| جہاں چل رہی ہوں مخالف ہوائیں |
| وہاں ہم وفاؤں کے نغمے سنائیں |
| ہوئیں زہر آلود اتنی فضائیں |
| کہ اب سانس لینے سے بھی خوف کھائیں |
| ہیں بیکار جنگل میں دیں جو صدائیں |
| ہوئے ہیں جو وحشی کہاں لوٹ آئیں |
| ترے نیک بندے کہاں اور جائیں |
| ترے روبرو کر رہے ہیں دعائیں |
| خدایا یہ سب دُور کر دے بلائیں |
| وطن کو مرے چیل کوّے نہ کھائیں |
معلومات