Circle Image

ڈاکٹر طارق انور باجوہ

@TariqBajwa

تُو نہ ملتا تو سکوں دل کو کہاں ہونا تھا
گھر مرا تیرے بنا خالی مکاں ہونا تھا
مجھ کو اشرف جو بنایا مجھے معلوم نہ تھا
کہ جُھکا میرے لئے سارا جہاں ہونا تھا
تیرے احسانوں کا ممکن نہیں ہو پائے شمار
حق ادا شکر کا ہو وہم و گماں ہونا تھا

3
17
کوئی تو روک بنے اس بلا کے رستے میں
خدا کا رحم ہی آئے وبا کے رستے میں
ہمیں تو پہلے ہی قربانیوں کی عادت ہے
“ نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں”
ملائیں ہاتھ لگائیں جو ہم کسی کو گلے
یہ ڈر ہے لے کے نہ جائے فنا کے رستے میں

0
5
نہ دل اگر کسی عشقِ بتان سے گزرے
یقین کیسے ہو وہم و گمان سے گزرے
ہم اور ہی کسی دنیا میں اب تو رہتے ہیں
کہ ایک عر صہ ہوا اس جہان سے گزرے
وہ خواہشوں کے سبھی دائروں سے آگے ہے
اسے وہ پائے جو کون و مکان سے گزرے

0
2
اُس کی نظر کا دیکھ لو اعجاز کیا ہوا
اک انقلاب کا نہیں آغاز کیا ہوا
ابھرا افق پہ وقت پہ وہ چودھویں کا چاند
روشن ہوئے خزانوں کے سب راز کیا ہوا
وہ تھا ید بیضا کہ تھا عصا کا معجزہ
زندہ دمِ عیسیٰ کا نہ انداز کیا ہوا

0
3
گرچہ رہے ہیں غم ہمیں بھی روزگار کے
بھولے نہیں کرم کبھی پروردگار کے
ان کو خزاں کے آنے سے تم کیا ڈراتے ہو
روتے ہوئے گزار دیں جو دن بہار کے
یادوں سے تیری کھیل کے تھک جائیں گے صنم
ہم سے نہ کٹ سکیں گے یہ دن انتظار کے

0
3
آسماں سے پیام آیا ہے
کوئی بن کر امام آیا ہے
اس پہ بھیجو درود وہ بن کر
جس کا قائم مقام آیا ہے
برف پر چل کے جا کے اس کو دو
وہ جو اس کو سلام آیا ہے

0
5
مسلسل قوم ، جب سے سو رہی ہے
تو قسمت اس کی ، اس پر رو رہی ہے
دلِ مضطر کو آئے چین کیونکر
دگر گوں حالت اس کی ہو رہی ہے
بدلنے کا خیال آئے گا اک دن
یہی امّید اب تک تو رہی ہے

0
6
نور کو رہنما نہیں کرتے
وہ جو روشن دیا نہیں کرتے
کیوں زمانہ بہا کے لے جائے
ہاتھ باندھے ، بہا نہیں کرتے
زندگی جس کی ہو کسی کے نام
وہ بہانے کیا نہیں کرتے

0
3
خواہشوں کو کبھی دامن سے ، بڑھایا ہی نہیں
اس لئے دل کو کوئی روگ لگایا ہی نہیں
زندگی گزری ہے کیسے یہ پتہ ہی نہ چلا
ہم پلٹ جاتے جہاں ، موڑ وہ آیا ہی نہیں
چاند نکلا شبِ تاریک میں روشن ہو کر
ہم نے پھر گھر میں دیا کوئی جلایا ہی نہیں

0
6
زمین و آسماں ، گردش میں رہتے ہیں جو سیّارے
یہ صحرا ، دشت و دریا ، کوہ و میداں کیوں بنے سارے
برستا ہے جو بادَل وہ تو پانی ایک ہی لائے
ہے میٹھا پانی دریا کا ، سمندر کیوں ہوئے کھارے
کئے مالک نے دانے ، کھیت میں ، باغوں میں پھل پیدا
تری تخلیق کی خاطر چلے یہ سلسلے سارے

0
1
ہم نے جو بے ساختہ چاہا ، کیا
کیا عجب ، اس نے ہمیں چلتا کیا
چاہئے تھا جو ہمیں کرنا ، کیا
اس نے جو کچھ بھی کیا ، اچھا کیا
کھو گئے رنگینئ دنیا میں ہم
اس محبّت نے ہمیں ، رُسوا کیا

0
2
چلے جو دھوپ میں پھر جسم نے تو جلنا تھا
جو سایہ بن کے چلا ساتھ اس کے چلنا تھا
قدم رکھا تھا جوانی میں کچھ دنوں پہلے
خبر نہیں تھی اسے اتنی جلدی ڈھلنا تھا
وہ ہم سے پہلے مسافر تھے حوصلے والے
وگرنہ ہم نے کہاں راستہ بدلنا تھا

0
3
پہلے تو کہیں زخم یہ کھایا بھی نہ ہو گا
یہ تیرِ نگہ اس نے چلایا بھی نہ ہو گا
اک سایۂ دیوار میں بیٹھے ہیں سمجھ کر
سورج گیا تو پھر کہیں سایہ بھی نہ ہو گا
بارش نے مسلسل جو یہاں ڈیرے لگائے
بادَل کہیں صحرا میں تو چھایا بھی نہ ہو گا

0
5
در پہ دستک دیا کرے کوئی
دل یہ آہٹ سدا سُنے کوئی
شام کی تیرگی سے پہلے ہی
اپنے دل میں دیا جلے کوئی
شہر تنہائیوں سے ڈرتا ہے
اُس سے ملنے چلا چلے کوئی

0
5
خلافت خدا کی ہے سنّت قدیم
خلافت عطائے خدائے کریم
خلافت اندھیرے میں شمعِ حریم
خلافت خدا کی ہے نعمت عظیم
جہاں میں خلافت کا جو نور ہے
جو دور اس سے اُس سے خدا دور ہے

0
5
خدا نے خود بشارت دی خلافت کی جو قرآں میں
عطا کر کے یہ نعمت تمکنت بخشی ہے ایماں میں
یہی ہے نور مومن روشنی پاتے ہیں اس سے جب
سمجھ لیتے ہیں دشمن اب یہ بھٹکیں گے بیاباں میں
ابوبکر و عمر عثماں علی سب کی خلافت میں
محمّد مصطفےٰ کے بعد طاقت تھی مسلماں میں

0
6
جب ضروری ہو کچھ کہا جائے
جرم ہے یہ کہ چپ رہا جائے
قتل ہوں بے گناہ لوگ مگر
بند آنکھوں کو کر لیا جائے
دل کی آواز کو سُنا جائے
شورِ محشر بپا کیا جائے

0
6
نہ دیکھ پائیں گے ہم گر وہ بے نقاب آیا
ہمیں تو وصل کی خواہش سے بھی حجاب آیا
مدد کو آؤ گے کیا تم جو رُوبرو ہوں گے
کسی سوال کا ہم کو نہ گر جواب آیا
ہوا میں جب ہوئی تحلیل اِس کی حدّت سے
یقین ہو گیا شبنم کو آفتاب آیا

0
6
من میں چین کہاں پر ہووے، نین جو اس سے لاگے
راہ تکے ہیں اُس کی ہر پل ، سب سُکھ چین تیاگے
آس کی دیوی رات کو آکر میٹھی نیند سُلاوے
سپنوں میں آ جائے پھر وہ ، اس کارن ہم جاگے
مدھم مدھم سُر میں اُس کے گیت فضا میں گونجیں
راگ کے سارے سر گم مل کر جُھک گئے اُس کے آگے

0
11
نہیں ضروری کوئی واردات ، بھی کرنا
جو پیش آئے رقم ، حادثات ، بھی کرنا
حقیقتوں سے شناسا ہوں یہ ضروری ہے
بیاں ہمارے لئے واقعات بھی کرنا
جہان بھر کے پس و پیش جانتے ہو تم
جو ہو سکے کبھی عرفانِ ذات بھی کرنا

0
7
دامنِِ تر سے نہیں داغوں کو دھونا آیا
ہم کو پلکوں پہ نہیں اشک پرونا آیا
بھول جائیں گے اسے ہم نے یہ سوچا تھا مگر
ذکر اس کا نہ تھا پھر بھی ہمیں رونا آیا
کھیل کر مجھ سے ذرا دیر پرے پھینک دیا
ہاتھ میں اس کے نیا جیسے کھلونا آیا

0
8
اُس نے پوچھا تو مُدّعا ہم سے
کیسے آئے ہو یہ کہا ہم سے
بد گُمانی تو تھی زمانے کو
اُس کو کوئی نہ تھا گِلہ ہم سے
ہم نے کب دوسروں کی پروا کی
فکر تھی وہ نہ ہو خفا ہم سے

0
6
دل اب بھی ڈھونڈتا ہے یہ ناصر سعید کو
جنَّت میں دیکھتا ہے یہ ناصر سعید کو
رحمت قدم قدم رہی ساتھ اس کے ہر گھڑی
اجرِ وفا ملا ہے یہ ناصر سعید کو
ناصر کے ساتھ بھی رہا طاہر کے ساتھ بھی
موقع عطا ہوا ہے یہ ناصر سعید کو

