| ازل سے زندہ ابد تک قیام ہے اُس کا |
| ہر ایک دَور زمان و مکاں غلام اس کا |
| نہ اس پہ موت کا سایہ نہ ہے زوال اُس کو |
| سماء و ارض پہ غلبہ رہے مدام اس کا |
| ہر ایک شے کو فنا ہے رہے گا وہ باقی |
| یہ عقل کا ہے تقاضا کہ ہو دوام اُس کا |
| زمیں ہو یا کہ فلک سب اسی کے تابع ہیں |
| اسی کے ہاتھ سے قائم ہے انتظام اُس کا |
| بکھر ہی جائے توجّہ نہ ہو اگر اُس کی |
| کہ ذرّے ذرّے کی گردش میں اہتمام اُس کا |
| گرے جو تھام لے اس کو وہ دستِ رحمت سے |
| ہر ایک ٹوٹتے دل کی پکار نام اُس کا |
| اندھیری رات میں بھیجے امید کا تارا |
| دلوں کے واسطے روشن امام ہے اُس کا |
| جبیں جو خاک پہ رکھتے ہیں اُس کو پاتے ہیں |
| کہ ہر مقام سے اعلٰی مقام ہے اُس کا |
| جو مر رہے ہوں گناہوں کے بوجھ سے طارق |
| ملے حیات اُسی سے پیام ہے اُس کا |
معلومات