Circle Image

Muhammad Naseem Ashraf

@NaseemSaifi

مالا کے حلقے میں ہوتا ہے اک امام
باقی ہر دانے کا اپنا ہے اک مقام
شمس ہے شمع سیارے ہیں سب محب
خلقوں پر مبنی ہے سارا شمسی نظام

0
2
حسن ہے ترتیب میں
حسن ہے تہذیب میں
وقت لاتا ہے بدل
حسن کی ترکیب میں
کچھ خدائی قوتیں
ہیں مگن تحریک میں

14
خدا کا فضل ہو تو پھر مزہ جینے میں آتا ہے
مئے عشقِ حقیقی کا مزہ پینے میں آتا ہے
خدا کا نور کرتا ہے منور دل کے گوشوں کو
نظر پھر صبغت اللہ دل کے آئینے میں آتا ہے

0
2
قرآن کی تفسیر ہے اقبال کا پیغام
اقبال کے اشعار ہیں شمشیر اسلام
مٹ جائیں گے اسلام کے دشمن سبھی آخر
زندہ رہے گا حشر تک اقبال ترا نام

0
اے خدا مری ہے دلی دعا
میرے دل میں اپنی تو لو لگا
تیرے ذکر سے دل چمک اٹھے
تیرا نور ہو میرا رہنما
عشق ہو مجھے تیرے قرب سے
کوئی دل میں نے ہو ترے سوا

0
16
صیہونیت کے پردے میں ہے عالمِ عیسائیت
پیچھےصلیبی جنگوں کے ہے اصل میں پاپائیت
پہنی ہوئی ہیں کھالیں بھیڑوں کی سبھی گرگوں نے اب
مظلومیت کے بھیس میں ہے سنگدل انسانیت

0
4
ماضی ایک خواب ہے
کل کا دن سراب ہے
رہتا ہے جو حال میں
ہوتا کامیاب ہے

0
5
رحمتوں کے در کی چابی ہے دعا
جو پکارے اس کی سنتا ہے خدا
دھیر سے مایوس مت ہونا کبھی
وقت آنے پر وہ کرتا ہے عطا

0
9
فیض کعبے سے آتا ہے دل میں مرے
ہو کے روضے سے آتا ہے دل میں مرے
فیض روضے سے پھر مرشدِ پاک کے
ہو کے سینے سے آتا ہے دل میں مرے
نسبتیں ہیں مری راستہ فیض کا
جو وسیلے سے آتا ہے دل میں مرے

0
4
اے خدا تو مجھے اپنا جلوہ دکھا
اپنے دیدار سے پیاس دل کی بجھا
لن ترانی ہے فرمان تیرا بجا
جاگتے نے سہی خواب میں ہی تو آ

0
8
بھارت کے آسماں پر شاہینوں کا تھا غلبہ
بھارت کی سرزمیں پر رافیلوں کا تھا ملبہ
اڑتے رہیں گے شاہیں گرتے رہیں گے کوے
کشمیر پر ہے جب تک ہندوستاں کا قبضہ

0
11
سکرول کرتے کرتے اکتا گیا ہوں یارب
رِیلوں کو دیکھ کر میں تنگ آ گیا ہوں یارب
کیا لطف دیکھنے کا جب دل نہ دیکھتا ہو
آنکھیں گھما گھما کر چکرا گیا ہوں یارب

0
6
حکیمِ زماں سے لو اچھی دوا
کرو گڑگڑا کر خدا سے دعا
دوا اور دعا میں ہوا گر اثر
تو اللہ بھی دے گا مکمل شفا

0
9
فیس بک رات بھر سونے نہیں دیتی
نیند پوری کبھی ہونے نہیں دیتی
دنیا کے غم میں رکھتی ہے مگن لیکن
اللہ کی یاد میں رونے نہیں دیتی

0
1
انسانوں پر فرض ہے حج رب کے لیے
کعبے کا در کھلا رکھیے سب کے لیے
آنے دو جو آ سکتے ہیں رب کی طرف
اچھا ہے یہ ترویجِ مذہب کے لیے

29
چمکا رہے ہیں دنیا کو چین کے ستارے
روشن دلوں کو کرتے ہیں دین کے ستارے

0
26
شب ہے بنائی رب نے آرام کے لئے
دن ہے بنایا رب نے کچھ کام کے لئے
خالق کی بندگی بھی لازم ہے رات دن
شام و سحر ہیں اللہ کے نام کے لئے

0
15
جو اپنے لئے پسند ہے سب کے لئے کرو
مساوات سب کے درمیاں رب کے لئے کرو

0
28
مرے ماں باپ نے جیسے مجھے بچپن میں پالا تھا
اسی شفقت سے ان پر بھی الہی رحم فرمانا

0
22
اسلام نے بنایا قوموں کو ایک امت
ایمان کی بنا پر دنیا کو دی اخوت
مغرب کے فلسفے نے قوموں میں پھوٹ ڈالی
رنگ و زباں سے دنیا میں پیدا کی تفاوت

0
24
ہزاروں ہیں تارے کھلے آسماں میں
نہ گھبرا کہ تنہا نہیں تو جہاں میں
سفر کر رہے ہیں سبھی میری جانب
مسافر ہیں سب اس رواں کارواں میں
کئی لوگ غفلت سے بھٹکے ہیں رہ سے
بھلا کر مجھے کھو گئے ہیں بتاں میں

0
59
زندگی میں نفس کو رکھے گا جو آگے
زندگی کی دوڑ میں رہے گا وہ پیچھے

0
20
جو اپنے رب سے ڈرتا ہے
گناہوں سے وہ بچتا ہے
جزا کی ہو جسے امید
وہ اچھے کام کرتا ہے

0
20
دنیا میں رائج ہے جنگل کا قانون
سب انسانی معاہدے ہو چکے ہیں مدفون
کمزوروں کا دنیا میں ہوتا ہے استحصال
ساہوکار لٹیرے بن چکے ہیں قارون

0
17
بہادر نہیں وہ جو غصہ دکھائے
بہادر ہے وہ خود پہ قابو جو پائے

0
22
محبوب ہو مجھے ہر اچھی کتاب یارب
ہر باب جس کا کھولے ذہنوں کے باب یارب

0
21
دنیا کی زندگانی متاعِ غرور ہے
سب کچھ یہیں پہ چھوڑ کے جانا ضرور ہے
لیکن خدا کے پارسا بندوں کو علم ہے
جنت میں زندگی کا حقیقی سرور ہے