0
3
یہ اگر سلسلہ نہیں ہوتا
اُس سے پھر رابطہ نہیں ہوتا
جس نے خود ہاتھ سے بنایا ہو
وہ کبھی لاپتہ نہیں ہوتا
بات ہم کو ادھوری لگتی ہے
جب تِرا تذکرہ نہیں ہوتا

0
7
چاندنی رات میں جگنو اڑے کیا دیکھو گے
چاند آئے جو نظر دیر سے کیا دیکھو گے
سوزِ دل، سازِ محبّت سے ملا کر جو سُخن
یاد میں گل کی جو بلبل کہے ، کیا دیکھو گے
حُسنِ یوسف کی جھلک دیکھنے کی تاب نہیں
تم ہو انگُشت بدنداں اُسے کیا دیکھو گے

0
6
نشّۂ عشق میں اک جلوے نے سر شار کیا
داستاں اپنی ہی لے کر اسے اشعار کیا
تجھ کو دیکھا ہے تو کھو بیٹھے ہیں سب عقل و خرد
کیسی مشکل سے ترے حسن نے دو چار کیا
تُو نے اظہار وفا ایسے کیا ہے مجھ سے
یوں لگے مجھ کو مرے یار نے بیمار کیا

1
11
جو نُور کائنات میں ، شمس و قمر میں ہے
جلوہ نما ہوا وہی ، قلب و نظر میں ہے
گزری ہے تیری جستجو میں جو گھڑی وہی
سرمایۂ حیات مرا ، اس سفر میں ہے
گزرے بغیر اس سے ، پہنچ پائیں گے کہاں
وہ امتحان جو کہ ابھی رہ گزر میں ہے

1
12
ترے نقوش کو تصویر میں اُبھارا گیا
ترے سُخن تری تحریر کو نکھارا گیا
قصیدے شان میں تیری بہت سے لکھے گئے
عطا کئے گئے القاب سے پکارا گیا
تجھے تو ایک ہی تمغہ تھا باعثِ اعزاز
وہاں تو مدح کے انبار سے گزارا گیا

3
41
ایک دن تُجھ کو پڑے گی جو ضرورت میری
تجھ کو یاد آئے گی اُس روز یہ چاہت میری
یوں تکبّر سے مجھے دیکھ کے منہ پھیر نہ تُو
میں تِرا دوست ہوں بدلی نہیں الفت میری
میں ترے کوچہ سے جاؤں گا تو یاد آؤں گا
جب رہے گی نہ ترے سر پہ حفاظت میری

0
7
آگئے ہیں جو یہاں اب نہیں جانے والے
میکدے سے نہیں آئیں گے اٹھانے والے
تشنہ لب پیاس بجھائیں گے تو جائیں گے کہیں
چشمۂ فیض پہ آئے ہیں جو آنے والے
وقت کی بات ہے پکڑے گی مکافاتِ عمل
کب سکوں پا ئیں ، فقیروں کو ستانے والے

2
22
وہ ہاتھ دھو کے پیچھے مرے پڑ گئے ہیں کیوں
اچھے بھلے تھے آج انہیں کیا ہوا جنوں
پوچھا جو میں نے ان سے کہ احوال کچھ کہیں
شاعر ہیں کہہ رہے ہیں غزل ان کی میں سنوں

4
35
تم سے ملنے اگر گئے ہوتے
یہ مقدّر سنور گئے ہوتے
ہم بتوں سے فریب کھا بیٹھے
ورنہ کیا کیا نہ کرگئے ہوتے
زندہ رہنا تمہی سے سیکھا ہے
ورنہ ہم کب کے مر گئے ہوتے

3
35
عجب ہے عید کی برکت، خوشی ہم سب مناتے ہیں
جو ہفتہ بھر نہ کھا پائیں وہ ہم اک دن میں کھاتے ہیں
خدا کی بارگہ میں گر قبولیّت ہو روزوں کی
فرشتے عید ملنے آسماں سے گھر پہ آتے ہیں
سُنا ہے عید کے دن وہ گلے ملتے ہیں لوگوں سے
یہی تو سوچ کر ہم عید ملنے ان سے جاتے ہیں

0
9
جو چھپا رکھا تھا چہرہ کُھل گیا
حسن کا ہم سے جو پردہ کُھل گیا
آنکھ سے ٹپکا ہے خونِ دل مگر
کوچۂ جاناں کا رستہ کُھل گیا
زلف اس نے کھول دی جب شام کو
رات کی آمد کا عُقدہ کُھل گیا

0
9
گو فرشتہ نہیں ہوں میں عاجز بشر
میری پرواز روکیں نہ دیوار و در
روک لوں میں قدم کیا یہی سوچ کر
دُور منزل ہے اور راستہ پُر خطر
میں تری رہنمائی میں چلتا رہا
تیری جانب ہوا ہے جو اب تک سفر

0
6
تغزّل ہے ترنّم ہے سلاست ہے روانی ہے
مجھے اک بات لیکن آج شعروں میں سنانی ہے
ہماری داستاں سن کر تمہیں بھی حوصلہ ہو گا
بہت جدّو جہد پھر کامیابی کامرانی ہے
خدا جانے ہماری زندگی کیا رنگ لائے گی
تموّج ہے تلاطم ہے خیالوں کی جوانی ہے

0
8
کبھی بھی عشق کے مارے برے نہیں ہوتے
برا ہو ایک تو سارے برے نہیں ہوتے
تمھارے ساتھ نصیبوں نے کھیل کھیلا ہے
یہ آسمان کے تارے برے نہیں ہوتے
تم ایک بار اتر کر تو دیکھو میداں میں
ہمیشہ تم سے جو ہارے، برے نہیں ہوتے

0
3
جو ہم نے عالمِ کون و مکان دیکھا ہے
ہے آگے اور کیا پر یہ جہان دیکھا ہے
کسی کی چشمِ تلطّف نے کر دیا گھائل
نہ اُس سا کوئی حسیں مہربان دیکھا ہے
ہمیں خوشی سے گزرنا ہے آزمائش سے
کہ اس سے پہلے بھی یہ امتحان دیکھا ہے

0
2
اس سفر کی تکان کیا کم ہے
زندگی امتحان کیا کم ہے
اور کیا کیا مصیبتیں ہوں گی
سر پہ اِک آسمان کیا کم ہے
ہم جو باہَر نظر نہیں آتے
دیکھنے کو مکان کیا کم ہے

1
13
وہ لمحہ پھر خوشی بن کر بھی آئے
ہمارے گھر وہ خود چل کر بھی آئے
ہم اس کے سامنے ہیں وہ ہمارے
مرے خوابوں میں یہ منظر بھی آئے
بہار آئی چمن میں گُل کھلے ہیں
گلاب احمر ، شجر اخضر بھی آئے

0
11
زندگی ہے یہ امتحان ہی کیا
لب پہ اٹکی رہے گی جان ہی کیا
جلوۂ حسن بھی کبھی ہو گا
یا رہے گا فقط گمان ہی کیا
جاتے جاتے وہ کر گئے احساں
حسرتیں دے گئے ہیں دان ہی کیا

0
5
دیکھ سکتے ہی نہیں نورِ عیاں سے آگے
ہم پہنچ پائیں گے کیا اس کے بیاں سے آگے
ہم تو اُڑ کر بھی ترے پاس چلے آتے اگر
سوچتے ہم بھی کبھی دونوں جہاں سے آگے
کیسے کہہ دوں ہے تعلّق اسے گہرا مجھ سے
گفتگو بڑھتی نہیں سود و زیاں سے آگے

0
6
زمیں پہ شورِ قیامت مچا گئے یارو
خبر ملی ہے مسیحا ہیں آ گئے یارو
نیا اب آسماں اور اک نئی زمیں ہو گی
یہ مژدہ آکے وہ سب کو سنا گئے یارو
دلیل لے کے وہ آئے تو ہم نے مان لیا
نشان بھی تو سبھی ہیں دکھا گئے یارو

0
5
دل اگر اپنا مسلمان کہیں ہو جاتا
صورتِ وصل کا امکان کہیں ہو جاتا
ہم نے سودا اِسے بس سود و زیاں کا سمجھا
دوستی ہوتی تو نقصان کہیں ہو جاتا
عمر بھر اوروں سے ہی ہم نے شناسائی کی
ذات کا اپنی بھی عرفان کہیں ہو جاتا

1
21
لبوں پر اک تبسّم اس کی باتوں میں تغزُّل ہے
فرشتوں جیسا چہرے پر سکوں حسن و تجمُّل ہے
خدا کی دوسری قدرت کا مظہر پانچواں ہے وہ
اسی سے اب مسیحا کی خلافت کا تسلسُل ہے
وہ کلمہ ہے خدا کا اور خدا جو بات کہتا ہے
کبھی اس بات میں دیکھا نہیں ہوتا تبدُّل ہے

4
33
مزید پانے کی خواہش جو بے تحاشا ہے
اسی سے ہر جگہ دنیا میں یہ تماشا ہے
ملا ہے اب جو اُسے چھوڑ دیں نہیں ممکن
جتن ہزار کئے تب اُسے تلاشا ہے
حسیں بدن کی اداؤں نے خود گواہی دی
اُسے کسی نے بڑے پیار سے تراشا ہے

