Circle Image

Figaar Haider

@shahryaar

اسیرِ دام ہے یہ جاں
جی کب آپے میں آتا ہوں

0
5
میں ایک درد ناک جہنم ہوں
تم ہو کسی بہشت کی بادِ نم

0
4
انا کا یہ رنگ اتار دو مرے ساتھ شام گزار دو
میں بھی چلا آؤں گا مجھ کو جاناں بس ایک بار پکار دو

0
5
خود میں گم ہو گیا ہوں میں
یعنی "تم" ہو گیا ہوں میں
غم کا اک قطرہ تھا میں
اک قلزم ہو گیا ہوں میں

0
6
تو ہے کہ تیرا سایا ہے
مجھ کو لگا تو آیا ہے
شب بھر میں نے اشکوں سے
دامن اپنا بگویا ہے
ہستی کا تنکا تنکا
ملا کر تو بنایا ہے

0
10
ہوش میں آئیں گے تجھ کو پکاریں گے
زندہ دل لوگ سب کچھ تجھ پہ واریں گے
اس نے بھی دل سے جوڑا ہے کہیں رشتہ
ہم بھی دل سے شبِ ہجراں گزاریں گے
وہ بھی جب حسن کی محفل سجائیں گے
ہم بھی پھر بزمِ غم میں دل اتاریں گے

11
اس نے بھی دل سے جوڑا ہے کہیں رشتہ
ہم بھی دل سے شبِ ہجراں گزاریں گے
وہ بھی جب حسن کی محفل سجائیں گے
ہم بھی تو بزمِ غم میں دل اتاریں گے

0
7
تم یونہی میری نیند اڑاتے رہو
خواب بھی آنکھوں سے چراتے رہو

0
8
وجود اپنا آئینہ سا لگتا ہے
یہ دنیا ہم کو اک تماشا لگتا ہے
یہ بھی ہماری طرح جلتا رہتا ہے
یہ دل کا صحرا کتنا پیاسا لگتا ہے

0
8
آزاد تھا پابند ہو گیا ہوں
اک سوچ میں ہاں بند ہو گیا ہوں

0
12
اجڑی ہے دل کی بستی مری
کھو گئی نازِ ہستی مری
جاں دہن میں نہ آئے کہیں
ایسی حالت ہے دل کی مری
جسموں کے صحرا میں ہوں یہاں
کب سے ہے روح پیاسی مری

0
23
اب تک اس شہر ستم سے ہیں یادیں وابستہ
تھیں جس سے دل ناداں کی دھڑکنیں وابستہ
جن منزلوں کے کوشاں تھے ہم اے مرے رہبر
ان منزلوں سے تھیں ہی نہیں راہیں وابستہ
اے اڑتے پرندے نہ پوچھ کتنی گہری ہیں
اس پیڑ سے میرے دل کی شاخیں وابستہ

0
17
ڈبو دیتی ہیں مجنوں کو تری آنکھیں آہستہ آہستہ
دن کو شام کر دیتی ہیں تری زلفیں آہستہ آہستہ
ہے دستور محبت جاناں کہ یونہی ہو جاتی ہیں اکثر
پہلے باتیں اور پھر ملاقاتیں آہستہ آہستہ
ہائے میرے ناداں دل تو اور تری جلد بازیاں ہائے
کر لیتی ہیں دل گھر میں یہ چاہتیں آہستہ آہستہ

0
12
دشتِ دل میں ہر دم غم کے بادل چھائے رہتے ہیں
برستے تو نہیں ہیں کبھی لیکن یونہی برسنے کو کہتے ہیں

0
12
مفلسی میں ہی گزارا کر لیں گے ہم
زندگی ہر غم گوارا کر لیں گے ہم
جسم سے جاں نکلے گی تو شاید کبھی
عشق سے پھر استخارہ کر لیں گے ہم
اس نے گر مجھ سے کنارا کر لیا کبھی
پھر تو خود سے بھی کنارا کر لیں گے ہم

0
15
دل تو دیوانہ ہے دیوانے سے کیا کہیے
ہے زمانے سے بیگانہ بیگانے سے کیا کہیے

0
8
تیری فرقت میں مرتا بھی نہیں ہوں
اپنی حد سے گزرتا بھی نہیں ہوں

0
17
میں کہاں جانو یہ دل ہی جانے
جس پہ جو گزرے وہ وہی جانے

0
12
دل تو ایسا جوشِ طلب پیدا کر
قطرے میں سمٹ آئے خودی کا ساگر
اٹھا دم سوئے حق ہو جا رنگِ افق
اور توڑ دے یہ سارے گماں کے پتھر

0
17
مرے مرتے تو رویا کیوں اے ستمگر
میں تو خاک ہی تھا ملا خاک سے پھر
میں تو نکلا تھا پھر کسی اور منزل
ہوا سامنا یوں ہی سفاک سے پھر

0
12
تری یادوں کے جگنو
تری خوشبو سمیٹے
حصارِ غم میں چمکے
ہاں یوں چمکے کہ مجھ کو
رو دینے پر سرِ شام
صنم مجبور کیا ہے

