| ہر سانس میں رکھے جو ہمیشہ حصار میں |
| وہ اَلحَفِیظ ہی تو بچاتا ہے غار میں |
| گر ڈگمگا بھی جاؤں تو گرنے نہ دے کبھی |
| اک ہاتھ ہے جو تھامے مجھے ہر غبار میں |
| میں تُند خُو ہوں پھر بھی بگڑتا نہیں کبھی |
| وہ اَلرَّفِیق ہے مرا ہر رہگزار میں |
| جل جاؤں آگ میں نہ کہیں فکر ہے اُسے |
| بارش جو بھیجے اس کے ہے یہ اختیار میں |
| دنیا کے شور میں بھی سکوں ڈھونڈتا ہوں میں |
| اکثر وہ یاد آئے مجھے اضطرار میں |
| ہر زخم پر رکھے ہے وہ مرہم کا ایک لمس |
| ہوتی ہے اس کی ایسی رفاقت فگار میں |
| میں خوف کے اندھیرے میں تنہا نہیں ہوا |
| اک نور سا ہو ساتھ مرے ہر دیار میں |
| رکھتا ہے وہ حساب گو مہلت بھی دے بہت |
| کیسا توازن اس نے رکھا اقتدار میں |
| کھو کر بھی خود کو پا لیا اس کی طلب جو کی |
| یہ معجزہ ہوا ہے مرے اعتبار میں |
| طارق سمجھ لیا ہے درندے ہیں ہر طرف |
| محفوظ ہم ہیں ایک فقط اس کے دار میں |
معلومات