| ہوا نے آ کے کہا ہے کہ اب ٹھہر جاؤ |
| دھڑکتے دل سے سُنا ہے کہ اب ٹھہر جاؤ |
| یہ چاندنی ہے کہ آنچل کسی تبسّم کا |
| کہ نور دل پہ گرا ہے کہ اب ٹھہر جاؤ |
| محبتوں کی صدا کا عجب تاثّر ہے |
| یہی تو ذکر چلا ہے کہ اب ٹھہر جاؤ |
| میں اپنی ذات سے نکلا تو تُم ملے مجھ کو |
| تمہی نے مجھ سے کہا ہے کہ اب ٹھہر جاؤ |
| نہ پوچھو شورِ زمانہ سے کیا ہوا حاصل |
| سکوت دل نے کیا ہے کہ اب ٹھہر جاؤ |
| یہ عشق بھی تو عبادت ہی کی ادا نکلا |
| جھکے تو آگے کھڑا ہے کہ اب ٹھہر جاؤ |
| تری نگاہ میں حیات کا ہے مقصد کیا |
| سوال اُس نے کیا ہے کہ اب ٹھہر جاؤ |
| میں دو جہاں کی تھکن لے کے آج لوٹا تو |
| کہاں یہ در پہ لکھا ہے کہ اب ٹھہر جاؤ |
| دیا جلا ہے تو زد میں ہَوا کی آئے گا |
| پہ پھونک سے نہ بجھا ہے کہ اب ٹھہر جاؤ |
معلومات