دلوں میں پیدا ہو جو اضطرار سنتا ہے
پکارے درد سے کوئی پُکار سنتا ہے
نہ لب ہلے نہ نظر نے کوئی صدا دی ہو
وہ دل کی دھڑکنوں کا سب شمار سنتا ہے
میں عشق کہہ کے پکاروں وہ حق سمجھ جائے
مجاز میں بھی حقیقت ہزار سنتا ہے
اندھیری شب میں اگر خوف جاگ جائے تو
وہ میرے سانس کا بھی انتشار سنتا ہے
قدم قدم پہ ہے موجود سایۂ ایماں
اسے پکارو اگر بار بار سنتا ہے
نہ دور ہے نہ وہ غافِل نہ بے خبر ہرگز
وہ دل شکستوں کا بھی حالِ زار سنتا ہے
جو اشک آنکھ سے گرتے ہیں صد خموشی سے
چھپے جو درد ہوں اِن میں ہزار سنتا ہے
نہ شکل دیکھتا ہے اور نہ مال و زر کوئی
وہ درد مند کی آہِ فِگار سنتا ہے
جو مانگنے سے بھی پہلے دیا ہو دل ہو قبول
ہے اِس کا نیّتوں پر انحصار سنتا ہے
یقیں ہے مجھ کو بھی طارِق ہر ایک بندے کو
جواب دیتا ہے کہہ کر “پُکار “ سنتا ہے

0
3