Circle Image

ڈاکٹر طارق انور باجوہ

@TariqBajwa

وہ جو درد ہے وہ دوا بھی ہے
ترا ساتھ مجھ کو ملا بھی ہے
تُو مرے قریب تو میں بھی خوش
مرے ساتھ ربّ کی رضا بھی ہے
تری ہر ادا بڑی دلرُبا
کہ ہزار جان فدا بھی ہے

0
2
5۔6۔2023
نظم
خدایا تُو نے جو کچھ بھی دیا ہے
مجھے معلوم ہے ، تیری عطا ہے
مرا جب خود بنا تُو رہنُما ہے
دیا ہاتھوں میں پھر روشن دیا ہے

0
8
حسیں تصوّر جو تیرا آیا تو بے خودی میں ہنسا کروں گا
میں سوچتا ہوں کہ سامنے میں نے تجھ کو پایا تو کیا کروں گا
زمیں کی گردش یونہی چلے گی ، فلک پہ تارے رواں رہیں گے
جو چاند روشن ہوا کرے گا ، میں دل کا روشن دیا کروں گا
کوئی جو نزدیک تیرے آئے ، وہ دُور تُجھ سے کبھی نہ جائے
مری بھی خواہش یہی ہے اب تو ، قریب تیرے رہا کروں گا

0
6
کیوں نہ ہو ناز خدو خال پہ اپنے اس کو
اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے خدا نے اس کو
کاش میری بھی کبھی یاد اُسے آ جائے
نیند سے سپنے جگائیں جو سہانے اس کو
اُس پہ مر مٹنے کو تیّار ہوا تھا کوئی
آئے گا کون بھلا یاد دلانے اس کو

0
8
مطمئن دل ہوا سا لگتا ہے
اُس کا کچھ تذکرہ سا لگتا ہے
آئی اس کی گلی سے ہو کے صبا
گھر معطّر ہوا سا لگتا ہے
کیسی طاری غنودگی ہے یہ
خواب کا تجربہ سا لگتا ہے

0
6
آئے جو اُس کی بزم میں سرشار سے گئے
تیغِ نگاہِ یار کے اک وار سے گئے
ملنے کی پیاس ، مل کے اُسے اور بڑھ گئی
سمجھے تھے اب تو ، ہجر کے آزار سے گئے
دیکھا اسے تو دید کی خواہش سوا ہوئی
ہم اور ہو کے طالبِ دیدار سے گئے

0
5
ذکر جب اُس کا سنا دل مرا مسرور رہا
وہ تو جس کرسی پہ بیٹھا وہاں منصور رہا
ذکر الہام میں آیا تھا شریف احمد کا
بادشہ ، تخت پہ بیٹھا وہ بدستور رہا
وہ یہاں فرض نبھانے کے لئے آیا تھا
چاہتا کب تھا ، یہاں رہنے پہ مجبور رہا

0
8
ہر زمانے میں کوئی ہوتا ہے دانا ، اچھا
یہ ضروری بھی نہیں ہو وہ زمانہ اچھا
چونکہ گفتار سے بہتر ہے کہ دیدار بھی ہو
تم بھی مل آنا کوئی کر کے بہانا اچھا
دیکھ کر جن کو خدا سامنے آ جاتا ہے
حسن کے جلووں کا نظروں میں سمانا اچھا

0
5
فقط وہ شاہزادہ تو نہیں ہے
یہی اس کا افادہ تو نہیں ہے
سمجھ کر چل رہا ہے ساری چالیں
شہنشہ ہے ، پیادہ تو نہیں ہے
بدل لیتا ہوں ، رستہ جب یہ جانوں
کہ یہ دلبر کا جادہ تو نہیں ہے

0
7
دیارِ غیر میں ہے ، اُس کو چل کے دیکھتے ہیں
حسد سے کیوں اسے دشمن یوں جل کے دیکھتے ہیں
وہ آ کے بام پہ کرتا ہے اک اشارہ جب
تو لوگ معجزے گھر سے نکل کے دیکھتے ہیں
وہ آئے سامنے تو دیکھنے کی تاب نہ ہو
بھر آئے دل تو وہ پھر آنکھ مَل کے دیکھتے ہیں

0
4
دودھ سی چاندنی ، گلابوں میں
حسن چھلکا کرے ، حجابوں میں
وہ حقیقت میں کاش ڈھل جائے
جب بھی آئے وہ میرے خوابوں میں
اس کو سوچیں تو شعر ہو جائیں
شعر چَھپ جائیں پھر کتابوں میں

0
4
خلافت کی عظمت عیاں ہو رہی ہے
کہ شان اس کی ہر جا بیاں ہو رہی ہے
کہیں پر فدا اس پہ جاں ہو رہی ہے
کسی کے لئے امتحاں ہو رہی ہے
جہاں میں یہ توحید کی ہے منادی
خلافت خدا کی زباں ہو رہی ہے

0
4
آ کے یادوں میں ، حسیں ان کو بنا جاتے ہو
آؤ جب سامنے ، کچھ اور غضب ڈھاتے ہو
یاد جب تک نہ کرو چاہنے والے اپنے
تم کہاں سوتے ہو آرام کہاں پاتے ہو
سیکھ لیں امن سے رہنا یہ زمانے والے
ان کو خط لکھتے ہو ، جا جا کے بھی سمجھاتے ہو

0
4
چاند کو پھر سے روبرو دیکھا
نور پھیلا وہ ہو بہو دیکھا
اس کے پیچھے جو کی نماز ادا
دل کو پھر ہوتے با وضو دیکھا
وہ تبسّم بھرا حسیں چہرہ
کوئی ویسا نہ خوبرو دیکھا

0
6
انداز اُس کی دھڑکنوں کا دل میں آ گیا
کچھ اس طرح سے وہ مرے دل میں سما گیا
جانا ہے اس کے حُسنِ تلطّف کو جس قدر
میرے دل و دماغ پہ چہرہ وہ چھا گیا
تھکتی نہیں زبان مری اُس کے ذکر سے
کی جب بھی بات اُس کا ذکر لب پہ آ گیا

0
5
وصل کی آرزو لئے چہرے
گھر سے نکلے ، کھِلے کھِلے چہرے
نورِ عرفاں سے جو ہوئے روشن
ٹمٹمائے ، نہ پھر بجھے چہرے
گرم جذبوں نے ، سرد راتوں میں
زرد ان کے نہیں کئے چہرے

0
4
کچھ الگ سا ہے اس سے پیار مجھے
کوئی اس سا ملا نہ یار مجھے
وہ گیا جب تو پھر یقیںن ہوا
اس کی محفل کا تھا خُمار مجھے
کب ملاقات ہو گی پھر اس سے
اب تو رہتا ہے انتظار مجھے

0
8
اگر چلنا کسی کے نقشِ پا پر اک سعادت ہو
قبول اس کی سمجھ لو زندگی بھر کی ریاضت ہو
نہ دل اپنا رہے باقی نہ جاں کو کہہ سکے اپنا
غرض سارا بدن اپنا اسی کی پھر امانت ہو
کہاں عقل و خرد سے واسطہ رہتا ہے مجنوں کو
گریباں چاک پھرنا دشت میں اس کی علامت ہو

0
4
آج ہے دل میں جو ہَل چَل کبھی ایسی تو نہ تھی
خواہشِ دید یوں بے کَل کبھی ایسی تو نہ تھی
تھی جو چنگاری محبّت کی بھڑک اُتھی ہے
آگ جو دل میں گئی جل کبھی ایسی تو نہ تھی
ہجر میں بیتیں گے دن یہ کبھی سوچا ہی نہ تھا
جو بھی ساعت ہے کٹی کَل کبھی ایسی تو نہ تھی

0
5
جو تم نہیں تو ہزاروں میں جی نہیں لگتا
خزاں کی چھوڑو ، بہاروں میں جی نہیں لگتا
ہمیں کوئی نہ ملا آج تک جو کہتا ہو
ہمارا ان دنوں یاروں میں جی نہیں لگتا
یہ ہم جو ہجرتوں کے تجربے سے گزرے ہیں
نہیں یہ بات کہ پیاروں میں جی نہیں لگتا

0
6
مان ہم لیتے اسے تم جو ہدایت کرتے
ہم کسی بات کی تم سے نہ شکایت کرتے
تم کبھی چپکے سے آ جاتے چمن میں دل کے
ہم بیاں پھر گل و بلبل کی حکایت کرتے
ہم تو مشتاق رہے تم سے ہوں دل کی باتیں
تم ملاقات ہمیں اپنی عنایت کرتے

0
3
احسان ہیں یہ اس کے یا حسن و جمال ہے
یادوں کو اس کی ، دل سے بھلانا محال ہے
دل میں مرے سما گیا وہ شخص ہے جسے
مجھ سے بھی بڑھ کے ہر گھڑی میرا خیال ہے
میں ہاتھ اس کا تھام کے جو بھی قدم چلوں
گرنے کا خوف ہے نہ کوئی احتمال ہے

