میں حیراں ہوں لوگوں کی حیرانی پر
ایسا کیا لکھا ہے میری پیشانی پر
/
کس کے بدن کو آگ لگی تھی جہلم بول
کس کا سایا ناچ رہا تھا پانی پر
/
اپنی نظر کی عریانی پر تو شرما
میں کیوں شرماؤں اپنی عریانی پر
/
چہرے پہ میرے کیوں نہ خزاں کے رنگ ابھریں
عشق اترا ہے میری اٹھتی جوانی پر
/
کیا مخموری آنکھیں کیا متوالا بدن
کس کا نہ دل آئے ایسی مستانی پر
/
دل نے بہار نہ بادِ بہاری مانگی ہے
دل نے قناعت کی بس اسی ویرانی پر
/
تو کہ ابھی ہے رموزِ عشق سے نا واقف
حسن ابھی ہنس مت میری نادانی پر
/
زخموں کی پھلواری کا پتّا پتّا
قرباں ہے تیری شبنم افشانی پر
/
ایسے اندھیارے میں ہنسی آتی ہے مجھے
ایسی دو کوڈی کی خوش امکانی پر
/
سب پروانوں کی نظر اس پر تھی شب بھر
کتنا بوجھ تھا کومل رات کی رانی پر
/
مجھ سے ایسے ایسے دشت ہوئے سیراب
دریا بھی حیراں ہے میری طغیانی پر

0
45