| مری آنکھوں میں جب نورِ یقیں تھا |
| مرا بھی تختِ دل عرشِ بریں تھا |
| مری خاموشیوں میں عشق تیرا |
| مرے اِخلاص کا ماہِ مُبیں تھا |
| کڑی تھی دھوپ جس میں ایک سایہ |
| مجھے معلوم ہے کتنا حسیں تھا |
| جسے چاہا تجھے وہ مل گیا تو |
| مجھے کہنا تجھے بس آفریں تھا |
| تری قربت نے بخشا مجھ کو رتبہ |
| فلک کا تُو زمیں کا میں مکیں تھا |
| یہ طارق عشق نے ہے بھید کھولا |
| زمیں پر چاند میرا مہ جبیں تھا |
معلومات