0
22
مئے عرفاں پلانے کے لئے تیار ہے ساقی
اگر دل صاف ہو تو کھلتے ہیں اسرار آفاقی

0
1
خدا سے جو بھی ڈرتا ہے
وہ حق تلفی سے بچتا ہے
کسی کا حق تلف ہو تو
خدا انصاف کرتا ہے

0
2
کافی نہیں مکتب سنورنے کے لئے
بچوں کو گھر میں صاف درپن چاہیے

0
24
کافی نہیں ہے کرنا باہر کی صفائی
اللہ کی خاطر کرو اندر کی صفائی
پتھر کے صنم جب تک موجود ہوں اندر
ہوتی نہیں ہے تب تک مندر کی صفائی

0
21
مغرب ہو یا روس
دونوں ہیں منحوس
دونوں کے دنیا میں
پھیلے ہیں جاسوس
امن کے بارے میں
کرتے ہیں مایوس

0
11
زمین سجدوں کے واسطے ہے
خدا کے بندوں کے واسطے ہے
صنم سبھی منہ کے بل گرا دو
یہ جھکنے والوں کے واسطے ہے

0
34
جامِ جمشید ہوتا مرے پاس گر
ہر زمان و مکاں مجھ کو آتا نظر
دیکھ لیتا میں ماضی کو بھی حال میں
آنے والے سمے کی میں دیتا خبر

0
30
ولادت کے وقت بیٹی رحمت خدا کی ہے
وراثت کے وقت بیٹی زحمت خدا کی ہے

0
31
ساری قوم کے ہے نام
رہنما کا یہ پیغام
کرتے جاؤ صبح و شام
کام کام اور بس کام

0
27
پہچان یہی ہے اللہ کے ولی کی
کرتا ہے وہ طاعت اللہ کے نبیﷺ کی
اسلام کی دعوت دیتا ہے سبھی کو
وہ چاہتا ہے خیر و بھلائی سبھی کی

33
محمدِﷺ عربی ہیں مسیحاﺅں کے مسیحا
نہ کوئی آیا ہے اُن سا نہ کوئی آئے گا اُن سا

0
29
اس گھر کو آگ لگ گئی خاں کی زبان سے
کوئی گلہ نہیں ہے مجھے پاسبان سے

0
32
علم کی بدولت افضل ہے تو فرشتوں سے
بارگاہِ رب میں برتر نہیں تو رشتوں سے

0
29
إنما الاعمال بالنيات
مسجد کی بنیادوں میں ہے بیٹی کی وراثت
رب دیکھے گا نیت پہلے آخر میں عمارت

0
25
اللہ کا حکم
يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ ۚ
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ ایک بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے حصے کے برابر ہے ۔
سورہ نساء ۔ آیت ١١
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حصے ہیں مقرر سب وارثوں کے قرآں میں

0
36
دل میں ہو گر کھوٹ تو ہر نیکی ہے بیکار
نیت طے کرتی ہے قول و فعل کا معیار

0
28
ضروری ہے بہت یہ پاک دامانی کی مد میں
کہ ظاہر بھی ہو حد میں اور باطن بھی ہو حد میں

0
38
دل میں شمع جلائے رکھنا باہر بہت اندھیرا ہے
خدا کی رسی تھامے رکھنا گر طوفاں نے گھیرا ہے

0
31
بے شک اللہ ہی وارث ہے دونوں جہاں کی ہر شے کا
پر دنیا میں کچھ لوگوں نے خدا سمجھا ہے بیٹوں کو

0
29
کسی کا حق تلف ہو تو ازالہ کرنا پڑتا ہے
محض توبہ سے حق تلفی کا درماں ہو نہیں سکتا

0
35
دینِ اسلام کا سلسلہ ایک ہے
انبیاءؑ ہیں بہت پر خدا ایک ہے
بابا آدمؑ سے حضرت محمدﷺ تلک
انبیاءؑ کا فقط قافلہ ایک ہے
ہیں محمدﷺ خدا کے نبیؐ آخری
سب کا اب آخری رہنما ایک ہے

2
84
سب نے چلے جانا ہے
کھا لو جو بھی کھانا ہے
دنیا میں کسی نے بھی
واپس نہیں آنا ہے

0
ہتھکنڈا ہے مغرب کا نوبل پیس پرائز
لینا ہے تو مانو ان کی باتیں ناجائز
امن کے پردے کے پیچھے ہوتی ہے سیاست
جیتنے والے کو خود ہی کرتے ہیں یہ فائز

0
24
مشرق میں ہے ہندو مغرب میں مسلمان ہے
پردے میں ہے بنیا اور غاروں میں افغان ہے
دونوں کے مابین پاکستان کی خیر ہو
دونوں کے گٹھ جوڑ سے ہر کوئی خیران ہے

0
2
حکمتوں کا خزینہ ہے قرآن میں
زندگی کا قرینہ ہے قرآن میں
ڈوبنے سے بچاتا ہے طوفان میں
نوحؑ کا بھی سفینہ ہے قرآن میں
حرمتیں بھی سکھاتا ہے انسان کو
ذکرِ مکہ مدینہ ہے قرآن میں

0
74
آسان زندگی کو کرتے رہے سبھی
جنت کا نام لو تو کہتے ہیں پھر سہی
کھوئے ہوئے ہیں اکثر دنیا کی زندگی میں
یہ بھول کر کہ یاں سے جانا بھی ہے کبھی

0
کتنے اچھے وہ لوگ ہوتے ہیں
فکر اورں کی بھی جو کرتے ہیں
صرف اپنے ہی رشتوں کے سوا
درد غیروں کا بھی سمجھتے ہیں

0
32
چھوڑو نہ نیکیاں تم دنیا کے خوف سے
چھوڑو گناہ کرنا عقبیٰ کے خوف سے

0
29
صدر ٹرمپ کا موٹو ہے ماگا
خود کو سمجھتا ہے دنیا کا پاپا
قول و فعل کا بہت ہے کچا
پل میں ہے تولا پل میں ماشا

0
28
بے معنی ہے دنیا میں صداقت کی زبان
بیکار ہے دنیا میں لجاجت کی زبان
لوہا لوہے سے کاٹا جاتا ہے
ظالم کو سمجھ آتی ہے طاقت کی زبان

