یہ عید ایسی بہار لائے جو تیرے دل کو نہال کر دے
خدا کی رحمت عطا ہو تجھ کو مقام تیرا بحال کر دے
دوام پائے وہ مسکراہٹ لبوں پہ تیرے دکھائی دے جو
نوید جنّت کی لانے والے خدا ترے ماہ و سال کر دے
دعا یہ موسٰی نے کی بھلا کیوں یہ سوچ کر شکر کر رہا ہوں
کہ لے کے مجھ سے مری نبوت مجھے محمد کی آل کر دے
میں تیری سیرت کا جلوہ دیکھوں تو اور تیرے قریب آؤں
قریب آؤں تو حسن تیرا بھی دور جانا محال کر دے
کوئی تو ہے تجھ میں بات ایسی کرامتوں کی صفات جیسی
کہ جس پہ تیری نظر پڑے اس کا ذرّہ ذرّہ جمال کر دے
نہ تیرے جیسا عمل کسی کا نہ علم ہی میں مقابلہ ہو
نہ گفتگو میں ہو کوئی ثانی خدا تجھے بے مثال کر دے
تجھے بھی طارق اگر ہے خواہش کہ جانتی ہو تجھے بھی دنیا
تجھے بھی دنیا ٹھہر کے دیکھے تُو ایسا کوئی کمال کر دے

0