Circle Image

ڈاکٹر طارق انور باجوہ

@TariqBajwa

ظاہر وہ یوں جمال تو پہلے نہیں ہوا
جی اس طرح نہال تو پہلے نہیں ہوا
آتی ہیں غیب سے جو زباں پر حکایتیں
میں اتنا با کمال تو پہلے نہیں ہوا
ہم بھی رہے ہیں اپنی طبیعت میں صاف گو
پوشیدہ اپنا حال تو پہلے نہیں ہوا

0
1
عادت ہمیں جو پڑ گئی ہے تیرے پیار کی
اب ہر گھڑی کٹھن ہوئی ہے انتظار کی
پھر سے ترے وصال کا سامان جلد ہو
آقا دعا ترے لئے دیوانہ وار کی
وہ آ گئے ہیں دن جو گزرتے تھے تیرے ساتھ
ایسے میں ملا قات بھی تو بار بار کی

0
10
کچھ ہم سے دوستوں کو شکایت ہوئی ہے کیا
اب اور کوئی نظرِ عنایت ہوئی ہے کیا
حسنِ بیاں میں بڑھ گئے وہ اپنی ذات سے
اب کےتو پیش اک نئی آیت ہوئی ہے کیا
الزام دے رہے تھے ہمیں بات بات پر
ان کی بھی اب کہیں سے حمایت ہوئی ہے کیا

0
9
جو آنکھ کھولو تو کچھ آشنائی پاؤ گے
ضمیر اپنا ہی دیتے دُہائی پاؤ گے
قلم ہوئے ہیں جو سر شہر میں ادیبوں کے
مرے لہو کی وہیں روشنائی پاؤ گے
محبّتوں نے الگ کب کیا ہے انساں کو
یہ نفرتوں کی رہی کارروائی پاؤ گے

0
8
جہاں جہاں بھی تُو ٹھہرا جہاں چلا ہو گا
وہی تو قبلہ و کعبہ مرا رہا ہو گا
میں ہو گیا جو معطّر تری محبّت سے
زمانہ اب مری خوشبو سے آشنا ہو گا
سہانے خوابوں سے میں نے بسائی جو دنیا
تو اس میں ہر جگہ تُو ہی تو پھر رہا ہو گا

0
6
جو اپنے ہاتھ سے میں نے کلام لکھا تھا
بڑے ہی پیار سے اس میں سلام لکھا تھا
پرانے کاغذوں میں وہ کہیں پڑا ہو گا
وہ خط جو میں نے کبھی تیرے نام لکھا تھا
جنوں کے رنگ محبّت کی روشنائی میں
جو دل پہ گزری وہ سارا پیام لکھا تھا

0
17
نگاہِ شوق سے اثبات ہو نہیں پائی
مری خودی کو ابھی مات ہو نہیں پائی
وہ میرے شہر میں اترا تو خوب چرچا ہوا
گئے تو ہم بھی ملا قا ت ہو نہیں پائی
اگرچہ ابر گھٹا بن کے چھا گئے ہر سُو
مرے چمن میں تو برسات ہو نہیں پائی

0
9