2
16
لوگ تنہائی کا اتنا جو گِلا کرتے ہیں
سب کے ہاں کیا کوئی مہمان ہوا کرتے ہیں
جو بھی شاعر تری صحبت میں رہا کرتے ہیں
کوئی اچھی سی غزل روز کہا کرتے ہیں
داستاں تیری عیاں چہرے سے ہوتی ہے مگر
ہم بصد شوق کئی بار پڑھا کرتے ہیں

0
7
بات دل کی وہ جیسے جان گئے
میں نہ جو کہہ سکا وہ مان گئے
ڈال کر یوں گئے وہ مجھ پہ نظر
دے کے سر پر وہ سائبان گئے
روگ دل کو لگا لیا جب وہ
جلوۂ حسن دے کے دان گئے

6
265
دشمن کو تو ہم یوں کبھی خاطر میں نہ لائے
اپنوں کو بھی دیکھا ہے ، مگر ہوتے پرائے
ماضی کے دریچوں میں بھی جھانکا تو یہ دیکھا
پہلے بھی ستم ہم پہ ، زمانے نے ہیں ڈھائے
جب جب بھی ہوئے شمع ، بجھانے کے وہ درپے
دیکھے ہیں ، اندھیروں کے ، سمٹتے ہوئے سائے

8
آئی کل رونق نظر ، افطار میں
مل کے بیٹھے ، گو تھا ڈر ، افطار میں
طیّب و تنویر نے دعوت جو کی
ہم گئے ، گھر چھوڑ کر ، افطار میں
تھی اجازت پندرہ افراد کی
یہ رہا مدِّ نظر ، افطار میں

8
سفر کا شوق بھی دُشوار رہگزار بھی ہے
جو چل پڑا ہوں تو منزل کا انتظار بھی ہے
چمن میں پھول کھلے ہیں فضا میں خوشبو ہے
ہو الوداع اےخزاں ، کہہ رہی بہار بھی ہے
ہم اس سے پہلے بھی آئے ہیں اس طرف اکثر
مگر وہ آیا ہے جب سے یہاں قرار بھی ہے

9
گر خُدا سے دوستی کا ہو تعلّق استوار
پھر مثال اس کی ملے کوئی نہ گو ڈھونڈیں ہزار
دل سے دل مل جائیں جب ، روحوں میں اترے پیار وہ
ورطۂ حیرت میں ڈوبے ہوں ملائک بے شمار
ہوں جُدا اک دوسرے سے دوستی میں جب کبھی
دو ، سَتی ہو ں ایک دوجے کے لئے دیوانہ وار

0
15
میں ترے پیشِ نظر گو پسِ منظر ہوتا
مجھ کو حسرت ہی رہی میں بھی قلندر ہوتا
میں فلک پر جو چمکتا ہوا اختر ہوتا
اثر انداز تِرا کچھ تو مقدّر ہوتا
تو نہ ملتا تو کسی قیس کا مظہر ہوتا
تُجھ کو پاتا تو مقدّر کا سکندر ہوتا

0
2
22
سکونِ قلب اطمینان پایا
خدا کا ہم نے جب وجدان پایا
ہماری زیست کا مقصد عبادت
خدا کا تو یہی فرمان پایا
خدا کے ذکر سے لب ہیں معطّر
ہے جب سے قلب نے عرفان پایا

0
9
وہ جو ہو سامنے جذبات بدل جاتے ہیں
گھر کو لوٹیں تو خیالات بدل جاتے ہیں
اک محبّت کا نشہ کر کے تو دیکھو یارو
دیکھنا کیسے یہ دن رات بدل جاتے ہیں
ہم نے دیکھا ہے بدلتے ہوئے لوگوں کو اصول
دیکھ کر سود و زیاں بات بدل جاتے ہیں

0
17
ساتھ مشکل میں اگر شانہ بہ شانہ دے دو
درگزر کرنے کا اس کو بھی بہانہ دے دو
تم نے جانا ہے تو جاؤ کہ ہوئی دیر بہت
شب گزاری کو ہمیں آج یہ میخانہ دے دو
ہم تو اشعار میں لکھیں گے کہانی اپنی
تم بھی لکھنے کو ہمیں اپنا فسانہ دے دو

4
44
اس کی یاد آنکھوں میں آنسو سی بسی رہتی ہے
روشنی بھی کہیں جگنو سی بسی رہتی ہے
جب تلک سوچتا رہتا ہوں ترے بارے میں
میرے ماحول میں خوشبو سی بسی رہتی ہے
ذہن میں تیرے تصوّر کے کئی غنچےلئے
تیری تصویر ہی گل رُ و سی بسی رہتی ہے

1
17
تم بھی کیا کیا کچھ لکھتے ہو
لکھتے ہو جو سچ کہتے ہو
مشکل میں گھر آ جاتے ہو
یوں تو آوارہ پھرتے ہو
مرنا ہے تو جی کے دکھاؤ
جانے کس کس پر مرتے ہو

0
2
33
ہو سکی تم سے ملا قات ، بہت تھوڑی ہے
اور پھر تم سے ہوئی بات ، بہت تھوڑی ہے
تم کو جی بھر کے ابھی دیکھا کہاں ہے میں نہیں
اب جو باقی ہے بچی رات بہت تھوڑی ہے
شمع کی طرح لُٹا دیتے ہیں جاں پروانے
پھر بھی پروانے کی اوقات بہت تھوڑی ہے

0
12
ابتدا انتہا تو نہیں ہے پتا
میں تو سمجھا یہی علم کی انتہا
یہ بتایا گیا ہے مجھے بارہا
عشق میں ہو نہ جانا کہیں مبتلا
پی کے امرت کا پیالہ جو رسوا ہوا
خُلد سے آدمی کو نکالا گیا

0
30
آنکھیں سچی ہوتی ہیں سچ بولتی ہیں
لاکھ چھپاؤ راز دلوں کے کھولتی ہیں
سچی باتیں دکھتی رگ پر ہاتھ رکھیں
جذبوں کے پھر مُردہ جسم ٹٹولتی ہیں
مولا تُجھ کو دیکھ نہ پائیں آنکھیں پر
تیری باتیں کانوں میں رس گھولتی ہیں

0
30
آنکھوں میں خواب بھر کے جو سویا کرو کبھی
یادوں کا حسن دل میں سمویا کرو کبھی
پھولوں سے قربتیں ہوں تو کانٹے ہوں ساتھ ساتھ
تم دشمنی کے بیج نہ بویا کرو کبھی
تم کو جو راس آئے قناعت کی زندگی
راتوں کی نیند ، چین نہ کھویا کرو کبھی

0
31
تم آئینے کے سامنے جاؤ گے پھر کبھی
باطن بھی اپنا سامنے لاؤ گے پھر کبھی
تم نے کیا نہ گر کبھی دستِ طمع دراز
مایوس ہو کے سر نہ جھکاؤ گے پھر کبھی
اپنی محبّتوں سے کرو گے جو انحراف
تم زندگی میں چین نہ پاؤ گے پھر کبھی

0
15
نسخہ ہائے آزمودہ کی کتابوں میں لکھا
کب ہے اکسیرِ حیاتِ جاودانی کا پتا
گر خدا کی معرفت پا جائے انساں ہر گھڑی
وہ رہے راضی خدا سے جس کی وہ پائے رضا
کس قدر آزردہ خاطر ہو گئے یہ دیکھ کر
وہ جسے ملنے گئے چپکے سے وہ چلتا بنا

0
17
میری یادوں میں وہ ہنسی ہے ابھی
یاد لہجے کی دلکشی ہے ابھی
آ گیا ہوں جو میں اسے ملنے
اس کی مجھ پر نظر پڑی ہے ابھی
دل ہے بے تاب اُس سے ملنے کو
ایک وارفتگی بچی ہے ابھی

0
11
ایسا دیکھا نہ کبھی عشق کا اظہار ہوا
چارہ گر دیکھنے آیا تو وہ بیمار ہوا
رات کے پچھلے پہر چاند نکل آیا جب
مضمحل تاروں کو پھر ہجر کا آزار ہوا
حسرتِ دید لیے جاں سے گئے برسوں لوگ
تب کہیں جا کے مسیحا کا ہے دیدار ہوا

0
16
سجدہ ہائے آخرِ شب ، اشک مژگاں پر رواں
حالِ دل لب پر ہو جاری ، سینے میں آتش فشاں
محوِ خوابِ حُسنِ جاناں ہو کے جانا اس قدر
ہیں تلاطم خیز جذبے ایک بحرِ بیکراں
آدمیّ گر، انس رکھے گا خدا اور خلق سے
تب کہیں انسان کہلانے کے قابل ہو میاں

0
11
اوس بھی اتری ، اشکوں کے سنگ آدھی رات کے بعد
دیکھے ہم نے الفت کے رنگ آدھی رات کے بعد
نیند نہ آئے جب تک اس کی یادیں ساتھ رہیں
سپنوں میں وہ کرتا ہے تنگ آدھی رات کے بعد
چھوڑنے کب دے نیند کو بستر ، کھینچے یار کی چاہ
جذبوں کی چھڑ جاتی ہے جنگ آدھی رات کے بعد