0
2
دل دھڑکتا رہا رات بھر نیند میں
سانس چلتا رہا رات بھر نیند میں
شاہیں بن کے میں اڑتا رہا خواب میں
کون سوتا رہا رات بھر نیند میں

0
حضورﷺ رحمت کامل ہیں دو جہاں کے لئے
زمیں کی جان ہیں اور نور آسماں کے لئے
اندھیرے ختم ہوئے آپﷺ کی ولادت سے
نویدِِ بادِ بہاراں ہیں ہر زماں کے لئے

0
مغرب میں شمس ڈھل رہا ہے
مشرق سے یہ پھر نکل رہا ہے
دن رات بدلتے رہتے ہیں یوں
دنیا کا پَہِیّا چل رہا ہے

0
1
ترے روضے پہ روز و شب ترے دیوانے آتے ہیں
جہاں پے نور ہوتا ہے وہیں پروانے آتے ہیں

0
32
اللہ کے دین کا سلسلہ ایک ہے
انبیاء ہیں بہت پر خدا ایک ہے
ایک ہی پیڑ ہے باغِ توحید میں
ڈالیاں ہیں بہت پر تنا ایک ہے

0
9
ہر کسی کی دنیا میں اپنی اک کہانی ہے
تو نے اپنی بپتا اوروں کو کیوں سنانی ہے
سب اٹھائے پھرتے ہیں اپنی لاش کندھوں پر
تیری لاش مردوں نے کیسے پھر اٹھانی ہے

0
حرم کے در و بام اور سب منارے
مزین ہیں اللہ اللہ سے سارے
حرم کے جو محراب ہیں ان کے اوپر
نظر آِئے اللہ کا اسمِ مطہر
حرم کے ستونوں پہ کندہ ہے اللہ
جدھر دیکھتا ہوں نظر آئے اللہ

0
2
جب مدینے کی یاد آتی ہے
مجھ کو ہر چیز بھول جاتی ہے
دل تڑپتا ہے ہجرِ سے میرا
یاد آقاﷺ کی جب ستاتی ہے

0
جو چل دیئے جہاں سے فراموش ہوگئے
رو دھو کے رشتہ دار بھی خاموش ہوگئے
مرنے کے بعد روح تو پرواز کر گئی
مٹی کے پتلے مٹی میں روپوش ہوگئے

28
کون روکے گا دنیا میں ظلم و ستم
مشکلیں کب فلسطیں کی ہونگی ختم
قید میں ہیں یہودی کی اہلِ غزہ
ہاتھ پر ہاتھ رکھے ہیں خاموش ہم
بھوکے پیاسے تڑپتے ہیں اہلِ غزہ
بچے ماؤں کی بانہوں میں دیتے ہیں دم

0
پڑھتے ہیں سب درود و سلام
ورد ہے سب کا یہ صبح و شام
بھیجتے ہیں نبیﷺ پر درود
اللہ بھی اور فرشتے تمام
مومنوں تم بھی بھیجو سلام
سب کی جانب ہے رب کا پیام

0
اپنا گھر ہے جنت اور دنیا ہے اک جنگل
اپنے گھر سے باہر کرواتے ہیں یہ دنگل
فرعونِ زماں ہیں ساری طاقت ور قومیں
سودی قرضے ان کے غلامی کے ہیں سنگل

0
42
یہودی کی خصلت میں ہے دھوکے بازی
خدا سے بھی کرتا ہے یہ عہد شکنی
کئی بار بخشا ہے اللہ نے اس کو
مگر پھر یہ کرتا ہے وعدہ خلافی
بہت سے نبیؑ آئے پیغام لے کر
صحیفوں میں ملتی ہے اس کی گواہی

119
تو ہے خالقِ ارض و سماں یارب
تو ہے مالکِ کون و مکاں یارب
تو اکیلا مرا رب ہے خدایا
لاشریک تو نے اپنا بنایا
تیرے واسطے ہر حمد و ثنا ہے
گردوں کو تو نے کیا خوب سجایا

0
7
تیرے در پہ میں خاضر ہوں خدایا
لا شریک تو نے اپنا بنایا
حمد و نعمتیں سب تیرے لیے ہیں
تو ہی مالک و مولا ہے ہمارا

0
بنا کر مجھے اپنا بندہ الہی
ہے کی تونے مجھ پر بڑی مہربانی
بچایا ہے مجھ کو تری بندگی نے
وگرنہ تھی ہونی مکمل تباہی

0
31
میں ہوں اکیلا ترے جہاں میں
خودی کو ڈھونڈوں ترے مکاں میں
خودی کا احساس کیوں ہے مجھ ہو
ہیں گو کہ تارے بھی آسماں میں

0
35
فوج کی ہر صف ایک سیسہ پلائی دیوار ہے
جیت یہ پاکستان کی ہند پے کاری وار ہے
اللہ کی خاطر لڑتا ہے مسلماں ہر میدان میں
کفر سے ہر اک جنگ حق اور باطل کی وار ہے

0
155
غزوہِ ہند جاری رہے گا
ہند سے کفر کے خاتمے تک
جنگِِ آزادی جاری رہے گی
ہند سے جبر کے خاتمے تک
شمعِ امید جلتی رہے گی
یاس کے ابر کے خاتمے تک

0
48
فطرت کے راز بے جاں ذروں میں تھے نہاں
قدرت نے روح سے جو سب کر دیے عیاں
اسباب پیدا کرکے سب کے لیے یہاں
دنیا کو پھر بنایا سب کے لیے مکاں
پہلے زمیں کو رب نے آب و ہوا دیے
پھر زندگی کے رب نے دیپک جلا دیے

0
3
گردوں میں مسافت سے تھکتے نہیں ہیں تارے
تھک کر زمیں کے اوپر گرتے نہیں ہیں تارے
معلوم نہیں ان کو منزل ملے گی کب پر
رکھتے ہیں سفر جاری رکتے نہیں ہیں تارے
جتنی بھی ہو تاریکی پروا نہیں یہ کرتے
ظلمت کدے سے بالکل ڈرتے نہیں ہیں تارے

0
77
بہاریں گلستاں میں آتی رہیں
حسیں رنگ اپنے دکھاتی رہیں
نئے پیڑ پودے اگاتی رہیں
چمن میں حسیں گل کھلاتی رہیں
کہیں بلبلیں گیت گاتی رہیں
کہیں طوطیاں چہچہاتی رہیں