0
4
نِکہتِ گل سے مہک جائے گلستاں میرا
تم چلے آؤ تو ہو جشنِ بہاراں میرا
نور ہی نور اُتر آئے مرے آنگن میں
جگمگائے یوں ستاروں سے شبستاں میرا
تیرگی رات کی بھاگی ہے بڑی تیزی سے
جب فلک پر نظر آیا مہِ تاباں میرا

0
4
یہ آنکھیں شاد ہوتی ہیں یہ دل مسرور ہوتا ہے
نظر کے سامنے اک چہرۂ پُر نور ہوتا ہے
نگاہِ مستِ ساقی سے جو پی لیتا ہے محفل میں
محبّت کے نشے میں رات دن مخمور ہوتا ہے
خموشی مسکراہٹ بھی تو اک تاثیر رکھتی ہے
کشش اس میں عجب اک حسن سا مستور ہوتا ہے

0
4
عجیب ہے کہ اسی کا ہے انتظار اُنہیں
کہ جس کے آنے کا امکان ہی نہیں کوئی
تلاشتا رہا گلیوں میں اور دریچوں میں
وہ ایسے چہرے ہیں پہچان ہی نہیں کوئی
وہ لے گئے ہیں اُٹھا کر وطن سے سچے لوگ
یہ کہہ کے اِن کا تو تاوان ہی نہیں کوئی

0
5
ڈاکٹر مرزا مبشّر اجمد صاحب مرحوم
واہمہ ہر شخص کو ہوتا تھا ، ہیں اس پر فدا
خوش مزاجی زندگی بھر وصف اک ان کا رہا
ڈاکٹر مرزا مبشّر ، نام سے واقف تھے سب
نصف سے زائد صدی خدمت کا تھا جو سلسلہ
کام تھا فضلِ عمر میں روز و شب ، صبح و مسا

0
4
جانتا کب ہے کیا نہیں مانا
جس نے زندہ خدا نہیں مانا
آج بھی وہ کلام کرتا ہے
خود جو بہرہ ہوا نہیں مانا
مان کر ہم نے پا لیا سب کچھ
اُس نے ٹھکرا دیا نہیں مانا

0
4
نہ ملا کوئی سہارا اُسے ، وہ لوٹ گیا
جب نظر آیا نہ چارا اُسے، وہ لوٹ گیا
گھر سے ملنے کا تجھے ، لے کے ارادہ نکلا
راہ میں کس نے پکارا اُسے ، وہ لوٹ گیا
حادثہ رستے میں پیش آ نہ گیا ہو کوئی
ہو نہ تقدیر نے مارا اُسے ، وہ لوٹ گیا

0
7
وہ بادشاہ بھی درویش ہے بتایا گیا
”بلا“ کا سامنا در پیش ہے بتایا گیا
وفا کا اس سے تقاضا تو خیر کیا کرتے
حساب اپنا کم و بیش ہے بتایا گیا
چلے تھے گھر سے ملاقات ہو ہی جائے گی
اُسے بھی کچھ تو پس و پیش ہے بتایا گیا

0
2
جو دیکھ کر تیرا ایک جلوہ ، نہال ہوتے ، کمال ہوتے
جو پاک صحبت میں تیری رہ کر ، خیال ہوتے ، کمال ہوتے
ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں وہ بزم آرائیاں کہ جن میں
جواب جو بھی ، سبھی کے سن کر سوال ہوتے ، کمال ہوتے
وہ اہلِ صفّہ جو بیٹھے رہتے کہ بات سننے سے رہ نہ جائے
اے کاش ہم بھی ابو ہریرہ ، بلال ہوتے ، کمال ہوتے

0
4
اُس نے پوچھا تو مُدّعا ہم سے
کیسے آئے ہو ، یہ کہا ہم سے
بد گُمانی تو تھی زمانے کو
اُس کو کوئی نہ تھا گِلہ ہم سے
ہم نے کب دوسروں کی پروا کی
فکر تھی وہ نہ ہو خفا ہم سے

0
7
سفر کا شوق بھی ، دُشوار رہگُزار بھی ہے
میں چل پڑا ہوں تو منزل کا انتظار بھی ہے
چمن میں پھول کھلے ہیں ، فضا میں خوشبو ہے
ہو الوداع اے خزاں ! ، کہہ رہی بہار بھی ہے
ہم اس سے پہلے بھی آئے ہیں اس طرف اکثر
مگر وہ آیا ہے جب سے یہاں قرار بھی ہے

0
2
آگئے ہیں جو یہاں اب نہیں جانے والے
میکدے سے نہیں آئیں گے اٹھانے والے
تشنہ لب پیاس بجھائیں گے تو جائیں گے کہیں
چشمۂ فیض پہ آئے ہیں جو آنے والے
وقت کی بات ہے پکڑے گی مکافاتِ عمل
کب سکوں پائیں ، فقیروں کو ستانے والے

0
5
تم سے ملنے اگر گئے ہوتے
یہ مقدّر سنور گئے ہوتے
ہم بتوں سے فریب کھا بیٹھے
ورنہ کیا کیا نہ کر گئے ہوتے
زندہ رہنا تمہی سے سیکھا ہے
ورنہ ہم کب کے مر گئے ہوتے

0
4
لبوں پر اک تبسّم ، اس کی باتوں میں تغزُّل ہے
فرشتوں جیسا چہرے پر سکوں ، حسن و تجمُّل ہے
خدا کی دوسری قدرت کا مظہر پانچواں ہے وہ
اسی سے اب مسیحا کی خلافت کا تسلسُل ہے
وہ کلمہ ہے خدا کا اور خدا جو بات کہتا ہے
کبھی اس بات میں دیکھا نہیں ہوتا تبدُّل ہے

0
5
ہم ترے شہر میں اس طور گزارا کرتے
یاد کر کر کے ، تجھے روز پکارا کرتے
تیری خاطر ہی اتر آئے تھے میدان میں ہم
ورنہ ہر گام پہ ہم ، دنیا سے ہارا کرتے
وقت مشکل تھا ملاقات کا ساماں نہ ہوا
کیسے ممکن تھا کہ ہم تم سے کنارا کرتے

0
7
رفاقت تُجھ سے ہوتی جا رہی ہے
کہ اُلفت تُجھ سے ہوتی جا رہی ہے
خلافت کا جو پہنا تاج سر پر
ارادت تُجھ سے ہوتی جا رہی ہے
ترے اخلاق کا ہے یہ کرشمہ
کرامت تُجھ سے ہوتی جا رہی ہے

0
3
دیکھا ہے وہ چہرہ کبھی جی بھر نہیں دیکھا
نظریں جو ملیں ، نظریں اُٹھا کر نہیں دیکھا
اک حسن کے جلوے کا تصور تو ہے قائم
آنکھوں نے اسے نور سے باہَر نہیں دیکھا
اُس شمعِ فروزاں پہ فدا ہم جو ہوئے ہیں
اُس لعل سا روشن کوئی گوہر نہیں دیکھا

0
4
مسکراہٹ بانٹنے تم آؤ نا
آ کے محفل میں کبھی تم جاؤ نا
یاد کے گہرے سمندر میں کبھی
تم اتر جاؤ تو واپس آؤ نا
اک طلسماتی محل میں بیٹھ کر
گیت مدھم سُر میں کوئی گاؤ نا

0
8
میرے افکارِ پریشاں بھی تمہی ہوتے ہو
دل کی تسکین کا ساماں بھی تمہی ہوتے ہو
نور در نور کی چادر میں منوّر پیکر
میری نظروں میں وہ انساں بھی تمہی ہوتے ہو
تم محبّت پہ مری ناز بھی کرتے ہو مگر
میرے اخِلاص پہ حیراں بھی تمہی ہوتے ہو

0
3
آ کے محفل میں تری دل بڑا مسرور ہوا
دل کا آئینہ تجھے دیکھ کے پُر نور ہوا
میرے دل میں جو خیال آیا کہیں جانے کا
سامنے آ گیا چہرہ تِرا منصور ہوا
میں نے جب سے کیا اقرارِ محبّت تُجھ سے
مجھ کو ہرحال میں وعدہ تِرا منظور ہوا

0
5
مسکراتے ہوئے آتے ہوئے دیکھا ہے اسے
دل میں وہ چہرہ بساتے ہوئے دیکھا ہے اسے
اس کے انوار سے ماحول منوّر جو ہوا
نور وہ دل میں سماتے ہوئے دیکھا ہے اسے
اس کی پاکیزگئ روح نہ پوچھو ہم سے
ہم نے زمزم میں نہاتے ہوئے دیکھا ہے اسے

0
5
دیکھنے میں بھی اسے ایک جھلک جاؤں گا
یہ الگ بات کہ مے بن کے چھلک جاؤں گا
اُس کے چہرے پہ سبھی رنگ ہی کِھل جاتے ہیں
دیکھنے رنگوں سے بنتی میں دھنک جاؤں گا
اس کی آنے سے چمن یوں ہی معطّر ہو گا
ساتھ اس کے جو رہا میں بھی مہک جاؤں گا