0
16
جیون ہے سانسوں کی ڈور پہ اڑتی جاتی ایک پتنگ
کیسے دیکھ فضا میں کٹ کر ہے لہراتی ایک پتنگ
کسی کسی کی ڈوری دور سمے تک اونچی اُڑتی جائے
گرے کسی کی کٹ کر اڑتے ہی بل کھاتی ایک پتنگ
کہے یہ اس سے میں بھی تُجھ پر جان نچھاور کر دوں گا
کوئی شمع جب دیکھے روشن روشن آتی ایک پتنگ

0
15
تمہیں کب کسی نے کہا تھا یہ مرے گھر میں تارے اتار دو
جو کہا فقط تو یہی کہا مرے قرض سارے اتار دو
مری روح تو لئے درد ہے مرے دل میں سوزشِ کرب ہے
وہ سکون پائیں گے سب ادھر یہاں غم کے مارے اتار دو
مرے جانتے ہیں یہ مہرباں نہیں اب رہا کوئی گلستاں
نہیں پھول کوئی بچے اگر مجھے کانٹے سارے اتار دو

0
13
سارا عالم دُہائی دیتا ہے
کون کس کو خدائی دیتا ہے
ذرَّہ ذرّہ گواہ تیرا ہے
دعوتِ رونمائی دیتا ہے
عشق بیٹھا تماش بیں کیوں ہے
حسن ہر سُو دکھائی دیتا ہے

0
4
33
خود کو آزاد کر رہا ہوں اب
دل کو آباد کر رہا ہوں اب
صید کو میں نے کر دیا آزاد
قید صیّاد کر رہا ہوں اب
غور کر لیں تو کچھ سمجھ آئے
یہ جو ارشاد کر رہا ہوں اب

0
8
الفاظ میں جادو ہے معانی میں نہیں ہے
سو اُس کی طلب میری کہانی میں نہیں ہے
وہ پیاس بجھاتا ہے ڈبوتا نہیں تم کو
گہرائی تو دریا میں ہے پانی میں نہیں ہے
ہر کوئی بڑھاپے میں تو ہو زاہد و عابد
کیا توبہ اگرعہدِجوانی میں نہیں ہے

0
18
اُس سے ہو جائے ملاقات یہ وعدہ بھی نہیں
اُس کی رحمت سے تو مایوس زیادہ بھی نہیں
سر میں سودا جو سمایا ہے اسے ملنے کا
چل پڑا ہوں مرا رُکنے کا ارادہ بھی نہیں
میرے دامن پہ اگرچہ ہیں ہزاروں دھبّے
روکنے والا مجھے میرا لبادہ بھی نہیں

0
22
ہم جو تھوڑا سا کہیں شکوہ شکایت کر لیں
آپ بھی ہم پہ ذرا نظرِ عنایت کر لیں
آپ سے یوں تو ملاقات بڑی مشکِل ہے
کیوں نہ اب آپ کے ہی شہر میں ہجرت کر لیں
گر نہیں تُجھ سے ملاقات کے قابل یارب
ہم تجھے سجدہ ہی کرنے پہ قناعت کر لیں

0
18
اے مرے پاک وطن میرے وطن پیارے وطن
تُجھ پہ قربان مری جان مرے تن من دھَن
تیری خوشبو سے مہکتا ہے مرے دل کا چمن
تیرے نظّارے وہ دریا وہ ترے کوہ و دمن
تیرے صحراؤں میں سونا بھی بنا ہے کندن
لعل و گوہر تری مٹی سے جو نکلے روشن

0
22
یوں تو ہے آبگینہ، عورت ہے اک خزینہ
ہم کو ملا زمیں پر یہ قیمتی نگینہ
آتی ہے گھر میں جب یہ ہوتی ہیں رونقیں یوں
اتری پری ہو کوئی یا حور سی حسینہ
ہوتی ہے لاڈلی یہ ماں باپ کی تو ایسی
جیسے کہ مل گیا ہو قارون کا دفینہ

0
32
گنبد کو توڑ دو گے مینار توڑ دو گے
تم مسجدیں بھی شاید دو چار توڑ دو گے
آخر کو کیا ملے گا کلمہ تمہیں مٹا کے
حق کا جو ہو رہا تھا اظہار توڑ دو گے
ایمان سے منوّر توڑو گے دل یہ کیسے
ان پر رقم خدا کا کیا پیار توڑ دو گے

0
18
پھر سے جاہل کوئی کرسی پہ بٹھا دیں نہ کہیں
پھر سے منصور کو سُولی پہ چڑھا دیں نہ کہیں
وہ جو ہے نقش تِرا چہرہ مری یادوں میں
میرے بدلے ہوئے حالات چھپا دیں نہ کہیں
بیٹھ کر ریت پہ ساحل کی، تِرا نام لکھوں
پھر میں لہروں سے لڑوں ، اُس کو مِٹا دیں نہ کہیں

1
36
لوٹ کر اپنے گھر جو آنے لگے
دل کو اچھے کئی بہانے لگے
کھو گئے ہم کہیں پہ رستے میں
ڈھونڈنے میں کئی زمانے لگے
جو ملے دوست وہ پرانے تھے
ہم کو وہ دوست ہی خزانے لگے

3
152
دم بدم ہم قدم، ہم قدم دم بدم
سارے مل کر چلیں ہم قدم دم بدم
ساتھ تیرے چلیں سانس کے زیر و بم
دم بدم ہم قدم، ہم قدم دم بدم
تُو نے پہنا خلافت کا جب پیرہن
تُجھ سے بیعت ہوئے ہیں سبھی مرد و زن

1
49
رفاقت تُجھ سے ہوتی جا رہی ہے
کہ اُلفت تُجھ سے ہوتی جا رہی ہے
خلافت کا جو پہنا تاج سر پر
ارادت تُجھ سے ہوتی جا رہی ہے
ترے اخلاق کا ہے یہ کرشمہ
کرامت تُجھ سے ہوتی جا رہی ہے

0
4
67
اب امانت میں خیانت نہیں کی جا سکتی
ہو فراست تو حماقت نہیں کی جا سکتی
مجھ کو بھیجا ہے یہاں کوئی تو مقصد ہو گا
زندگی یوں تو ودیعت نہیں کی جا سکتی
ہر کوئی اپنے عمل کا ہے اگر ذمہّ دار
بن تعلّق تو شفاعت نہیں کی جا سکتی

0
17
شرافت ہچکچائے جن سے یہ وہ پیر لگتے ہیں
تو ان کے معتقد کیوں صاحبِ توقیر لگتے ہیں
سنا تھا ذکر جن لوٹوں کا اب بھی ہیں سیاست میں
کبھی چمچے جو کہلاتے تھے اب کفگیر لگتے ہیں
مرے کچھ مہرباں نالاں ہیں اتنے ڈاکٹر سے اب
حکیموں کے سبھی نسخے انہیں اکسیر لگتے ہیں

0
19
دل کی تنہائی کہیں مار نہ ڈالے مجھ کو
یہ تمنّا ہے کہ تُو اپنا بنا لے مجھ کو
ٹوٹ کر جب میں بکھر جاؤں کبھی وقت کے ساتھ
تیری یادوں کا کوئی لمحہ بچا لے مجھ کو
پھول سے مجھ کو بھلا شکوہ کوئی کیسے ہو
رنگ بدلے تو وہ خوشبو میں بسا لے مجھ کو

16
ہم ترے شہر میں اس طور گزارا کرتے
یاد کر کر کے ، تجھے روز پکارا کرتے
تیری خاطر ہی اتر آئے تھے میدان میں ہم
ورنہ ہر گام پہ ہم ، دنیا سے ہارا کرتے
وقت مشکل تھا ملاقات کا ساماں نہ ہوا
کیسے ممکن تھا کہ ہم تم سے کنارا کرتے

0
20
جو تم نے چاہا کبھی ویسے ڈھل نہ پائے ہم
کبھی بھی خواہشِ دُنیا کچل نہ پائے ہم
کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی ہم نے
کہ اپنی ذات سے باہَر نکل نہ پائے ہم
سبق لیا نہ کبھی کائنات سے ہم نے
نظامِ گردشِ دوراں پہ چل نہ پائے ہم

2
33
روشن ہیں آسمان پہ جیسے مہ و نجوم
بِکھرے ہوئے ہیں چار سُو عشّاق کے ہجوم
ہے برکتوں سے پُر جو مسیحا کا ہے نزول
خوشبو اسی کی پھیلتی جاتی ہے بالعموم
جس نے اُٹھایا بوجھ یہ قربانیوں کا خود
اُس کو خُدا نے خود کہا جہول اور ظلوم

0
23
ہے کوئی ربط باہم لکھا ہے
اور بھی ایک عالَم لکھا ہے
مجھ کو خوشیاں ودیعت ہوئی ہیں
تیری قسمت میں ماتم لکھا ہے
ہے خدا کا ہی وہ اسمِ ذاتی
گر کہیں اسمِ اعظم لکھا ہے

