نےَ تخت و تاج نہ لشکر ہے تاجدار وہی
ہر اک نمود کے پردے میں آشکار وہی
زمانہ جس کو سمجھتا ہے اختیار اپنا
ہر ایک امر کا باطن میں اختیار وہی
میں خاک ہو کے بھی ڈھونڈوں تو کس کو ڈھونڈوں گا
مری فنا کے پسِ پردہ برقرار وہی
جو چھین لے تو سلاطیں کو بے وقار کرے
اگر وہ چاہے تو ذرّے کو دے وقار وہی
یہ ملک و مال یہ اسباب سب امانت ہیں
چلا رہا ہے زمانے کا کارو بار وہی
ہر ایک شے کا مقدّر ہے لوٹ جانا ادھر
ہر اک سفر کا ازل سے ہی انتظار وہی
نفیٔ ذات میں جب بھی کبھی اترتا ہوں
مرے وجود کے اندر ہو تابدار وہی
نہ ابتدا سے جدا ہے نہ انتہا سے الگ
ہر ایک دَور میں ہو جلوۂ بہار وہی
یہ کائنات یہ املاک بحر و بر سارے
سبھی کا مالک و وارث اموز گار وہی
اسیرِ وہم نہ طارق تجھے کہے کوئی
ہر ایک شان سے بڑھ کر ہے شان دار وہی

0
3