0
2
اس کے قدموں کا ، نظر ، کر کے شمار آئی ہے
آج پھر گلشنِ احمد میں ، بہار آئی ہے
پھر سے چُومے ہیں قدم ، گلیوں نے ، اُس مہ رُخ کے
ساتھ اک فوج ، فرشتوں کی ، سوار آئی ہے
دیکھ کر اس کو ، یہ احساس ہوا ، فرقت بھی
اس سے ، قربت کے ، تعلّق کو ، نکھار آئی ہے

0
8
درد ِدل کے واسطے ، محبوب ہونا چاہیے
حالِ دل ، قرطاس پر ، مکتوب ہونا چاہیے
جاتے جاتے ، اس نے ڈالی تھی ، نگہ میری طرف
تیر کھا کر ، اب تو دل ، مضروب ہونا چاہئے
عمر بھر ہم ، اُس کو پانے ، کی سعی ، کرتے رہے
اس کو پانے ، کو مگر ، مجذوب ہونا چاہیے

0
4
صبا خوشبو کہیں اُس کی دریچے سے چُرا لائی
خوشی سے آب دیدہ دل نے کی اس کی پذیرائی
مرا دل کیوں نہ ہو بے چین جاؤں میں اسے ملنے
فلک پر دیکھنے مسرور کو قوسِ قُزَح آئی
زمانے بھر کے لوگوں نے گواہی دی ہے کوئی بھی
نہیں ہے اس سے بڑھ کر آشتی کا جگ میں شیدائی

0
4
مسرور جب سے ہو گیا محبوب دوستو
ہم پر کرم خدا کا ہوا خوب دوستو
دیکھا ہے اس نے مست نگاہوں سے ایک بار
ہم تو اسی سے ہو گئے مضروب دوستو
پھرتے ہیں اس گلی میں جو دیوانہ وار ہم
کہتے ہیں لوگ ہو گئے مجذوب دوستو

0
4
وہ جو دنیا کی نگاہوں سے رہا مستور تھا
پانچواں ہو کر خلیفہ ، ہو گیا مشہور تھا
منتخب ہو کر جو آیا ، نام وہ مسرور تھا
جو خدا نے اپنے ہاتھوں خود کیا منظور تھا
مرتبے پر ناظرِ اعلٰی کے جو پہلے سے تھا
ایک عالم دیکھ کر اس کو ہوا مسرور تھا

0
5
وہ جو دنیا کی نگاہوں سے رہا مستور تھا
پانچواں ہو کر خلیفہ ، ہو گیا مشہور تھا
منتخب ہو کر جو آیا ، نام وہ مسرور تھا
جو خدا نے اپنے ہاتھوں خود کیا منظور تھا
مرتبے پر ناظرِ اعلٰی کے جو پہلے سے تھا
ایک عالم دیکھ کر اس کو ہوا مسرور تھا

0
5
مسکرانا زیرِ لب مہمان کا اچھا لگا
جو تعارف بھی ہوا ، انجان کا اچھا لگا
دھیرے دھیرے آ گئے حالات سارے سامنے
مجھ کو تو اخلاق اس انسان کا اچھا لگا
اس کی شخصیّت نمایاں تھی بڑے اوصاف میں
مجھ کو ہر پہلو سے وہ ایمان کا اچھا لگا

0
2
جو اپنے ہاتھ سے میں نے کلام لکھا تھا
بڑے ہی پیار سے اس میں سلام لکھا تھا
پرانے کاغذوں میں وہ کہیں پڑا ہو گا
وہ خط جو میں نے کبھی تیرے نام لکھا تھا
جنوں کے رنگِ محبّت کی روشنائی میں
جو دل پہ گزری ، وہ سارا پیام لکھا تھا

0
3
جہاں جہاں بھی تُو ٹھہرا ، جہاں چلا ہو گا
وہی تو قبلہ و کعبہ ، مرا رہا ہو گا
میں ہو گیا جو معطّر ، تری محبّت سے
زمانہ اب مری خوشبو سے ، آشنا ہو گا
سہانے خوابوں سے میں نے ، بسائی جو دنیا
تو اس میں ہر جگہ تُو ہی تو پھر رہا ہو گا

0
3
عادت ہمیں جو پڑ گئی ہے تیرے پیار کی
اب ہر گھڑی کٹھن ہوئی ہے انتظار کی
پھر سے ترے وصال کا سامان جلد ہو
آقا دعا ترے لئے دیوانہ وار کی
وہ آ گئے ہیں دن جو گزرتے تھے تیرے ساتھ
کوشش جو ہم نے ملنے کی تھی بار بار کی

0
7
لگا تھا دل پہ اچانک جو تیرِ یار کا زخم
بھرا نہیں ہے وہ اب تک نظر کے وار کا زخم
ہمیشہ رِستا رہا ہے وہ میری یادوں میں
خزاں میں اور ہرا ہو گیا بہار کا زخم
مرا بدن نہیں زخمی ہوا ہے پتھر سے
گلاب نے یہ دیا ہے نہیں ہے خار کا زخم

0
3
وہ سب کے ساتھ تھا لیکن مجھے لگا تنہا
اسی سے بزم کی رونق تھی پر وہ تھا تنہا
اگرچہ سامنا اس کا رہا اندھیروں سے
مگر وہ نور کا پیکر تھا اک دیا تنہا
بلند عزم تھا اس کا عظیم ہمّت تھی
جو آئے طوفاں مقابل کھڑا رہا تنہا

0
3
کبھی کالج میں ہم پڑھتے پڑھاتے تھے ، وہ کیا دن تھے
وہاں مہماں کبھی مرکز سے آتے تھے، وہ کیا دن تھے
انہی میں یاد ہیں ، اک خو بصورت شخصیت والے
ہماری رہنمائی کو جو آتے تھے ، وہ کیا دن تھے
گرم جوشی سے باتیں جب کیا کرتے تھے وہ ہم سے
ہمارے دل کی دھڑکن وہ بڑھاتے تھے ، وہ کیا دن تھے

0
4
نگر نگر پھرے مگر کہیں ملا نہ وہ گہر
جو چندے آفتاب ہو جو چندے ماہ تاب ہو
جو چال میں وقار ہے جمال و حسنِ یار ہے
اسی کے ساتھ تم چلو مصاحبِ نواب ہو
زمانے بھر کی نعمتیں خدا کرے تمہیں ملیں
قدم قدم دُعا تمھارے ساتھ بے حساب ہو

0
5
کرتا رہا جو روشنی سب کو عطا چلا گیا
وہ جو تھا لعلِ بے بہا ہم کو ملا چلا گیا
اس نے فروغَ علم سے بھر دیئے خالی بحر و بر
وہ جو مثالِ ماہ تھا چمکا کیا چلا گیا
جب بھی کہیں امیدّ کی دل میں ضیا تھی کم ہوئی
تو رہ دکھا کے آس کی وہ مہ لقا چلا گیا

0
7
جب بھی دیکھا اسے دیکھا ہے بڑے پیار کے ساتھ
سامنے اس کے نہ گویا ہوئے اظہار کے ساتھ
کیسے سمجھاؤں تمہیں کیسی تھی لذّت ان میں
وہ جو لمحے مرے گزرے ، مرے دلدار کے ساتھ
چار سُو پھیلا تباہی کا ہے ساماں لیکن
ہے وہی امن میں ، شامل ہے جو ، الّدار کے ساتھ

0
3
فرصت ملی ہے کب مجھے اب تک پڑے ہیں کام
کیسے کہوں کہ کر دیا سب کچھ اسی کے نام
باقی ہیں وہ جو اوروں کے پُرسانِ حال ہیں
ساقی نے سب کے بھر دیے خالی ہے میرا جام
جاؤ خدا کے نور کو حاصل کیا کرو
اس شخص سے جو دل کو منوّر کرے مدام

0
7
خدا کے پاک لوگوں کی طرف سے جب صدا آئی
وہی آئے ہمیشہ جن کی فطرت سے نِدا آئی
ہمارا کام تو آواز دینا ہے سو دیتے ہیں
ہمارے کام دردِ دل سے جو مانگی دُعا آئی
ہمیشہ گردشِ دوراں سے شکوے ان کو رہتے ہیں
جنہیں بیگانگی اوروں کے در پر ہے جُھکا آئی

0
8
خلافت خدا کی ہے سنّت قدیم
خلافت عطائے خدائے کریم
خلافت اندھیرے میں شمعِ حریم
خلافت خدا کی ہے نعمت عظیم
جہاں میں خلافت کا جو نور ہے
” جو دور اس سے اُس سے خدا دور ہے “

0
6
پیار سے دیکھا جو اللہ کا گھر دیکھا ہے
مسجدِ فضل و مبارک کو دِگر دیکھا ہے
نوروں نہلائے بدن روحیں معطّر جن کی
ان فرشتوں سا کوئی کم ہی بشر دیکھا ہے
عرش تک ہوں جو رسا ایسی دُعائیں دیکھیں
فرش پر سجدے جنہیں اشکوں میں تر دیکھا ہے

0
4
دم بدم ، ہم قدم ، ہم قدم ، دم بدم
سارے مل کر چلیں ، ہم قدم ، دم بدم
ساتھ تیرے چلیں ، سانس کے زیر و بم
دم بدم ، ہم قدم ، ہم قدم ، دم بدم
تُو نے پہنا خلافت کا جب پیرہن
تُجھ سے بیعت ہوئے ہیں سبھی مرد و زن

