہ تھا مجھ سے چناب نکلا ہے
تمام عمر جسے ڈھونڈتے رہے تھے لوگ
خزانہ مخفی بہ صورت کتاب نکلا ہے
وہ ایک شخص جو رہتا تھا خامشی اوڑھے
سخن کھُلا تو عجب انتخاب نکلا ہے

0
26
کسی نے وقت کو مٹّی میں کیا اُتارا ہے
ہر ایک لمحہ جو ہاتھ آیا استعارہ ہے
میں اپنے نام کے معنی تلاش کرتا ہوں
مرے وجود میں کیا کیا چھُپا اشارہ ہے
جو ایک شخص مرے دل سے جا نہیں پایا
اسی نے روح کے ہر زخم کو سنوارا ہے

0
23
عمر بھر ایک ہی خوشبو کا سفر کرتے رہے
کب سے اس دل کو تری یاد کا گھر کرتے رہے
وہ جو اک شخص مرے خواب کی تہذیب میں تھا
سب اُسے دیکھ کے کیوں صرفِ نظر کرتے رہے
تُو ملا بھی تو کسی خواب کی صورت ہم کو
ہم تجھے پا کے بھی پانے کا ہنر کرتے رہے

0
20
خموش آنکھ ہے، دیوار بولتی کیوں ہے
صدا جو اٹھتی بھی ہے اس میں بے بسی کیوں ہے
میں اپنے گھر میں کئی روز سے مقیّد ہوں
مرے وجود میں ہجرت کی آگہی کیوں ہے
وہ ایک شخص جو لفظوں میں آ نہیں سکتا
اسی کی یاد مری شاعری بنی کیوں ہے

0
19
کسی کے خواب میں شامل صدا بھی ہوتی ہے
کسی کی خامشی صَرفِ دعا بھی ہوتی ہے
ہُوا ہے پہلے بھی ہوتا ہے آج بھی ایسا
قبول دل کی دعا بے نوا بھی ہوتی ہے
ہم اپنے دکھ کو زمانے سے کم نہیں کہتے
کہ مسکراہٹوں میں اک ادا بھی ہوتی ہے

0
22
کوئی پردہ تری آنکھوں سے بھی سَرکا ہوگا
آنکھ میں نور کا دریا تبھی پھیلا ہوگا
میں جسے اپنی تمنّاؤں کا حاصل سمجھوں
وہ مرا وہم بھی ہو گا تو وہ سچا ہوگا
خاک ہی میں کہیں پوشیدہ ہے اک رازِ ازل
ایک ذرّے کا بھی خورشید سے ناطہ ہوگا

0
14
دل نے جب ترکِ تمنّائے جہاں کر ڈالا
اپنے سینے میں ہر اک شہر نہاں کر ڈالا
عشق آیا تو مرے وہم کے بت ٹوٹ گئے
ایک سجدے نے عجب کارِ گراں کر ڈالا
ہم نے قطرے کی حقیقت کو جو پہچان لیا
بحر نے خود ہمیں سرمایۂ جاں کر ڈالا

0
27
دل نے جب درد محبّت کا دیا جانا ہے
تب کہیں جا کے حقیقت کا پتا جانا ہے
تیری آنکھوں میں جو دیکھا تو کھلا رازِ وجود
ایک ہی نور سے عالم کو سجا جانا ہے
وصل کی شب تھی کہ اک بحرِ فنا کا منظر
میں نے خود کو تری ہستی میں بہا جانا ہے

0
23
دل نے اک تجھ سے تعلُّق جو بنا رکھا ہے
عمر بھر خود کو اسی غم میں بھُلا رکھا ہے
تیرے ہر جلوۂ رنگیں میں وہی رنگ ملا
جس نے ذرّوں کو بھی خورشید بنا رکھا ہے
ہے رگِ جاں سے قریب اور ہے مستُور بھی تُو
خود کو پردے میں ہر اک شے کے چھپا رکھا ہے

0
23
ہزار پردۂ ادراک گو اُٹھا دیکھا
ہو دید جس میں تری آئنہ جدا دیکھا
گماں کے دشت میں ڈھونڈا نہیں ملا لیکن
تجھے یقین کے انوار میں سجا دیکھا
یہ عشق کیا ہے فقط اک فنا کا دریا ہے
سو اپنے آپ کو ہر موج میں فنا دیکھا

0
22
دل کے ویرانۂ ہستی میں صدا کوئی نہ تھی
یہ بھی الزام تھا ہم پر کہ وفا کوئی نہ تھی
درد ایسا تھا کہ خوشبو کی طرح پھیل گیا
زخم ایسا تھا لگی جس پہ دوا کوئی نہ تھی
عمر بھر ڈھونڈتے پھرتے رہے خود اپنی مثال
آئنہ دیکھا تو معلوم ہوا کوئی نہ تھی