0
4
محمد رہبرِ کامل ہیں جگ میں روزِ محشر تک
انہی کا راستہ جاتا ہے سیدھا اللہ کے گھر تک
قبیلوں اور قوموں کو بنایا آپﷺ نے امت
پیامِ جاوداں توحیدِ کا پہنچے گا ہر در تک

0
سخت ہوتی بہت ہے خدا کی پکڑ
جو ہے کرتی ختم ہر قسم کی اکڑ
پیڑ جھکتا نہیں ہے جو طوفان میں
ٹوٹ جاتا ہے وہ چاہے گہری ہو جڑ

0
43
بیٹوں نے ورثے کی کی ہے بندر بانٹ
بیٹی نے حق مانگا تو ماں نے دیا ڈانٹ
عورت ہی عورت کا جب ساتھ نہ دے
تو بیٹے کر لیتے ہیں ساری کانٹ چھانٹ

0
اے خدا اےخدا سن ہماری دعا
ہم گئے ہیں بھٹک ہم کو رستہ دکھا
تیری رحمت کے ہم سب طلب گار ہیں
غفلتوں کی ہمیں اور نہ دے سزا

0
لڑ رہا ہوں جنگ میں ایک انفرادی طور پر
جسم کے امراض سے لڑ تا ہوں ذاتی طور پر
بچوں کی تعلیم کی سوچیں بھی ہیں کچھ ذہن میں
لڑ رہا ہوں جنگ میں اک خاندانی طور پر
قوم کی حالت بھی بہتر چاہتا ہوں کرنا میں
لڑ رہا ہوں جنگ میں ایک اجتماعی طور پر

0
کماتا ہے جو ہاتھ سے کرکے محنت
بہت رزق میں اس کے ہوتی ہے برکت
خدا کو ہیں پیارے جو کرتے ہیں محنت
حبیبِﷺ خدا نے بھی کی ہے تجارت

0
قدر کی شب ہوا تھا نزولِِ وحی
جب تھے غارِ حرا میں خدا کے نبیﷺ
آئے جبریل قرآن کے ساتھ جب
چھٹ گئیں ظلمتیں ہو گئی روشنی
پھیلیں قرآں کی کرنیں جہاں بھر میں پھر
جس سے سب کو ہوئی اللہ کی آگہی

0
1
اُڑَن قالین ہے جائے نماز
نمازی کا ہے روحانی جہاز
عطا کرتے ہیں بندے کو اڑان
خدا کے سامنے عجز و نیاز

0
60
عقل کہتی ہے کہ عیش و مستی کر
عشق کہتا ہے کہ ذکرِ ربی کر
بندگی کرتی تقاضا ذکر کا
ذکر سے حاصل سکونِ قلبی کر
زندگی کرتی تقاضا فکر کا
فکر سے زندہ تو اپنی ہستی کر

0
5
شیطاں بھی تیرے پاس ہے رحماں بھی تیرے پاس
مشکل میں ایک رستہ ہے آساں بھی تیرے پاس
ظلمت میں کھو نہ جانا جہانِ خراب میں
روشن خدا کا نور ہے قرآں بھی تیرے پاس

0
ایمان جنکے دل میں ہے جنت ہے انکے نام
دوزخ میں ہوں گے وہ جو گنہ کے کریں گے کام
جنت نہیں ہے خواب نہ دوزخ ہے کوئی خواب
جنت بھی اک مقام ہے دوزخ بھی اک مقام

0
1
دنیا کی زندگی ہے سودا غرور کا
مثلِ سراب یہ اک دھوکہ ہے دور کا
دنیا میں کر اجالا اپنے عمل سے تو
ہر نیک کام تیرا دیپک ہے نور کا
جنت کے باغ ہیں یہ نعتوں کی محفلیں
محفل میں لے مزہ تو ناجی سرور کا

0
4
کام پہ بس تم کام کرو
وقفے میں آرام کرو
محنت کرکے دنیا میں
روشن اپنا نام کرو
اپنے گزارے کی خاطر
جمع ضروری دام کرو

96
کبھی اولے فلک سے اور کبھی کچھ آب آتا ہے
کبھی آندھی کبھی طوفاں کبھی سیلاب آتا ہے
کہیں پر زلزلے کچھ بستیاں برباد کرتے ہیں
کبھی آتش کبھی بجلی کبھی گرداب آتا ہے

0
1
حیوانوں کے حق کی یہ کرتے ہیں بات
انسانوں کو پر مارتے ہیں یہ لات
مغرب میں ہیں روشن سبھی نئے شہر
ہے انکے دلوں میں ابھی تلک رات

0
43
عورت ہے دنیا کا سب سے حسیں گل
یہ کہتا ہے مجھ سے میرے دل کا بلبل
دنیا میں پھیلی ہے خوشبو اسی کی
ہیں پرکشش اس کے گیسوئے سنبل

0
رسولِﷺ خدا رحمتِ دو جہاں ہیں
چرندوں پرندوں پہ بھی مہرباں ہیں
سبھی کی وہ کرتے ہیں حاجت روائی
سمجھتے ہیں ان کو بھی جو بے زباں ہیں

0
4
عصیاں سے آج کی شب ملتی برات ہے
دوزخ سے آج کی شب ملتی نجات ہے
اٹھ ذکر کر اے بندے دستِ دعا اٹھا
مانگو کہ سن رہا رب ہر کس کی بات ہے
تو جاگ آج کی شب اور بھاگ بھی جگا
قسمت تری بدلنے والی یہ رات ہے

0
3
مرغِ سحر کی بانگ سے خالی ہے یہ فضا
یورپ کی مسجدوں سے بھی آتی نہیں صدا
گھنٹی نہیں اٹھائے گی غفلت کی نیند سے
یہ فرض مسلماں کی اذاں کرتی ہے ادا

0
35
موت سے بھی نہ ہوگا ترا خاتمہ
زندہ باقی رہے گی تری آتما
روح پھر تن میں آئے گی محشر کے دن
پھر ترے رب سے ہوگا ترا سامنا

0
42
حرم کے در و بام اور سب منارے
مزین ہیں اسمائے حسنئ سے سارے
حرم کے جو محراب ہیں ان کے اوپر
نظر آِئے اللہ کا اسمِ برتر
حرم کے ستونوں پہ کندہ ہے اللہ
جدھر دیکھتا ہوں نظر آئے اللہ

