| کوئی بھی وسوسے دل میں نہیں پلنے دیئے میں نے
|
| نہیں امّید کے روشن دیے بجھنے دیئے میں نے
|
| ستارے مَیں ، فلک سے توڑ کر ، گرچہ نہیں لایا
|
| تمہاری آنکھ سے موتی نہیں گرنے دیئے میں نے
|
| خیال ان کے مرے بارے میں تھے کچھ اور ہی لیکن
|
| ہوئے جب اس طرف مائل، نہیں پھرنے دیئے میں نے
|
|
|