دل نے جب نامِ کرم لب پہ سجا رکھا ہے
درد نے بھی ادب آداب نبھا رکھا ہے
میں جو ٹوٹا تو اسی ہاتھ نے جوڑا مجھ کو
جس نے ہر عیب پہ پردہ بھی گرا رکھا ہے
راہ میں خوف نہیں، سایۂ رحمت رکھا
اس نے بے نام مسافر کو چلا رکھا ہے
جبر کی دھوپ میں جلتے ہوئے لمحوں کے لیے
صبر کی چھاؤں میں وعدہ بھی نبھا رکھا ہے
میں نے مانگا بھی نہیں پھر بھی عطا اس نے کیا
یوں مجھے بندۂِ رحمان بنا رکھا ہے
میرے حق میں ہے گواہی مرے حالات نے دی
مجھ پہ دشمن نے بھی الزام ِ وفا رکھا ہے
دل کی ویرانی میں اُتری ہے سکوں کی بارش
جب سے اس نام کو سینے میں بسا رکھا ہے
میں ہوں محتاجِ دعا، وہ ہے غنی اپنی جگہ
لب پہ ہر حال میں ہی شکر سجا رکھا ہے
کون سمجھے گا مرے زخم کی گہرائی کو
وہ مجھے دے گا شفا ، اس کو چُھپا رکھا ہے
میں فنا ہو کے بھی طارقؔ ہوں جو باقی ، اُس نے
میرے مٹنے میں مجھے خود سے ملا رکھا ہے

0
8