0
15
حشر کا سوچا تو ایسے مضطرب ہونے لگے
ہم تو اپنے آپ ہی سے مجتنب ہونے لگے
احتساب اپنا وہ خود لیتا فرشتے بھی مگر
بیٹھ کر کندھوں پہ اپنے محتسب ہونے لگے
انتخاب اس کا اگر بندے کریں تو کیا ہوا
اذنِ ربّ سے جب خلیفہ منتخب ہونے لگے

0
15
سحر ہماری بھی ہر روز شام ہوتی رہی
یہ زیست گر چہ تمہارے ہی نام ہوتی رہی
رموزِ عشق سمجھنے کا حوصلہ نہ ہوا
جنوں سے گرچہ خرد ہمکلام ہوتی رہی
مسیحا آ گیا ایفائے عہد کرنے کو
اسی کے حکم سے تیغ اب نیام ہوتی رہی

1
38
پردے میں رہ کے بھی عیاں حسن و جمال کر دیا
ہر شے بنا کے آئنہ اس نے کمال کر دیا
میں تو گیا تھا مانگنے دید کی اک جھلک مگر
وعدۂ وصل سے مجھے اس نے نہال کر دیا
اس کے بغیر زندگی گزری جو بے مزہ تھی وہ
پایا اسے تو بھولنا دل نے محال کر دیا

0
31
دیکھا ہے وہ چہرہ کبھی جی بھر نہیں دیکھا
نظریں جو ملیں ، نظریں اُٹھا کر نہیں دیکھا
اک حسن کے جلوے کا تصور تو ہے قائم
آنکھوں نے اسے نور سے باہَر نہیں دیکھا
اُس شمعِ فروزاں پہ فدا ہم جو ہوئے ہیں
اُس لعل سا روشن کوئی گوہر نہیں دیکھا

0
19
یہ نظارے مصور کی بنی تصویر لگتے ہیں
کتابِ زندگانی کی لکھی تفسیر لگتے ہیں
یہ غزلیں گیت نغمے جو کہ بکھرے ہیں فضاؤں میں
سراپا حُسنِ کامل کی مجھے تحریر لگتے ہیں
چمن میں غنچہ و گل ، رنگ و بُو پھیلے ہیں جتنے بھی
مرے محبوب کے رنگوں کی ہی تشہیر لگتے ہیں

4
236
ہم نے آئین کی جو پار کی حد
تم لگاؤ گے اختیار کی حد
آزمائش کو آگئے ہو پھر
تم نے دیکھی نہیں ہے پیار کی حد
جان لے لو گے اس سے آگے کیا
ہو گی کوئی تمہاری مار کی حد

0
22
جب سے اپنے آپ سے ہم مجتنب ہونے لگے
اپنے ہونے پر بھی ہم ہیں مضطرب ہونے لگے
احتساب اپنا وہ خود کرتا فرشتے بھی مگر
بیٹھ کر کندھوں پہ اپنے محتسب ہونے لگے

1
24
تم ہم سے شکایت کرتے ہو کس نے یہ کہا خاموش رہو
ہم بولے جب تو دھیرے سے یہ کہہ بھی دیا خاموش رہو
منہ کھولو جب تو تم ساری سچی باتیں ہی کرتے ہو
سچ کہنے سے کٹتا ہے گَلا پھر کیا ہے گِلہ خاموش رہو
سقراط کے قدموں پر چل کر تم زہر کا پیالہ پی جاؤ
ہے باقی کیا کہنے کو بچا اچھا یا برا خاموش رہو

0
1
39
خیر تُو یونہی دان چاہتا ہے
اور اونچی اڑان چاہتا ہے
رات بھر جاگتا ہے تیرے لئے
وہ جو تیری امان چاہتا ہے

0
24
دابّة الأرض نے اک حشر بپا رکھا ہے
جابجا شور قیامت کا مچا رکھا ہے
شہر کے شہر نے دستانے پہن رکھے ہیں
سب نے چہروں کو نقابوں سے چھپا رکھا ہے

0
35
مسکراہٹ بانٹنے تم آؤ نا
آ کے محفل میں کبھی تم جاؤ نا
یاد کے گہرے سمندر میں کبھی
تم اتر جاؤ تو واپس آؤ نا
اک طلسماتی محل میں بیٹھ کر
گیت مدھم سُر میں کوئی گاؤ نا

0
28
اب تو اپنوں سے بھی ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے
زندگی جیسے کٹھن کوئی سفر لگتا ہے
ہم نے دشواریٔ حالات کو دیکھا ہے مگر
آج انجانا ہمیں اپنا ہی گھر لگتا ہے
ہم کو دشمن نے ہمیشہ ہی غلط سمجھا ہے
اس کو ہر بات میں سازش کا اثر لگتا ہے

0
1
31
کہاں جنوں پہ خرد کا کچھ اختیار چلے
مگر سیانے وہی تھے جو دل کو وار چلے
پڑی ہے جب سے نظر اک حسین کی ہم پر
نگاہِ چشمِ ِفسوں ساز کا خُمار چلے
خبر ملی ہے انہیں بھی ہمارے ملنے کی
رقیب ، کوچۂ یاراں سے ، دل فِگار چلے

0
14
91
گھر میں کیوں شور ہے ، شہروں میں ہوا سنّاٹا
دل کی دھڑکن نے مری توڑ دیا سنّاٹا
شہر کے دشت میں تھا ، صبح و مسا ہنگامہ
اس پہ تنہائی کےصحرا میں ملا سنّاٹا
وقت کی جھیل پہ ، اس نے ہی مرا ساتھ دیا
جب مری یادوں کی ناؤ میں چلا سنّاٹا

1
53
وہ جو مجرم تھے کہاں موردِ الزام ہوئے
ہم ترے کوچے میں آ کر یونہی بدنام ہوئے
پھینک کر تیر نگاہوں کا تو صیّاد گئے
ہم جگر سوختہ بسمل یوں لبِ بام ہوئے
نور کو تیرگی کب تک نہ اترنے دے گی
روز آ جاتی ہے گھر پر جو مرے شام ہوئے

0
26
اک اور عاشقِ مولا ہے جا ملا اُس سے
وہ اُس سے راضی تھا راضی رہے خُدا اس سے
مبارک اس کا تھا نام احمد اور طاہر بھی
کہ انجمن لیا کرتی تھی مشورہ اس سے
خدا نے وقف کی توفیق دی جوانی میں
کیا تھا عہد تو کی عمر بھر وفا اس سے

0
23
مجھ کو لگا وہ شخص بڑا معتبر سا تھا
وہ آگے چل رہا تھا مگر ہمسفر سا تھا
صدیوں کے بعد پیدا ہوا جب تو چار سُو
ہر کوئی انتظار میں تھا باخبر سا تھا
علم و ہنر کی بام پہ کرتا تھا گفتگو
وہ راہبر تھا گرچہ وسیع النظر سا تھا

0
21
کتنے ہی خواب اپنے سہانے دبا دئے
یادوں میں رہ گئے جو فسانے دبا دئے
آئے تو تھے زمیں سے خزانے نکالنے
ہم نے زمیں میں کتنے خزانے دبا دئے
ماحول خوشگوار میسّر رہا مگر
ہم نے ہی دل فریب ترانے دبا دئے

0
3
31
نہ ہم سے پوچھا کسی نے ، نہ کچھ حساب ہوا
کسی کے پیچھے چلے یوں نہ احتساب ہوا
تمہیں نکال کے لائے تھے جو خرابوں سے
عتاب ان پہ ہوا اور وہ شتاب ہوا
دل و دماغ میں یہ جنگ اب بھی جاری ہے
کہ خیر و شر میں بھلا ، کس کا انتخاب ہوا

0
17
بچپن سے ہی سبق ہمیں ایسے پڑھا دئے
جینے کے زندگی نے سلیقے سکھا دئے
قوسِ قُزَح کو دیکھ کے حیران ہم ہوئے
قدرت نے اس میں رنگ جو بھر کے دکھا دئے
دیکھا ہے برف باری نے ڈھانپے سبھی بدن
سب کو سفید رنگ کے کپڑے دلا دئے

1
23
وحشت تری آنکھوں سے نکل جائے تو اچھا
حسرت جو مسرّت میں بدل جائے تو اچھا
مہمانوں سے ہوتی تھی ترے گھر میں جو رونق
اب یاد سے اس کی تُو بہل جائے تو اچھا
خود بینی کا سامان ، شکستہ ہوئے دیکھا
گر دل کا بھی آئینہ بدل جائے تو اچھا

0
17
ذکر کل محفل میں چل نکلا مرے دلدار کا
مل گیا موقع مجھے بھی پیار کے اظہار کا
حسن کا نقشہ جو کھینچا لکھ دئے سارے حروف
جن سے بن جائے گا مجموعہ مرے اشعار کا
اپنی آنکھیں دیکھ کر شرما گئی چشمِ غزال
حسن جب اس کو نظر آیا ہے چشمِ یار کا

