“قلزمِ الفت میں لہروں کی روانی دیکھ کر” |
اس کے گھر ملنے گئے اس کی کہانی دیکھ کر |
کر کے ہجرت علم کا ابدان کے طالب تھا وہ |
والدہ کے دل میں یہ خواہش پرانی دیکھ کر |
اُس کو والد نے دیا خطّاطیٔ قرآں کا عشق |
اور سخن کے شوق کو شہ دی روانی دیکھ کر |
ابتدائی شعر سُن کر گو ہوئے محظوظ سب |
شاعروں نے داد دی اُس کی جوانی دیکھ کر |
نیم سے برطانوی شاعر کی سن کر گفتگو |
محوِ حیرت تھے زباں دانی روانی دیکھ کر |
دیکھ کر انداز اُس کا یاد آ ئے لکھنؤ |
یا اثر دلّی کا ہو گا راجدھانی دیکھ کر |
فارسی آبا تھے اور ہے مادری اردو زباں |
رشک آتا ہے عرب لہجہ زبانی دیکھ کر |
اُس کو خطّاطی ملی ورثے میں اُس پر شاعری |
کی دعا ان کے لئے یہ کامرانی دیکھ کر |
ہے اثر دل پر نظر آئے ادب آداب سب |
ان کے گھر میں عاجزی کی حکمرانی دیکھ کر |
ہم نے مل کر کی دعا طارق بڑھے پھولے پھلے |
حوصلہ شازین پائے قدر دانی دیکھ کر |
معلومات