0
7
ہم تجھ سے محبّت نہ کریں گر ، تو کریں کیا
تجھ سے دمِ الفت نہ بھریں گر ، تو کریں کیا
اوڑھی ہوئی تُو نے جو خلافت کی ردا ہے
ہم نے بھی ترے ہاتھوں میں یہ ہاتھ دیا ہے
ہر خون کے قطرے میں ہمارے بھی وفا ہے
تُو نے جو کہا ہم نے بہر حال کیا ہے

0
12
خلافت ہے ایماں کا روشن نشاں
خلافت پہ قربان ہے مال و جاں
ہے اوّل ، نبوّت کی نعمت یہاں
خلافت سے ہو پھر منوّر جہاں
مصیبت جو سر پر پڑے نا گہاں
ہلا دے دلوں کو کڑا امتحاں

0
3
آؤ آؤ چلو ، مل کے پیارو ، چلو
اپنے دلبر سے ملنے کو یارو چلو
اُس کے چہرے پہ دیکھیں گے ہم نور کو
پُر سکوں ، پُر تبسّم سے اُس طُور کو
ایک قلبی سکینت سے بھر پُور کو
ساتھ دیں گے دعاؤں سے مسرور کو

0
5
جانتا کب ہے کیا نہیں مانا
جس نے زندہ خدا نہیں مانا
مان کر کیا نہ پا لیا ہم نے
اُس نے ٹھکرا دیا نہیں مانا
تھا فرشتوں کو حکم سجدے کا
وہ جو شیطان تھا نہیں مانا

0
5
کب رہا شیطاں سے آدم کو مفر
زندگی بھر ہر قدم تھا اُس کا ڈر
احتیاطاً بھی رکھی رفتار کم
یوں ہوا ہر موڑ پر اس کا گزر
دہر سے اتنی محبت ہو گئی
چھوڑنا چاہا نہیں پھر یہ نگر

0
4
26۔5۔2023
جہاں چل رہی ہیں مخالف ہوائیں
ہوئیں زہر آلود اتنی فضائیں
اگر سانس لینے سے بھی خوف کھائیں
تو کیسے محبّت کی پینگیں بڑھائیں
ہیں بیکار جنگل میں دیں جو صدائیں

6
بخش دے میرے گنہ ، ہوں ترا بندہ آخر
تُو ہی خوش ہو گا مجھے دیکھ کے خندہ آخر
اُس کے چُنگل سے نکل پائے نہیں ، مانتے ہیں
ہے تری ڈھیل سے ، شیطان کا دھندہ آخر
کون اعمال کے اسباب پرکھنا چاہے
جس نے دیکھا ہے کہا مجھ سے ہی مندا آخر

0
7
(2)
ہے تمنّا جو تری ، ہجر کی ماری تو نہیں
کس کو معلوم ہے یہ وصل کی باری تو نہیں
لکھ دیا کاتبِ تقدیر نے جو کب بدلے
ہے ازل سے ، نیا قانون یہ جاری تو نہیں
غور سے دیکھنا ، آئینے سے گر خوف آئے

0
10
ہے اوّل نبوّت کی نعمت یہاں
خلافت سے ہو پھر منوّر جہاں
مصیبت جو سر پر پڑے نا گہاں
ہلا دے دلوں کو کڑا امتحاں
خلافت ہی اُس وقت ہو کر عیاں
وہ آغوش جو مومنوں کی اماں

0
10
قریب تھا جو گیا ہم سے دور اتنا تھا
وہ راہبر تھا ہمارا ضرور اتنا تھا
ہر ایک شخص کو تھا واہمہ محبّت کا
وہ خوش مزاج تھا اس کا قصور اتنا تھا
ہے جس نے دیکھا وہ مدہوش ہو گیا ہر بار
نظر کے جام میں رکھا سرور اتنا تھا

0
9
غزل اک خوبصورت سی میں تیرے حسن پر لکھوں
تجھے بادِ صبا میری ہوئی جو ہمسفر لکھوں
ترے ہونٹوں کو جو تشبیہ دوں رنگیں گلابوں سے
کریں جو رقص بھنورے ، مے سا شبنم کا اثر لکھوں
حسیں چہرہ ترا دکھلائیں مجھ کو یہ مہ و انجم
ہوئے روشن ترے ہی نُور سے شمس و قمر لکھوں

0
17
جہاں برتا تغافل تُم نے احکامِ شریعت سے
مکافاتِ عمل دیکھو گے روکے گی بریّت سے
مقدّم ہیں اوامر اور نہی قرآن کے تم پر
ہزاروں ووٹ لے کر جیت بھی لو گر جمیعت سے
عمل ہے نیک کس کا کس قدر پہچانتا ہے وہ
ہمیشہ جو کسی کی با خبر ہوتا ہے نیّت سے

0
8
ابتدا ہی میں ملی مجھ کو سزا یاد آیا
مجھ کو جنّت سے نکالا بھی گیا یاد آیا
گیلی مٹی سے اُٹھایا گیا آدم کا خمیر
اور شیطان جو آتش سے بنا یاد آیا
کشتیٔ نوح میں آ بیٹھے بچائے جو گئے
کب تھا سیلاب میں فرزند بچا یاد آیا

0
6
سو سال ہوئے جب سے کہ لجنہ کا جنم ہے
صد شکر کہ مولا کا ہوا ہم پہ کرم ہے
ہم شکر بجا لائیں رکھا اُس نے بھرم ہے
سجدے کریں خوشیوں میں یہی اپنا دھرم ہے
پورے ہوئے صد سال اُٹھایا جو عَلَم ہے
ہر گام پہ لجنہ کا بڑھا آگے قدم ہے

0
13
جاں ترے کوچہ میں آ کر یہ فنا ہو جاتی
مجھ کو گر قوّتِ پرواز عطا ہو جاتی
بارہا سوچا یہ دیکھوں ترا روضہ میں بھی
دیکھتا آ کے جو حائل نہ حیا ہو جاتی
دیکھ لیتا جو عدو ، چہرہ ترا ، غور کے ساتھ
روشنی چہرے کی ، آنکھوں کی ضیا ہو جاتی

0
8
چاہیں خدا کا پیار اگر پائیں دوستو
اُس کی نظر میں سرخرُو ہو جائیں دوستو
خواہش ہے گر کہ ہم سے محبت کرے خدا
ہم خدمتِ انسان میں لگ جائیں دوستو
بن مانگے پوری کر دے ہماری وہ حاجتیں
جو اس نے ہیں کہے وہ رنگ اپنائیں دوستو

0
6
جب کبھی یاد تری آئے ، غزل کہتا ہوں
دل پکارے جو کبھی ہائے ، غزل کہتا ہوں
یہ بھی ہوتا ہے ، تصوّر میں ترا آنچل جب
سامنے آنکھوں کے لہرائے ، غزل کہتا ہوں
نیند آتی نہیں یادوں کے سبب، آئے تو
خواب میں آکے جو مُسکائے غزل کہتا ہوں

18
جب کبھی یاد تری آئے غزل کہتا ہوں
دل پکارے جو کبھی ہائے غزل کہتا ہوں
تُو نہ ہو خود تو تصوّر میں ترا آنچل جب
سامنے آنکھوں کے لہرائے غزل کہتا ہوں
جب کبھی نیند نہ آئے تری یادوں کے سبب
خواب میں آکے جو مُسکائے غزل کہتا ہوں

0
10
خِرَد بجا یہ کہے، بر تر از صلیب ہے وہ
ہے زندہ ، زندگی دینے میں تو عجیب ہے وہ
عجیب بات ہے دیکھا ، نہیں کبھی اُس کو
مگر یقین ہے ، شہ رگ سے بھی قریب ہے وہ
قدم تو اُس کی طرف میں بڑھا نہیں پایا
جو وصل پا گیا، سمجھا مرا رقیب ہے وہ

0
8
ایک مٹی سے بنے ہیں آدمی ، سرو و سمن
مختلف رنگوں کے ، گُل ، پہنے ہوئے ہیں پیرہن
ہے وہی مٹی نکلتے ہیں اسی سے پھول و پھل
ہے اسی مٹی نے پیدا کر دیا کھائیں جو دھن
پیڑ ہیں جن کے پھلوں کے ذائقے سب مختلف
گھاس اور اشجار نے اُگ کر بھرے ہیں سارے بَن

0
9
ہاتھوں پہ ہاتھ رکھ کے جو بیٹھے رہیں بتا
چاہیں کہ منّ و سلوٰی اترتا رہے سدا
دستک ہے دسترس میں مگر دی نہیں کبھی
شکوہ ہے اُن پہ خیر کا در کیوں نہیں کُھلا

0
8
ایک مٹی سے بنے ہیں آدمی ، سرو و سمن
مختلف رنگوں کے گُل جن سے بھرے ہر سُو چمن
ہے وہی مٹی نکلتے ہیں اسی سے پھول، پھل
ہے اسی مٹی نے پیدا کر دیا کھائیں جو دھن
ہیں پھلوں کے پیڑ ، جن کے ذائقے سب کے الگ
گھاس اور اشجار نے اُگ کر بھرے ہیں سارے بن

