سفید صبح کے جو انتظار میں گزری
“سیاہ رات غموں کے شمار میں گزری”
یہ دل تو درد کا عادی تھا کب سے کیا کہیے
سحر ہوئی جو مرے دل فگار میں گزری
میں اپنے زخم گناتا رہا ہوں خلوت میں
یہ عمر جیسے شبِ بےقرار میں گزری
کبھی سکوت نے سمجھا دیا حقیقت کو
کبھی صدا تری آہ و پکار میں گزری
نہ چاند ساتھ تھا شب بھر نہ نیند پوری ہوئی
کہ رات ہجر کے مشکل مدار میں گزری
مری خطا تھی کہ میں خود سے دور دور رہا
تری نظر مری اصلاحِ کار میں گزری
میں ٹوٹ کر بھی بکھرنے نہ پایا اس کے بعد
جو ایک سانس ترے اعتبار میں گزری
سکونِ دل کی گھڑی مختصر سہی لیکن
تمام عمر سے بڑھ کر قرار میں گزری
وہ دیکھتے ہیں مجھے مطمئن تو پوچھتے ہیں
سکوں میں زندگی کس کے حصار میں گزری
نہیں دوام اندھیرے کو جان لے طارق
سفر کی رات تو روشن منار میں گزری

0
4