0
71
مدّتوں کے بعد پھر سے چین آیا ہے مجھے
اس نے ملنے کیلئے خود گھر بلایا ہے مجھے
دل کے دروازے پہ دستک دینے والا کون ہے
رات کے پچھلے پہر کس نے جگایا ہے مجھے
میں تو کاروبار اہلِ دل سے کچھ واقف نہ تھا
آشنائے دردِ دل کس نے کرایا ہے مجھے

0
15
زندگی ہم نے گزاری ہے انہی لوگوں میں
سلسلہ پیار کا جاری ہے انہی لوگوں میں
ہیں محبّت میں گرفتار اسی محسن کے
کوئی تو بات ہماری ہے انہی لوگوں میں
اُس کی سچائی کو قرآن نے جو پیش کیا
سب ثبوتوں پہ وہ بھاری ہے انہی لوگوں میں

0
12
شکر اس محسن خدا کا روز و شب شام و سحر
جس کے احسانوں کے نیچے ہم ہیں سارے سر بسر
اس نے پیدائش سے پہلے بخش دی ہر چیز وہ
جس کی پڑ سکتی ضرورت تھی بہ حیثیت بشر
پرورش کرنے کو جو موجود تھے ماں باپ یاں
ان کے دل میں ڈال دی الفت رہے ہم جن کے گھر

0
18
پانی ہو معرفت کا میسّر اگر رواں
پا جائیں اس کے پینے سے اک دوسرا جہاں
اس سے کریں وضو تو ہو لذّت نماز میں
عرفاں کے پانیوں میں رہیں رات دن یہاں
روحانی مائدہ کے یہ اترے ہیں طشت جو
نازل ہوئے ہیں اُس پہ جو ہے مہدئ زماں

4
53
آتے آتے اس کو ہم پر اعتبار آ ہی گیا
وقت جس کا کر رہا تھا انتظار آ ہی گیا
عمر اک ہم نے گزاری خواب اس کے دیکھتے
آنکھ جب آخر کھلی موسم بہار آ ہی گیا
ہم محبّت میں خوشی سے سب ستم سہتے رہے
دیکھ کر آخر وفا اس کو بھی پیار آ ہی گیا

0
16
شکر کرنے کے لئے اپنے خدا کا بار بار
چاہئے کرنا کبھی کچھ اُس کے فضلوں کا شمار
کون ہوتا ہے تری محفل میں آ آ کے شریک
پڑ رہی ہے کس کی رحمت کی ترے گھر پر پھوار
کون ہے جس نے تجھے بچپن سے رکھا ہے عزیز
کس کے دم سے ہر خزاں کے بعد آئی ہے بہار

1
20
غمِ ہجراں میں جو اک شہر کو آباد کیا
ہم کو اچھا وہ لگا جس نے ہمیں یاد کیا
کچھ تو انجانے میں سرزد ہوئے ایسے بھی عمل
جن کی یادوں نے ہمیں آج بھی ناشاد کیا
کس سلیقے سے بھری آہ جو دیکھا اُس نے
سامنے اس کے جو ہم نے دلِ برباد کیا

1
58
ہم محبّت کے طلب گار کہے جاتے ہیں
وہ ہمیں کاہے کو اغیار کہے جاتے ہیں
ہم کو کب یارا ہے جلوے کا ، پسِ پردہ ہی
گفتگو ہو ، اسے دیدار کہے جاتے ہیں
ہے جنوں خیز خرَد تجربہ کر کے دیکھا
ہیں الگ اپنے جو افکار کہے جاتے ہیں

1
25
خواہشِ نفس کے شعلوں کو دبا رکھا ہے
آتشِ عشق کو ہم نے بھی جلا رکھا ہے
شہر کے شہر نے دستانے پہن رکھے ہیں
ڈر سے قاتل کے ،نقاب اپنا چڑھا رکھا ہے
آبِ زمزم سے جو کعبے کی صفائی کی ہے
اُس نے مہمانوں کے آنے کا بتا رکھا ہے

1
41
میکدے میں کبھی ساقی نے اگر چھوڑ دیا
ہم نے کب نشّے میں محبوب کا در چھوڑ دیا
ذکرِ دُشنام دہی سُن کے جو رونا آیا
اشک پلکوں میں پرونے کا ہنر چھوڑ دیا
راحتِ وصل کی عادت نہیں ڈالی خود کو
قیس نے ہجر میں تنہائی کا ڈر چھوڑ دیا

1
25
تیار ہو کے گھر سے جو آتے تو خوب تھا
خوشبو جو بن سنور کے لگاتے تو خوب تھا
ہوتی چمن سے معرفت کے آشنائی جب
تم صبح و شام سیر کو آتے تو خوب تھا
لکھتے محبّتوں کے پیام اس کے نام سب
گیت اس کے پیار میں سبھی گاتے تو خوب تھا

0
2
92
نظریں پھسل نہ جائیں ہو عاقِل کی احتیاط
کرتا ہے شیخ گرچہ مسائل کی احتیاط
میرے طریق پر چلیں گے جانے کتنے لوگ
کرنا ہے مجھ کو اپنے شمائل کی احتیاط
ہیں اس قدر کٹھن یہ عمل امتحان کے
کر پائے کون ایسے عوامل کی احتیاط

1
32
نقیبِ شہر نے چرچا کیا ہے گلیوں میں
ہے آیا حکم کہ منصور کو سزا دیں گے
چلی ہے رسم جو حق بات صاف کہنے کی
وہ ایسی رسم کو بنیاد سے مٹا دیں گے
بپھر گیا ہے سمندر تو اب وہ موجوں کو
ہماری سمت میں چلنے کی خود ہوا دیں گے

0
25
جو محبّت کا لئے آیا پیام اس کو سلام
جس کو کرتے ہیں فرشتے بھی سلام اس کو سلام
جس کے آنے سے مہک پھیلی ہوئی ہے چار سُو
جس سے گلشن میں ہوئی رونق تمام اس کو سلام
اس زمانے میں محمد کا نما ئندہ ہے جو
ہے مسیحا اور مہدی جس کا نام اس کو سلام

0
18
مانگتے ہیں اس کے در سے ہم سبھی کی خیر کو
جب کبھی جلتے ہوئے دیکھیں حسد سے غیر کو
دل کے دروازے پہ دستک دے کے سب اس کے خیال
پوچھتے کب ہیں ، کہ آ جائیں ذرا ہم سیر کو
پڑھ کے پیمانِ حرم کے سب تقاضے کہہ دیا
الوداع کہنے صنم کو ، جا رہے ہیں دَیر کو

0
28
وہ مسیحا بھی ہے مہدی بھی نبی ہوتے ہوئے
دی فرشتوں نے خبر اس کو وحی ہوتے ہوئے
حق کا پیغام ہَوا جب بھی کہیں لائی ہے
قدغنیں بنتی ہیں دیواریں کھڑی ہوتے ہوئے
نا خدا ہوتے ہوئے خود ہی کنارہ جو کرے
وہ تو نابینا رہا آنکھیں کھلی ہوتے ہوئے

0
18
ہے بصارت تو کہیں چشمِ بصیرت ہی نہیں
اشک بہتے ہیں مگر دل میں وہ رقّت ہی نہیں
سارے سامانِ مدارات میسّر ہوں ہمیں
تُو نہ ہو ساتھ تو ایسی کوئی چاہت ہی نہیں
آئنہ صاف ہو دل کا ، تو نظر آتا ہے
وہ تِرا چہرہ کہ ویسی کوئی صورت ہی نہیں

0
22
تم نے یہ دین کہاں سے یہ دھرم سیکھا ہے
نفرتیں دل میں بڑھانے کا کرم سیکھا ہے
جاں بہ لب لوگ بھی مایوس نہیں اس سے ہوئے
اس مسیحا نے مرے موت کا دم سیکھا ہے
ہم نے ہر دور میں دیکھا ہے محبّت کا اثر
آگے بڑھتا ہے جو نیکی کا قدم سیکھا ہے

0
16
زمین نکلے کبھی تو مدار سے باہر
حدود اس کی اگر ہیں، حصار سے باہر
ستارہ ٹوٹتا دیکھا تو ہو گا تم نے بھی
پلک جھپکتے میں گرتا شرار سے باہر
ہمیں تو ہجر نے ترسا دیا محبّت میں
ہیں اور لذّتیں کیا وصلِ یار سے باہر

0
23
دل کہاں اس سے آشنا ہوگا
زخم کوئی نیا ملا ہو گا
دوسروں سے ، الگ سے لگتے ہو
مضطرب دل کہیں ہوا ہو گا
تم جو تنہائیوں میں رہتے ہو
روگ کوئی لگا لیا ہوگا

0
26
ذکر چھیڑا ہے ایک مہ رُخ کا
ایسی ہمت بھلا کہاں مُجھ کو
اِک حسیں تذکرہ محبت کا
تیرے جلووں نے دی زباں مُجھ کو
اس قدر رات کا اندھیرا تھا
چشمِ بینا ملی وہاں مُجھ کو

1
32
تم جو تنہائیوں میں رہتے ہو
دوسروں سے الگ سے لگتے ہو
تم نے بھی عشق ہی کیا ہو گا
یہ جو تم ایسے آہ بھرتے ہو
پیرہن تم نے بھی سیا ہو گا
تم جو دامن بچا کے چلتے ہو