0
11
اک جوانمرد، صاحبِ کردار
چاق و چوبند ہر گھڑی ہشیار
مسجدِ فضل کی صفِ اوّل
اس کو پاتے وہیں پہ سب ہر بار
ہو گیا مستعد ڈیوٹی پر
اس کو دفتر نے دی صدا اک بار

1
18
ہم سب سے مل کے عید منائیں گے دوستو
یوں پیار دے کے دوست بنائیں گے دوستو
صد شکر روزے رکھنے کی توفیق پھر ملی
نغمے خدا کی حمد کے گائیں گے دوستو
بچے پہن کے رنگ برنگے لباس پھر
پڑھنے کو عید شوق سے جائیں گے دوستو

1
17
غمِ دوراں کے سبب کب ، غمِ جاناں سے گئے
کب غریبی میں شہنشاہی کے ساماں سے گئے؟
دل کی رونق کا سبب سارے مرے اپنے تھے
اُن سے کیا شکوہ وہ گھر چھوڑ کے ویراں سے گئے
اب کوئی آئے نہ آئے کسے پروا ہو گی
منتظر جس کے ہوا کرتے تھے ، مہماں سے گئے

0
13
چھُٹّیوں پر بھی جائیں جہاں احمدی
حمد سے تر رکھیں سب زباں احمدی
ہونو لُولُو ہوائی میں آ ئے ہیں ہم
سوچا ، ہوں گے یہاں پر کہاں احمدی
ہے کنارا بلا شک یہ دنیا کا اک
پر ہوئے خوش جو دیکھے یہاں احمدی

0
12
اے سمندر کی لہرو ہمیں تم کہو
درد گہرائیوں کے بھی ہنس کر سہو
سر پٹک کر یوں ساحل پہ دم توڑ دو
راز جیسے سمندر کے سب کھول دو
شور کرتے ہوئے جب بھی آتی ہو تم
واپسی پر تو چپکے سے آہیں بھرو

0
11
غزل
اِن آنکھوں میں تُو تھا تو حسیں خواب بہت تھے
گلشن مرے دل کے کبھی شاداب بہت تھے
غیروں کے ستم ہوتے تو ہو جاتا گزارہ
اپنوں ہی سے بربادی کے اسباب بہت تھے
دو چار بھنور آئے نظر مجھ کو ڈبونے

0
15
جی چاہتا ہے خوب سے میں خوب تر کہوں
بحرِ طویل میں کہوں یا مختصر کہوں
ہے چاند اس کے حسن کے اظہار میں مگن
تعریف اس کی کر رہا ہے بحر و بر کہوں
دیکھوں تو ہر طرف نظر آتی ہے اس کی شان
کرنوں میں رنگ اس کے ہیں شام و سحر کہوں

0
15
دے شفا مجھ کو چلا آیا ہوں تیرے گھر پر
صاف کرنے کو یہ دل لایا ہوں تیرے گھر پر
ہوں گنہ گار مگر تیری پنہ چاہتا ہوں
جانے کس منہ سے مگر آیا ہوں تیرے گھر پر
میرے مولا ہیں تری اتنی عنایات و کرم
شکر کے سجدے بجا لایا ہوں تیرے گھر پر

0
26
کیوں نظر آتے نہیں حالاتِ شب
جب کہ سب موجود ہیں ، حاجاتِ شب
دن کو کُھل کر وہ ہوا تھا سامنے
جب گیا سورج ہوئے ، لمحاتِ شب
نور دکھلاتا رہے گا راستہ
روک پائیں گی کہاں ظلماتِ شب

0
30
دردِ دل دیکھ ، مری آہ زبانی نہ سمجھ
نقشِ دیوار ہے انجام ، کہانی نہ سمجھ
ہر طرف موت کے آثار نظر آتے ہیں
تُو یہ بیماری فقط ڈھلتی جوانی نہ سمجھ
کھوکھلا کر دیا بنیادوں کو تیری جس نے
ضد ، تعصّب کو ترقی کی نشانی نہ سمجھ

0
19
بس میں یہ گردشِ حالات نہیں ہوتی اب
ضبط کیوں گرمئِ جذبات نہیں ہوتی اب
روشنی میں تو مجھے چلتے چلے جانا ہے
بیٹھ کر دن میں یونہی رات نہیں ہوتی اب
ہو گا احساں جو چلے آیا کرو خوابوں میں

0
25
چشمۂ فیضِ عام آیا ہے
وہ جو ماہِ تمام آیا ہے
دل کی تاریکیاں جو دور کرے
آسماں سے کلام آیا ہے
برکتیں اس سے پائیں قوموں نے
جب وہ خیر الانام آیا ہے

0
26
رہبر خُدا اگر ہو تو آتا ہے شاد کام
منزل اسے ملے کہ جو چلتا ہے تیزگام
کیسے عزیز ہو کوئی اُس جیسا دوسرا
ہے کون جو محبتیں کرتا ہے ایسے عام
صف بستہ اسکے گھر میں ہوں یوں تو ہزار لوگ
پر پاک صاف دل میں ہی رہتا ہے وہ مدام

0
22
کون رہتا ہے یوں خیالوں میں
کس نے یہ نغمگی بنائی ہے
جس کی تعریف میں اگر لکھوں
کم سمندر کی روشنائی ہے
کون رہتا ہے یوں خیالوں میں
**

0
65
جنگل نہ ہو گا شور مچائیں گے پھر کہاں
شہروں کو وحشیوں سے بچائیں گے پھر کہاں
چاروں طرف فصیل کھڑی کر بھی لیں اگر
خود کو درونِ شہر چھپائیں گے پھر کہاں
کھڑکی ہوا کے رُخ پہ جو ہے بند گر ہوئی
جھونکے ہوائے تازہ کے کھائیں گے پھر کہاں

0
32
شہر میں تازگی سی لگتی ہے
یہ فضا اجنبی سی لگتی ہے
اتنے مانوس ہو گئے ہیں ہم
آشنا خامُشی سی لگتی ہے
بات ماضی کی کیوں کریں سارے
حال میں کیا کمی سی لگتی ہے

0
54
تم سر پیٹو گے اپنا یا پھر سچ کی کھوج لگاؤ گے
یا آنے والے وقتوں میں سب کھونے پر پچھتاؤ گے
وہ پیار سکھاتا ہے تم کو تم آگ لگاتے پھرتے ہو
جب اس کے سامنے جاؤ گے تو کیا منہ لے کر جاؤ گے
اِس دھرتی سے ہے بیر تُمہیں گو اس کو ماتا کہتے ہو
کیا خون بہانے میں اس پر تم بتلاؤ شرما اوگے

0
19
کیا لطف ہم کو ساز کے تاروں میں آئے گا
وہ تو سُروں میں راگ ملہاروں میں آئے گا
ہم نے تو خود کو پیش کیا جانتے ہوئے
اُس کو پسند ایک ہزاروں میں آئے گا
ہم نے خزاں گزار دی یہ سوچتے ہوئے
پھر سے گلوں میں رنگ بہاروں میں آئے گا

0
42
یونہی نہیں ہے دید کا منظر ملا مجھے
جب درسِ عشق ہو گیا ازبر ، ملا مجھے
دلبر کو اپنے حسن پہ کچھ کم نہیں ہے ناز
اس کے چمن کا پھول بھی ، خود سر ، ملا مجھے
وہ ساتھ لے کے میرے رقیبوں کو آ گیا
کچھ اس طرح سے میرا ستمگر ملا مجھے

0
15
جب دیا دل اسے جاں دینے کو تیّار رہے
اس کے بدلے میں صلے کے نہ طلب گار رہے
روشنی یوں تو بہت چاند نے پھیلائی تھی
تم ہی ظلمات کی دیوار کے اُس پار رہے
اس کو کیا ذات قبیلے سے کہ زر کتنا ہے
وہ یہی پوچھے گا کس کس کے وہاں یار رہے

0
37
حسن افکار تک نہیں پہنچا
عشق اظہار تک نہیں پہنچا
جانتا ہی نہیں مسیحا کو
جو کہے دار تک نہیں پہنچا
ساری دنیا اسے کہے مظلوم
پر یہ سرکار تک نہیں پہنچا

0
33
جب دیا دل اسے ، جاں دینے کو تیّار رہے
ہم نے بدلہ نہ لیا چپکے سے من مار رہے
روشنی یوں تو بہت چاند نے پھیلائی تھی
تم ہی ظلمات کی دیوار کے اُس پار رہے
کس قبیلے سے ہو ، کیا ذات ہے ، کتنے ہو امیر
وہ یہی پوچھے گا ، کس کس کے وہاں یار رہے

0
27
کیوں دیکھتے ہیں لوگ ہمیں یوں عجیب سے
حالانکہ جانتے نہیں ہم کو قریب سے
جو مسکراہٹیں بھی کسی کو نہ دے سکیں
لگتے ہیں وہ امیر بھی ہم کو غریب سے
پہلو میں بیٹھ کر بھی ہوئی اُن سے گفتگو
ازحد ہوں خوش کہ موقع ملا یہ نصیب سے