0
19
چل پڑے ہیں روشنی کے قافلے
دل میں لے کر پیار کے جلتے دیے
راستے چاہے اندھیروں سے بھرے ہوں
حوصلے پھر بھی ہمارے جاگتے ہوں
اک صدا امید کی آتی رہے
دل میں لے کر پیار کے جلتے دیے

0
30
جب بھی پلکوں پہ تری یاد کے دیپک چمکے
تیری آہٹ سے کئی خواب کے پردے سرکے
دل کی ویران گلی میں تری خوشبو پہنچی
ورنہ اس شہر کے رستوں میں بہت سے بھٹکے
تیری آواز کا جادو ہے کہ اب تک دل میں
سرد راتوں میں بھی امّید کے شعلے بھڑکے

0
23
عشق کی راہ میں ہر موڑ پہ حیرانی ہے
دل کا کیا ذکر یہاں عقل بھی دیوانی ہے
ہجر کے دشت میں چلتے ہیں تو یہ کھُلتا ہے
کیا کوئی صبر سے آگے کی بھی قربانی ہے
ہم نے چاہا تھا کہ ہم ہوش میں رہ جائیں مگر
کیا کریں عشق کی فطرت ہی میں طغیانی ہے

0
28
نےَ تخت و تاج نہ لشکر ہے تاجدار وہی
ہر اک نمود کے پردے میں آشکار وہی
زمانہ جس کو سمجھتا ہے اختیار اپنا
ہر ایک امر کا باطن میں اختیار وہی
میں خاک ہو کے بھی ڈھونڈوں تو کس کو ڈھونڈوں گا
مری فنا کے پسِ پردہ برقرار وہی

0
36
مل بھی سکتے ہیں سمندر کے کنارے جاناں
منتظر ہم بھی تو رہتے ہیں تمہارے جاناں
تم سے بچھڑے ہیں تو جینا نہیں آیا اب تک
زندگی گزری ہے یادوں کے سہارے جاناں
ڈال کر پہلی نظر تم پہ جو پہلو میں اُٹھا
ہم ابھی تک ہیں اسی درد کے مارے جاناں

0
41
ہوا نے آ کے کہا ہے کہ اب ٹھہر جاؤ
دھڑکتے دل سے سُنا ہے کہ اب ٹھہر جاؤ
یہ چاندنی ہے کہ آنچل کسی تبسّم کا
کہ نور دل پہ گرا ہے کہ اب ٹھہر جاؤ
محبتوں کی صدا کا عجب تاثّر ہے
یہی تو ذکر چلا ہے کہ اب ٹھہر جاؤ

0
40
سفید صبح کے جو انتظار میں گزری
“سیاہ رات غموں کے شمار میں گزری”
یہ دل تو درد کا عادی تھا کب سے کیا کہیے
سحر ہوئی جو مرے دل فگار میں گزری
میں اپنے زخم گناتا رہا ہوں خلوت میں
یہ عمر جیسے شبِ بےقرار میں گزری

0
34
مری آنکھوں میں جب نورِ یقیں تھا
مرا بھی تختِ دل عرشِ بریں تھا
مری خاموشیوں میں عشق تیرا
مرے اِخلاص کا ماہِ مُبیں تھا
کڑی تھی دھوپ جس میں ایک سایہ
مجھے معلوم ہے کتنا حسیں تھا

0
29
پھر کوئی حادثہ نہ ہو جائے
پیار کی ابتدا نہ ہو جائے
وہ گلی ، شہر چھوڑ بیٹھا ہوں
پھر ترا سامنا نہ ہو جائے
سادہ دل کی ہو آرزو پوری
عشق کی انتہا نہ ہو جائے

0
23
بے سبب بدلا نہیں کرتے جہاں میں روز و شب
اس کی رحمت جب برس جاتی ہے تب ہوتا ہے سب
آسماں کا اور زمیں کا ہر مکیں حرکت میں ہے
گردشِ دوراں کا شکوہ کیوں کروں میں بے سبب
زندگی خوابوں میں رہ کر تو نہ بیتے گی یہاں
ہاں عمل کی کشمکش آئے نہ جب تک جاں بہ لب

0
31
جہاں چل رہی ہوں مخالف ہوائیں
وہاں ہم وفاؤں کے نغمے سنائیں
ہوئیں زہر آلود اتنی فضائیں
کہ اب سانس لینے سے بھی خوف کھائیں
ہیں بیکار جنگل میں دیں جو صدائیں
ہوئے ہیں جو وحشی کہاں لوٹ آئیں

0
40
وفا کے پتلے تھے معصوم اور عدو چالاک
دیے لہو کے جلاتے چلے گئے عشّاق
خوشی بھی چند دنوں کی ہے ظالموں کے لیے
حساب ان کا بھی ہوگا تو ایک دن بےباق
جو جان دیتے ہیں زندہ ہمیشہ رہتے ہیں
خدا کرے کہ کبھی ان کو یہ بھی ہو ادراک

