| وُسعتیں دیتا ہے ، حکمت سے تو ہر آن وہی |
| حِکمتوں والا وہی ، وسعتِ ایمان وہی |
| وسعتِ ذات اُسی کی ہے محیط عالم پر |
| غور کرتا ہے جو پا لیتا ہے ، فیضان وہی |
| ہے عطا اُس کی سبھی حکمتِ میزان کے ساتھ |
| جو توازن ہے وہ کر دیتا ہے سب دان وہی |
| میں سمجھ پاؤں نہ پاؤں مری اوقات ہی کیا |
| ہر مقدّر میں جُدا لکھتا ہے فرمان وہی |
| میری ٹھوکر نے دکھائی مجھے آگے کی سبیل |
| راستہ بن گئی جب لغزشِ انجان وہی |
| عشق اس سے ہو تو وحشت بھی سکوں دیتی ہے |
| بے قراری میں ہے اک امن کا سامان وہی |
| رات خاموشی میں کی جب بھی دعا آیا جواب |
| عُقدے گر دل کے کھُلیں اُس کی ہے پہچان وہی |
| وہ اگر روک بھی لے اُس کا کرم ہے مجھ پر |
| میری محرومی بھی گر ہو تو ہے احسان وہی |
| میں نے چاہا بھی نہیں پھر بھی نوازا اُس نے |
| میری خواہش سے بڑھا دے جو ہے امکان وہی |
| اس نے ہی ذوقِ فنا میں ہے رکھا رازِ بقا |
| مٹ کے پانے کا بھی سکھلاتا ہے عرفان وہی |
معلومات