0
31
روح کی دُور ، پیاس کی جائے
زندگی کیوں اداس کی جائے
سامنے آ رہی ہو منزل جب
زندہ رہنے کی آس کی جائے
دَور جب آ رہا ہے خوشیوں کا
دُور اب دل کی یاس کی جائے

0
29
جس کا ہو اثر دل پہ کوئی بات کرو نا
کچھ ایسا بدل جائیں یہ حالات کرو نا
اب بدلیں گے شاید کہ مضامین غزل کے
پہلے تو رہا سوچوں میں دن رات کرو نا
عرصہ ہوا تشویش کی خبریں ہی ملی ہیں
اب کوئی خوشی دیں جو اشارات کرو نا

0
53
جس کو پائندگی نہیں کہتے
اُس کو مردانگی نہیں کہتے
دیکھ کر گر نگہ نہ خیرہ ہو
اُس کو تابندگی نہیں کہتے
رسمِ دنیا نبھا نہیں پائے
اس کو درماندگی نہیں کہتے

0
31
حسیں تصوّر جو تیرا آیا تو بے خودی میں ہنسا کروں گا
میں سوچتا ہوں کہ سامنے میں نے تجھ کو پایا تو کیا کروں گا
زمیں کی گردش یونہی چلے گی فلک پہ تارے رواں رہیں گے
جو چاند روشن ہوا کرے گا میں دل کا روشن دیا کروں گا
کوئی جو نزدیک تیرے آئے وہ دور تُجھ سے کبھی نہ جائے
مری بھی خواہش یہی ہے اب تو قریب تیرے رہا کروں گا

0
30
کیوں نہ ہو ناز خدو خال پہ اپنے اس کو
اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے خدا نے اس کو
کاش اس کو بھی کبھی یاد مری آ جائے
نیند سے سپنے جگائیں جو سہانے اس کو
اُس پہ مر مٹنے کو تیّار ہوا تھا کوئی
آئے گا کون بھلا یاد دلانے اس کو

0
15
عشق نے جانے کیسے کیسے لوگوں کو برباد کیا
بے قابو جذبوں نے دل کو ، باعثِ صد افتاد کیا
اک رستے پر ، منہ پھیرے تو ، ساتھ نہیں تھے چل سکتے
چلتے چلتے ، پل دو پل ، من فکروں سے آزاد کیا
لیلٰی پر الزام نہ آئے ، کس کس کو سمجھائیں ، کیوں
مجنوں چھوڑ گئے ہیں کتنے شہر ، اور دشت آباد کیا

0
21
عشق نے جانے کیسے کیسے لوگوں کو برباد کیا
جس نے بھی ایجاد کیا ہے باعثِ صد افتاد کیا
اک رستے پر ، منہ پھیرے تو ، ساتھ نہیں چل سکتے تھے
چلتے چلتے ، پل دو پل ، من فکروں سے آزاد کیا
لیلٰی پر الزام نہ آئے ، کس کس کو سمجھائیں ، کیوں
مجنوں چھوڑ گئے ہیں کتنے شہر ، اور دشت آباد کیا

0
36
نرم گر یہ زباں ہوا کرتی
زندگی مہرباں ہوا کرتی
آزمائش کبھی جو ہوتی بھی
پیار کا امتحاں ہوا کرتی
اُس کے پیاروں کا نام بھی آتا
یوں رقم داستاں ہوا کرتی

0
37
یونہی تعزیر مت لگا دو کوئی
میری تقصیر تو بتا دو کوئی
میں نشانے کی زد میں آیا ہوں
پھر اِدھر تیر چلا دو کوئی
ہے شہیدوں میں گر جگہ باقی
میری تصویر بھی لگا دو کوئی

0
33
پیار بڑھتا ہے روٹھ جانے سے
مان جائیں وہ جب منانے سے
مندمل زخم ہو گئے سارے
اُس کے اتنا قریب آنے سے
کیا تھے وہ لفظ ، بن گئے مرہم
مٹ گیا درد ، مُسکرانے سے

0
46
کسی کی زندگی دشوار سے دشوار تر کرنا
سمجھنا پھر اِسے جنَّت میں اپنے نام گھر کرنا
یہ ضد کرنا کسی کو حق نہیں ، دین اپنا بتلائے
رضائے یار کی خواہش کے بدلے میں ، مگر کرنا
عجب منطق ہے یہ جس کو سمجھنا قدرے مشکل ہے
کہ ممکن ہی نہیں ، اُن پر دلائل کا اثر کرنا

0
55
نہیں بے سبب یہ غضب ہوا ،کہ عذاب اس کا نصیب تھا
یہ لگی کسی کی ہے بد دُعا ، جو خدا کا بندہ منیب تھا
وہی ڈوبنے سے بچا گیا ، لئے ہاتھ میں جو چلا عصا
سنی ہو گی تم نے بھی داستاں ، وہ خدا کا ایک حبیب تھا
ہوا کیا عجب مرا رازداں مرا بن گیا ہے رقیب اب
کیا حسنِ یار کا تذکرہ ، تو وہ میرے سب سے قریب تھا

0
25
جہاں ہو فاصلہ باقی ، وہاں ہوتی ہے یاری کیا
دوئی کو دور کر کے دیکھ ، دل رہتا ہے بھاری کیا ؟
نصیب اُس کو سکوں ہووے کہاں ، جو دور ہو اُس سے
جو ہو اس چاردیواری میں اس کو بے قراری کیا
چھپایا لاکھ تھا دنیا سے ، دل کے رِستے زخموں کو
نظر جس کی دروں بیں ہے، ہو اُس سے رازداری کیا

1
40
جو سمجھ آئے تمہاری ، وہ زباں ، بولے گا
وہ جو نظروں سے تمہاری ہے نہاں ، بولے گا
ہے وہ شہ رگ سے بھی نزدیک پکارو اس کو
دل کو گر اس کا بنایا ہے مکاں ، بولے گا
جس کی صحبت میں کوئی وقت گزارا جائے
ایک دن وہ بھی تو پھر اس کی زباں بولے گا

1
45
بیٹھیں گے پھر سے مل کے تُو آنے کی بات کر
لمحے بچھڑ گئے ہیں جو پانے کی بات کر
مت بھول یہ کہ پہلے زمانوں میں کیا ہوا
خوش ہو کے اب تُو اگلے زمانے کی بات کر
چھوٹی سی بات پر ہوئے ہیں تُجھ سے جو خفا
روٹھے ہوؤں کو جلد منانے کی بات کر

0
39
دھو کے دل میرا کبھی آئنہ اُجلا کر دے
جذبۂ عشق مری روح کو تازہ کر دے
شادمانی نہ بنے تُجھ کو بھلانے کا سبب
غم سے بیکس کے مجھے ایسا شناسا کر دے
تُو کسی بات پہ ناراض نہ ہو جائے کہیں
نفس کی کوئی نہ خواہش مجھے رسوا کر دے

0
16
جائے گر کوئے یار میں کوئی
لوٹتا ہے خُمار میں کوئی
کس کی یادوں میں کھویا رہتا ہے
بیٹھ کر انتظار میں کوئی
وہ چڑھانے کو پھول لائے ہیں
جا کے لیٹے مزار میں کو ئی

0
31
کہتے ہیں کوئی آتا نظر راہبر نہیں
اُترا جو آسمان سے اس کی خبر نہیں
جس کو نگاہیں ڈھونڈتی پھرتی تھیں ہر طرف
حیرت ہے اس کی سَمت کسی کی نظر نہیں
جلتے ہیں یونہی اب بھی کھڑے سخت دھوپ میں
سایہ جو دے نظر انہیں آتا شجر نہیں

1
30
دے کر ادھار واپسی کی خیر مانگئے
لیکن نہ مانگ کر کسی سے بَیر مانگئے
ہاں مانگئے کہ بخش دئے جائیں سب گناہ
جنَّت کی ہو نصیب ہمیں سیر مانگئے
کب تک بتوں کے سِحر میں جکڑے رہیں گے آپ
چھوڑیں حرم جناب یہاں دَیر مانگئے

1
43
اجنبی اپنے گھر میں تھے ہی نہیں
وہ تو گویا سفر میں تھے ہی نہیں
چل رہے تھے وہ ساتھ ساتھ اُس کے
جو ملائک نظر میں تھے ہی نہیں
راستے منتظر تھے اور اُس کے
جیسے ہم اس ڈگر میں تھے ہی نہیں

0
39
فضا میں نور سے لبریز اک چادر سی چھائی ہے
طلسماتی کشش چہرے کی سب کو کھینچ لائی ہے
یہ کون آیا ہے پھیلی ہر طرف میں روشنی دیکھوں
قمر ظاہر ہوئی ہے جس کی ہر سُو چاندنی دیکھوں
یہ مغرب کے افق پر پانچواں اُترا ستارہ ہے
ہماری خوش نصیبی ہے وہی رہبر ہمارا ہے