0
نیکی کر اور نیٹ پہ ڈال
یہ ہے ہمارے عمل کا حال
کرتے ہیں لوگ نمائش خوب
اللہ کی رہ میں دے کر مال
ہیرو ہیں جو ٹک ٹاک پہ وہ
لگتے ہیں شکلوں سے نقال

121
جنہیں امید ہوتی ہے
انہی کو دید ہوتی ہے
حضوری جن کو مل جائے
انہی کی عید ہوتی ہے

45
نہ میں خواب ہوں نہ خیال ہوں
نہ میں دوسروں کی مثال ہوں
خدا کے وسیع جہان میں
میں خودی حقیقتِ حال ہوں

0
52
دنیا میں خدا کا بندہ بن
روشن کر نور سے اپنا من
آگے جائے گا تیرا عمل
یہیں رہ جائے گا سارہ دھن
کوئی صدقہ جاریہ دیتا جا
باقی نہ رہے گا خاکی تن

0
1
فرشتے جب دکھائیں گے حسیں چہرہ محمدﷺ کا
تو ہر گوشہ ہو جائے گا منور میری مَرقَد کا
فرشتے پوچھیں گے جب کچھ مرے آقاﷺ کے بارے میں
تو اٹھ کر میں کروں گا پیش تحفہ نعتِ احمدﷺ کا

59
مقابل ترے بس یہودی نہیں ہے
نصارا کا مرکز بھی ہے یہ فلسطین
خدا ایک ہے پر ہیں راہیں علیحدہ
مقدس زمیں کے طلب گار ہیں تین
حوا اور آدم کی اولاد ہیں سب
مذاہب بہت ہیں مگر ایک ہے دین

48
مسلماں کی رہائی ہے محمدﷺ کی غلامی میں
زمین و آسماں کی وسعتیں ہیں اس رہائی میں
غلامانِ محمدﷺ سے منور ہے جہاں سارا
چمک تاروں سے بڑھ کے ہے نبیﷺ کے ہر صحابی میں

47
اذاں کا ہے آغاز اللہ اکبر
ندائے ہے ممتاز اللہ اکبر
سکوتِ شبستاں ختم کرنے والی
نوائے ہے افراز اللہ اکبر
دمِ سحر مسجد سے آتی ہے دلکش
مُؤَذِّن کی آواز اللہ اکبر

0
7
کوئی حد نہیں ہے میرے دل کی کشاد کی
خدا رہتا ہو جس گھر میں وہ بیکراں ہے گھر

0
1
اسلام بناتا ہے بچوں کو مطیع
اولاد مسلماں کی ہوتی ہے سمیع
بے دخل جواں بچوں کو خود کرکے
کرتے ہیں فرنگی گھر کتوں سے وسیع

0
2
خدا کی طرف آ خدا کے لیے
بھلا دے تو دنیا خدا کے لیے
عبادت میں اللہ دِکھے بس تجھے
خدا میں تو کھو جا خدا کے لیے

49
ہر کام کا اک وقت ہے ہر کام کا ہے دائرہ
بے وقت کی ہے راگنی تیرے لئے بے فائدہ

0
ترے تن میں ہے دل دھڑکتا ہوا
خدا تجھ کو دے دل تڑپتا ہوا
ملے تجھ کو حساس دل جو کہ ہو
محبت کی لو سے بھڑکتا ہوا

53
دھڑکتا دل ضروری ہے خوں کی روانی کے لیے
تڑپتا دل خدا سے مانگ زندگانی کے لیے

0
مئے عشقِ حقیقی کا مزہ پینے میں آتا ہے
خدا کا فضل ہو تو پھر مزہ جینے میں آتا ہے
خدا کا نور کرتا ہے منور دل کے گوشوں کو
نظر پھر جلوہ رب کا دل کے آئینے میں آتا ہے

0
1
رب کے لیے پچھلے پہر اٹھنے لگا میں اس طرح
اک شیرخوارَہ بھوک سے رونے لگا ہو جس طرح
ذکرِ خدا نے نفس کو قابو کیا کچھ اس طرح
دریا تھا اک بپھرا ہوا تھمنے لگا ہو جس طرح
آئینہ دل کو دھو دیا کچھ آنسوؤں نے اس طرح
رب خلوتوں کی آنکھ کو دکھنے لگا ہو جس طرح

3
132
اگر آج بہتر ہے کل سے ترا
نئے سال کی پھر خوشی تو منا
دنوں کو بدلنا ہی مقصد نہیں
بدلنا تجھے چاہتا ہے خدا

53
دل اڑا کر خدا تک مجھے لے گیا
عقل کو راستہ ناپنا پڑ گیا

0
تسبیح لے کر ہاتھ میں تو دل کی مالا جپتا جا
دل کی طرف کرکے توجہ اللہ اللہ کرتا جا
ذکرِ خفی میں خامشی سے دل کو پھیرا کرتے ہیں
سی کے لبوں کو دل ہی دل میں اللہ کا دم بھرتا جا

0
56
دنیا کی فکر چھوڑ کے تو دل کی فکر کر
قلبی سکون کے لئے اللہ کا ذکر کر
ذکرِ خدا کے واسطے حلقہ تلاش کر
شیطان ہو جہاں پہ وہاں سے تو ہجر کر

0
خدا کی طرف لے کے آئے تجھے
محبت خدا کی لبھائے تجھے
نہ دنیا نہ گھر بار کی چاہتیں
فقط عشق رب کا نچائے تجھے
نہ عورت نہ شہرت نہ زر کی کمی
فقط رب کی فرقت ستائے تجھے

101
بدلتی ہے جو قوم اپنا برا حال
ہے ہوتا مبارک اسی کو نیا سال
اگر چاہتا ہے بدلنا تو خالات
تو پھر آج کے کام کو کل پہ مت ڈال
یہ سامانِ آتش ہے اسرافِ دولت
خسارے سے آغاز ہے اک برا فال

0
71
غزہ میں قحط سالی ہے
نہ کھانا ہے نہ پانی ہے
نہ کی امداد ہم نے تو
سبھی کی جان جانی ہے

43
نفی اثبات کرتا ہے جو
ذکر دن رات کرتا ہے جو
اللہ سے رابطے میں ہے وہ
اللہ سے بات کرتا ہے جو

