| پھر کوئی حادثہ نہ ہو جائے |
| پیار کی ابتدا نہ ہو جائے |
| وہ گلی ، شہر چھوڑ بیٹھا ہوں |
| پھر ترا سامنا نہ ہو جائے |
| سادہ دل کی ہو آرزو پوری |
| عشق کی انتہا نہ ہو جائے |
| بند رکھتا ہوں دل کا دروازہ |
| پھر کوئی بت خدا نہ ہو جائے |
| عقل غالب رہے کہاں دل پر |
| دل کہیں رہنما نہ ہو جائے |
| زخم مائل بہ اندمال ہے اب |
| ڈر رہا ہوں شفا نہ ہو جائے |
| سوچ قابو میں کب رہی طارِقؔ |
| حشر دل میں بپا نہ ہو جائے |
معلومات