0
33
ازل سے زندہ ابد تک قیام ہے اُس کا
ہر ایک دَور زمان و مکاں غلام اس کا
نہ اس پہ موت کا سایہ نہ ہے زوال اُس کو
سماء و ارض پہ غلبہ رہے مدام اس کا
ہر ایک شے کو فنا ہے رہے گا وہ باقی
یہ عقل کا ہے تقاضا کہ ہو دوام اُس کا

0
35
وُسعتیں دیتا ہے ، حکمت سے تو ہر آن وہی
حِکمتوں والا وہی ، وسعتِ ایمان وہی
وسعتِ ذات اُسی کی ہے محیط عالم پر
غور کرتا ہے جو پا لیتا ہے ، فیضان وہی
ہے عطا اُس کی سبھی حکمتِ میزان کے ساتھ
جو توازن ہے وہ کر دیتا ہے سب دان وہی

0
35
دل نے جب نامِ کرم لب پہ سجا رکھا ہے
درد نے بھی ادب آداب نبھا رکھا ہے
میں جو ٹوٹا تو اسی ہاتھ نے جوڑا مجھ کو
جس نے ہر عیب پہ پردہ بھی گرا رکھا ہے
راہ میں خوف نہیں، سایۂ رحمت رکھا
اس نے بے نام مسافر کو چلا رکھا ہے

0
43
دلوں میں پیدا ہو جو اضطرار سنتا ہے
پکارے درد سے کوئی پُکار سنتا ہے
نہ لب ہلے نہ نظر نے کوئی صدا دی ہو
وہ دل کی دھڑکنوں کا سب شمار سنتا ہے
میں عشق کہہ کے پکاروں وہ حق سمجھ جائے
مجاز میں بھی حقیقت ہزار سنتا ہے

0
29
دل نے جو خامُشی سے ہی تجھ سے مکالمہ کیا
لفظ تو کم تھے پڑ گئے معنی نے فیصلہ کیا
رات کے وقت روشنی دھیمی جو پڑ گئی بہت
پیچھا تو خوف نے کیا دل نے تھا حوصلہ کیا
درد حدود سے بڑھا دامنِ شکر تھام کر
اشکو ں نے حق دعا کا پر خوب تھا پھر ادا کیا

0
41
وہ جلیل ایسا ہے سب سر کو جھُکائے آ گئے
وہ کریم ایسا ہوا خوش اُس کے پیارے آ گئے
خوف بھی دل میں رکھا اس نے محبت بھی ہے دی
یوں جلال و لطف کے دونوں تقاضے آ گئے
اس کے در پر خاک ہو کر بھی امیری مل گئی
ہم فقیروں کے مقدر میں خزانے آ گئے

0
38
ہر سانس میں رکھے جو ہمیشہ حصار میں
وہ اَلحَفِیظ ہی تو بچاتا ہے غار میں
گر ڈگمگا بھی جاؤں تو گرنے نہ دے کبھی
اک ہاتھ ہے جو تھامے مجھے ہر غبار میں
میں تُند خُو ہوں پھر بھی بگڑتا نہیں کبھی
وہ اَلرَّفِیق ہے مرا ہر رہگزار میں

0
40
خوش بخت ہیں جو پائیں اِنفاخِ قدسیہ
ربّ کے قریب لائیں انفاخِ قدسیہ
فکر و نظر کو کردیں مہمیز اس طرح
علم و عمل بڑھائیں انفاخِ قدسیہ
عصیان دور کرنے کا حوصلہ بھی دیں
شیطان کو بھگائیں اِنفاخِ قدسیہ

0
38
مرے ٹوٹے ہوئے دل کی اسی نے کی مرمّت ہے
مرے ہر زخم کا مرہم فقط اُس کی محبّت ہے
نہ مانگی ہے نہ گِنوائی نہ تولی ہے کبھی چاہت
مری پہچان کا باعث اُسی ہستی سے نسبت ہے
میں خود کو کھو کے پا جاؤں اسے یہ نفع ہے میرا
میں ہارا دل ہوئی مقبول میری جو عبادت ہے

0
65
دل کی بیتابی میں اُترے جو سکوں پائیں کہاں؟
ڈولتی سانسوں کو تھامے جو یقیں بن کے گماں
رات کے خاموش سفروں میں جو پہرے پر رہے
نیند سے پہلے محافظ ہو وہی یارِ نہاں
میں جو بکھروں تو سمیٹے مجھ کو وہ آغوش میں
عکس جو ٹوٹے وہ جوڑے اس سے ہے میرا جہاں

48
ہے سالِ نو کی نئی صبح لائی کیا یہ نوید
اب اختتام کی اس تیرہ شب کی ہے امید
چلے گی امن کی خوشبو جہاں کی گلیوں میں
محبتوں کی دلوں میں ہوئی ہے کیا تائید
خلوص جاگے گا جھک جائیں گے غرور و انا
جہاں میں ختم اب ہو جائے گی یہ قطع و برید