0
39
آج دلبر نے سُنا ہے کہ یہ ارشاد کیا
آپ نے وقت کو یوں ہی نہیں برباد کیا
پہلے اپنوں کو بھی فرصت نہ ملی ملنے کی
اب تو گھر بیٹھ کے غیروں نے ہمیں یاد کیا
اس کے ہر ایک محلّے میں تمہارا گھر تھا
شہر اک ہم نے تصوّر میں جو آباد کیا

0
42
خوب روؤں نے بھی خود آکے پذیرائی کی
ہم نے تھوڑی سی جو بس قافیہ پیمائی کی
آنکھوں آنکھوں میں ہوا درد ہمارا اس کا
اس نے کچھ ایسی نظر سے ہے مسیحائی کی
اجنبی تھا وہ مری اس پہ نگاہیں جو پڑیں
اس نے خاموش نگاہوں سے شناسائی کی

0
24
وہ کیسے کیسے لوگ تھے کیا کیا نہ کر گئے
وہ تو ہمارے پیش رو تھے ہم کدھر گئے
جن کے سبب تھیں رونقیں، آباد محفلیں
ہم ڈھونڈتے ہیں اب کہاں وہ ہم سفر گئے
چلتا رہا ہے ساتھ ہمارے ہی قافلہ
کتنے ہی لوگ راہ میں چلتے ٹھہر گئے

0
24
جنوں کو چھوڑو ،خرد کا نہ اعتبار کرو
خدا نے رکھّا جبلّت میں ہے کہ پیار کرو
ہمیں شکایتِ دنیا سے کچھ نہیں مطلب
تمہیں گِلہ ہے اگر ہم سے بار بار کرو
ہماری گفتگو گزری اگر گراں تم کو
اِدھر نگاہ اُٹھا کر ، نظر تو چار کرو

0
35
ہے شکر اس کا جو ہم نے دیکھی عنایتوں کی کمال بارش
سمجھ رہے تھے کہ پھر زمیں پر فلک کی ٹپکی ہے رال بارش
تری اداؤں پہ مر مٹے ہیں تو کیوں نہ دل تیرے نام کر دیں
ہے تیرے احساں کے بادَلوں کی یہ تیرا حسن و جمال بارش
محبّتوں کی کہانیوں میں یہی ہوا ہے یہ اب بھی ہو گا
کہ شوق سے بھیگتے ہیں اس میں جنہیں ہے ملنا محال بارش

0
9
دل میں ارمانوں کے طوفان نہاں رکھتا ہے
عشق اس کا مرے جذبوں کو جواں رکھتا ہے
میں تو حیران سا بس اس کو سنا کرتا ہوں
اس کا ہر لفظ محبت کا بیاں رکھتا ہے
اس کی باتوں کو سنوں، آنکھ سے صورت دیکھوں
باعثِ لطف و کرم ، چہرہ عیاں رکھتا ہے

1
29
اب تو ڈھونڈے سے بھی ،استاد ،جو ڈانٹے ، نہ ملے
کوئی ایسا ، جو کبھی درد کو بانٹے ،نہ ملے
زندگی میں تو کبھی ، یاد نہیں ، ایسا ہوا
ڈھونڈنے نکلا کوئی پھول ، تو کانٹے نہ ملے
زندگی گزری ہے ، تنہائی کے آزاروں میں
گو ملے ، جو نہ کسی بات پہ ڈانٹے ،نہ ملے

0
18
ہم سے کیوں تم نے یہ برتاؤ روا رکھا ہے
ہم نے کب تم کو کبھی اپنا خدا رکھا ہے
چاند سورج نے تو ملکر بھی گواہی دی ہے
ہم نے خود سے تو نہیں مہدی بنا رکھا ہے
یہ زمیں نے بھی پکارا ہے صدا دے دے کر
آگیا ہے وہ فلک پر جو بٹھا رکھا ہے

0
16
ہمارے ساتھ جو چلنا ہے چل سکو تو چلو
گِرائے کوئی جو اُٹھ کر سنبھل سکو تو چلو
زمانہ سوچ کے انداز کب بدلتا ہے
تم اپنی سوچ کا دھارا بدل سکو تو چلو
تمہیں تما شۂ دنیا سے ہی نہیں فرصت
جو اس سے جان بچا کر نکل سکو تو چلو

14
نور سے آشنا نہیں ہوتا
جب تلک دل دیا نہیں ہوتا
اس پہ بیتی نہیں جو کہتا ہے
عشق صبر آزما نہیں ہوتا
اب کے کیسی بہار آئی ہے
زخم کوئی ہرا نہیں ہوتا

0
28
حُسنِ بے داغ کا جلوہ جو نظر آ جائے
واعظِ خشک کے لفظوں میں اثر آ جائے
رونقِ بزم تو ہوتی ہے سدا شمع کے ساتھ
وہ نہ ہو پھر کہاں پروانہ نظر آ جائے
کُشتہٕ شوق ہوئے ہم بھی انہی آنکھوں کے
دیکھ کرجن کو کوئی بھی ہو ادھر آ جائے

0
25
ہمارے ساتھ جو چلنا ہے چل سکو تو چلو
گِرائے کوئی جو اُٹھ کر سنبھل سکو تو چلو
زمانہ سوچ کے انداز کب بدلتا ہے؟
تم اپنی سوچ کا دھارا بدل سکو تو چلو
تمہیں تما شۂ دنیا سے ہی نہیں فرصت
جو اس سے جان بچا کر نکل سکو تو چلو

1
17
کہاں کہاں پہ وفا کا نگر تلاش کیا
ارے یہ راز تو صحرا نے ہم پہ فاش کیا
وفا کا تھا یہ صلہ ، عرش تک صدا پہنچی
زمیں نے قدموں میں پیاسے کے دل خراش کیا
دکھایا راستہ اس نے جو اپنی قربت کا
وہیں کے ہو گئے اس رہ کو بودو باش کیا

7
165
یہ صحرا میں تو کتراتے ہیں بود و باش سے بادل
یہ صحرا میں تو کتراتے ہیں بود و باش سے بادَل
اُتر آتے ہیں دھرتی پر کہیں آ کاش سے بادَل
یہ ساون کے مہینے بھی رہے اس سال سُوکھے سے
اگرچہ آئے تھے دو چار دن قلّاش سے بادَل
ہمارے ہاں تو سورج سردیوں میں کم نکلتاہے

0
21
گو ہر قدم پہ زندگی میں امتحاں رہا
اتنا گلہ ہے مجھ سے کوئی بد گماں رہا
جتنی بھی اس کے ساتھ مری گفتگو ہوئی
پردہ کوئی شکوک کا ہی درمیاں رہا
نکلا تھا اپنے گھر سے تو وہ آگ ڈھونڈنے
رستے میں آگ کے بھی تو حائل دُھواں رہا

0
20
آگئے ہیں جو ہم سامنے ہیں کھڑے
ہاتھ میں ہے قلم سامنے ہیں کھڑے
ہم چلے بھی تھے آنکھوں کو پُر نم لئے
آگئے ہیں تو غم سامنے ہیں کھڑے
ہم نے اس کو پکارا ہے جب بھی کبھی
دیکھا کہ ایک دم ،سامنے ہیں کھڑے

0
19
رکھا گیا ہے کیوں ہمیں ایسی حدود میں
کیونکر ہے اس قدر بھلا انساں قیود میں
دے کر شعور اشرف المخلوق جو کہا
ابلیس کی کھٹکتے ہیں چشمِ حُسود میں
ہم پا گئے تجلّئ تنزیہہِ ذات جو
امکاں ہے دخل ہو گا ہمارا شہود میں

1
19
تری عظمتوں کی تو حد نہیں تری رحمتوں کا حساب کیا
کہاں آگہی کو تھا حوصلہ تری معرفت کی تھی تاب کیا
تری خامُشی میں قرار ہے تری گُفتگو میں خُمار ہے
ترے حُسن پر جو نظر پڑے تو عذاب کیا تو ثواب کیا
مری طاعتیں تو قبول تھیں مری جُر اَتیں بھی روا رہیں
ترے ساتھ قول و قرار تھا تو حساب کیا تو کتاب کیا

0
22
کچھ اشک تو ہوتے ہی چھپانے کے لئے ہیں
موتی ہیں جو سجدوں میں لُٹانے کے لئے ہیں
کچھ درد تو ہوتے ہیں مریضوں کے مسیحا
جو سانس کے رشتوں کو نبھانے کے لئے ہیں
طوفاں سے الجھ جائیں جو ٹکرائیں ہوا سے
کچھ لوگ یہاں دیپ جلانے کے لیے ہیں

0
26
لے گیا دل سرِ محفل تھا وہ رہزن جیسے
اس سے پہلے نہ ہوا اس کا تھا درشن جیسے
اس کی آہٹ کہیں نزدیک سنائی دی ہے
تیز ہوتی ہے مرے دل کی یہ دھڑکن جیسے
جب مجھے چلنا پڑا جلتے ہوئے رستوں پر
وہ دعا بن کے رہا دھوپ میں چلمن جیسے