0
22
محبّت کی عمارت کو نہ یوں مسمار ہونے دو
مجھے ، جانے سے پہلے ، خواب سے بیدار ہونے دو
یہ ممکن ہی نہیں پگھلے نہ دل اُس کا مجھے سُن کر
مرے جذبوں کا اس کے سامنے اظہار ہونے دو
نظر آئے گا کیسے لوگ اُس پر جاں لُٹاتے ہیں
بھری محفل میں تم اُس کا ذرا دیدار ہونے دو

0
21
اے خدا میرے وطن کی تُو حفاظت کرنا
حکمراں اس پہ تُو ظالم نہ مسلّط کرنا
ماننا جب ہے اولی الامر کو طاعت تیری
کام بندوں کا تو ہوتا ہے عبادت کرنا
ہو میسّر یہاں دو وقت کی روٹی سب کو
جو یہاں سیکھ کے بیٹھے ہیں ریاضت کرنا

29
کس دیس سے آخر آئے ہو
کچھ اور طرح کے لگتے ہو
جانا ہے ضروری تو جاؤ
اک بات ہمیں پر بتلاؤ
تم بالغ عاقل لگتے ہو
اور یوں بھی قابل لگتے ہو

3
54
کیسے کہتے ہو زمانے کو خبر ہی نہ ہوئی
اشک بہتے رہے اور آنکھ وہ تر ہی نہ ہوئی
ہم تو انکار بھی کر دیتے محبّت سے مگر
تم نے بات ایسی کہی ہم سے مفر ہی نہ ہوئی
روشنی ہوتی ہے جب آئے افق پر سورج
کیسے ممکن ہے کہ شب گزری ، سحر ہی نہ ہوئی

19
خدا نے جب سکھایا ہے کُھلا توبہ کا در رکھنا
تو کر کے درگزر ، سب دوستوں کو معتبر رکھنا
ضروری تو نہیں جو تم سمجھتے ہو، وہی سچ ہو
کہیں کوئی غلط فہمی نہ ہو یہ سوچ کر رکھنا
جلا دینا دِیا ، دیکھو اندھیرا جب کسی گھر میں
اُسے جلتے ہوئے جب تک نہ ہو جائے سَحَر رکھنا

31
اس سے ملنے کی بہت تھی آرزو
ہم نے داؤ پر لگا دی آبرو
وہ چمن کی سیر کو جب چل دیا
تتلیوں نے کی اُدھر کی جستجُو
گالیاں سن کر دعا دی اس نے جب
کی فرشتوں نے پھر اس سے گفتگو

0
41
یہ تم جو حکم نیا لے کے آج آئے ہو
یہ اپنے زُعم میں فتوٰی بڑا سا لائے ہو
نہیں یہ جانتے آبا تمہارے بھی پہلے
گزر چکے ہیں اسی دور سے کبھی پہلے
اسی طرح تو فتٰوٰی کی زد میں آئے تھے
کہ سِحر لے کے کئی ان کی ردّ میں آئے تھے

0
33
وعدہ تو وہ کریں گے نبھائیں گے بھی وہ کیا
سچ مُچ ہمارے ملنے کو آئیں گے بھی وہ کیا
مانا کہ ہم پہ جان بھی کر دیں گے وہ فدا
آزارِ عشق دل کو لگائیں گے بھی وہ کیا
سینے سے ہم لگا کے سکوں پائیں گے ضرور
دل کی لگی جو آگ بجھائیں گے بھی وہ کیا

0
36
آس کی ڈور پہ سانس تو اٹکی رہتی ہے بیماری میں
اُس قادر مطلق کے در پر جھکتے ہیں لا چاری میں
کب اس قابل سمجھیں خود کو چلنے کو تیار ہیں اب
جیون سارا گزرے چاہے مرنے کی تیّاری میں
شاید کچھ مہلت دیتا ہو ، توبہ کی توفیق ملے
کب کے ہم تو رخصت ہو تے ورنہ اپنی باری میں

23
عشق میں ہوتا آیا ہے یہ ہم کو یوں ہو جانے دو
رکھ کر بھی دل کیا کرنا ہے اِس کا خوں ہو جانے دو
راہِ وفا میں اہلِ وفا کب عقل کی باتیں سنتے ہیں
ان کو کیا پروا اس کی ہو جا ئے جنوں ہو جانے دو
لاکھ بچایا ہم نے خود کو اس کے ہاتھوں ہار گئے
جادو یہ سر چڑھ کر بولے یہ بھی فسوں ہو جانے دو

2
63
آدمی انسان ہے اور آدمی حیوان ہے
دیکھ کر اُس کو فرشتہ بھی ہوا حیران ہے
ہو گیا دنیا میں آکر اس قدر مصروف وہ
مقصدِ تخلیق سے بھی ہو گیا انجان ہے
جس نے بھیجا تھا یہاں وہ یاد بھی اس کو نہیں
نام ہی کو رہ گیا باقی اگر ایمان ہے

2
61
ہاتھ تھاما ہے جس کا سُرعت میں
سب سے بڑھ کر ہے آج حُرمت میں
جس کے کردار سے مہک آئے
بیٹھئے گا اسی کی قُربت میں
سامنے آ کے جو نہ پہچانیں
یاد کیا وہ کریں گے فُرقت میں

1
59
جانے کس کس رستے پر ڈھونڈیں تُجھ کو انجانے میں
کتنا جیون کھو دیتے ہیں ، ہم بھی تُجھ تک آنے میں
ساقی بھر بھر جام پلائے ان کو جو آ جاتے ہیں
پھر بھی ہم کو آتے آتے دیر ہوئی میخانے میں
رشتوں میں تو سب سے اچھا رشتہ پیار کا ہوتا ہے
ایک یہی تو فرق ہے صاحب ، اپنے اور بیگانے میں

42
ہر کوئی دیس میں جب مجھ کو لگا بیگانہ
ایک سا مجھ کو ہوا ، شہر تھا یا ویرانہ
کون کہتا ہے جنوں عشق کا لے ڈوبا ہے
لوگ کہتے ہیں کہ صحرا کو چلا دیوانہ
سرسری ذکر مرا اُس میں کہیں آیا تھا
جو مرے نام سے مشہور ہوا افسانہ

1
36
دل کہیں پارہ پارہ کر لیں گے
وحشتوں سے کنارہ کر لیں گے
رات کالی ہے راستہ مشکل
کوئی رہبر، ستارہ کر لیں گے
گر ارادہ ہو ساتھ دینے کا
ہم دُعا ، استخارہ کر لیں گے

34
کیوں دلِ مضطر کی ہوتی بیقراری کم نہیں
عمر بھر یوں تو ہوئی حاجت براری کم نہیں
دیکھ کر اس کو مجھے اکثر خیال آتا ہے یہ
جو عطا اُس کو ہوئی ہے شہر یاری کم نہیں
خشک موسم تھا رہا گرچہ خزاں کا سامنا
اِس چمن کی اُس نے کی پر آبیاری کم نہیں

3
61
غزل
وصالِ یار کا سودا سمایا سر میں رہا
یہی سبب تھا کہ حالاتِ پُر خطر میں رہا
چراغِ بام ، ہواؤں کی دسترس میں تھا
تمام عمر کھٹکتا کسی نظر میں رہا
جو خوش نصیب تھے وہ جلد پاگئے منزل

45
ہر گھڑی اپنی جو یادوں میں بِتاؤں تیری
تُجھ کو ، تعریف لکھی ہے جو ، سناؤں تیری
ہر اکائی میں ترے حسن کی یکجا کر کے
روز سوچا ہے کہ تصویر بناؤں تیری
رنگ جتنے بھی دھنک کے ہیں سبھی اس میں بھروں
پھر اسے دیکھ کے یادوں کو سجاؤں تیری

74
نظر دوڑا کے دیکھو ہر زماں میں
ہے رخنہ کیا کوئی کون و مکاں میں
زمیں کا حسن صحرا اور دریا
ہیں روشن چاند تارے آسماں میں
غنیمت ہے کہ مل بیٹھے یہاں سب
بہت سے اور بھی ہیں کارواں میں

41
خوش تم سے تھا خدا تو تب و تاب دے گیا
ناراض ہو گیا ہے جو سیلاب دے گیا
روٹھے ہوئے خدا کو منائیں کسی طرح
کوئی یہ مشورہ تمہیں نایاب دے گیا
بھولے ہو کیا خدا وہ رحیم و کریم ہے
تھی تشنہ لب جو قوم ، اسے آب دے گیا

34
مری بہشت یہی ہے مجھے عطا کر دے
مجھے وصال کی لذّت سے آشنا کر دے
تجھے جو پائے مری روح کو قرار آئے
تُو ایسا ذات میں اپنی مجھے فنا کر دے
نظر اُٹھا کے تجھے دیکھ پاؤں پل دو پل
کہیں سے حوصلہ مجھ کو بھی ایسا لا کر دے

1
47
کیا کیا نہ روپ اس کے لیے دھارتے رہے
جیتے تو جان بوجھ کے بھی ہارتے رہے
دینے پہ دل نہیں کسی کو اختیار جب
کیوں سر پہ کفِ دست یونہی مارتے رہے
سب کچھ تو اپنے پاس تھا اس کا دیا ہوا
سو جان و دل اسی پہ ہی تو وارتے رہے