0
42
دل شکستہ ہو تو ہر درد کا درمان ہے وہ
ڈوبتوں کے لیے رحمت کا ہی عنوان ہے وہ
خود کو عصیان میں گم ہو کے اکیلا جانا
تب کھلا مجھ پہ مرے حال کی پہچان ہے وہ
عشق نے جب بھی سکھایا مجھے آگے بڑھنا
راہِ توبہ میں مرے واسطے عرفان ہے وہ

0
41
قدوس جس نے مُردہ دلوں کو جِلا دیا
وہ ہے سلام جس نے غموں کو بھُلا دیا
پھر سوزِ جاں نہ دردِ جُدائی رہا کوئی
اُس کی نظر نے ہجر کے دُکھ کو بھُلا دیا
میرے لبوں پہ نام ترا جب سے آ گیا
لفظوں نے نُور جیسا تھا فیضان پا لیا

0
32
دل کی بستی میں تری یاد کا سامان تو ہے
دھڑکنوں میں کوئی تسبیح کا عنوان تو ہے
میں نے چاہت کو عبادت کی طرح مان لیا
جذبِ الفت کو چھپانا یہاں آسان تو ہے
جب پڑے سر پہ سلیقے بھی تو آ ہی جائیں
جیسے صحراؤں میں اُترے کوئی باران تو ہے

0
48
ذرّہ ذرّہ تیری نسبت کا پتا دینے لگے
خاک بھی اکسیر ہو کر جب شفا دینے لگے
دل کو مل جائے اگر نامِ محبّت کی خبر
درد بھی سینے میں آ کر مسکرا دینے لگے
سر ترے در پر جو رکھ کر آئے تھے ، سجدہ کناں
چوم کر قدموں کو پتھر بھی وفا دینے لگے

0
47
دل کے آنگن میں جو اترے چاند ، کر دے روشنی
میرے باطن کے دریچوں کا نگر دے روشنی
پیار بھر کر جو نگاہوں میں ، ٹھہر کر دیکھ لے
سوچ سے بالا وہ خوشیوں کی خبر دے روشنی
میں نے تو ہر سمت دیکھے بجلیوں کے قُمقُمے
کوئی تو شعلہ ہو جو خوابوں میں بھر دے روشنی

0
49
شُکر کرنے پہ خدا کا ، نہ کبھی مان کرو
سب عطا اس کی ہے ، تم کاہے کا احسان کرو
دل کے صحرا میں ازل سے جو صدا گونجی ہے
اس کو پہچانو، اُسی نُور کا وجدان کرو
جسم کی حد سے نکل جاؤ ، سمجھ جاؤ گے پھر
عشق کیا شے ہے، ذرا سوچ کے پیمان کرو

0
41
دل میں اک احساسِ ہستی کی جھلک باقی رہی
پردۂ عرفاں کی اک نوری رمق باقی رہی
چھوڑ دی دنیا تو کب سے باندھ کے رختِ سفر
پَر طلب کی موج دل میں اب تلک باقی رہی
جذب کی آہٹ نے چھُڑوا دیں پرانی عادتیں
دل کے اندر ہجر کی تھوڑی کسک باقی رہی

0
35
ہوا میں پھیلی سنی ہے کسی کی آہ و فغاں
زمانہ چپ ہے مگر دل میں ایک شور نہاں
قدم قدم پہ بکھرتے ہیں اجنبی سے نشاں
تو کون راہ میں رکھتا ہمارے نقشِ رواں
نہ جانے کب سے مری ذات ایک صحرا ہے
کہ ساتھ میرے سفر کا فقط رہے ساماں

0
32
دل کی وادی میں اتر کر نُور نے یہ کہہ دیا
عشق آخر کھولتا ہے تیرگی کی ہر گرہ
جب تجلّی نے پکارا دل نے راہِ شوق لی
روح اتری زندگی نے سانس سینے میں بھرا
چشمِ باطن جب کھُلی اسرار خود ظاہر ہوئے
ہر جھلک میں لطفِ یکتا ہر نظر جلوہ نما

0
35
شان دکھلائے خدا جو ہر گھڑی اپنی جگہ
پھر بھلا کیسے رہے گا آدمی اپنی جگہ
زندگی بھر کی تپش میں ڈھل کے جو چمکی دھُلی
روشنی بھی رکھ گئی ہے تیرگی اپنی جگہ
چاند ڈوبا شب گئی دل مطمئن پھر بھی نہیں
یاد کی لَو صبح دم آ کر جلی اپنی جگہ

0
34
خوب ہے دِل جو اسی نام پہ قربان ہوا
وہی دلبر ہے ازل سے جو مری جان ہوا
عشق کر بیٹھا ہوں اس سے جو مرا مالک ہے
لوگ کہتے ہیں کوئی مجھ سا بھی نادان ہوا
راستے دُور مگر اُس سے ہے رشتہ قائم
میں تو کچھ دیر کو دنیا کا ہوں مہمان ہوا

