چراغ بجھ گیا، دیوار رو پڑی آخر
اس ایک آدمی نے کر لی خود کشی آخر
/
بڑا غرور تھا اپنی کشادگی پہ جسے
اسے لے ڈوبی اسی کی کشادگی آخر
/
بہت تلاش کیا پر میں کہیں نہیں پہنچا
ہے کیا کوئی کہو مفہومِ زندگی آخر
/
کہ میرے پاس تو اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا
سو میں نے دشمنِ جاں سے کی دوستی آخر
/
مجھے گماں بھی نہیں تھا کبھی یوں بھی ہوگا
نہ جانے کیسے شبِ غم گزر گئی آخر
/
کہاں گیا وہ مرا شوق وہ کمالِ نظر
کہاں گئی تری آنکھوں کی دل کشی آخر
/
کہیں سماج کے پہرے کہیں خدائی کے گھات
کہ جائے بھی تو کہاں جائے آدمی آخر
/
ہمارے دل سے بھی سب چھٹ گیا غبار و غم
تمہارے ہونٹوں پہ بھی آ گئی ہنسی آخر
/
ہیں ہم بھی پیکرِ صبر و قرار یاد رکھو
کرو گ کب تلک اس دن کو ملتوی آخر

0
39