0
35
دلِ رنجیدہ کو جام اور نشہ دیتا ہے
میکدے جائیں تو ساقی بھی پلا دیتا ہے
آتشِ عشق بھڑکتی ہے جو دیدار کے ساتھ
ہجر بھی عشق کی حدّت کو ہوا دیتا ہے
تلخ ایّامِ گذشتہ کا نہیں کوئی گِلہ
اب تو ہر روز کوئی دُکھ وہ نیا دیتا ہے

0
17
اظہارِ حسن باعثِ تخلیقِ کائنات
قلب و نظر ہیں محوِ ظہورِ تجلّیات
ہوش و خرد فقط تو کریں وصل کو محال
عشق و جنوں سے طے ہوں یہ سارے معاملات
پائے زمین و آسماں میں ایسے اتفاق
چشمِ فلک نے دیکھ لئے کتنے معجزات

0
1
29
الگ سے حسرتوں کا ہم حساب لکھیں گے
محبّتوں کی کبھی گر کتاب لکھیں گے
کتابِ زیست کے پہلے ورق پہ پیار کے ساتھ
ترے ہی نام کا ہم انتساب لکھیں گے
ہمارا حال تو لکھے بنا عیاں ہو گا
وہ دیکھ کر مجھے کیا کیا خطاب لکھیں گے

0
20
یہ سال ختم ہوا ہے خدا خدا کر کے
کریں گے اب تو نئی صُبح ہم دُعا کر کے
ہیں دورِ ابتلا آئے بھی اور گئے ہیں بہت
گزار ہم نے دئے ہیں سبھی وفا کر کے
یہ مانتے ہیں کہ ہم ہی قصور وار رہے
اسی کے سامنے جُھکتے ہیں ہم خطا کر کے

1
16
تم ہم کو کیا سمجھاتے ہو ،حالات کی نیت ٹھیک نہیں
ہم گزرے اس سے پہلے بھی ، اس رات کی نیت ٹھیک نہیں
جب مشعل روشن ہو شب بھر ، پروانے جان تو دیتے ہیں
کیوں جگنو بن کر راہ چلیں ، ظلمات کی نیت ٹھیک نہیں
ہم پھل کھانے تو آ جاتے ، ہم مالی کو سمجھا لیتے
پھل پکنے میں پر دیر لگی ، باغات کی نیّت ٹھیک نہیں

2
29
جب در پہ آگئے ترے تو جائیں گے کہاں
آنکھوں کا چین دل کا سکوں پائیں گے کہاں
آغوش میں ترے ہی تو پائی ہے پرورش
اب تُجھ سے دور ہم گئے تو جائیں گے کہاں
ہے ہر طرف جو آ رہی تعریف میں صدا
ہم اس سے بڑھ کے گیت کوئی گائیں گے کہاں

0
18
مجھ سے وہ بے حجاب پہلے نہ تھا
چہرہ یوں بے نقاب پہلے نہ تھا
یوں ہر آہٹ پہ دل تھا کب دھڑکا
دل میں یہ اضطراب پہلے نہ تھا
جھوم کر اب گھٹا جو اُٹھی ہے
آنکھ میں سیلِ آب پہلے نہ تھا

0
16
حیرانگی سے میں ہوا دو چار دو گھڑی
ہوتا ہے راستہ کبھی دشوار دو گھڑی
اس نے قلم کو رکھ دیا ہے اپنے ہاتھ سے
یہ ماننے کو میں نہ تھا تیّار دو گھڑی
اس واسطے رُکا تھا وہ تھوڑی سی دیر کو
سستا لیں راستے میں تھے اشجار، دو گھڑی

0
29
اُس ترے شہر میں جائیں بھی تو جائیں کیسے
راستے میں ہے بلا ، کرب چھپائیں کیسے
ان دنوں اور بھی چرچا ہے تری رنجش کا
تُو جو ناراض ہے اب تُجھ کو منائیں کیسے
ہم تو بے بس ہیں فقط یاد کئے جاتے ہیں
تیرے احسان ہیں اتنے کہ بھلائیں کیسے

0
12
پاتا ہے آدمی تو خزانے کوئی کوئی
اور دیکھتا ہے خواب سہانے کوئی کوئی
فطرت کھلی کتاب ہے جو چاہے دیکھ لے
رازِ درونِ خانہ تو جانے کوئی کوئی
غاروں میں رہ کے لوگ گزارہ کریں مگر
آتا ہے شہر کو تو بسانے کوئی کوئی

1
21
کوئی کفّارہ نہیں دیتا گناہوں سے نجات
کان سننے کے ہوں جس کے وہ سنے گا میری بات
زید کے ہو درد سر میں، بکر لے آنکھوں کو پھوڑ
درد سے پھر زید پا جائے بھلا کیسے نجات
ہاں اگر کفّارہ دے سکتا گناہوں سے نجات
پاک ہو جاتی نہ پھر ،یورپ کے لوگوں کی حیات؟

1
18
انہیں سر ڈھانپنے کا گر کہیں سر درد رکھتے ہیں
چھپا کر عیب اپنے ،خود کو وہ بے پرد رکھتے ہیں
حیا عورت کا زیور ہے پہن کر گھر سے نکلے جب
نگاہیں پھر جُھکا کر اپنی ، اکثر مرد رکھتے ہیں
سُنا کر حالِ دل اپنا ، چھپا کر درد رکھتے ہیں
وہ کترا کر گزرتے ہیں جو چہرہ زرد رکھتے ہیں

1
38
یاد تیری ، ہمیں مدّت ہوئی آتی بھی نہیں
آ بھی جائے تو وہ پہلا سا ستاتی بھی نہیں
فصلِ گل کاٹتے تم کو بھی زمانہ گزرا
وہ جو خوشبو سی ، چمن میں ہے وہ جاتی بھی نہیں
چاند آنگن میں نئے طور سے جو ابھرا ہے
کیوں نظر چاندنی اس کی تمہیں آتی بھی نہیں

0
30
ہم کیا کریں اگر خدا کا پیار چاہئے
لذّت نماز کی ہمیں ہر بار چاہئے
اُس کے حضور جانے سے پہلے وضو کریں
پاکیزگی کا اس طرح اظہار چاہئے
قُربِ خدا اسے ملے دھوئے جو اپنا دل
دھونے کو اس کے نور ہی کی دھار چاہئے

1
22
ہر اک سنگِ سیہ کعبے کے کونے میں نہیں آتا
ہو پتھر دل ، سیہ دامن تو ، دھونے میں نہیں آتا
اگر کوئی ملمّع ، دیکھنے میں بھی سنہرا ہو
چمک جانے سے بھی زیور ، وہ سونے میں نہیں آتا
زمانے میں بہت کچھ ہو گیا ہے ارتقا دیکھو
مگر جو چاہئے ہونا، وہ ہونے میں نہیں آتا

1
26
زندگی کا مدّعا پانے کے ہیں کیا کیا طریق
ہو عطا کیونکر لقا،وہ کیا وسائل ہیں دقیق
گر خدا تک ہو پہنچنا ، وہ اٹھانے ہیں قدم
جو کہ سورہ فاتحہ میں روز و شب پڑھتے ہیں ہم
سب سے پہلے تو ضروری ہے کہ یہ عرفان ہو
قادرِ مطلق ہمارا ہے خُدا ، ایمان ہو

19
ابتدا میں تو ہر اک انسان کو بھائے کبھی
اتّباعِ نفسِ امّارہ پہ آ جائے کبھی
پوری آزادی سے کر گزرے جو اُس کا چاہے دل
اِس سے بڑھ کر جینے کا مقصد نہ وہ پائے کبھی
پھر شعور اس کا ترقی جب کرے کچھ خُلق میں
نفسِ لوّامہ مدد کو اس کی آ جائے کبھی

0
27
میں تو لکھتا ہوں کبھی ،چاہے جو من ہے میرا
طفلِ مکتب ہوں یہ آغازِ سُخن ہے میرا
گھر کی دیواروں نے گاتے ہوئے سُن رکھا ہے
صوت و آہنگ سے اتنا سا لگن ہے میرا
میری بیماری میں پھولوں نے عیادت کی ہے
یوں تو خوشبو سے بھرا رہتا چمن ہے میرا

0
21
ابتدا کرتا ہوں لے کر نام اُس اللّٰہ کا
جس نے بِن مانگے دیا ہے رحم جس کا بے بہا
جو بھی ممکن ہو سبھی تعریف ہے اللّٰہ کی
جس سے بہتر ہو نہ ممکن وہ ثنا اللّٰہ کی
سب جہانوں کا ہمیشہ سے وہی پرور دگار
سب پہ بِن مانگے عطایا رحم اس کا بار بار

0
23
کامیابی پر وہ اِترائیں تو اِترائیں گے کیا
دل ہمارا جیت کر جائیں تو کر جائیں گے کیا
آنا چاہیں حضرتِ ناصح تو آ جائیں مگر
اس سے پہلے یہ تو سمجھائیں کہ سمجھائیں گے کیا
آپ دنیا میں کریں دل کھول کر جو دل کرے
روزِ محشر آپ بتلائیں تو بتلائیں گے کیا

0
25
نیند ہے یا موت معنی ہے توفّیٰ لفظ کا
جب کوئی مفعول ہو ذی روح، فاعل ہو خدا

0
29