0
54
کروں کیا بہانا کہ تنہا ہوں میں
سفر ہی میں ، جانا ، کہ تنہا ہوں میں
نہ منزل، نہ رستہ، نہ کوئی صدا
نہ کوئی ٹھکانہ ، کہ تنہا ہوں میں
کبھی آئنوں سے ملی جو نظر
تو پھر میں نے مانا کہ تنہا ہوں میں

0
33
دل کے دریا میں اٹھا موج کا ساماں اُس کا
میں کہاں جاتا مرے دل میں تھا پیماں اُس کا
روشنی تیری تجلّی سے ہے ہر ذرّے میں
ذرّہ ذرّہ مرا قربان ہے احساں اُس کا
میں نے صحرا میں اسے ڈھونڈا تو آئی یہ صدا
ذات پوشیدہ سہی جلوہ ہے عُریاں اُس کا

0
37
لبوں پہ نام ہے دل میں مقام ہے تیرا
کہ ذکر رکھتا معطّر مدام ہے تیرا
تجھے پکارتی ہے کائنات کی ہر شے
کہ ہاتھ ساقی کا اور اس میں جام ہے تیرا
کبھی فراق کبھی وصل کا ملے موسم
ہر ایک حکم میں پنہاں نظام ہے تیرا

0
36
ہے دل میں جو شوقِ نگاراں ابھی
ہے محفل میں شمعِ فروزاں ابھی
ہوئی مست مے سے طبیعت مری
کہ تھا حکمِ ساقی نمایاں ابھی
بہا اشک یادِ رُخِ جانِ جاں
غمِ ہجر دل سے گریزاں ابھی

0
35
غم کی پرچھائیوں سے ڈرتا ہوں
اپنی تنہائیوں سے ڈرتا ہوں
یاد کے راہ میں جو کانٹے ہیں
ان کی گہرائیوں سے ڈرتا ہوں
وقت کی دھوپ سر پہ چمکے جب
دل کی سچائیوں سے ڈرتا ہوں

0
38
تمہاری یاد کا موسم ، بہار لاتا ہے
سکون روح کا ، دل کا قرار لاتا ہے
جو دل سے دل کو ملاتا ہے لمحہ اک پل کا
وہ تیرہ شب میں سحر کا نکھار لاتا ہے
زہے نصیب نظر گر پڑی ہو مرشد کی
چراغِ شوق دلوں پر وقار لاتا ہے

0
50
تمہاری یاد کا موسم بہار لاتا ہے
سکون روح کا ، دل کا قرار لاتا ہے
جو دل سے دل کو ملاتا ہے ایک پل کا وصال
تو ڈھلتی شب میں سحر کا نکھار لاتا ہے
کبھی نظر پڑے مرشد کی یا نگاہِ حبیب
چراغِ شوق دلوں پر وقار لاتا ہے

0
46
رات آیا تھا خواب میں کوئی
جیسے الفت کے باب میں کوئی
چاندنی تھی نقاب میں کوئی
بند سا تھا حجاب میں کوئی
بات کرتا رہا وہ آنکھوں سے
جیسے خوشبو گلاب میں کوئی

0
43
تیرا وصال ڈھونڈوں تو انتظار ہے جی
عاشق ہوں تُو نے لُوٹا صبر و قرار ہے جی
مستور تھا ہزاروں پردوں میں لے گیا دل
حسنِ خفی ترا بھی اب آشکار ہے جی
وہ نُور ہے نشانی فطرت کی روشنی کی
جلتا دیا ہے جس میں دل کا مزار ہے جی

0
51
ہو مٹی کی خوشبو ، ہوا میں ہو تم
یہ کعبہ، یہ کالی قبا میں ہو تم
ہوا جو تمہارے خیالوں میں گم،
کسی بھی سخی کی دیا میں ہو تم
کہاں درمیاں وصل کی ہر گھڑی
کہاں وہ تبسّم ، حیا میں ہو تم

0
38
لبوں سے جو نکلا، وہی ماجرا تھا،
میں چپ تھا، مگر بول بھی میں چُکا تھا،
کہا اُس نے: “کیا تُو گُماں کا پتہ تھا؟”
مری خامشی میں بھی شورِ یقیں تھا،
محبت فقط اک درونِ حزیں تھا،
کہا اُس نے: “کیا تُو کوئی المیہ تھا؟”

0
41
سازِ ہستی نے سجائی ہے جو خواہاں دل میں
گرم ہی رہتی ہے اک محفلِ شاہاں دل میں
‏‎ہے تری یاد سے دھڑکن جو نمایاں دل میں
‏‎رونق افروز رہی صورتِ خوباں دل میں
چاندنی رات ہے ، خوشبو ہے ، مہکتی سی ہوا
چل رہی جیسے کوئی *نفحۂ جاناں دل میں

0
37
خدا کے فضل ہوں تم پر خدا کی رحمتیں تم پر
ہوں نازل جلسہ سالانہ کی ساری برکتیں تم پر
مسیحا کی دعاؤں کے بنو وارث کچھ ایسے تم
کہ نازل ہوں قبولیت کی ساری ساعتیں تم پر
محبت کے یہ میلے الفتوں کے سلسلے پیہم
عیاں دائم اخوت کی سبھی ہوں نسبتیں تم پر