3
80
مئے عشق ہے باقی
پلا سب کو اے ساقی
کبھی ختم نے ہوگا
یہ نشہ ہے آفاقی

55
ضروری ہے کرنا دلوں کی صفائی
بغیر اس کے ہوتی نہیں آشنائی
موثر بہت ہیں ندامت کے آنسو
جو کر ڈالتے ہیں دلوں کی دھلائی

0
50
اتارو دلوں سے گناہوں کا زنگ
کرو نفس سے تم زبردست جنگ
صفائی کرو قلب کی ذکر سے
نظر آئے گا پھر الہی کا رنگ

37
دنیا کی فکر چھوڑ دے تو دل کی فکر کر
قلبی سکون کے لئے تو رب کا ذکر کر
ذکرِ خدا کے واسطے حلقہ تلاش کر
شیطان ہو جہاں پہ وہاں سے تو ہجر کر

0
45
لا اِلٰہ الا اللہ پڑھتا ہوں میں شام و سحر
کلمہ طیب کا دم بھرتا ہوں میں شام و سحر
پہلے تو نفی میں ہر اک بت کی کرتا ہوں
اثبات اللہ کا پھر کرتا ہوں میں شام و سحر

44
چاند پر لوگ جانا چاہتے ہیں
اک نیا گھر بسانا چاہتے ہیں
دنیا کی جھنجھٹوں سے دور کہیں
پر سکون اک ٹھکانا چاہتے ہیں

0
1
جنہیں ڈھونڈتے میں زمانے لگے
قریب آکے وہ دور جانے لگے
ترے وصل کی دل میں حسرت رہی
مرے خواب مجھ کو ستانے لگے

0
1
مجھ کو نماز میں تھا آیا خیال سب کا
پھیری سلام تو پھر آیا خیال رب کا

0
1
کرتے ہوئے عبادت دنیا کی یاد آئی
بعد از نماز مجھ کو عقبی کی یاد آئی

0
1
مت  دیکھ  اپنے  آپ کو  اوروں کی نظر سے
دل کو  بنا تو  آئینہ  دیکھ  اپنی  بصر سے
اپنی خودی کو جان لے گر زندوں میں ہے تو
دنیا میں چل اپنا سر اٹھا کے فخر سے

0
6
99
مت  دیکھ  اپنے  آپ کو  اوروں کی نظر سے
دل  کو  بنا تو  آئینہ  دیکھ  اپنی  بصر سے
اپنی خودی کو جان لے گر زندوں میں ہے تو
دنیا میں چل اپنا سر اٹھا کے فخر سے

0
19
نگاہوں سے میری ہوئی اتنی بارش
ہوا صاف من اور بجھی تن کی آتش

0
20
تیرے دل میں جو چھپا ہے
تیرا رب وہ جانتا ہے
تو ہے کرتا جو چھپا کر
تیرا رب وہ دیکھتا ہے

0
33
آ‌ؤ لوگو سنو اشعار
شاعر بیٹھا ہے تیار
کیا رکھا ہے خبروں میں
چھوڑو پڑھنا یہ اخبار
تازہ لکھ کے لایا ہوں
کرنے دو مجھ کو اظہار

0
4
ہم نے مردہ قدریں بھی دیکھی ہیں
مرتے بچوں کی خبریں بھی دیکھی ہیں
تم نے قبروں پہ پھول دیکھے ہوں گے
ہم نے پھولوں کی قبریں بھی دیکھی ہیں

0
46
محمد ہیں سب کچھ جہاں میں ہمارے
محمد ہمیں جان سے بھی ہیں پیارے
صحابہ ہیں سارے چمکتے ستارے
حبیب خدا پر جو سب کچھ ہیں وارے

0
1
تیرے لیے وہی ہے جس کی کرے تو کوشش
دنیا کے امتحاں میں کافی نہیں ہے خواہش
تعمیلِ حکمِ رب سے تجھ کو ملے گی جنت
شیطان کے مریدوں کی منتظر ہے آتش

0
46
شاعری کیا ہے
دل کی صدا ہے
نکلے جو دل سے
بن کے دعا ہے
سنتا ہے جس کو
میرا خدا ہے

0
5
غیبت کرنے والے کو ہم آدم خور بھی کہتے ہیں
بھائی کا گوشت جو کھاتا ہے ہم اس سے دور ہی رہتے ہیں

0
1
میں نے ارادے کی ناکامی سے پہچانا اپنے رب کو
اور مقدر کے کچھ فیصلوں سے جانا اپنے رب کو

0
1
پڑ جائے گر سفر میں دو راہوں سے واسطہ
تو منتخب کرو کوئی آسان راستہ
برداشت سے زیادہ اٹھاؤ نہ بوجھ تم
تکلیف تجھ کو دینا نہیں چاہتا خدا

0
4
بنایا ہے رب نے ہمیں خیرِ امت
کہ کرتے ہیں ہم نیکیوں کی ہدایت
برائی سے لوگوں کو ہم روکتے ہیں
کہ ہوں سرخرو لوگ روزِ قیامت

78
مقدر ترا تیرے ہاتھوں میں ہے
ترا رزق محنت کے کاموں میں ہے

0
1
تسبیح لے کر ہاتھ میں تو دل کی مالا جپتا جا
دل کی طرف کرکے توجہ اللہ اللہ کرتا جا
ذکرِ حفی میں خامشی سے دل کو پھیرا کرتے ہیں
سی کے لبوں کو دل ہی دل میں اللہ کا دم بھرتا جا

1
45
قرآن میں ہے رب کا فرمان
احسان کا بدلہ ہے احسان
گر چاہتے ہو رب کا عرفان
تو پھر اپنے محسن کو پہچان

46
جو کرتے نہیں ہو کہتے ہو کیوں
ناراض خدا کو کرتے ہو کیوں
ہر قول کو فعل میں ڈھالو تم
باتوں کی حد تک رہتے ہو کیوں

0
56
ہر حکمِ خدا ایک ستون ہے اسلام کی عمارت کا
ہر حکمِ خدا ماننے سے ادا ہوتا ہے حق عبادت کا
کلمہ نماز زکوٰۃ حج اور روزے ہی ستونِ دیں نہیں ہیں
حکم بھی رب نے دیا ہے عادلانہ تقسیمِ وراثت کا

