کوئی ہم دم نہ کوئی ہم سفر ہے
فقط تنہائی تا حدـــِ نظر ہے
/
ہمیشہ سے یہ دل کہتا رہا ہے
"نہیں اندر کوئی"، کوئی مگر ہے
/
خدا اس کو صدا رکھے سلامت
بہت خوش جو ہمارے حال پر ہے

0
18