0
45
مہمان کے قدموں کو ، کوئی روک رہا ہے
مہمان نوازی کے لئے دل تو بچھا ہے
اک ہجر کی تکلیف بھی دیکھی تھی ، مگر اب
فرقت کا جو غم ہے ، بڑی مشکل سے سہا ہے
اس کو بھی تو ملنے کا تمہیں ، شوق تھا لیکن
حالات کے ہاتھوں کوئی مجبور ہوا ہے

0
63
رہ نورد انساں ہے گرچہ وقتِ دوراں کے حضور
کھل گئے اسرارِ حق پر راہِ عرفاں کے حضور
اک تبسّم، اک نگاہِ لطف نے سب کچھ کیا
چاند بھی خم کھا گیا اُس نازِ نازاں کے حضور
دل کے اندر بس گئی وحدت کی روشن آگہی
آنکھ کو جلوہ ملا اُس خاص ایماں کے حضور

0
31
‏‎رفاقتیں ہوں تو مَن مانیاں تو ہوتی ہیں
‏‎رہِ سلوک میں قربانیاں تو ہوتی ہیں
‏‎وصالِ حسن کی ہر موج بے خودی لاۓ
‏‎فراقِ دوست میں ویرانیاں تو ہوتی ہیں
‏‎حضورِ ذات کا در جب کھٹکتا رہتا ہے
‏‎صفائے دل میں بھی حیرانیاں تو ہوتی ہیں

0
42
عشق کی بستی میں روشن ، نورِ عالم ہے مرا
آئنے میں جب بھی اترا ، عکس پیہم ہے مرا
خلوتِ جاں میں صدا ہے، مثل اذکارِ حضور
ذکر میں ڈوبا ہوا یہ قدسِ مریم ہے مرا
تیرہ صحراؤں میں بھی نغمہ سنائی دے گیا
زخم دل کا بن گیا اب نَے کا موسم ہے مرا

0
33
دل کے خواب چلا کرتے ہیں جب آنکھوں کے بیچ
عشق کے پیچے لگ جاتے ہیں دو دھاگوں کے بیچ
ذات کے صحرا میں رہتا ہے ایک سمندر سچ کا
زیست کی ناؤ کا رستہ ہے سب لہروں کے بیچ
زُہد کے کچے پھل ہوں ، جن کو ، آن پرندے کھائیں
صبر سے بیٹھا دل بے چارہ ہو باغوں کے بیچ

0
47
‏‎نظر جھکی ہے ، مرے اشک بار ور کر دے
‏‎تُو اپنا نام مرے لب پہ معتبر کر دے
‏‎وفا کا راستہ دشوار ہے ، طویل بھی ہے
‏‎میں تھک نہ جاؤں ، سفر میرا مختصر کر دے
‏‎تری جدائی نے صدیوں کا نقش ثبت کیا
‏‎یہ نقش دل کا لہو سے نہ کوئی تر کر دے

0
70
جو فرقت میں کٹیں، وہ کاٹتے ہیں
جو دن سر پر پڑیں ، وہ کاٹتے ہیں
ہمیں کہتے ہوئے اپنا مسلسل
ہماری ہی جڑیں وہ کاٹتے ہیں
ہمارے دل کو پہنچائیں لہو جو
وہی چن کر رگیں ، وہ کاٹتے ہیں

0
45
اجازت چاہتا ہوں دست بستہ
سفر پر جا رہا ہوں ایک ہفتہ
خدا کے گھر پہ بخشش جا کے مانگوں
گناہوں میں کٹی ہے عمرِ رفتہ
دعا کی آپ سے بھی ہے گزارش
دعا پائے قبولیّت کا رستہ

0
81
میں کب کہیں *خُلُود میں قرار ڈھونڈتا ہوں اب
کہ نغمہ و سُرُود میں قرار ڈھونڈتا ہوں اب
حیات ہو گی جلد ہی ، گئے دنوں کی داستاں
میں ہر زیان و سُود میں قرار ڈھونڈتا ہوں اب
کبھی جمالِ صبح میں ، کبھی فراقِ شام میں
میں ہر نئی نَمُود میں قرار ڈھونڈتا ہوں اب

0
50
ضامن ہوں تیرے امن کا میں رہبروں میں ہوں
اور تُو سمجھ رہا ہے مجھے رہزنوں میں ہوں
تجھ کو نہ آج تک کبھی احساس ہو سکا
میں دوستوں میں ہوں کہ ترے دشمنوں میں ہوں
بیمار تیری روح کا کیسے کروں علاج
ہے فکر مجھ کو میں ترے چارہ گروں میں ہوں

