دل نے جو خامُشی سے ہی تجھ سے مکالمہ کیا
لفظ تو کم تھے پڑ گئے معنی نے فیصلہ کیا
رات کے وقت روشنی دھیمی جو پڑ گئی بہت
پیچھا تو خوف نے کیا دل نے تھا حوصلہ کیا
درد حدود سے بڑھا دامنِ شکر تھام کر
اشکو ں نے حق دعا کا پر خوب تھا پھر ادا کیا
راہ تو خاردار تھی روکے نہیں قدم مگر
درد تجھے بنا لیا زخموں کو راستہ کِیا
دنیا سے ہم نے سب خبر دل کی الگ رکھی تھی پر
دنیا کو یہ گلہ رہا کیوں نہ الگ خدا کیا
جو بھی ملا ہے وہ عطا جو نہ ملا کرَم ہُوا
طارق جو اس قدَر ملا شکر بھی ہم نے کیا کِیا

0
4