0
52
گدھے اور ہاتھی میں دنگل ہے جاری
تماشا عجب دیکھتی دنیا ساری
تقاریر کرتے ہیں یہ پیاری پیاری
جو کرتی ہیں ووٹرز پر سحر طاری
ہے فنکار کوئی کوئی ہے کھلاڑی
حکومت بناتے ہیں یہ باری باری

0
3
کرتا ہے جو بھی توہینِ رسالت
اس پہ ہوتی ہے اللہ کی لعنت
زندگی میں وہ ہو جاتا ہے رسوا
آگ میں جلے گا روزِ قیامت

0
54
ہر کسی کی اک دیوارِ گریہ ہے گریہ زاری کے لیے
بیت اللہ شفا خانہ ہے ہر قلبی بیماری کے لیے

0
63
وقت کیسا بھی ہو آخر گزر ہی جاتا ہے
صبر کرنے والا ہی میٹھا میوہ لھاتا ہے

0
1
انٹر نیٹ اک جنگل ہے
اور جنگل میں منگل ہے
میلہ ہے کہیں اور کہیں
جاری سیاسی دنگل ہے

57
اگر دعوی تجھے ہے اللہ سے سچی محبت کا
کرو تقلید محبوبِ خدا کے ہر عمل کی تم

0
1
خریفوں نے گھیرا ہے گو ہر طرف سے
مگر ڈر کے نکلو نہ تم سیدھی صف سے
اتر کر سمندر کی گہرائیوں میں
نکالو کوئی موتی بطنِ صدف سے
اگرچہ تلاطم ہے بحرِ عرب میں
ہٹاؤ نہ نظریں تم اپنے ہدف سے

82
جو ہے سامنے اسے جان لو
جو سمجھ سکو اسے مان لو
جو بدل سکے تری زندگی
اسے کرنے کی جی میں ٹھان لو

0
40
آہو بھی بھاگتا ہے جان بچانے کے لیے
شیر بھی دوڑتا ہے بھوک مٹانے کے لیے
یہ نہ بھاگے تو مرے اور وہ نہ کھائے تو مرے
ہر کوئی بھاگتا ہے خوف دبانے کے لیے

0
2
دوڑ دنیا کی جب حال کردے زبوں
ذکر سے پھر ملے میرے دل کو سکوں
میرا آغاز تو میری منزل بھی تو
تیرا عرفاں مری زندگی کا جنوں

44
خدا ان سے کرتا ہے بے حد محبت
حبیبِﷺ خدا کی جو کرتے ہیں طاعت
نبی ﷺ کی اطاعت کا ہے یہ تقاضا
کہ ہو سب کے دل میں مساجد سے الفت
اگر گھر کسی کا ہے مسجد سے ملحق
تو ہے یہ بھی آقاﷺ کی پیاری سی سنت

89
دریا سے سمندر تک
القدس کے اندر تک
کوشش رہے گی جاری
آزادی کی مخشر تک

0
27
دیتا نہیں ہے زحمت اک مسلماں کسی کو
تکلیف دیں نہ میرے دست و زباں کسی کو
میری وجہ سے ناحق غمناک ہو نہ کوئی
کرنی پڑے نہ یارب آہ و فغاں کسی کو

1
52
وسیلہ بھیک ہو جس کا کمائی کا زمانے میں
حیا آتی نہیں اس کو بنا محنت کمانے میں
نہ اس بے حس پہ ہوتا ہے اثر اچھی ہدایت کا
کہ برکت ہوتی ہے ہاتھوں سے محنت کرکے کھانے میں

54
برے کام جو کرتا ہے
خودی آگ میں جلتا ہے
سزا غیر کو رب نہ دے
جو کرتا ہے وہ بھرتا ہے

1
50
بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا ہے چھپا
سادہ بندوں کو یارب دغے سے بچا

0
75
مسلماں علم و حرفت کے جہاں میں رہ گیا پیچھے
خدایا رفعتوں کے بعد پستی کی وجہ کیا ہے؟

0
41
مرغِ سحر کی بانگ سے خالی ہے یہ فضا
یورپ کی مسجدوں سے بھی آتی نہیں صدا
گھنٹی نہیں اٹھائے گی غفلت کی نیند سے
یہ فرض مسلماں کی اذاں کرتی ہے ادا

0
22
قرآں جلانے والے خود آگ میں جلیں گے
رب کا عذاب دوزخ میں ہر گھڑی چکھیں گے
قرآن کی حفاظت خود کر رہا ہے اللہ
قرآن کے مخالف جلتے سدا رہیں گے

0
38
حرم کے در و بام اور سب منارے
مزین ہیں اسمائے حسنئ سے سارے
حرم کے جو محراب ہیں ان کے اوپر
نظر آِئے اللہ کا اسمِ مطہر
حرم کے ستونوں پہ کندہ ہے اللہ
جدھر دیکھتا ہوں نظر آئے اللہ

0
23
حرم کے در و بام اور سب منارے
مزین ہیں اسمائے حسنئ سے سارے
حرم کے جو محراب ہیں ان کے اوپر
نظر آِئے اللہ کا اسمِ مطہر
حرم کے ستونوں پہ کندہ ہے اللہ
جدھر دیکھتا ہوں نظر آئے اللہ

0
37
دھول چہرے پہ تھی داغ دامن پہ تھے
اور ہم آئینہ صاف کرتے رہے

0
29
ہر سوال کا اک جواب ہے
پر تلاش میں دل شتاب ہے
میرا راستہ ہے مطالعہ
اور رہنما الکتاب ہے

1
47
ہم خالی ہاتھ ہی آتے ہیں
اور خالی ہاتھ ہی جاتے ہیں
پر آخر میں ان ہاتھوں کے
اعمال کا بدلہ پاتے ہیں

1
66
جو مُصَلّے پہ گزر جائے وہ وقت اچھا ہے
پاس جو رب کے تجھے لائے وہ وقت اچھا ہے
ہر گھڑی لوٹ کے واپس تو نہیں آ سکتی
وقت جو لوٹ کے پھر آئے وہ وقت اچھا ہے

1
69
مقابل ترے بس یہودی نہیں ہے
مخالف ترا صرف مودی نہیں ہے
خدا سے بھی جنگ آزما تو خودی ہے
بتا، کیا ترا قرض سودی نہیں ہے؟