0
92
چراغِ رحمتِ عالم ترا دربار ہے آقا ﷺ
متاعِ امنِ دو عالم ترا کردار ہے آقا ﷺ
سبھی تشنہ لبوں کے واسطے بحرِ بقا تو ہے
شفا کی اک دعائے خاص تیرا پیار ہے آقا ﷺ
جہاں میں عدل کا ڈنکا بجا ہے تیرے آنے سے
ترے خُلق و محبت پر فدا سنسار ہے آقا ﷺ

0
45
رفاقتوں میں بھی حیرانیاں تو ہوتی ہیں
“کہ دوستوں سے بھی نادانیاں تو ہوتی ہیں”
وفا کے کوچے میں جلتے ہیں دل دیے بن کر
محبتوں میں یہ قربانیاں تو ہوتی ہیں
وہ ہنس کے جب ملے ، دل رو کے یاد کرتا ہے
دکھوں کی آنیاں اور جانیاں تو ہوتی ہیں

0
157
روشنی کا وہ اشارا ہے رسولِ رحمت ﷺ
‏‎جس کو دشمن نے پکارا ہے رسولِ رحمت ﷺ
‏‎عدل و انصاف کی صورت وہ ملا دنیا کو
‏‎بے قصوروں کا سہارا ہے رسولِ رحمت ﷺ
‏‎آگ برساتی ہوئی دھوپ میں ٹھنڈک کا سماں
‏‎ابر وہ رب نے اتارا ہے رسولِ رحمت ﷺ

0
44
اے خدا کے فیض اور عرفان کے چشمے رواں
تشنہ لب دوڑے چلے آتے ہیں تجھ تک کارواں
ہر دلِ مضطر میں تیری یاد کی خوشبو بسی
ہر کسی پر تیرے ہی احسان کے ہیں سائباں
چاند سورج کہکشاں سب تیرے جلوے کے اسیر
نور کی صورت ہوا ہے آسماں بھی ضو فشاں

0
75
کیا پوچھتے ہو مجھ سے سوالِ جمالِ دوست
ہر رنگ مثلِ چشمِ غزالِ جمالِ دوست
صحرا ہو گلستاں ہو اندھیرا کہ صبح ہو
ہر دل دلِ نہالِ کمالِ جمالِ دوست
میں خاک کا بنا ہوں مری عرش پر دعا
جب لب پہ میرے ذکرِ جلالِ جمالِ دوست

0
44
اے خدا کے فیض اور عرفان کے چشمے رواں
تشنہ لب دوڑے چلے آتے ہیں تجھ تک کارواں
رحمتِ حق کا ہوا مکّہ میں جو جلوہ عیاں
نور سے اس کے ہوئے معمور سب کون و مکاں
طور پر موسی نے دیکھا روشنی کا اک نشاں
اور مدینہ میں محمد کو ملا دیدارِ جاں

0
59
چراغِ رحمتِ عالم ترا دربار ہے آقا
متاعِ امنِ دو عالم ترا کردار ہے آقا
سبھی تشنہ لبوں کے واسطے بحرِ بقا تو ہے
شفا کی اک دعائے خاص تیرا پیار ہے آقا
جہاں میں عدل کا ڈنکا بجا ہے تیرے آنے سے
ترے خُلق و محبت پر فدا سنسار ہے آقا

0
52
روشنی کے سب ستارے ہیں ہدایت کے گواہ
عزمِ حق کے سب صحیفے ہیں شجاعت کے گواہ
صلح کے پیغام سے مہکا جہاں کا ہر مکاں
امن کی خوشبو کے جھونکے ہیں شرافت کے گواہ
درد مندوں کا سہارا اور غریبوں کی پناہ
رحمتوں کے سب خزانے ہیں سخاوت کے گواہ

0
49
جلسہ سالانہ جرمنی کے نام
محبّت کا عقیدت کا سفر تم کو مبارک ہو
مبارک جرمنی والو! تمہیں جلسہ مبارک ہو
جہاں دل مل کے کرتے ہیں دعاؤں سے پذیرائی
جہاں لب پر دعا رکھتے ، خلیفہ کے ہیں شیدائی
جہاں رونق ہو ، دل کی ساری سستی دور ہو جائے

0
65
جانِ جاں سے ملے ہیں تو جاں سے گئے
‏‎پھر سبھی اِس زمیں آسماں سے گئے
‏‎اُس کی یادوں کا سہرا سرہانے رہا
‏‎پھر نہ خوابوں کے ہم کارواں سے گئے
‏‎جب سے جذبوں کا منظر سجایا گیا
‏‎آنکھ سے اشک بہہ کر رواں سے گئے

0
74
کوئی بھی وسوسے دل میں نہیں پلنے دیئے میں نے
نہیں امّید کے روشن دیے بجھنے دیئے میں نے
ستارے مَیں ، فلک سے توڑ کر ، گرچہ نہیں لایا
تمہاری آنکھ سے موتی نہیں گرنے دیئے میں نے
خیال ان کے مرے بارے میں تھے کچھ اور ہی لیکن
ہوئے جب اس طرف مائل، نہیں پھرنے دیئے میں نے

