ہے سخن میں یوں تو اک دفتر چھپا اسرار کا
ڈھنگ سرور کی طرح آتا ہے کب اظہار کا
آپ کے اشعار نیکوں کے لئے ہیں رہنما
بن گئے ہیں اک نمائندہ سبھی ابرار کا
آپ کے الفاظ بن جاتے ہیں سب تیر و تفنگ
حشر کرتے ہیں جو حملہ ہو کبھی اشرار کا
آپ ہی ثابت کریں گے جان و دل سب وقف ہیں
امتحاں ہو گا کبھی جب آپ کے اقرار کا
خوں لگا کر ہو شہیدوں میں ہمارا بھی شمار
مل گیا موقع تری تعریف میں اشعار کا
انکساری عاجزی ہیں خلق تیرے سب بلند
کچھ نظر آتا نہیں رُخ ذات کے پندار کا
ایک سلطاں کے ہوئے طارق ہیں سب مل کر نصیر
حق ادا کرتے قلم سے ہیں سبھی انصار کا

0
4