0
54
کوئی لو لگانے والا ہو
کوئی دیپ جلانے والا ہو
کفار کے ظلمت خانے میں
کوئی راہ دکھانے والا ہو
مغرب میں قلبِ مسلم کو
کوئی آس دلانے والا ہو

0
71
مشرق میں پیٹ بھرنا دہقاں کی فکر ہے
مغرب میں مسلماں کو ایماں کی فکر ہے
ملتی نہیں ہے ہر شے ہر اک مقام پر
محدود ہر وطن میں انساں کی فکر ہے

0
50
زمان و مکاں کی کوئی حد نہیں ہے
خدائی جہاں کی کوئی حد نہیں ہے
یہ نیلا فلک بس نظر کا ہے دھوکہ
کھلے آسماں کی کوئی حد نہیں ہے

0
49
يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ ۚ
بیٹی کا بھی حق ہے ماں باپ کی وراثت میں
حکم ہے یہ رب کا سورہ نساء کی آیت میں
بیٹے کے ہیں دو حصے گر ہے ایک بیٹی کا
بیٹا بیٹی سب حصہ دار ہیں شراکت میں
حصے ہیں مقرر سب وارثوں کے قرآں میں

77
بچوں کی طرح تم ضد نہ کرو
اشکوں سے اب آنکھیں نہ بھرو
بچے تو غلام ہیں خواہشوں کے
آزاد رہو جرات سے لڑو

0
49
جب رات گزرتی جائے
اور نیند نہ پھر بھی آئے
تو اللہ ہی اللہ کر
دل چین اسی میں پائے

0
44
اسلام اک بہتا دریا ہے
جو صاف دلوں کو کرتا ہے
جو اندر ہے وہ موج میں ہے
ہر وقت وہ دھلتا رہتا ہے

0
39
ہے دین اک شمع اور دنیا اک سایہ
جب سایہ تھا آگے اندھیرا تھا چھایا
کی شمع جب آگے تو روشن تھیں راہیں
اس نور میں ہی میں نے منزل کو پایا

0
31
نئی ہے یہ دنیا نیا یہ جہاں ہے
نئے ہیں ستارے نیا آسماں ہے
ہیں کفار علم و ہنر میں کیوں آگے
نئے اس جہاں میں مسلماں کہاں ہے

0
57
جو گھر میں شیر ہوتے ہیں
وہ باہر ڈھیر ہوتے ہیں
نہیں رہتے جو آپے میں
خودی وہ زیر ہوتے ہیں

0
40
کرونا اک حقیقت ہے اسے سازش نہ سمجھو تم
اسے دشمن کی بھڑکائی ہوئی آتش نہ سمجھو تم
یہ آفت ناگہانی ہے نہیں یہ تاج ہیروں کا
اسے پیسہ کمانے کی کوئی کوشش نہ سمجھو تم
بہت ہیں ٹوٹکے لیکن دوا ہے ویکسی نیشن
اسے ہرگز گلے کی عام سی سوزش نہ سمجھو تم

0
64
اے نفسِ مطمئنہ
تو رب کے پاس آ یوں
کہ تو راضی ہو اس سے
وہ بھی راضی ہو تجھ سے
ہو بندوں میں تو شامل
ہو جنت میں تو داخل

0
53
ہے نعمت کا اظہار بھی اک عبادت
خدا نے یہ قرآں میں دی ہے اجازت
تشکر کا کرتی ہے گرچہ تقاضا
خدا کی عطا کردہ ہر ایک ساعت
ہے سترہ ستمبر بھی یومِ سعادت
یہ ہے میرے مرشد کا یومِ ولادت

0
60
تیرا پیغام ہے روح عرض و سماں
نور قرآں سے روشن ہے سارا جہاں
تیرے اہلِ حرم ، کعبے کے پاسباں
تیرے اہلِِ صفا، علم کے ترجماں
تیرے اصحاب تاروں بھری کہکشاں
جنکے نقشِ قدم منزلوں کے نشاں

0
56
دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہے
درسِ شر جو دے وہ مکتب نہیں ہے
فطرت دیتی ہے انساں کو حقِ دفاع
خونِ ناحق جو مانگے وہ رب نہیں ہے

0
60
انساں بدل رہا ہے فیضانِ مصطفیﷺ سے
گر کے سنبھل رہا ہے فیضانِ مصطفیﷺ سے
جو سجدے کر رہا تھا بے جان پتھروں کو
اب ان پہ چل رہا ہے فیضانِ مصطفیﷺ سے
پوجا گیا تھا اپنے جو نور کی وجہ سے
سورج وہ ڈھل رہا ہے فیضانِ مصطفیﷺ سے

4
91
سارے جہاں کا مرکز و محور ہے زمیں
گو عقل نہ مانے پر دل کو ہے یقیں
سب تاروں کا قبلہ و کعبہ ہے یہیں
محبوبِﷺ خدا ہیں سبز گنبد میں مکیں

0
62
دوزخ کا ہوں گے ایندھن انسان اور پتھر
ناجی ہے ایک فرقہ اور ناری ہیں بہتر
نکلے یہود سے ہم آگے ہیں اس طرح سے
ان کے تھے بس بہتر پر اپنے ہیں تہتر

0
50
کرکٹ بھی عصر نو کا اک دیوتا ہے
ہندوستاں اب اس کو بھی پوجتا ہے
شاہینوں کا شکار کرنے کے لئے
مکڑی کا جال ہر سو پھیلا ہوا ہے

0
51
یو این سے انصاف کی امید نہ رکھ
پرکھے ہوئے بازو دوبارہ نہ پرکھ
مومن اک بل سے پھر کھاتا نہیں ڈنک
ناکامی کا ذائقہ دوبارہ نہ چکھ

0
41
"کشمیر بنے گا پاکستان"
جب سارا اٹھے گا پاکستان
آزادی کے ایجنڈے کی
تکمیل کرے گا پاکستان
اپنے اس سچے دعوے سے
پیچھے نہ ہٹے گا پاکستان

0
46
ہر بندے کو جگ میں اپنی فکر پڑی ہے
ایسا لگے جیسے محشر کی یہ گھڑی ہے
اک نادیدہ خوف نے واضح کیا ہے پھر
کمزور ہیں ہم سب رب کی ذات بڑی ہے

0
43
سگرٹ نوشی کی اجازت ہے
دینے والوں پر لعنت ہے
حاکم کو تو ٹیکس چاہیے بس
تیری جاں کی کیا قیمت ہے

0
44