0
58
‏‎دل کو دیکھا دل کے اندر اک اجالا ہے ابھی
‏‎راہ الفت کے مسافر کو سنبھالا ہے ابھی
‏‎خاک کی صورت نہ دیکھو اس میں جلتا ہے چراغ
‏‎زیرِ پردہ آتشیں اک شعلہ پالا ہے ابھی
‏‎تشنگی ہے اور ساقی آ گیا ساغر لیے
‏‎ دل کا مے خانہ صنم کِتنا نرالا ہے ابھی

0
28
خوشی سے میں گھر میں جلاؤں چراغ
بس اک بار مل جائے تیرا سراغ
میں خاموش رہتا ہوں ، جھکتا نہیں
سمجھ لے نہ کوئی مجھے بد دماغ
ترے عشق میں جاگتی ہے یہ رات
نظر چاند میں گرچہ آتا ہے داغ

0
45
چاندنی اوڑھ کے آیا وہ فرشتوں جیسی
روح پھر مہکی سرِ شام بہاروں جیسی
چال تھی جیسے کہ امواجِ رواں دریا میں
گفتگو اس کی تھی انمول کتابوں جیسی
اس کی محفل کی مہک آج تلک باقی ہے
اس کے چہرے کی طرح تازہ گلابوں جیسی

0
39
ہوں مشتِ خاک ، بنے گا یہاں پہ کیا میرا
کہ گیلی مٹّی سے گوندھا بدن گیا میرا
مرا خزانہ ہے منزل مجھے بتایا گیا
سفر کے شوق نے رستہ بنا دیا میرا
‏‎مجھے تو بندگی کرنا نہ آ سکی اب تکی
گماں اسے ہے کہ ہے دعویٰ ِ خدا میرا

0
49
سبق سکھایا جو فطرت نے مجھ کو ازبر تھا
مری زباں پہ وہی تھا جو دل کے اندر تھا
خدا بنا کے سجایا نہیں ہے مندر میں
ہٹا دیا جو مرے راستے کا پتھر تھا
چراغ دل کا جلایا نہیں تھا محفل میں
وہ سامنے تھا ، وہی روشنی کا منظر تھا

0
38
عشق کا ہے ادب اک خموشی بھی ، سُن
تُو قلم کی نوائے سروشی بھی سن
دشت و کہسار میں آئے کس کی صدا
مردِ میدان کی سر فروشی بھی سُن
حسن ایسا کہ مہتاب شرمائے ہے
ہے اماوس تو پھر عیب پوشی بھی سُن

0
54
دل ہے دریا سا اور پانی تُو
‏‎نغمگی شعر کی ، روانی تُو
‏‎ایک قطرہ جو چشمِ نم میں ہے
‏‎اس کی کرتا ہے قدر دانی تُو
‏‎صُبح کا میں چراغ بجھتا ہوا
‏‎تا ابد شمعِ حکمرانی تُو

0
56
پھُلّاں کھِڑیا ، دل دا ہاسّا یاد کراں
ماں کردی سی سِر دا چاسّا یاد کراں
چپ چپیتے چانن اتّر آؤندا سی
میرا چن وی اوتھے پھیرا پاؤندا سی
کملی ، سُرخی ، لا کے گاؤندی ، پھر دی سی
ڈھارے تھلّے منجی ڈھاؤندی پھر دی سی

0
51
ہے چاند سا جمال لاجواب میرے سامنے
ہے برشگالِ نور بے حساب میرے سامنے
یہ عشق کا چراغ جگمگاہٹوں کے بیچ میں
ہے روشنی میں کون آفتاب میرے سامنے
اک آہ کی صدا تھی میرے وصل کی کرن بنی
کہ چاندنی ہے اور ماہتاب میرے سامنے

0
51
پروانہ جان دینے سرِ شام آگیا
دیوانہ جب چراغ جلا ، کام آگیا
‏‎کب حرفِ شوق لب پہ ہے آنے دیا مگر
‏‎پہچان تھی تو ذہن میں بھی نام آ گیا
‏‎زخموں نے روشنی سے نمایاں کئے حروف
‏‎چہرہ حریف کا جو سرِ بام آ گیا

0
53
چل پڑا جب تو ساتھی ، صبا ہے مرا
زخم دل کا ابھی تک ہرا ہے مرا
آئنہ دل پہ روشن ہوا ہے مرا
زندگی جیسے جلتا دیا ہے مرا
خار ِ رَہ میں بھی لُطفِ جفا ہے مرا
زہر پی کے بھی شوقِ وفا ہے مرا

0
50
دل کے صحرا میں اترتا ہے جو سیرابی کا رنگ
لب سے نکلے چند لفظوں کی ہے خطّابی کا رنگ
جس نے مٹی کو بنا ڈالا ہے امبر کا نگر
اس صنم، اس مرشدِ جاں کی ہے شادابی کا رنگ
دشت میں کردے رگِ جاں کو جو نخلستان سا
ہے مرے سینے میں اترا ، ابرِ سیلابی کا رنگ

0
41