| مل بھی سکتے ہیں سمندر کے کنارے جاناں |
| منتظر ہم بھی تو رہتے ہیں تمہارے جاناں |
| تم سے بچھڑے ہیں تو جینا نہیں آیا اب تک |
| زندگی گزری ہے یادوں کے سہارے جاناں |
| ڈال کر پہلی نظر تم پہ جو پہلو میں اُٹھا |
| ہم ابھی تک ہیں اسی درد کے مارے جاناں |
| نیند نے آنکھ مچولی کبھی کھیلی ہم سے |
| کتنی ہی بار گنے ہم نے ستارے جاناں |
| بِن تمہارے نہ کٹی ایک بھی شب چین کے ساتھ |
| یاد کر کے تمہیں دن کاٹے ہیں سارے جاناں |
| میرے احساس کو مہکائے تمہاری خوشبو |
| باغ میں گل بھی ترا نام پکارے جاناں |
| میں نے ہر خواب میں بس تیری ہی صورت دیکھی |
| کیوں سمجھ پائے نہ آنکھوں کے اشارے جاناں |
| دل جو دھڑکے تو فقط نام تمہارا لے کر |
| سانس لیتے ہیں تو لیتے ہیں تمہارے جاناں |
| ہم محبّت کے سمندر کے کنارے تو نہیں |
| کیوں نہیں وصل مقدّر میں ہمارے جاناں |
| عمر بھر وصل کی خواہش لئے تڑپے طارق |
| دل اگر ہارے تو ہمّت نہیں ہارے جاناں |
| ڈاکٹر طارق انور باجوہ لندن |
معلومات