0
18
زخموں سے بھر گیا ہوں
جیتے جی مر گیا ہوں
خود میں اتر گیا ہوں
حد سے گزر گیا ہوں
یونہی ارادہ کیا تھا
پر سچ میں مرگیا ہوں

0
20
دل کو بے وفائی کی سزا دیتا ہوں
غم میں ہر دم اسے رلا دیتا ہوں
جب آتا نہیں باز یہ کم بخت آخر
پھر اس کو خاک میں ملا دیتا ہوں

0
9
آنکھ سے آنکھ ملاتا ہوں میں
کس طرح دل کو جلاتا ہوں میں
ہجر کی رات میں، میں جانتا ہوں
کیا قیامت یہاں اٹھاتا ہوں میں
جانِ جاں باؤلے دل کو اپنے
تری تصویر سے بہلاتا ہوں میں

0
25
قلزمِ لا ساحل ہے تو
میرا گمشدہ دل ہے تو
کیوں نہ کہوں بھری محفل میں
جب کہ مرا قاتل ہے تو
میں مشکل کا جڑ ہوں
اور حلِ مشکل ہے تو

0
17
ترا سجدے کے تکبر میں یوں طوفان ہو جانا
بتا کس کام کا ہے تیرا مسلمان ہو جانا
یہاں آیا تھا فرشتہ کوئی جاتے ہوئے اس نے
کہا کتنا مشکل ہے یاں انسان ہو جانا

0
15
لب ترستے ہیں تو ترسنے دو
وحشت و اذیت برسنے دو
لمبا کتنا ہے رستہ دیکھے گے
پہلے آنکھ میں تو اترنے دو

0
15
لب سے الزام جاہتا ہوں
خود کو بدنام چاہتا ہوں
تو میری ساری زندگی لے
میں بس اک شام چاہتا ہوں
اب چھوڑ دیا مے خانہ میں نے
ان آنکھوں کا جام چاہتا ہوں

0
21
اس بزم کی رونق شام تک ہے
میری نظر تو انجام تک ہے
جب نکلے گا مقصد، چل بسیں گے
یہ دوستی ساری کام تک ہے
ہے بعد اسکے ساگر خودی کا
یه بیخودی تو دوگام تک ہے

29
دیوارِ دل پے سجھی ہے اک تصویر
جسکے باعث مجھ سے خفا ہے تقدیر
تم پوچھو ہی مت شہرِ دل کا حال
حال ایسا ہے کہ جیسے تیرا کشمیر

0
14
دل کی زمیں گل کھلاتی ہے کیا کیا
ہر آہ یاں حشر اٹھاتی ہے کیا کیا
دن ڈھلتے ہی اداسی چھا جاتی ہے
شامِ نم بھی غم لاتی ہے کیا کیا

0
22
کل کیا ہونا ہے کسے معلوم اے دل
مت رکھ خود کو آج سے محروم اے دل
وہ ہے تو رکھ توکل اس پے ناداں
اِس ہستئی موہوم سے مغموم اے دل

20
دل خوب مچلتا تھا پہلے پہلے
وہ جب ملنے آتا تھا پہلے پہلے
وہ بچھڑا تو چمن میں رت ہی بدلی
کیا ! خوب مہکتا تھا پہلے پہلے

13
ملتی ہے نظر آہستہ آہستہ
ہوتا ہے اثر آہستہ آہستہ
وہ ظالم مہرباں ہوا کب تھا مگر
ٹوٹا ہے پتھر آہستہ آہستہ

19
بارش نے نم کر دیا دل کی زمیں کو
اور کر دیا ہے حسیں سرابِ حسیں کو
بارش کے بوندھ بوندھ میں واللہ
پاتا ہوں عکسِ روئے نازنیں کو

16
اتنی نہ پلا کہ پارسا ہو جائے
نا آشنا دل بس آشنا ہو جائے
چھا جانے دے نشہ مدھم مدھم
یوں ابتدا ہی نہ انتہا ہو جائے

0
12
ہر پل فنا ہو جانا تقدیر مری
پوری ہوتی نہیں یوں تعمیر مری
کیا جانیے کیا حق میں ہے میرے بھی
کچھ بھی نہ چلی عشق میں تدبیر مری

0
17
جاگ اٹھتے ہیں درد و غم شام کے بعد
ہائے مر جاتے ہیں ہم شام کے بعد
یاد آتے ہیں بیتے ہوئے پل سارے
ہو جاتی ہیں آنکھیں نم شام کے بعد

0
18
کس طرح دکھا دوں زخمِ دل اپنا
یہ زخم ہے ماضی و مستقبل اپنا
بازارِ الفت میں، دشتِ زیاں میں
اسکے سوا ہے ہی کیا حاصل اپنا

0
23
تم پہلی محبت کا بھرم تو رکھتے
کچھ مدت چشمِ ناز نم تو رکھتے
عالم کو رکھا منتشر اپنے غم میں
خود کو بھی ذرا سا برہم تو رکھتے

0
24