1
55
دلوں میں نفرتیں بھر کے جو کاروبار کرے
تو کیسے ہو گا وہ حالات سازگار کرے
گلی گلی میں محبّت کا میری چرچا ہے
اسے یہ شکوہ ہے مجھ سے نہ کوئی پیار کرے
عجب زمانے نے دستور یہ بنایا ہے
جو سچ کہے اسے ملزم وہ بار بار کرے

0
40
حقوق انساں کے کرتا ہے مسلسل جو غصب کوئی
خدا کا کر رہا ہوتا ہے سامانِ غضب کوئی
کسی کو سوچنے کی ہو جو فرصت جان لے گا وہ
کہ پے در پے عذاب آنے کا آخر ہے سبب کوئی
جہاں میں ظلم جب اپنی حدوں کو چھونے لگتا ہے
اشارہ دے کہ مظلوموں کا بھی ہوتا ہے رب کوئی

0
47
نظم
کام سب چھوڑ کے میں تیری ڈگر پر نکلوں
دیکھنے دنیا ، ترے ساتھ سفر پر نکلوں
کوئی منزل ہی نہ ہو چلتے چلے جائیں بس
ہم کو یادیں نہ ستائیں نہ کبھی آئیں بس
یوں کبھی سوچ کے بُنتے ہوئے تانے بانے

0
43
پوچھتے ہو مجھ سے تم ، کیوں یہ کام کرتے ہو
زندگی تمہاری ہے میرے نام کرتے ہو
وصل کی جو دعوت ہے ہجر کی تڑپ بھی ہے
حسن جب دکھاتے ہو عشق عام کرتے ہو
زندگی سفر میں ہے راستہ بھی مُشکل ہے
ہر قدم حساب اِس پر صبح شام کرتے ہو

0
51
منظور چھوڑنا ہمیں ہر کاروبار تھا
پر اُس سے دُور ہوں یہ ہمیں ناگوار تھا
پڑتا نہ حوصلہ کبھی اونچی اُڑان کا
لیکن وہ ساتھ لے کے اُڑا بار بار تھا
ہم پا پیادہ ہو لئے تھے کارواں کے ساتھ
گرچہ وہ میرِ کارواں ، تو شہسوار تھا

0
28
جو سایہ دار تھے کہاں اب وہ شجر گئے
آنکھوں میں جو حسین تھے منظر کدھر گئے
افسانہ کیا سنائیں حقیقت بیاں کریں
کھوئے گئے کچھ ایسے جہاں میں کہ مر گئے
ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں معجزے
دل کتنے جن کو دیکھ کر ایماں سے بھر گئے

0
41
اساس میں بہا جو اِس کی ، آج بھی ، لہو ملے
عزیز تر ہو جاں سے گر وطن ، تو آبرو ملے
جو آنکھ ٹپکے بادَلوں کی ، تب ہوں سبز وادیاں
جلے جو آفتاب تو ، حیات کو نمو ملے
زبان پر ہیں ، تِشنہ لب جِہاد کی کہانیاں
گلی گلی یہاں پہ رقص ، ہاتھ میں سبو ملے

1
52
دل کسی کے جو نام کر بیٹھے
کام اپنا تمام کر بیٹھے
نشّہ ہے یا سرور آنکھوں میں
نوش کیسا یہ جام کر بیٹھے
بام پر وہ دکھائیں گے جلوہ
اُس گلی میں قیام کر بیٹھے

1
54
آپ آئیں گے اگر دل میں تو راحت ہو گی
اس سے کیا اور بڑی پھر کوئی جنَّت ہوگی
لفظ محتاج اگر ہوں بھی زباں دانی کے
وہ سمجھ لے گا اشارے ، جو محبّت ہو گی
وہ مجھے خود سے جُدا کر کے تو پچھتائے گا
اُس کو بھی میری طرح اپنی ضرورت ہو گی

2
56
آپ کہہ دیں ، جو ہوں پسند ، الفاظ
پر نہ پہنچائیں وہ گزند ، الفاظ
لمبے چوڑے سنے ہیں وعظ ، مگر
دل کو اچھے لگے ہیں چند ، الفاظ
دھیمی آواز ، نرم لہجہ ہو
بولیں پر وہ جو ہوں بلند ، الفاظ

0
43
مطمئن دل ہوا سا لگتا ہے
اُس کا کچھ تذکرہ سا لگتا ہے
آئی اس کی گلی سے ہو کے صبا
گھر معطّر ہوا سا لگتا ہے
کیسی طاری غنودگی ہے یہ
خواب کا تجربہ سا لگتا ہے

0
40
جہاں جہاں بھی کوئی کربلا ، الم دے گی
نوید ، صبح کی ، ہر ایسی شامِ غم دے گی
سلگ رہا ہے جو ایمان دل کی گلیوں میں
یقیں ہے گرمئِ الفت ، عمل کو دم دے گی
دھنک جو نکلے کبھی بارشوں کے موسم میں
تو رنگ ، روشنی کیا آسماں سے کم دے گی

1
54
ہم دیارِ یار میں بیٹھے ، سُخن کہتے رہے
اِس کو احسانِ خدائے ذُو الࣿمِنَن کہتے رہے
رنگ و خوشبو سے مزیّن ہے جو اسلوبِ زباں
پھول کلیوں سے بھرا اس کو چمن کہتے رہے
رات دن محنت ہمارا ہو گیا معمول یہ
ہو گئی ہے کام کی ایسی لگن ، کہتے رہے

0
58
تھی شب طویل چاند ستارے نکل آ اے
ہم سیر کو در یا کے کنارے نکل آ اے
سوچا تھا کون ہوں گے مخالف ہمارے یاں
مُڑ کر جو دیکھا اپنے ہی سارے نکل آ اے
پہچان کر ہمیں کہ یہ ہیں کس قبیل سے
آنکھوں میں شیخ جی کے شرارے نکل آ اے

0
57
کانپیں گے جب حساب کے ڈر سے کئی وہاں
کام آئے گی سعی جو یہاں کی گئی ، وہاں
مکر و فریب دیکھ کے دنیا سے ہم چلے
سچّی ملے گی رہنے کو بستی نئی وہاں
ہم ہی نہیں گئے ہیں بہت اور لوگ بھی
امّید ہے ملیں گے شناسا کئی وہاں

0
31
زیست آسان سمجھ بیٹھے تھے نادانی سے
آجکل موت بھی آتی نہیں آسانی سے
چینِ دل مال کمانے سے نہیں ہوتا نصیب
کب سکوں آئے ہے اشیا کی فراوانی سے
وہ جو سمجھے تھے انہیں فکر نہیں ہے کوئی
دیکھو کیا حال ہوا ان کا پریشانی سے

0
43
محبّتوں میں تماشا نہیں کِیا کرتے
جہاں ہو دوستی گِلہ نہیں کِیا کرتے
جو روٹھ جائے اسے جا کے خود مناتے ہیں
ذرا سی بات پہ جھگڑا نہیں کِیا کرتے
جہاں پہ دے دیا دل جان بھی لُٹاتے ہیں
منانا یار ہو تو کیا نہیں کِیا کرتے

0
51
شعور لا شعور کی یہ کیسی داستان ہے
مکان لامکان اک ہمارا امتحان ہے
سمجھ سکا ہے کون اِس کو سرخرو ہوا ہے جو
خبر نہیں کہاں کوئی بلائے نا گہان ہے
سنو تو ہم نے جیسے تیسے زندگی گزار دی
ہے سوچنا تمہیں کہاں نفع کہاں زیان ہے

0
38
جو تقریروں میں شعلوں سی لپک دیکھی گئی ہے اب
تو جلسوں میں بھی نعروں کی دھمک دیکھی گئی ہے اب
مقدّر کی سیاہی کو سحر میں وقت نے بدلا
مگر بالوں میں چاندی کی چمک دیکھی گئی ہے اب
چھپا کر درد گو تم نے رکھا ہے اس زمانے سے
مگر باتوں میں بھی غم کی کسک دیکھی گئی ہے اب

0
46
آئے جو اُس کی بزم میں سرشار سے گئے
تیغِ نگاہِ یار کے اک وار سے گئے
ملنے کی پیاس ، مل کے اُسے اور بڑھ گئی
سمجھے تھے اب تو ، ہجر کے آزار سے گئے
دیکھا اسے تو دید کی خواہش سوا ہوئی
ہم اور ہو کے طالبِ دیدار سے گئے

0
46
ستارے ہر گھڑی جو پاش پاش کرتی ہے
یہ کائنات کئی راز فاش کرتی ہے
غموں کی چھائے گھٹا جب تو ، آنکھ سے برسے
کہاں وہ دل کی زمیں کو نِراش کرتی ہے
صداقتوں کا سمَندر لئے زباں میری
رفاقتوں کے جزیرے تلاش کرتی ہے

20
شام ہوتے ہی پنچھی تو گھر جائیں گے
بے ٹھکانہ مسافر کدھر جائیں گے
ہاتھ پر ہاتھ رکھّے نہیں بیٹھے ہم
اپنے اپنے سبھی کام پر جائیں گے
فکر کیوں جب حقیقت ہیں سب جانتے
آج زندہ ہیں جو کل وہ مر جائیں گے

0
46