| وہ جلیل ایسا ہے سب سر کو جھُکائے آ گئے |
| وہ کریم ایسا ہوا خوش اُس کے پیارے آ گئے |
| خوف بھی دل میں رکھا اس نے محبت بھی ہے دی |
| یوں جلال و لطف کے دونوں تقاضے آ گئے |
| اس کے در پر خاک ہو کر بھی امیری مل گئی |
| ہم فقیروں کے مقدر میں خزانے آ گئے |
| وہ جو پوشیدہ بھی سنتا ہے دلوں کی سسکیاں |
| ہم نے سوچا بھی نہ تھا ایسے سہارے آ گئے |
| عشقِ حق میں جب فنا کا ذائقہ چکھ ہی لیا |
| رنگِ ہستی میں عجب نُوری اُجالے آ گئے |
| اس کے دربارِ جلالت میں لئے رحمت کی آس |
| کانپتے سہمے ہوئے سب کرموں والے آگئے |
| میں نے چاہا تھا فقط اس کو کسی کو کیا خبر |
| اس محبت میں مگر سارے زمانے آ گئے |
| وہ کریم ایسا ہے دے جو وصل کی دولت نواز |
| میرے حصّے میں بھی وہ لمحے سنہرے آ گئے |
| اس کی عظمت نے جھکا دی ہر انا ہر خود سری |
| اس کی قربت کے مگر دل کو اشارے آ گئے |
| ہے یقیں طارق وہی ربِّ جلیل اور وہ کریم |
| نام اُس کا لے کے سب رعب و دلاسے آ گئے |
معلومات